بلاول کے بعد آصفہ زرداری؟

Print Friendly, PDF & Email

محمد عامر شیخ
سال 2020ء جس کو حزبِ اختلاف کی جماعتیں انتخابات کا سال قرار دے رہی ہیں، انہوں نے ایک پیکیج کی روشنی میں اس کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کو جو امانت پرویزالٰہی نے سپرد کی، اور عدالتوں سے رکاوٹوں کی دوری کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو جو ریلیف ملا اور ضمانتوں کی بہار آئی اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اب ماسٹر پلان پورا ہوچکا ہے، اور اسی طے شدہ پلان کے تحت جہاں آصف علی زرداری نے قیادت بلاول کے حوالے کی، اور اب بلاول کے ہی تیز و تند جملوں کے علاوہ نیب کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف احتساب کا شکنجہ کسے جانے اور ان کو نوٹس، اور بلاول کی جانب سے 15 جنوری 2020ء کو نیب کے سامنے پیش ہونے کے عندیہ کے بعد پیپلز پارٹی کے پالیسی سازوں نے ایک مرتبہ پھر قیادت کی تبدیلی کے اشارے دیے ہیں اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے لیے آصفہ بھٹو زرداری کو نظر انتخاب بنادیا ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری کو سیاست میں لانے کا عندیہ سابق صدر آصف علی زرداری نے نواب شاہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پارٹی کارکنوں کو زرداری ہائوس میں دیے گئے استقبالیہ کے موقع پر خطاب میں دیا تھا کہ وہ آصفہ بھٹو زرداری کو بھی سیاست میں لانا چاہتے ہیں، اور اس سلسلے میں انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اُن کا اسی طرح ساتھ دیں جس طرح آپ نے میرا ساتھ دیا ہے۔
گزشتہ دنوں تواتر سے آصفہ بھٹو زرداری اپنی پھوپھی اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے ساتھ ضلع شہید بے نظیر آباد کے اُن حلقوں میں جارہی ہیں جہاں پیپلز پارٹی نے مخالفین کو انتخاب میں چت کیا تھا، اور پارٹی کے پرانے کارکنوں اور رہنمائوں سے بھرپور رابطے اور اُن کی خوشی غمی میں بھرپور شرکت کررہی ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے اپنے دادا حاکم علی زرداری اور دادی بلقیس بیگم کے مزاروں پر حاضری کے بعد پارٹی رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
اس سلسلے میں سندھ کے منظرنامے میں فاطمہ بھٹو کے سیاست میں داخلے کی خبروں کے بعد زرداری فیملی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کا پس منظر یہ بھی ہے کہ بلاول کو بھٹو بنانے کی بات سندھ کے پی پی کے پرانے کارکنوں کو اب تک ہضم نہیں ہوسکی ہے اور وہ نجی محفلوں میں اس سلسلے میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب میں جی ڈی اے کے امیدوار کی جیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پی پی کے کارکنوں نے حلقے میں انتخابی مہم سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی اور سرکاری مشنری کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پولنگ اسٹیشن پر تعیناتی نے حکمران پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست سے دوچار کردیا۔
آصفہ بھٹو زرداری کو میدان میں لانے کے بارے میں پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ میں بیٹیوں کو خصوصی عزت دی جاتی ہے اور ان کی تکریم کی جاتی ہے، اور سندھ میں یہ رسم بھی ہے کہ اگر قتل کے بعد مقتول کے گھر پر قاتلوں کی خواتین اور بچیاں قرآن شریف لے کر جاتی ہیں تو خون معاف کردیا جاتا ہے اور خون بہا نصف بلکہ بعض جگہوں پر بالکل نہیں لیا جاتا، سندھ کی اس روایت کو دیکھتے ہوئے سینئر سیاست دان اور سابق صدر آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری مرحوم نے یہ کہہ کر اپنی دو بیٹیوں ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو رکن قومی اسمبلی اور فریال تالپور کو ضلع ناظم کے لیے میدان میں اُتارا کہ مجھے حکومت نے نااہل اور میرے بیٹے آصف علی زرداری کو پابندِ سلاسل کردیا ہے تو کیا ہوا، میری دونوں بیٹیاں سیاست کریں گی۔ اور نواب شاہ کی زرداری خاندان کے لیے زرخیز زمین نے تین مرتبہ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو قومی اسمبلی اور فریال تالپور کو دو مرتبہ ضلع ناظم کا تاج پہنایا۔ اور اب آصفہ بھٹو زرداری کی سیاست میں انٹری کے سلسلے میں یہی سوچ کار فرما بتائی جاتی ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے گرتے ہوئے گراف کو روکنے اور بے نظیر بھٹو کی بیٹی ہونے کے ناتے اہلِ سندھ کی ہمدردی سمیٹنے کے لیے آصفہ کو میدان میں اُتارنے کی تیاری مکمل کی جارہی ہے۔ جبکہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی پوتی فاطمہ بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے بھی آصفہ کے چہرے کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ آصف علی زرداری جو کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے علاوہ نواب شاہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں، کی علالت کے باعث اب پی پی کے کارپرداز اس جانب بھی توجہ دے رہے ہیں کہ چونکہ آصفہ بھٹو زرداری پر کرپشن کے براہِ راست الزامات نہیں ہیں، اس لیے وہ کرپشن کے تیروں کی بارش میں پارٹی کے لیے ڈھال کا کام بھی سرانجام دے سکتی ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی علالت اور ان کی غیر موجودگی میں مریم نواز سیاسی میدان سرگرم ہوں گی۔ اس طرح جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی 2020ء میں ممکنہ قومی انتخابات یا مجوزہ بلدیاتی انتخابات میں آمنے سامنے ہوں گی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق آصفہ بھٹو زرداری پارٹی کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس سارے منظرنامے میں یہ بات اہم ہے کہ احتساب کے سلسلے میں اپوزیشن کی خوشیاں اپنی جگہ، تاہم نیب کے قوانین کے بارے میں حکومتی حلقے آرڈیننس کے بعد بھی پُرامید ہیں کہ اپوزیشن کو نیب کے شکنجے میں کسا جاچکا ہے اور ان کی خوشیاں محض خام خیالی ثابت ہوں گی۔ تاہم آئندہ سیاست کے میدان میں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی طرح پاکستان کی سیاست میں خواتین کا اہم کردار ہوگا، چاہے وہ مریم نواز کی صورت میں ہو یا آصفہ بھٹو زرداری کی شکل میں۔

Share this: