مدینی منوری جی تاریخ(بزبان ِسندھی)۔

Print Friendly, PDF & Email

کتاب : مدینی منوری جی تاریخ(بزبان ِسندھی)۔
(قدیم زمانی کان موجودہ دور تائین)
مؤلف : غالی محمد الامین الشنقیطی۔ سندھی ترجمہ:عبدالحمید ملاح
صفحات : 196 قیمت:400 روپے
مطبع : مہران اکیڈمی، واگنودر شکارپور
فون : 0726-512122-520012
مدینہ منورہ کی محبت بلاشبہ مسلمان کے ایمان کی نشانی ہے۔ اہلِ سندھ کی مدینہ پاک سے دلی الفت اور محبت ان کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے جس کا اظہار سندھی زبان کی شاعری اور ادب میں بھی خوب خوب ملتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب دراصل مدینہ منورہ کے مشہور مفسر، عالم اور ادیب غالی محمد الامین الشنقیطی کی تالیف ہے، جس میں فاضل مؤلف نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے شہر کی مکمل تاریخ ہر پہلو سے بیان کی ہے اور اپنی جانب سے کوئی بات تشنہ نہیں چھوڑی ہے۔ مدینہ منورہ کے فضائل سے لے کر سب مقامات کا تذکرہ، اور سعودی حکومت کے دور میں مدینہ پاک میں اس کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی کاموں پر بھی ایک نظر ڈالی گئی ہے۔
جناب عبدالحمید ملاح نے بڑی محنت سے کتاب کا سندھی زبان میں رواں دواں اور بامحاورہ ترجمہ کچھ اس خوب صورتی سے کیا ہے کہ اس پر طبع زاد تحریر کا گمان ہوتا ہے، جس پر مترجم داد کے سزاوار قرار پاتے ہیں۔
مدینہ منورہ کی تاریخ پر بزبانِ سندھی یہ پہلی کتاب ’’مہران اکیڈمی‘‘ شکارپور نے شائع کرکے حد درجہ اہم اور قابلِ ستائش کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ اس انمول کتاب کا مطالعہ ہر سندھی اہلِ زبان کے لیے ناگزیر اور باعثِ خیر و برکت ہوگا، ان شاء اللہ۔ عمدہ کاغذ پر چھپنے والی یہ کتاب سلیقے اور نفاست کے ساتھ طبع کی گئی ہے۔ قیمت قدرے کم ہونی چاہیے تھی۔

جی ایم سید جی سیاسیء مذہبی زندگی(بزبانِ سندھی)۔

کتاب : جی ایم سید جی سیاسیء مذہبی زندگی
(بزبانِ سندھی)
مرتب : راشد راہی
صفحات : 248 قیمت120 روپے
پبلشر : خلافت اکیڈمی، شکارپور سندھ

زیر تبصرہ کتاب سندھ کے ایک معروف ماہرِ تعلیم، ادیب اور دانشور نے اپنے قلمی نام ’’راشد راہی‘‘ کے نام سے مصلحتاً (شاید) مرتب کی ہے۔ سید غلام مرتضیٰ شاہ المعروف جی ایم سید کا شمار ملک کے نامور قوم پرست سیاست دانوں، ذہین افراد اور مشہور شخصیات میں ہوتا ہے۔ موصوف نے نسبتاً چھوٹی عمر میں سیاست کی وادیٔ پُرخار میں قدم رکھا اور اپنے تیز ذہن اور سیمابی طبیعت کے باعث سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرتے اور انہیں چھوڑتے رہے۔ مرتب کتابِ ہذا اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’جی ایم سید کا قائداعظم سے اختلاف سندھ مسلم لیگ میں دھڑے بندی کرنے اور اپنے ہم خیال گروپ کو سندھ مسلم لیگ پر مسلط کرنے کے معاملے پر شروع ہوا، جس نے ان کی زندگی اور سیاسی کیریئر کو تہ و بالا کرڈالا، اور ان معمولی واقعات نے ان کے دل و دماغ پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ اس کے بعد انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کی مخالفت اور دشمنی کے لیے وقف کردی۔ جی ایم سید نے اسلام کو غلط اور فرسودہ دین ثابت کرنے اور پاکستان کو توڑ کر سندھودیش بنانے کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کردیں اور تادم مرگ اس مشن کو پورا کرنے میں لگے رہے۔‘‘
’’جی ایم سید کی ملک اور دینِ اسلام کے خلاف کتابیں شائع کرکے نوجوان نسل کے اذہان کو بگاڑنے اور منفی سرگرمیوں میں مشغول رہنے کی رپورٹس، خبریں اور مضامین ملک کے مختلف اخبارات اور رسائل میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے تھے۔ میں نے اہلِ قلم حضرات کے مختلف مضامین مرتب کرکے اس کتاب میں شامل کردیے ہیں تاکہ سندھ کے مسلمان (خصوصاً نوجوان) جیے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے زہر آلود لٹریچر کے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں‘‘۔
کتاب میں حافظ محمد موسیٰ بھٹو، ڈاکٹر شہاب الدین غازی، پروفیسر اسد اللہ بھٹو مرحوم، مولانا جان محمد عباسی مرحوم، سید پیر علی شاہ، مولانا شبیر احمد بھٹو، قاضی فیض محمد ایڈووکیٹ، پروفیسر سید محمد سلیم، رشید احمد لاشاری مرحوم کے جی ایم سید کی گمراہ کن فکر اور نظریے کے رد میں گراں قدر مقالہ جات شامل کیے گئے ہیں۔ بیش بہا معلومات پر مبنی یہ کتاب سلیقے سے طبع کی گئی ہے۔ قیمت بے حد مناسب ہے۔

Share this: