امام مالک ؒ۔

Print Friendly, PDF & Email

ابوسعدی
امام مالک بن انس الاصبحی قریشی اور عرب تھے، 93ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں اپنے بھائی کی مدد کرتے رہے، جو بزاز تھے۔ والدہ کی ترغیب و تربیت سے قرآن مجید حفظ کیا اور تجوید سیکھی، پھر مستقلاً فقہ پر توجہ کی۔ امام مالک نے مدینہ میں سیکڑوں شیوخ اور اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمٖن سے فقہ اور حدیث میں استفادہ کیا۔ تعلیم کے بعد درس و تدریس میں مصروف ہوئے۔ صلح کی طرف سخت میلان تھا اور جدال کو ناپسند کرتے تھے۔ تمام عمر مدینہ طیبہ میں بسر کی۔ اس شہر سے باہر نکلنے کو ناپسند کرتے تھے۔ امام مالک کو طلاق بالجبر کے موضوع پر، جسے وہ ناجائز خیال کرتے تھے، ابتلا کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی ابتلا کے اثرات سے 179ھ میں وفات پاگئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ اپنے عہد کے عظیم محدث تھے۔ ”مؤطا امام مالک“ حدیث میں ان کا شاہکار ہے، جس کی سند اور روایت و درایت پر امت کو اعتماد ہے۔ انھیں امیرالمومنین فی الحدیث، امام فی الحدیث اور امام فی السنتہ کہا جاتا ہے۔ اپنے عہد میں حدیث پر حرفِ آخر تھے۔ ”مؤطا“ خلیفہ منصور کی خواہش اور فرمائش پر مرتب کی گئی۔ یہ عملی امور اور ریاستی امور پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

ماں باپ اولاد کے خیرخواہ

ایک مالی نے مرتے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ میں نے باغ کے ہر ایک درخت کی جڑ میں دو دو روپے گاڑے ہیں۔ تم میرے مرنے کے بعد کھود کر نکال لینا۔
لڑکوں نے ہر ایک درخت کی جڑ کو کھودا، کہیں روپیہ نہ ملا۔ اپنی ماں سے کہا کہ: ’’ہمارا باپ مرتے وقت یہ کیا جھوٹ کہہ مرا تھا؟‘‘
ماں نے کہا: ’’تمہارا باپ جھوٹا آدمی نہیں تھا۔ میں سوچ کر اس کا جواب دوں گی‘‘۔
درختوں کی جڑیں کھودنے سے وہ درخت خوب پھلے پھولے۔ اور واقعی میں درخت پیچھے دو روپے زیادہ نفع ہوا۔ تب ماں نے بیٹوں سے کہا: ’’کیوں، باپ نے سچ کہا تھا یا جھوٹ؟‘‘
حاصل: ماں باپ اپنی اولاد کے بڑے خیرخواہ ہوتے ہیں۔ منفعت ِآئندہ کی توقع پر آدمی خوب محنت کرتا ہے۔
(” منتخب الحکایات“۔نذیر احمد دہلوی)

فرید الدین گنج شکرؒ

٭طمانیت چاہتے ہو تو حسد سے دور رہو۔
٭وہی دل حکمت و دانش کا مخزن بن سکتا ہے جو دنیا کی محبت سے خالی ہو۔
٭انسان کی تکمیل تین چیزوں سے ہوتی ہے: خوف، امید اور محبت۔ خوفِ خدا گناہ سے بچاتا ہے۔ امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے اور محبت میں محبوب کی رضا کو دیکھنا پڑتا ہے۔
٭درویش وہ ہے جو زبان، آنکھ اور کانوں کو بند رکھے یعنی بری بات نہ سنے، نہ کہے اور نہ دیکھے۔

زبان زد اشعار

فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیبِ داستاں کے لیے
(شیفتہ)

چل ساتھ کہ حسرت دلِ محروم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
(فدوی عظیم آبادی)

اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں
(فراق گورکھپوری)

داورِ حشر میرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
(محمد دین تاثیر)

Share this: