بنگالی ’ج‘ کو ’ز ‘سے بدل دیتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

پیر 13 جنوری کے تمام اخبارات میں، اور نیوز چینلز پر بھی بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر کا نام ’نظم الحسن‘ دیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوان صحافیوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ بنگالی میں ’ج‘ ’ز‘ یا ’ظ‘ (Z) سے بدل جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خبر انگریزی میں آئی ہے چنانچہ ’نجم الحسن‘ نظم الحسن ہوگیا۔ نظم الحسن بنگالی میں بھی بے معنی ہے۔ یہ واقعہ دہرانا شاید بے وقت نہ ہو کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے ڈھاکا میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا جس میں استاد جلیل مانکپوری بھی شامل تھے۔ ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ اب دیکھیے، آپ کا نام ’ذلیل‘ ہوجائے گا۔ انہوں نے وثوق سے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ جب بنگالی معلن (مع لِن) نے ان کا نام پکارا تو جلیل مانکپوری ہی کہا۔ بعد میں ساتھی نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا؟ تو ہنس کر کہنے لگے ’’میں نے اپنا نام ’ذلیل‘ لکھ کر دیا تھا، چنانچہ حسبِ معمول ’ذ‘ کو ’ج‘ کردیا گیا‘‘۔ جدہ میں ایک بنگالی مولانا بچوں کو پڑھانے آتے تھے اور دعائیں بھی یاد کراتے تھے۔ وہ یہ دعا بھی یاد کراتے تھے ’’ربِ جدنی علما‘‘۔ ان کے جانے کے بعد ہم تصحیح کروا دیا کرتے تھے کہ یہ ’’زدنی علما‘‘ ہے۔ Z کو جیڈ کہنا عام ہے۔ نجانے قرآن کریم پڑھتے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ جدہ ہی میں ہمارے دفتر میں مسجد تھی جو وہاں ہر دفتر میں ہوتی ہے۔ وہاں کوئی بھی شخص آگے بڑھ کر امامت کرا سکتا ہے۔ چنانچہ ایک بار عرب نیوز کے ایک شامی صحافی نے نماز پڑھائی۔ مقتدیوں میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل بھی تھے۔ انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد اعلان کیا کہ آئندہ وہ شامی صحافی نماز نہیں پڑھائیں گے۔ وجہ یہی کہ بیشتر عربوں نے ’ق‘ کو ’گ‘ کہنا شروع کردیا ہے۔ مصریوں نے ’ج‘ کو ’گ‘ کرلیا اور یہ وبا سعودی عرب میں بھی داخل ہوگئی ہے۔
نوجوان صحافی بھی کیا کریں جب ہمارے سیاسی رہنما بھی فاش غلطیاں کرتے ہیں اور ان کی یہ غلطیاں ٹی وی چینلز کی وجہ سے عام ہورہی ہیں۔ ایک وفاقی وزیر یا مشیر مبیّنہ کو مبینہ (مبی نہ) کہہ رہے تھے۔ سندھ کے ایک وزیر ’’مبنی‘‘ پر تشدید لگا کر حساب برابر کررہے تھے۔ بَھینٹ (بھ پر زبر) کو بِھینٹ بروزن اینٹ کہا جارہا ہے۔ جسارت کے پیر کے شمارے میں شہ سرخی کی ذیلی میں ’’تصاویریں‘‘ شائع ہوا ہے۔ صحافی بننے کے لیے اب شاید علم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اردو اخبارات میں جتنی غلطیاں ہوتی ہیں انگریزی اخبارات میں نہیں ہوتیں۔ ٹی وی پر ایک صاحب فوج کُشی (’ک‘ پر پیش) کہہ رہے تھے۔ کَش اور کُش میں فرق اب تک واضح نہیں ہوا۔ ’خودکُشی‘ کو عموماً ’’خودکَشی‘‘ (’ک‘ پر زبر) کہا جارہا ہے۔ جب کہ کَش کا مطلب ہے: کھینچنا جیسے جاروب کَش، سگریٹ کا کَش وغیرہ۔ اور کُش کا مطلب ہے: مارنا، قتل کرنا۔ خود کُشی کا مطلب ہے: خود کو مارنا، قتل کرنا۔ کُش فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مصدر کشتن ہے۔ یہ محاورہ مشہور ہے ’’گربہ کُشتن روزِ اوّل‘‘۔ فوج کُشی کا مطلب تو فوج کو قتل کرنا ہوا۔ جب کہ فوج کَشی کا مطلب فوجی چڑھائی کرنا ہے۔
جسارت میں ایک مضمون کی سرخی دیکھی ’’موٹاپا‘‘۔ مضمون غالباً مٹاپا دور کرنے کے بارے میں تھا، لیکن یہ موٹاپا کیا ہے؟ اگر موٹاپا ہوسکتا ہے تو بوڑھاپا بھی ہوتا ہوگا۔ مٹاپا ہندی کا لفظ ہے اور موٹاپا ہو یا بوڑھاپا، اس میں وائو نہیں آتا خواہ کوئی کتنا ہی موٹا یا بوڑھا ہو۔ اسی طرح موٹا سے مُٹائی ہے۔ اس میں بھی وائو نہیں، یعنی یہ موٹائی نہیں ہے لیکن عام بول چال میں موٹائی ہی کہا جاتا ہے۔ لمبائی، موٹائی۔ تاہم لغت میں یہ مُٹائی ہے۔ ہمارے ساتھی اگر کبھی کبھی لغت بھی دیکھ لیں تو کوئی ہرج نہیں ہے۔
’’بٹّے کھاتے میں‘‘۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ عوامی لفظ ہے، لیکن داغؔ دہلوی نے اسے اپنے شعر میں استعمال کیا ہے تو مستند ہوگیا:۔

چکی تھی قیمتِ دل ایک بوسہ وہ نہ ملی
یہ مال ڈال دیا ہم نے بٹّے کھاتے میں

بٹّے کھاتے کا مطلب ہے ناقابلِ وصول رقم، یا وہ رقم جس کا وصول ہونا مشتبہ ہو۔ ’بٹے کھاتے لکھنا‘ کا مطلب ہے کسی رقم کو ناقابلِ وصول قرار دینا۔ کچھ حکمرانوں کے وعدے بھی بٹے کھاتے میں درج ہوتے ہیں۔ بٹّا کے اور بھی کئی مطالب ہیں۔ یہ بٹا کبھی شان میں اور کبھی عزت میں بھی لگ جاتا ہے۔ بٹا لگنے کا مطلب ہے عیب لگنا، حرف آنا۔ اس کا مطلب کمی پڑنا، نقصان ہونا بھی ہے۔ بٹا وہ پتھر یا لوہے کا ٹکڑا بھی ہوتا ہے جس سے سل پر مسالا یا کوئی دوا پیستے ہیں۔ اب سل بٹے کا رواج کم ہوتا جارہا ہے تاہم ابھی ناپید نہیں ہوا۔ اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد جب ایک مدرسے میں پڑھتے تھے تو طالب علموں کی ایک ذمے داری یہ بھی تھی کہ لوگوں کے گھروں سے کھانا لایا جائے۔ محلے کی ایک لڑکی ایسی ظالم تھی کہ نذیر احمد کو روٹیاں دینے سے پہلے ڈھیروں مسالا (یا مصالحہ) پسواتی، اور اگر کچھ کوتاہی ہوتی تو اسی بٹے سے اُن کی انگلیوں کا مسالا پیسنے کی کوشش کرتی، یعنی بٹا انگلیوں پر مارتی۔ بعد میں یہی لڑکی ڈپٹی نذیر احمد کی بیگم بنی، اور امکان ہے کہ شادی کے بعد اس نے ڈپٹی صاحب سے مسالا پسوانا چھوڑ دیا ہوگا۔ ڈپٹی نذیر احمد کوئی ڈپٹی کمشنر نہیں بلکہ ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز تھے، ڈپٹی کمشنر تو انگریز ہی ہوسکتا تھا۔
اردو میں کئی الفاظ ایسے ہیں جن کا املا تو ایک ہی ہے لیکن معانی مختلف ہیں مثلاً سَدَھا، سُدھارنا اور سِدھارنا۔ سدھا (پہلے دونوں حروف پر زبر) کا مطلب ہے مانوس کیا گیا، سدھا سدھایا۔ سدھا مذکر ہے اور صفت ہے۔ سُدھارنا (’س‘ پر پیش) ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے سنوارنا، درست کرنا، ٹھیک بنانا، سزا دینا۔ علاوہ ازیں آراستہ بنانا، مثلاً مولوی صاحب نے شاگرد کو خوب سدھارا۔ بطور دھمکی بھی کہا جاتا ہے کہ سدھر جائو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ اور سِدھارنا (’س‘ بالکسر) کا مطلب ہے رخصت ہونا، روانہ ہونا۔ داغؔ کا شعر ہے:۔

وہ سِدھارے اپنے گھر کو مجھ کو رہی یہ کشمکش
ضبط نے کھینچا ادھر دل سوئے دلبر لے چلا

کنا یتہً دنیا سے رخصت ہونے کو بھی کہتے ہیں، جیسے فلاں صاحب کل سدھار گئے۔ کسی کو رخصت کرتے ہوئے بطور دعا کہا جاتا ہے ’’خیر سے سدھارو‘‘۔
انشا کا شعر ہے:۔

کہا اب خیر سے گھر کو سدھارو
کسی کا مفت میں جی نہ مارو

سَدھانا کا مطلب ہے (جانوروں کے لیے) سکھانا، تعلیم دینا، مانوس کرنا۔ عام طور پر گھوڑوں اور کتوں کو سدھایا جاتا ہے۔ ان سے کرتب بھی کروائے جاتے ہیں۔ سِدھارو اور سُدھارو میں ہم اب بھی گڑبڑا جاتے ہیں۔ ہندی کا ایک محاورہ ہے ’’بدھ کام سُدھ‘‘۔ یہ سدھ بھی سدھار سے ہے یعنی کام درست ہونا، ٹھیک ہونا۔ ویسے تو بدھ ایک دن کا نام ہے، لیکن ہندی میں عقل و سمجھ کو بھی کہتے ہیں۔ اور سمجھدار کو بدھی مان کہتے ہیں۔ گوتم بدھ کو اسی لیے بدھ کہتے تھے یعنی عقل مند، بدھی والا۔ بدھو طنزاً کہتے ہیں۔ درج بالا سطور میں کام سدھ کا محاورہ دیا ہے۔ سُدھ کا مطلب یادداشت، خبر، آگہی، ہوش بھی ہے۔ ہندی کا لفظ ہے اور مونث ہے۔ میرتقی میرؔ کا مصرع ہے:۔

سدھ لے گھر کی بھی اے شعلہ آواز

اور داغؔ کا شعر ہے:۔

ادھر کی سدھ بھی ذرا اے پیامبر لینا
خدا کے واسطے جلدی مری خبر لینا

سدھ کے دیگر مطالب میں علم، واقفیت، دھیان، ہوشیاری، چوکسی، توجہ، غور، التفات بھی ہیں۔ سدھ بدھ کھو بھی جاتی ہے اور سدھ بدھ لی بھی جاتی ہے۔ جرأت کا شعر ہے:۔

ہم دونوں کو کچھ اس بن سدھ بدھ نہیں ہے جرأت
دل ہم سے بے خبر ہے، ہم دل سے بے خبر ہیں

لغت میں ایک بڑا دلچسپ لفظ دیکھا ’’کلپ‘‘۔ یہ دلچسپ اس لیے ہے کہ لغت میں اس کا وہ مطلب دیا گیا ہے جسے ہم کلف کہتے ہیں اور یہ کپڑوں ہی پر نہیں جسم پر بھی چڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ اکڑے اکڑے پھرتے ہیں۔ کلف لگے کپڑوں میں پھنسے ہوئے ایسے چلتے ہیں جیسے کوئی لڑاکا مرغ پالی میں اتر رہا ہو۔ اپنے آس پاس دیکھیں، آپ کو نظر آجائیں گے۔ لیکن بہ کلف، کلپ کیسے ہوگیا؟ کلپ ہندی کا لفظ ہے اور لغت میں اس کا مطلب دیا گیا ہے وہ ’’اہار‘‘ (مسالا) جو دھوبی کپڑوں پر لگاتے ہیں۔ کلپ دار صفت ہے۔ حوالہ ڈپٹی نذیر احمدکے ناول ’’بنات النعش‘‘ سے دیا گیا ہے ’’بعض کپڑا کلپ دار یا دبیز ہوتا ہے‘‘۔ کلپ دینا کا مطلب ہے مانڈی چڑھانا، عیب لگانا۔ اب لغت میں اہار اور مانڈی چڑھانا کا مطلب دیکھتے پھریے، سیدھا سیدھا کلف کہنے میں کیا ہرج ہے! کلپ سے کلپانا بنا ہے۔ یہ تو اردو میں مستعمل ہے لیکن اس کا مطلب ستانا، تڑپانا ہے۔ جیسے ’’وہ دن رات مجھے کلپایا کرتا ہے‘‘۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کلف کا مطلب لغت میں چہرے کی جھائیاں، سیاہ داغ جو چاند پر نظر آتے ہیں، سیاہ دھبے جو منہ پر ہوجائیں وہ بھی کلف کہلاتے ہیں۔ لیکن یہ استعمال اب تو پڑھنے سننے میں نہیں آتا۔

Share this: