میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں

Print Friendly, PDF & Email

پروفیسر اطہر صدیقی
اسپتال میں جنوری کی اس ایک شام غیر معمولی طور پر اداسی تھی، جیسے طوفان آنے سے پہلے ہوا بھی خاموش ہوتی ہے۔ میں ساتویں منزل پر نرسوں کے اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ گھڑی کی طرف دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ میں نے گلے میں اسٹیتھو اسکوپ ڈالا اور کمرہ نمبر712 کی طرف چلی جو ہال کا آخری کمرہ تھا۔ اس کمرے میں ایک نیا مریض مسٹر ولیمس آیا تھا۔ وہ اکیلا انسان تھا۔ ایک انسان جو اپنے خاندان کے بارے میں غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوئی، مسٹر ولیمس نے نظر اٹھا کر دیکھا لیکن اپنی نظریں جھکالیں جب یہ دیکھا کہ صرف ان کی نرس ہے۔ میں نے اسٹیتھو اسکوپ اُن کے سینے پر لگایا اور سنا۔ مضبوط، آہستہ اور یکساں دھڑکنیں۔ میں بس یہی سننا چاہتی تھی۔ ذراسی بھی اس بات کی علامت نہیں تھی کہ چند گھنٹے پہلے ان کو ایک معمولی سا دل کا دورہ پڑ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے بستر کی شفاف سفید چادر سے نظریں اٹھاکر دیکھا اور کہا: ’’نرس، کیا آپ…‘‘ وہ ہچکچائے، آنکھوں میں آنسو تیرتے ہوئے، ایک دفعہ پہلے بھی انہوں نے مجھ سے سوال کرنا شروع کیا تھا، لیکن اپنا ذہن بدل دیا تھا۔ میں نے اُن کا ہاتھ چھوا، انتظار میں۔ انہوں نے ایک آنسو پوچھا ’’کیا آپ میری بیٹی کو کال کرکے بتادیں گی کہ مجھے دل کا دورہ پڑچکا ہے، ہلکا سا۔ اصل میں مَیں اکیلا رہتا ہوں اور وہی میرا خاندان ہے‘‘۔ ان کی سانس یکایک تیز چلنے لگی۔ میں نے اُن کی ناک پر لگی نلکی میں آکسیجن کی مقدار آٹھ لیٹر فی منٹ بڑھا دی۔ ’’یقیناً میں اسے کال کردوں گی‘‘ میں نے ان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ انہوں نے چادر کو پکڑا اور اپنے آپ کو اوپر اٹھاتے ہوئے، چہرے پر تنائو لیے تاکید سے کہا: ’’کیا آپ اُسے فوراً کال کردیں گی، جتنی جلدی کرسکتی ہیں؟‘‘ وہ تیزی سے سانس لے رہے تھے، بلکہ بہت تیزی سے۔ ’’میں اسے ابھی کال کردیتی ہوں‘‘۔ ان کے کاندھے پر ہاتھ سے سہلاتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’اب آپ کچھ آرام کرلیجیے‘‘۔ میں نے روشنی بجھائی، انہوں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ پچاس سالہ انسان کی اتنی خوب صورت نیلی آنکھیں!! کمرہ 712 میں اندھیرا تھا سوائے سنک کے نیچے ایک مدھم سی روشنی کے۔ ان کے بستر کے اوپر آکسیجن ہری ٹیوبوں میں بلبلوں کے ساتھ جاری تھی۔ بے دلی سے انہیں چھوڑ کر میں خاموش اندھیرے میں کھڑکی کی طرف گئی۔ شیشے سرد تھے، نیچے کہرے کی ایک دھند اسپتال کے پارکنگ لاٹ میں پھیلی ہوئی تھی، اوپر آسمان پر برفیلے بادلوں نے رات کے آسمان کو لپیٹ رکھا تھا۔ میں سردی سے کانپ گئی۔ ’’نرس‘‘ انہوں نے پکارا ’’کیا آپ مجھے ایک پنسل اور کاغذ لادیں گی؟‘‘ میں نے کہیں سے ایک پیلا کاغذ اور ایک قلم اپنی جیب سے نکالا اور ان کی میز پر رکھ دیا۔ ’’شکریہ‘‘ انہوں نے کہا۔ میں نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور وہاں سے چلی آئی۔
میں نرسوں کے اسٹیشن پر واپس لوٹ آئی اور ایک گھومنے والی کرسی پر فون کے پاس بیٹھ گئی۔ مسٹر ولیمس کے چارٹ پر قریبی رشتے داروں میں اُن کی بیٹی کا نام لکھا تھا۔ میں نے انفارمیشن سے اس کا نمبر لیا اور فون ڈائل کیا۔ اس کی ملائم آواز سنائی دی۔ ’’جینی، میں اسپتال سے سُوکِڈ بول رہی ہوں، ایک رجسٹرڈ نرس۔ میں تمہارے والد کے بارے میں کال کررہی ہوں۔ وہ اسپتال میں دل کا ایک ہلکا سا دورہ پڑ جانے کی وجہ سے آج داخل کیے گئے ہیں‘‘۔ ’’نہیں‘‘ اُس نے تقریباً چلّاتے ہوئے دریافت کیا ’’کیا وہ مر تو نہیں جائیں گے، بتایئے؟‘‘ یہ سوال سے زیادہ ایک درد بھری درخواست تھی۔ ’’ان کی حالت فی الحال مستحکم ہے‘‘ میں نے تسلی بخش انداز میں جواب دیا۔ خاموشی۔ میں نے اپنا ہونٹ کاٹا۔ ’’آپ انہیں مرنے مت دیجیے گا‘‘ اُس نے یہ بات بے حد مجبور کرتے ہوئے کہی کہ میرا ہاتھ جس میں فون تھا، کانپ گیا۔ ’’ان کا بے حد اچھا علاج کیا جارہا ہے‘‘۔ اس نے پھر خواست کی ’’لیکن آپ سمجھ نہیں رہی ہیں۔ میرے بابا اور میں نے تقریباً ایک برس سے ایک دوسرے سے بات تک نہیں کی ہے۔ ہم لوگوں میں میری اکیسویں سال گرہ پر میرے بوائے فرینڈ کے معاملے میں سخت لڑائی ہوئی تھی، میں گھر چھوڑ کر چلی آئی تھی، اُس دن سے واپس نہیں گئی۔ اتنے مہینے میں اُن سے معافی مانگنے جانا چاہتی تھی۔ خدا کے لیے، میں نے ان سے آخری بات کہی تھی: میں آپ سے نفرت کرتی ہوں‘‘۔ اس کی آواز ٹوٹنے لگی تھی، میں اس کو سخت تکلیف میں ہچکیوں سے روتے سن رہی تھی۔ آنسو میری آنکھوں میں بھی اتر آئے۔ ایک باپ اور بیٹی، ایک دوسرے سے کھوگئے تھے۔ تب میں اپنے والد کے بارے میں سوچنے لگی جو مجھ سے بہت دور دراز میلوں دور تھے۔ اتنا عرصہ ہوگیا تھا جب میں نے ان سے کہا تھا کہ میں آپ کو چاہتی ہوں۔ جینی اپنے آنسوئوں پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی، میں نے اسے دلاسا دیا کہ حالات بہتر ہوجائیں گے۔ ’’میں آرہی ہوں، میں وہاں تیس منٹ میں پہنچ جائوں گی‘‘۔ اور فون بند کردیا۔ میں میز پر پڑے دوسرے کاغذات دیکھنے میں مشغول ہوگئی، لیکن قاعدے سے دھیان نہیں دے سکی۔ کمرہ نمبر 712 میرے ذہن پر طاری تھا۔
میں جانتی تھی کہ مجھے کمرہ نمبر 712 میں واپس جانا ہے۔ میں ہال میں تقریباً دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی، دروازہ کھولا۔ مسٹر ولیمس بستر پر بغیر کوئی حرکت کیے لیٹے تھے، میں نے ان کی نبض دیکھی، جو غائب تھی۔ ’’کوڈ 99 کمرہ 712‘‘، میں نے پھر دہرایا ’’کوڈ 99 کمرہ 712‘‘، چند ہی سیکنڈوں میں بستر کے پاس لگے انٹرکام کے ذریعے میں نے سوئچ بورڈ کو کال کیا اور میرا انتباہ اسپتال کے ہر کونے میں پہنچ گیا۔ مسٹر ولیمس کو دل کا شدید دورہ (Cardiac arrest) پڑ چکا تھا۔ میں نے بجلی کی سی رفتار سے بستر کو نیچا کیا، ان کے منہ پر جھکی اور ان کے پھیپھڑوں میں ہوا بھرنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنا سر اُن کے سینے پر رکھا اور اسے دبانے کی کوشش کی۔ ایک، دو، تین، میں نے گنتی شروع کی۔ پندرہ تک۔ میں پھر ان کے منہ کی طرف لوٹی اور جتنی زور سے ہوسکتا تھا ان کے اندر ہوا بھرنے کی کوشش کی۔ ’’اوہ نہیں‘‘ میں نے دعا مانگی ’’ان کو اس طرح ختم ہونے مت دیجیے‘‘۔
دروازہ زور سے کھلا، کئی ڈاکٹر نرسوں سمیت کمرے میں ایمرجنسی سامان کے ساتھ داخل ہوئے۔ ایک ڈاکٹر نے ہاتھ سے دل پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی۔ ایک ٹیوب منہ کے ذریعے ان کی سانس کی نلی میں ڈالی گئی، تاکہ زیادہ ہوا پہنچ سکے۔ نرسوں نے دوا بھری پچکاریاں ان کی خون کی نالیوں میں ڈالنا شروع کردیں۔ میں نے دل کا مانیٹر لگایا۔ کچھ نہیں تھا، ایک بھی دھڑکن سنائی نہیں دی۔ میرا اپنا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔ ’’براہ مہربانی ان کو اس طرح ختم نہ ہونے دیں۔ کڑواہٹ اور نفرت سے نہیں۔ ان کی بیٹی آرہی ہے، اس کو بھی سکون مل جائے‘‘۔
’’پیچھے ہٹیے‘‘ ڈاکٹر چلّائے۔ میں نے ان کو بجلی کا شاک لگانے والے دونوں پیڈل ہاتھ میں تھما دیے۔ انہوں نے ان کو مسٹر ولیمس کے سینے پر رکھا۔ باربار بجلی کے شاک پہنچانے کی کوششوں کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوا، مسٹر ولیمس کا انتقال ہوچکا تھا۔ ایک نرس نے آکسیجن کی ٹیوب ہٹادی۔ گیس کی آواز بند ہوگئی۔ ایک ایک کرکے وہ سب لوگ چلے گئے، خاموش اور دل برداشتہ۔ یہ کیسے ہوسکتا تھا؟ کیسے؟ میں ان کے بستر کے پاس کھڑی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کھڑکی سے ٹکرا رہی تھی، شیشوں پر برف برساتی ہوئی۔ باہر ہر طرف سیاہی کی ایک چادر، سرد اور اندھیری رات میں پھیلی ہوئی تھی۔
میں ان کی بیٹی سے مل کر کیسے بتا پائوں گی؟ جب میں کمرے سے نکلی تو اسے دیکھا، وہ پانی پینے کے فوارے کے پاس دیوار سے لگی کھڑی تھی۔ ایک ڈاکٹر جو چند لمحے پہلے ہی 712 میں آئے تھے اُس کے پاس کھڑے، اُس کی کہنی پکڑے اُس سے بات کررہے تھے۔ پھر وہ چل دیے اسے دیوار سے لگا کھڑا چھوڑ کر۔
اس کے چہرے پر غم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ آنکھیں زخم آلود۔ وہ جانتی تھی، ڈاکٹر نے اسے بتادیا تھا کہ اس کے والد اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔
میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے نرسوں کے لائونج میں لے گئی۔ ہم چھوٹے ہرے اسٹول پر بیٹھ گئے، ہم میں سے کوئی بھی کچھ نہیں بولا۔ وہ دیوار پر ٹنگے دوائیوں کے ایک کیلنڈر پر خالی نظریں جمائے، بت بنی، تقریباً پتھرائی ہوئی آنکھوں سے رو دینے والی حالت میں دیکھ رہی تھی۔
’’جینی! مجھے بہت افسوس ہے‘‘ میں نے کہا، جو بالکل قابل رحم حد تک ناکافی تھا۔ ’’میں نے ان سے کبھی نفرت نہیں کی۔ میں تو ان سے محبت کرتی تھی، آپ سمجھ سکتی ہیں‘‘ اُس نے کہا۔ یکایک وہ میری طرف مڑی اور بولی ’’میں ان کو دیکھنا چاہتی ہوں‘‘۔
میرا پہلا خیال تھا کہ اب خود کو مزید تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کو دیکھنے سے تمہیں مزید دکھ ہوگا۔ لیکن میں کھڑی ہوئی اور اُس کی کمر کے گرد اپنا ہاتھ لپیٹا۔ ہم لوگ کوریڈور سے آہستگی سے گزرتے ہوئے 712 کی طرف چلے۔ دروازے کے باہر میں نے اس کا ہاتھ سختی سے دبایا، یہ خواہش کرتے ہوئے کہ شاید وہ اپنا ارادہ بدل دے۔ اس نے دروازہ کھولا، ہم بستر تک گئے ایک دوسرے کے ساتھ چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے۔ جینی جھکی اور اپنا چہرہ چادروں میں گھسادیا۔ میں نے اسے ایسے دل خراش اور اتنے زیادہ اداس طریقے سے اپنے والد سے رخصت ہوتے ہوئے نہ دیکھنے کی کوشش کی۔ میں بستر کے برابر رکھی میز کی طرف مڑ گئی۔ میرا ہاتھ ایک پیلے رنگ کے کاغذ کے پرزے پر پڑا۔ میں نے اسے اٹھالیا، اس پر لکھا تھا:
’’میری پیاری جینی!
میں جانتا ہوں کہ آخری وقت میں ہم کبھی بھی بہت قریب نہیں رہے تھے۔ ہم نے ایک دوسرے سے ممکن ہے بری باتیں بھی کہہ دی ہوں جن پر بعد میں پچھتاوا ہوا ہو۔ لیکن میں تم کو معاف کرتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ تم بھی مجھے معاف کردو۔ میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ میں بھی تمہیں بہت چاہتا ہوں۔ ڈیڈی‘‘۔
کاغذ کا پرزہ میرے ہاتھوں میں لرز رہا تھا جب میں نے اسے جینی کی طرف بڑھایا۔ اس نے ایک مرتبہ پڑھا۔ پھر دوبارہ پڑھا۔ اس کا تکلیف سے بھرا چہرہ چمک اٹھا۔ سکون اس کی آنکھوں میں جھلکنا شروع ہوگیا۔ کاغذ کے پرزے کو اس نے اپنے سینے سے لگالیا۔
میں نے کھڑکی طرف دیکھا۔ برف کے ننھے کرسٹل ستاروں کی طرح اندھیرے میں آنکھ مچولی کررہے تھے۔ برف کا ایک قطرہ شیشے پر گرا اور پگھل کر بہہ گیا۔ زندگی اتنی ہی نازک محسوس ہورہی تھی جتنا کھڑکی پر برف کا ٹکڑا، لیکن میں شکر گزار تھی کہ رشتے برف کے ٹکڑوں کی طرح نازک، پھر سے جوڑے جاسکتے تھے۔ لیکن ایک بھی لمحہ فالتو نہیں تھا۔ میں کمرے سے چپ چاپ نکلی اور جلدی سے فون کی طرف چل دی۔ میں اب اپنے والد کو کال کررہی ہوں۔ میں کہوں گی: ’’میں آپ کو بہت چاہتی ہوں‘‘۔
آپ بھی اپنے چہیتوں کو کال کرکے بتادیجیے کہ آپ انہیں کتنا چاہتے ہیں، آپ نہیں جانتے کہ یہ کہنے میں کتنی دیر ہوجائے۔

Share this: