جنرل سلیمانی کا قتل مشرق وسطیٰ کا نیا منظر نامہ؟

Print Friendly, PDF & Email

واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی

۔3 جنو ر ی کو صبح سویرے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے (سابق صدام حسین انٹرنیشنل ائیرپورٹ) کے قریب امریکی میزائیل حملے میں پاسدارانِ انقلابِ اسلامی ایران (IRGC)کے معروف کمانڈر اور سپاہ قدس (Al- Quds Force) کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی اپنے اتحادی یعنی شیعہ ملیشیا حشد الشعبی (PMF)کے نائب ابومہدی المہندس (انجینئر) کے ہمراہ جاں بحق ہوگئے۔
سپاہ قدس کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی 2 جنوری کو صبح سویرے اپنے خصوصی طیارے میں تہران سے دمشق پہنچے، جہاں سے وہ بذریعہ کار لبنان کے دارالحکومت بیروت آئے۔ بیروت میں جنرل سلیمانی نے مبینہ طور پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے تفصیلی ملاقات کی۔ وہ مغربین (مغرب و عشا) پڑھ کر دمشق واپس آئے اور رات ڈھائی بجے کے قریب اپنے طیارے میں بغداد روانہ ہوئے۔ عراق میں کسی کو جنرل صاحب کی آمد کی خبر نہ تھی اور اُن کے بغداد آنے سے آدھا گھنٹہ پہلے جناب ابومہدی المہندس کو بتایا گیا کہ جنرل سلیمانی کا طیارہ بغداد اترنے والا ہے اور سلیمانی صاحب ان سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ پیغام سن کر ابومہدی المہندس ائرپورٹ پہنچے، جنرل صاحب کا استقبال کیا، اور یہ دونوں حضرات حفاظتی عملے کے ہمراہ دو مختلف کاروں میں وہاں سے روانہ ہوئے۔
جیسے ہی یہ گاڑیاں ائرپورٹ سے نکل کر مرکزی شاہراہ پر آئیں، امریکی ڈرون سے داغے جانے والے میزائیل نے آگے والی گاڑی کے پرخچے اڑا دیے، جبکہ دوسرا میزائیل دوسری گاڑی سے کچھ آگے گرا۔ بچ جانے والی گاڑی کے ڈرائیور نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کار کو روکا اور واپس موڑنے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران ڈرون سے تیسرا میزائیل داغا گیا جو سیدھا اس گاڑی کو لگا۔کہا جارہا ہے کہ پہلی گاڑی میں جنرل قاسمی اور پیچھے آنے والی کار میں حشد الشعبی کے نائب سوار تھے۔ محکمہ سراغ رسانی، عراقی وزارتِ دفاع اور محکمہ شہری ہوابازی کو جنرل سلیمانی کی بغدادآمد کی کوئی اطلاع نہ تھی اور اب تک یہ بات معمّا بنی ہوئی ہے کہ کس نے ابومہدی کو یہ اطلاع دی جس پر وہ ائرپورٹ پہنچے؟ بغداد اور تہران کے سراغ رساں حلقوں کا خیال ہے کہ جنرل سلیمانی کی دمشق روانگی کے وقت سے نگرانی کی جارہی تھی اور ان کے طیارے کے بغداد پہنچنے پر ’منکر نکیروں‘ نے حشد الشعبی کے نائب کمانڈر کو جنرل صاحب کے استقبال کا پیغام بھیجا، جن کی ہدایت پر بغداد ائرپورٹ کے کنٹرول ٹاور نے طیارے کی لینڈنگ کے انتظامات کیے۔ گویا بہت ہی ہوشیاری سے ابومہدی کو مقتل کا راستہ دکھایا گیا، تاکہ ایک تیر سے دوشکار کیے جاسکیں۔
تاہم عرب سیاسی و سفارتی تجزیہ نگار تصویر کا ایک دوسرا رخ پیش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی ایران و سعودی عرب کے درمیان مصالحت کی کوششوں میں مصروف تھے، اور دونوں جانب سے مثبت اشارے مل رہے تھے۔ سلسلہ جنبانی کو درہم برہم کرنے کے لیے27 دسمبر کو کرکوک (عراقی کردستان) میں امریکہ کے فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا جس میں امریکی فوج کا ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک اور کئی سپاہی زخمی ہوئے۔ عراقی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ یہ داعش کی کارروائی تھی، لیکن امریکیوں کے مطابق حملہ ایران کی حمایت سے شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ نے کیا تھا۔ ایران اور حشد الشعبی دونوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی، لیکن واشنگٹن نے ان وضاحتوں کو تسلیم نہیں کیا اور دودن بعد امریکی ڈرونز نے عراق اور شام کی سرحد پر کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے 4 کمانڈروں سمیت 25 جنگجوئوں کو ہلاک اور 55 سے زیادہ جوانوں کو زخمی کردیا۔
اپنے کمانڈروں کی ہلاکت پر حشدالشعبی مشتعل ہوگئی، اور 31 دسمبر کو ہزاروں افراد بغداد میں امریکی سفارت خانے پر چڑھ دوڑے۔ عراقی فوج کی بروقت کارروائی سے سفارتی عملہ محفوظ رہا، لیکن مظاہرین نے عمارت کی بیرونی دیواروں کو آگ لگادی۔ اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے بھی پہلے صدر ٹرمپ نے ایران کو امریکی سفارت خانے پر حملے کا ذمے دار ٹھیراتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔‘‘
واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی کے باوجود وزیراعظم عبدالمہدی نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت کی کوششیں جاری رکھیں۔ عراقی وزیراعظم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یکم جنوری کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر حسن روحانی کے نام ایک مکتوب بھیجا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ رفقا سے مشورے کے بعد ایرانی صدر نے اس خط کا جواب تیار کیا جو حساسیت کے پیش نظر ایلچی کے ذریعے وزیراعظم عبدالمہدی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، اور رہبر ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے معتمد خاص جنرل قاسم سلیمانی پیام رساں مقرر ہوئے۔ جوابی خط عراقی وزیراعظم کے حوالے کرنے سے پہلے جنرل صاحب نے شامی صدر بشارالاسد اور حزب اللہ کے سربراہ کو اعتماد میں لیا۔ وہ یہ خط لے کر بغداد ائرپورٹ سے ایوانِ وزیراعظم جارہے تھے کہ انھیں پہلے سے گھات لگائے ڈرون نے نشانہ بنالیا۔
62 سالہ قاسم سلیمانی نے ایران کے جنوبی صوبے کرمان کے ایک چھوٹے سے گائوں قنات ملک کے غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ ابھی 20 سال کے تھے کہ شاہ ایران کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا۔ اُس وقت آیت اللہ خمینی پیرس میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے۔ آیت اللہ خمینی اپنے انقلابی خطبات پیرس میں ریکارڈ کراتے اور کیسٹ کی کاپیاں بناکر انھیں سارے ایران میں تقسیم کردیا جاتا۔ اسی بنا پر اس تحریک کو Sony انقلاب کا نام دیا گیا۔ کرمان صوبے میں ان کیسٹوں کی تقسیم نوجوان قاسم سلیمانی کے ذمے تھی۔ یہ کام بے حد خطرناک تھا، کہ شاہ ایران کی خفیہ ایجنسی ساواک کے ایجنٹ سارے ملک میں پھیلے ہوئے تھے اور ہزاروں انقلابی کارکن ساواک کے سفاک ایجنٹوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
اپنی شجاعت، حکمت اور معاملہ فہمی کی بنا پر قاسم زیر زمین انقلابی قیادت کے بے حد قریب ہوگئے، اور جب شاہ ایران کی معزولی کے بعد آیت اللہ خمینی کی سرپرستی میں انقلابی حکومت قائم ہوئی تو قاسم سلیمانی نے IRGC میں شمولیت اختیار کرلی۔ سلیمانی نے باقاعدہ فوجی تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر IRGC میں بہت کامیاب رہے۔ 1980ء میں جب صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا تو قاسم سلیمانی ہتھیار اٹھاکر محاذ پر چلے گئے اور بے مثال شجاعت سے انھوں نے اپنا مقام بنا لیا۔ اسی دوران ایرانی قیادت نے بیرونِ ملک لاحق خطرات سے حفاظت کے لیے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں اپنے ہمدردوں کو عسکری بنیادوں پر منظم کرنا شروع کیا۔ دوسری انقلابی تنظیموں یعنی لبنان کی حزب اللہ، پاکستان کی شیعہ تنظیموں اورافغانستان کی حزبِ وحدت وغیرہ سے قریبی تعلقات استوار کیے گئے۔ اس کام کے لیے IRGC نے سپاہِ قدس کے نام سے ایک علیحدہ شعبہ قائم کیا، جس کے سربراہ قاسم سلیمانی مقرر ہوئے، اور یہیں سے جناب سلیمانی کو عالمی شہرت نصیب ہوئی۔
ستم ظریفی کہ امریکہ کے ہاتھوں انتہائی بے بسی کے عالم میں مارے جانے والے جنرل قاسم سلیمانی کی چچا سام پر مہربانیوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔
نائن الیون (9/11) سانحے کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا تو قاسم سلیمانی سے مدد طلب کی گئی۔ جنرل سلیمانی نے افغان شیعہ تنظیم حزبِ وحدت کی مدد سے طالبان مخالف شمالی اتحاد کو امریکی فوج کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا اور تاجکستان کے راستے پنج شیر اسلحہ بھجوایا۔ اس دوران امریکی ٹیلی ویژن پر لاکھوں لوگوں نے وہ منظر دیکھا جب شمالی اتحاد کے سپاہی ’مرگ بر امریکہ‘ لکھے لکڑی کے بڑے بڑے صندوق کھول کر ایران ساختہ اسلحہ نکال رہے تھے۔ 26 ستمبر 2001ء کو جب گیری شروئن (Gary Schroen)کی قیادت میں امریکی سی آئی اے کا 8 رکنی ہراول دستہ پنج شیر اترا تو جنرل سلیمانی کی ہدایت پر بدنام زمانہ پیشہ ور قاتل اور گلم جم ملیشیا کے سربراہ عبدالرشیم دوستم نے ان کا استقبال کیا۔ گیری شروئن اپنے ساتھ 30 لاکھ ڈالر نقد لائے تھے جو طالبان مخالف جنگجوئوں میں تقسیم کیے گئے۔ 5 ہفتوں کی شدید بمباری کے باوجود امریکہ افغان سرزمین پر اپنی فوج اتارنے میں ہچکچا رہا تھا۔ جنرل سلیمانی کی حوصلہ افزائی پر عبدالرشید دوستم تاجک اور شیعہ ملیشیا لے کر قندھار پہنچے اور امریکی چھاتہ بردار فوج کو اترنے اور شہر کی جانب پیش قدمی کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا۔ اس دوران دوستم نے وحشت کا جو بازار گرم کیا اُس کے ذکر سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ طالبان کی مخالفت میں جنرل سلیمانی نے افغانستان میں امریکیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔عراق کے معاملے میں امریکی سی آئی آے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے دودن پہلے ایک ریڈیو انٹرویو میں انکشاف کیا کہ 2003ء میں جب امریکہ و برطانیہ کی جانب سے عراق پر حملے کی تیاری اپنے عروج پر تھی تو جنرل قاسم سلیمانی نے ڈیوڈ پیٹریاس کو خود پیغام بھیج کر تعاون کی پیش کش کی۔ پیغام میں جنرل سلیمانی نے بہت ہی صراحت کے ساتھ کہا کہ اس ضمن میں امریکہ کو صرف انھی سے رابطہ رکھنا چاہیے کہ ان کے سوا ایرانی فوج کا کوئی اور جرنیل آپ کی مدد نہیں کرسکتا۔
شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مقبول عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بھی جنرل سلیمانی اور سپاہ القدس نے جو کردار اداکیا وہ قابلِ افسوس ہے۔ طاقت کے بدترین استعمال سے لاکھوں شامی موت کے گھاٹ اترے، اور یہ ہنستا بستا ملک فرقہ واریت کی ایسی بھٹی میں تبدیل ہوگیا جس کا ایندھن پھول سے بچے ہیں۔
ایران دنیا بھر کے شیعوں کا نمائندہ ملک ہے اور اس کے رہبر حضرت آیت اللہ خامنہ ای شیعانِ عالم کے روحانی پیشوا ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری شدید کشیدگی کے باوجود واشنگٹن نے ایران پر براہِ است حملے سے گریز کیا ہے۔ 1979ء میں ایرانی طلبہ نے تہران کے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے امریکی سفارت کاروں کو 444 دن یرغمال بنائے رکھا۔ امریکی فوج نے انھیں چھڑانے کے لیے ناکام آپریشن بھی کیا، لیکن nuke Iran کے ملک گیر مطالبے کے باوجود صدر جمی کارٹرنے کسی بڑی کارروائی سے گریز کیا۔ جب 1988ء میں امریکی بحریہ نے ایران کا مسافر بردار طیارہ گرایا جس میں عملے سمیت 290 افراد مارے گئے، تو امریکہ نے 13 کروڑ اٹھارہ لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرلیا۔
ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کے اس انتہائی قدم کی کوئی منطقی توجیح اب تک سامنے نہیں آئی۔ آتشیں بیانات کے باوجود صدر ٹرمپ جنگ اور فوجی کارروائی کو برابر ٹال رہے ہیں۔ وہ جنگ کو سفارت کاری بلکہ قیادت کی ناکامی سمجھتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی صدور شمالی کوریا کو دھمکی دیتے رہے جس سے کشیدگی اور امریکی فوجی اخراجات میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا، لیکن انھوں نے بات چیت کے ذریعے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کو معقولیت پر مائل کرلیا۔
2012ء میں جب سابق صدر اوباما دوسری مدت کا انتخاب لڑرہے تھے اُس وقت جوہری تنازعے کی بنا پر ایران اورامریکہ کے تعلقات سخت کشیدہ تھے۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ صدر اوباما انتخاب جیتنے کے لیے ایران پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اوباما کو بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا اور وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے فوجی قوت کا سہارا لینا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ افغانستان کے مسئلے کو بھی پُرامن انداز میں حل کرنے کی طرف مائل نظر آرہے ہیں۔
امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ غیر روایتی صدر ہونے کے دعویدار صدر ٹرمپ ’مجبور‘ ہوکر روایتی ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو امریکی کانگریس کی جانب سے مواخذے کا سامنا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں یہ ’مقدمہ‘ سینیٹ میں پیش ہوگا جہاں صدر کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ تحریک کی کامیابی کے لیے مواخذے کے حق میں 67 ووٹ آنا ضروری ہیں، جبکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ان کے آزاد اتحادیوں کا مجموعی پارلیمانی حجم صرف 47 ہے، لہٰذا اس تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن بظاہر پُراعتماد اور بے نیاز نظر آنے والے صدر ٹرمپ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی میں رسوا کن سماعت اور اس کے عام انتخابات پر ممکنہ منفی اثرات سے خاصے فکرمند ہیں۔
عام انتخابات سے پہلے ’دبنگ‘ اقدامات دوسری مدت کا انتخاب لڑنے والے امریکی صدور کی روایت ہے۔
1998ء میں جب سابق صدر بل کلنٹن کو مواخذے کا سامنا تھا تو موصوف نے عراق پر آگ و آہن کی بارش کردی۔ Operation Desert Foxکے نام سے 4 دن تک عراق کے طول و عرض پر خوفناک بمباری کے علاوہ خلیج میں تعینات امریکہ کے بحری جہازوں سے عراقی شہروں پر گولہ باری کی گئی۔ ہنگامی صورت ِحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی مواخذے کی کارروائی کچھ روز کے لیے معطل کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ اسی بنا پر صدر کے مخالفین نے عراق پر اس حملے کو ’جنگِ مونیکا‘ کا نام دیا۔
کچھ اسی طرح کی حکمت عملی سابق صدر اوباما نے بھی اپنائی جب 2012ء کے انتخابات سے پہلے 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسامہ کی عجلت میں بحری تدفین اور تصاویر کے اجرا سے اجتناب کی بنا پر یہ معاملہ خاصہ مشکوک ہے۔ غیر جانب دار مبصرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن 2002ء کے آغاز میں تورابورا حملے میں مارے جاچکے تھے اور ایبٹ آباد آپریشن محض ایک انتخابی ڈراما تھا۔
ایبٹ آباد ہی کی طرز پر گرشتہ برس 27 اکتوبر کو داعش کے مبینہ سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت منظرعام پر آئی۔ ISIS کے 48 سالہ سربراہ کو شامی صوبے ادلیب کے ایک گائوں باریشا میں نشانہ بنایا گیا۔ اوباما انتظامیہ نے ایبٹ آباد آپریشن کی نگرانی کرتے ہوئے امریکی صدر اور ان کے مشیروں کی تصویر جاری کی تھی۔ اِس بار بالکل اسی انداز میں صدر ٹرمپ نائب صدر مائیک پینس اور وزیر دفاع کے ہمراہ یہ ڈراما دیکھ رہے تھے۔
ایرانی فوج کے قلب پر اس حملے کی وجہ مواخذہ اور صدارتی انتخابات ہیں، یا سعودیہ ایران ممکنہ مفاہمت کے دروازے کو قفل لگانا… صدر ٹرمپ کی یہ جراتِ رندانہ دنیا اور خاص طور سے مشرق وسطیٰ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ رہبر ایران آیت اللہ خامنہ ای بہت دوٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں کہ جنرل سلیمانی عالمی سطح پر مزاحمت کی علامت تھے۔ امریکہ نے جنرل سلیمانی پر حملہ کرکے دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔
عسکری ماہرین تہران کی جانب سے نپے تلے جواب کی توقع کررہے ہیں۔ پاکستان، افغانستان، شام، لبنان، یمن اور عراق میں ایرانیوں کی جڑیں خاصی گہری ہیں۔ دوسری طرف خلیجی ممالک میں چالیس ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں۔ پورے خطے میں ایران نواز عسکری تنظیمیں اور فدائین موجود ہیں جن کے ذریعے تہران امریکی مفادات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ’دشمن کا دوست دشمن‘ کے اصول پر ایران اور یمن کے حوثی سعودی عرب میں تیل و گیس کے میدان اور تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔تاہم زمینی حقائق ایران کے حق میں نہیں۔ تہران کو اسلامی دنیا میں سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ترکی کے علاوہ کسی مسلم ملک نے جنرل سلیمانی کے قتل کی مذمت نہیں کی۔ ایران کے دوسرے پڑوسی یعنی پاکستان، افغانستان اور عراق پر امریکہ کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔
عراقی پارلیمنٹ سے فوجی انخلا کی قرارداد منظور ہونے پر امریکی فوج کے مقامی کمانڈر بریگیڈیر ولیم سیلی نے عراقی جرنیل کے نام خط میں پارلیمنٹ کے احترام اور امریکی فوج کی فوری واپسی کا عندیہ دیا، لیکن خط کی سیاہی خشک ہونے پہلے ہی امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے اپنے وضاحتی بیان میں عراق سے امریکی فوج کے انخلا کو یکسر مسترد کردیا۔ امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے بغداد میں تعینات اپنے کمانڈر کے خط کو قبل ازوقت و نامناسب قرار دے کر عراق کی آزادی و خودمختاری کو ہوا میں اڑا دیا۔
اس واقعے پر پاکستان کے طرزعمل سے عمران حکومت کی بے بسی و بے اختیاری کھل کر سامنے آگئی۔ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے اپنے پاکستانی ہم منصب یا حکومت سے بات کرنے کے بجائے فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کو فون کیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق بات چیت کے دوران جنرل باجوہ نے پاکستان میں امریکہ کے سفارتی عملے اور عسکری مفادات کے تحٖفظ کا یقین دلایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہو لیکن جنرل باجوہ سے پومپیو کی گفتگو کے فوراً بعد امریکی وزارت دفاع نے پاکستان کے فوجی افسران کی تربیت پر پابندی ختم کردی۔ دوسرے دن اس معاملے پر آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور نے پاکستانی حکومت کی جانب سے پالیسی بیان جاری کیا جس میں عراق کی قومی خودمختاری کا ذکر کیے بغیر اس معاملے میں مکمل غیر جانب داری کا عزم ظاہر کیا گیا۔ توقع تھی کہ ترکی کی طرح پاکستان بھی امریکہ کی جانب سے عراق کی سالمیت و خودمختاری کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرے گا۔ عجیب بات کہ اس سارے معاملے میں پاکستانی وزارت خارجہ کا کردار بلکہ وجود نظر ہی نہیں آیا۔
اسلام آباد اس معاملے پر غیر جانب داری کی چادر اوڑھنے میں اپنی عافیت سمجھ رہا ہے لیکن پاکستان کے لیے معاملہ اتنا آسان نہیں۔ فوجی تربیت بحال کرکے امریکہ نے خدمت سے پہلے حق المحنت ادا کردیا ہے، یعنی سودے کو پُرکشش بنانے کے لیےdo moreکے بجائے take now, pay laterکی حکمت عملی کے ساتھ ہی ”بلڈی سولینز“ کو یکسر نظرانداز کرکے امریکہ نے قومی پالیسیوں کی تدوین و ترتیب کے باب میں پاکستانی مقتدرہ کو اپنی ترجیحات و خواہشات سے بھی آگاہ کردیا ہے۔

اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.com اور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹwww.masoodabdali.comپر تشریف لائیں۔

Share this: