ہندو، مسلم، گاندھی اور قائداعظم

Print Friendly, PDF & Email

۔1920ء میں گاندھی نے مسلمانوں کی تباہی کا ایک اور نسخہ نہایت کامیابی سے آزمایا۔ جمعیت علمائے ہند کے ذہن گاندھی کی انتہائی شاطرانہ و ساحرانہ چالوں سے پہلے ہی مسموم ہوچکے تھے۔ انہیں اپنے ڈھب پہ لانا گاندھی کے لیے قطعاً مشکل نہ تھا۔ چنانچہ گاندھی نے علمائے دین اور خلافت کمیٹی کے ارکان کے دلوں میں یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔ اور انہوں نے عواقب کا جائزہ لیے بغیر ہجرت کا فتویٰ داغ دیا۔ گاندھی نے اپنا سارا زورِ خطابت اس فتوے کے حق میں صرف کردیا اور مسلمانوں کو اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے اکسایا۔ عقیدت مند مسلمانوں نے آئو دیکھا نہ تائو، اپنی جائدادیں ہندوئوں کے ہاتھوں کوڑیوں کے مول فروخت کیں اور بیوی بچوں کو بلکتا چھوڑ کر جوق در جوق افغانستان کی طرف ہجرت شروع کردی۔ وہاں تک پہنچتے پہنچتے اکثر لٹ گئے یا مارے گئے۔ جو تباہ ہوکر واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ان کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ بربادی، بھوک اور بدحالی ان کی منتظر تھی۔ ناداری، بے کسی، کسمپرسی اور تباہی ان کا مقدر بن چکی تھی۔ وہ گداگری پر مجبور ہوئے، اس لیے کہ وہ گاندھی کی ترغیب پر ہجرت سے پہلے اپنا سب کچھ… دکانیں، تجارت، جائداد پہلے ہی ہندوئوں کے ہاتھ بیچ گئے تھے اور سرکاری ملازمتوں سے وہ خود ہی دست بردار ہوچکے تھے۔ بنیا امیر سے امیر تر ہوگیا اور سادہ لوح مسلمان معاشی طور پر تباہ ہوگیا۔ گاندھی کی چال کامیاب رہی۔فروری 1937ء میں ہندوستان میں انتخابات ہوئے تو 1585 نشستوں میں سے 716 کانگریس نے جیت لیں اور 6 صوبوں میں اکثریت کی بنا پر کانگریس وزارت قائم ہوگئی۔ مسلم لیگ صرف 109 نشستیں حاصل کرسکی اور اسے کسی صوبے میں بھی اکثریت نہ مل سکی، حالانکہ کئی صوبوں میں مسلمان کثیر تعداد میں بستے تھے۔ وجہ اس کی صرف ایک تھی… افتراق اور عدم اتحاد۔ افسوس کہ اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں سب سے بڑا کردار علمائے دین کا تھا۔ نہرو کانگریس کی اس عظیم کامیابی پر پھولے نہ سمایا اور فتح کے نشے میں سرشار ہوکر بیان دے دیا کہ ہندوستان میں صرف دو پارٹیاں ہیں… کانگریس اور برٹش۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فوراً جواب دیا کہ ایک تیسری پارٹی مسلم لیگ بھی ہے۔ کانگریسی صوبوں میں اب مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی شروع ہوچکی تھی۔ اس لیے مسٹر جناح نے گاندھی سے درخواست کی کہ آئو مل بیٹھیں اور مسلمانوں اور مسلم لیگ کے حقوق کی بات کریں۔ مگر گاندھی نے یہ کہتے ہوئے I wish I could do something but I am utterly helpless (میں چاہتا ہوں کہ کچھ کرسکوں مگر میں ایسا کرنے سے قطعاً معذور ہوں) ملاقات سے صاف انکار کردیا۔ البتہ یہ ستم گری ہندوئوں پر ہوئی ہوتی تو گاندھی طوفان برپا کردیتا۔ مایوس ہوکر محمد علی جناح نے اکتوبر 1937ء میں لکھنؤ میں مسلم لیگ کا اجلاس کیا اور انہیں بتایا کہ کانگریس بلاشرکت غیرے ہندو حکمتِ عملی اپنا رہی ہے اور مسلمانوں کو ایک طرف دھکیل کر بیگانہ بنا رہی ہے۔ یہی وہ جلسہ ہے جس کے بعد ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں نے محمد علی جناح کو قائداعظم کے لقب سے پکارنا شروع کردیا۔ دریں اثنا جن صوبوں میں کانگریس کی وزارت قائم ہوئی تھی وہاں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہوچکا تھا۔ انہیں نوکریوں سے نکالا جارہا تھا، داڑھیوں کو نوچا جارہا تھا اور مساجد میں نماز کے اوقات میں مُردہ سور پھینکے جارہے تھے۔ بنگال، بہار اور یوپی میں مسلمان قتل ہوتے رہے مگر گاندھی کنجِ عافیت میں بیٹھا یہ سب تماشا دیکھتا رہا۔ بیورلے نکلس نے ٹھیک کہا تھا کہ جب گاندھی کو کسی ٹھوس پرابلم سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ ایک غبی کند ذہن کی طرح گوشہ نشینی اختیار کرلیتا ہے۔ مگر یہ گوشہ نشینی بھی صرف اُس وقت تک ہوتی جب تک مسلمان مرتے رہتے۔ اس وقت کانگریس میں کئی مسلمان ’’شو بوائز‘‘ موجود تھے، مگر انہوں نے اپنے آپ کو ان مظالم کے خلاف بالکل بے دست و پا محسوس کیا۔ اپریل 1938ء میں یعنی تقریباً ایک برس کے بعد گاندھی نے خالص سیاسی نقطہ نظر سے جناح سے ملاقات کی دعوت منظور کرلی، مگر کچھ نہ ماننے کا فیصلہ اُس نے پہلے ہی کرلیا تھا، چنانچہ اس ملاقات سے قبل ہی اُس نے اخباری نمائندوں کو بیان دے دیا کہ وہ نتائج کی طرف سے بالکل ناامید و مایوس ہے۔ جب ملاقات ہوچکی تو گاندھی نے اسے ناگوار اور بے مزہ قرار دیا۔ ظاہر ہے مسلمانوں کی بھلائی کے لیے کی گئی میٹنگ گاندھی کے لیے ناگوار نہ ہوتی تو اور کیا ہوتی! جب یہاں گاندھی کی منافقانہ مسلم کُش پالیسی میں روڑے اٹکتے نظر آئے تو گاندھی سیدھا پشاور پہنچ گیا، اپنے چیلے خان عبدالغفار خان سے ملاقات کی اور اپنی منافقانہ ذہنیت کے مطابق خون کی سرخی پر پھولوں کی چادر چڑھا کر اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کی اور نوجوان مسلمانوں کو اہنسا اور ہندو مسلم اتحاد کا سبق دیا… وہی بھائی چارا جسے ٹھکرا کر گاندھی سیدھا پشاور آیا تھا۔ یہ تقریر وہ اُس وقت کررہا تھا جب بنگال، بہار اور یوپی میں ہندو مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے۔ مگر شاید اب مسلمانوں کی آنکھیں کھلنا شروع ہوچکی تھیں۔ جب نتائج گاندھی کی حسبِ منشا برآمد نہ ہوئے اور وہ سرحد کے مسلمانوں کو مکمل طور پر بے وقوف بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا تو اُس نے غمزدہ ہوکر کہا “There is as yet no end of crisis….. darkness is still there” ”ابھی تک اس بحران کا خاتمہ نہیں ہوا۔ ظلمت ابھی چھائی ہوئی ہے“۔ حالات کا جائزہ لے کر قائداعظم کو 26 دسمبر 1938ء کی شام کو پٹنہ میں مسلم لیگ کی میٹنگ میں کہنا پڑا کہ کانگریس جو اپنے آپ کو تمام ہندوستان کی نمائندہ جماعت کہتی ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف ایک ہندو جماعت ہے اور گاندھی ایک نقصان رساں نابغہ (Evil genius) ہے جس کا مقصد ہندوستان میں صرف ’’ہندو راج‘‘ قائم کرنا ہے۔
(”گاندھی، مسلمان اور پاکستان“۔ ڈاکٹر سعید احمد ملک)

بیادِ مجلسِ اقبال

آزادیٔ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

یہ اشعار آزادیٔ فکر کے عنوان اور دعوے کی وضاحت کرتے ہیں کہ ایسا کہنا صرف اسی صورت میں مفید ہے جب انسان شعوری طور پر غور و فکر کرنے اور کسی مسئلے کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت اور سلیقہ بھی رکھتا ہو، بصورتِ دیگر خیالات و افکار اور سوچ کی اندھا دھند آزادی تو انسان کو تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں دے سکتی، بلکہ اگر سوچ و فکر ناقص، ادھوری اور ناپختہ ہو تو فکری آزادی کا نعرہ انسان کو انسانیت کے مقام سے گرا کر حیوان ہی بنادیتا ہے۔ علامہ واضح فرماتے ہیں کہ بظاہر آزادیٔ افکار بہت خوب صورت اور پُرکشش سلوگن ہے، مگر یہ مشروط طور پر صرف ایسے لوگوں کے لیے مفید ہے جنہیں فکر و تدبر کا سلیقہ بھی آتا ہو، وگرنہ ترقی اور سربلندی کے بجائے انجام پستی اور نامرادی بھی ہوسکتا ہے۔

Share this: