ارفع کریم رندھاوا

Print Friendly, PDF & Email

ڈھونڈنے والوں کو ہم دنیا بھی نئی دیتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے؟ مگر نام میں کچھ نہ کچھ ہوتا ضرور ہے، اسی لیے تو اچھے نام رکھنے کا حکم ہے، اور لوگ بچے کی پیدائش کے بعد اس کا نام رکھنے سے پہلے عموماً خاصا غور و فکر اور مشاورت ضروری خیال کرتے ہیں۔ پاک فوج کے کرنل امجد کریم رندھاوا نے بھی اپنے یہاں 2 فروری 1995ء کو پیدا ہونے والی بچی کا نام کچھ سوچ سمجھ کر ہی ’’ارفع‘‘ رکھا ہوگا، اور یقیناً انہیں اپنی اس بیٹی سے بہت سی توقعات بھی ہوں گی، مگر اتنی کم عمر میں ’’ارفع‘‘ اتنی رفعتوں کو جا چھوئے گی یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ والدین نے اس کا نام ’’ارفع‘‘ رکھا تو خالق نے ان کی بیٹی کو صلاحیتیں بھی غیر معمولی طور پر ’’ارفع‘‘ عطا فرمائیں، اور صرف نو برس کی عمر میں ’’ارفع‘‘کو وہ عالم گیر رفعت حاصل ہوئی جس کی نظیر نایاب ہے۔ یہ دین ہے اس کی جسے پرورد گار دے۔
وطنِ عزیز میں ناکامیاں ہی ناکامیاں دیکھنے والوں کے لیے ’’ارفع‘‘شاندار کامیابی کی ایک درخشاں مثال اور امید کی ایک روشن کرن ہے۔ زیادہ شہرت تو اس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ماہر کی حیثیت سے حاصل کی، مگر وہ کئی لحاظ سے ہر فن مولا تھی اور اس نے دیگر بہت سے شعبوں میں حیران کن کارکردگی کے مظہر اپنے پیچھے چھوڑے ہیں۔ وہ فیصل آباد کے نواحی علاقہ چارچک رام دیوالی میں پیدا ہوئی اور فیصل آباد ہی میں ابتدائی تعلیم کے دوران اس کی صلاحیتیں نمایاں ہوکر سامنے آنے لگی تھیں۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، کمپیوٹر میں اس کا شوق دیکھ کر اس کے والدین اسے ایک مقامی کمپیوٹر کالج میں داخلہ دلوانے کے لیے لے گئے تو کالج کے پرنسپل نے اتنی کم سن بچی کو داخلہ دینے سے انکار کردیا، تاہم والدین نے صرف اتنی درخواست اُن سے کی کہ آپ ہماری بچی سے ایک بار گفتگو کرلیں پھر اگر آپ چاہیں تو اسے داخلہ نہ دیں۔ اور واقعی پرنسپل نے جب اس کم سن بچی سے گفتگو کی تو وہ اسے بخوشی داخلہ دینے پر مجبور ہوگئے، اور یوں ارفع محض نو سال کی عمر میں 2004ء میں بین الاقوامی مائیکرو سافٹ انجینئرنگ کمپنی کے تمام امتحان کامیابی سے پاس کرکے باقاعدہ سند یافتہ مائیکروسافٹ ماہر قرار پا گئی، اور پوری دنیا میں کم عمر ترین کمپیوٹر ماہر کا اعزاز حاصل کرکے اپنے وطن کا نام چار دانگ عالم میں روشن کردیا۔ مائیکرو سافٹ دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کی ملکیت ہے، وہ ’’ارفع‘‘کی صلاحیتوں سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسے اپنے ادارے کا دورہ کرنے کی دعوت دی، چنانچہ ’’ارفع‘‘ 15 جولائی 2005ء کو اپنے محترم والد کے ہمراہ امریکہ گئی جہاں پاکستان کا نام ایک ناکام ریاست اور دہشت گردی کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا، ’’ارفع‘‘نے وہاں پاکستان کی ایک نئی اور تابناک شناخت پیش کی۔ بل گیٹس نے نہ صرف اسے اپنے ادارے کا دورہ کروایا بلکہ اپنے ہاتھ سے ’’مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن ڈویلپر‘‘ کی سندِ اعزاز بھی عطا کی۔ 2 نومبر 2006ء کو بل گیٹس نے اسے دوبارہ اپنے مرکزی دفتر کا دورہ کرایا اور اس سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ 2006ء ہی میں مائیکرو سافٹ کے بین الاقوامی ماہرین کی کانفرنس اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقد کی گئی جس میں دنیا بھر سے منتخب پانچ ہزار ماہرین کو مدعو کیا گیا، ان میں ایک معزز شخصیت پاکستان سے بھی مدعو کی گئی، اور یہ گیارہ سالہ ’’ارفع‘‘کریم تھی۔ اس کانفرنس کا موضوع تھا ’’اپنے زمانے سے آگے بڑھو‘‘ اور ’’ارفع‘‘ موضوع کے لحاظ سے موزوں ترین شخصیت تھی کہ وہ پہلے سے اپنے زمانے سے کہیں آگے تھی۔
’’ارفع‘‘نے صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ جس شعبے میں چاہا، کمال کردکھایا۔ 2005ء میں اسے دبئی کی آئی ٹی پروفیشنلز سوسائٹی کی طرف سے مدعو کیا گیا جہاں وہ پندرہ روز تک سوسائٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوکر اس کے ماہرین کے سوالوں کے جواب دیتی رہی اور الجھی گتھیاں سلجھاتی رہی۔ ایک جانب وہ کمپیوٹر ماہرین کے سوالات کے ماہرانہ جوابات کے ذریعے انہیں حیران کررہی تھی، اور دوسری جانب اس نے کانفرنس سے بچنے والے وقت کے دوران وہاں کے فلائنگ کلب سے ہوا بازی کی تربیت حاصل کرنا شروع کردی، اور جب وہاں سے دو ہفتے بعد واپس وطن آئی تو وہ باقاعدہ سند یافتہ ہوا باز تھی۔ محض چند روز کی تربیت میں اُس نے اِس فن میں بھی مہارت حاصل کرلی تھی، اور یوں وہ دنیا کی ’’کم عمر ترین ہوا باز‘‘ کا اعزاز بھی حاصل کرچکی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی اس تخلیق کو نہ جانے کن کن صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ وہ سنجیدہ اور اپنی ذات میں مگن رہنے والی سائنس دان ہی نہیں تھی بلکہ بہت اچھی نعت خواں، شاعرہ اور کھانا پکانے میں بھی ماہر تھی، اور کچن میں اپنی والدہ کا باقاعدگی سے ہاتھ بٹاتی تھی۔ اس نے بہت سے مقابلوں میں حصہ لیا اور تحریر و تقریر کے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ وہ زندگی کا کس قدر پختہ شعور رکھتی تھی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی وفات کے بعد جب اس کی ڈائری پڑھی گئی تو اس کے ایک صفحے پر یہ مصرع درج تھا
’’اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی‘‘
انگریزی زبان میں وہ بہت اچھی گفتگو کرتی تھی اور اس زبان میں اس چھوٹی سی عمر میں نہایت خوبصورت شاعری کرتی تھی۔ اسے جب بل گیٹس نے مدعو کیا تو اس کے گھر والوں نے اس سے پوچھا کہ اپنے میزبان کے لیے کیا تحفہ لے کر جائوگی، تو ارفع نے انہیں اپنی نظم پڑھنے کے لیے دی جو اس نے بل گیٹس کو تحفے کے طور پر پیش کرنے کے لیے لکھی تھی۔ وہ کتنی اچھی شاعرہ تھی اس کا اندازہ اُس کی درج ذیل نظم سے بخوبی کیا جا سکتا ہے

ارفع کریم کی لکھی ہوئی نظم

سفید گلاب کھڑا رہتا ہے طوفان کے درمیاں
قیامت خیز لہروں کے درمیاں
مگر ثابت قدم رہتا ہے سفید گلاب
قیامت اردگرد ناچتی ہے
پر وہ نہیں جھکتا
کتنا پاکیزہ ہے سفید گلاب
زمیں سے جڑا رہتا ہے تب بھی
جب سیاہ راتیں اسے ڈراتی ہیں
اے سفید گلاب تُو میری آنکھوں سے دور سہی
پر میں تیری حفاظت کرنا چاہتی ہوں
مگر میرے پاس فقط لفظ ہیں
میں یہ لفظ اور شاعر کا دل تجھے بھیج رہی ہوں
تب تک قائم رہنا جب تک تجھے دیکھنے کی امید باقی ہے
اے ننھے گلاب مضبوطی سے جمے رہنا
تمہارا دل تو سچائی سے مامور ہے
جب تک چاہو گے
تم سے محوِ گفتگو رہوں گی

چھوٹی سی عمر میں اس خوبصورت گڑیا نے نہ جانے کیا کیا کچھ سمیٹ لیا تھا۔ چھوٹے بڑے بہت سے انعامات و اعزازات کے علاوہ اس نے 2005ء میں فاطمہ جناح گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس نے ’’سلام پاکستان‘‘ ایوارڈ بھی جیت لیا اور پھر سب سے چھوٹی عمر میں ’’حُسنِ کارکردگی‘‘ کا صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی اس نے اپنے نام کروا لیا۔
’’ارفع‘‘ ہنستی کھیلتی نہایت تیز رفتاری سے ’’اپنے زمانے سے آگے‘‘ بڑھتی چلی جا رہی تھی کہ 22 دسمبر کو اچانک جیسے اِس دنیا میں اُس کا کام اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اسے پہلے مرگی کا دورہ پڑا، پھر دل کا دورہ، اور پھر برین ہیمبرج… اور پھر وہ لاہور کے سی ایم ایچ میں مشینوں کے سہارے سانس لیتی 24 روز تک دنیا بھر سے اپنے چاہنے والوں سے محبتیں اور دعائیں سمیٹتی رہی۔ پاکستانی ماہر ڈاکٹروں نے اپنی سی تمام کوششیں کیں، بل گیٹس نے بھی عالمی ماہرینِ طب کی خدمات حاصل کیں، مگر زندگی کے مقررہ لمحوں میں اضافہ کس کے بس کی بات ہے! چنانچہ 14 جنوری 2012ء کو ارفع اس زیاں خانے کے امتحاں سے سرخرو ہوکر حیاتِ ابدی کی جانب اپنے مالکِ رفیع الشان کے پاس چلی گئی۔
ارفع جاتے جاتے بھی نفرتوں کے پجاریوں کو محبت کا پیغام دے گئی کہ میں پاکستان کی بچی ہوں اور میری وفات پر سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھان… ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سب ہی اشک بار ہیں… ملک کے تمام طبقوں اور مکاتبِ فکر کے لوگوں نے مجھ سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ پاکستانیوں کو طبقوں، فرقوں، علاقائی اور لسانی بنیاد پر تقسیم کرنے والو! میرا جنازہ دیکھو… کسی خونیں رشتے، ذات، برادری اور علاقے کے تعلق کے بغیر ہزارو ں لوگ کس طرح محض ایک اچھی بچی سے محبت کے اظہار کے لیے دور و نزدیک سے امڈے چلے آئے ہیں۔ محبت کا ایک سمندر ہے کہ ہر طرف ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ارفع جاتے جاتے ایک اعزاز اور اپنے نام کرگئی کہ وہ وطنِ عزیز کی سب سے کم عمر بچی تھی جس کا وجود قومی پرچم کے لباس میں زیب تن سپردِ خاک ہوا۔
’’ارفع‘‘ کو علامہ اقبال کی شاعری بہت پسند تھی، وہ اپنے عمل و کردار سے ثابت کرگئی کہ علامہ نے ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں جو یہ فرمایا تھا، سو فیصد درست فرمایا تھا مگر کاش کوئی اپنے اندر جوہر قابل تو پیدا کرے

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو ہم دنیا بھی نئی دیتے ہیں

Share this: