صبر اورشکر رب کی بڑائی

Print Friendly, PDF & Email

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت اسماؓ بنتِ یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:۔
’’جھوٹ جائز نہیں مگر تین صورتوں میں: آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا اُس کو خوش کرنے کے لیے، جنگ میں جھوٹ، اور انسانوں میں صلح و امن قائم کرنے کے لیے جھوٹ‘‘۔(احمد، ترمذی)۔

سید طا ہر رسول قادری

وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (5) وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ (6) وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ(7)۔
’’اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو… اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور گندگی سے دور رہو اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے، اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔‘‘(المدثر:3تا7)۔
سورہ علق: یعنی اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔ پانچویں آیت تک پہلی وحی تھی جو حضور اکرمؐ پر غارِ حرا میں اُس وقت نازل ہوئی جب آپ تحنث یعنی اپنے طور پر ایک خدا کی عبادت اور غور و فکر میں رہتے تھے۔ اس کے بعد وقفہ ہوگیا۔ پھر سورہ المدثر کی ابتدائی سات آیتیں نازل ہوئیں۔ پہلی وحی تو نزولِ وحی کا پہلا تجربہ تھا جو اچانک حضور اکرمؐ کو پیش آیا تھا۔ اس پیغام میں آپؐ کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آپؐ کارِ عظیم پر مامور ہوئے ہیں اور آگے کیا کچھ آپؐ کو کرنا ہے۔ بلکہ صرف ایک ابتدائی تعارف کراکے آپؐ کو مدت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ آپؐ کی طبیعت پر جو شدید بار اس پہلے تجربے سے پڑا ہے اس کا اثر دور ہوجائے اور آپؐ ذہنی طور پر آئندہ وحی وصول کرنے اور نبوت کے فرائض سنبھالنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس دفعہ کے بعد جب دوبارہ نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو زیر مطالعہ یہ سات آیتیں نازل ہوئیں جن میں پہلی مرتبہ کارِ نبوت بتاتے ہوئے ارشاد ہوا کہ آپؐ اٹھیں اور خلقِ خدا کو اس روش کے انجام سے ڈرائیں جس پر وہ چل رہی ہے، اور اس دنیا میں جہاں خالی از صفات لوگوں اور جھوٹے معبودوں کی بڑائی کے ڈنکے بج رہے ہیں ایک خدائے عظیم کی بڑائی کا اعلان کریں، اور ہانک پکار کر دنیا میں اعلان کردیں کہ اس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سوا اور کسی کی نہیں ہے۔
ان آیات پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دین، دعوتِ دین، تبلیغِ دین، تزکیہ نفس اور تزکیہ نفس کی تدابیر کے اتھاہ سمندروں کو ان میں بند کردیا گیا ہے۔ تکمیلِ ذات اور اصلاحِ نفس کے لیے جو کچھ بھی کیا جانا چاہیے سب کی تعلیم ان آیات میں دے دی گئی ہے۔ جو شخص بھی اپنا تزکیہ چاہے گا اُسے انہی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ اگر کوئی شخص ان کا خود پیکرِ عمل نہ ہو تو وہ نہ تو خود مزکی ہوسکتا ہے اور نہ دوسروں کا ہی تزکیہ کرسکتا ہے۔ دعوتِ دین صرف زبانی نہیں، علم کا نام ہے۔ داعی کے اندر یہ صفات، دین کے کاموں سے اسی طرح لگائو اور تعلق ہونا چاہیے جو اس کو کسی لمحہ اس کام سے فارغ ہونے نہ دے۔
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ اوراپنے کپڑے پاک رکھو۔ یہ جملہ جتنا چھوٹا ہے مفہوم کے لحاظ سے اتنا ہی جامع ہے۔ اس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو، بلکہ جسم کو بھی پاک رکھو، روح کو بھی پاک رکھو، اپنے آپ کو اخلاقی عیوب سے پاک ، ہر قسم کی برائیوں سے اپنے آپ کو پاک و صاف رکھو۔ یعنی ہر چیز میں پاکی ہو، طہارت ہو، نظافت ہو۔ بلندی ہو، رفعت ہو، وقار ہو، شرافت کا اظہار ہو۔ چال ڈھال تکبر سے خالی ہو۔ باتیں پاک و صاف ہوں، کذب و افترا، تہمت و الزام تراشی سے پاک ہوں۔ کپڑے پاک، جسم پاک اور مکاں پاک ہو۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق حضور اکرمؐ نے نوعِ انسانی کو طہارتِ جسم و لباس کی وہ مفصل تعلیم دی ہے جو زمانہ جاہلیت کے اہلِ عرب تو درکنار، اس زمانے کی مہذب ترین قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے، حتیٰ کہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا جاتا ہے جو طہارت کا ہم معنی ہو۔
دنیا کے تقریباً تمام رائج مذاہب میں راہبانہ زندگی کا کچھ نہ کچھ تصور ضرور موجود ہے۔ ایک مذہبی آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ میلا کچیلا ہو، بال الجھے ہوئے، داڑھی بے وضع بڑھی ہوئی اور ناخن آگے نکلے ہوئے ہوں۔ غالباً دوسرے مذاہب کے اثرات ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی اُن لوگوں کو دنیادار سمجھا جاتا ہے جو صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہوں اور سلیقے سے رہتے ہوں۔ مسلمان بھی اپنے علما کو سادگی کے نام پر گندا دیکھنا پسند کرتے ہیں اور صاف ستھرے اور اجلا کپڑا پہننے والے عالم اور صوفی کو دنیا دار ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس آیت سے اس تصور کی صرف نفی ہی نہیں کی گئی ہے بلکہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی ہے کہ ان کی ظاہری حالت بھی ایسی پاکیزہ اور نفیس ہونی چاہیے کہ لوگ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کی شخصیت میں کوئی ایسی کثافت نہ پائی جائے جو لوگوں کو ان سے متنفر کرنے والی ہو۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو باوقار لباس پہننا چاہیے۔ ایسا لباس جو ستر عورت کو نہ ڈھانپے، پہننے سے منع کردیا گیا ہے۔ ریشمی لباس جو مغرور و منکر لوگوں کا لباس ہے، اس کے استعمال سے بھی منع کردیا گیا ہے، اور ایسے تراش خراش کے لباس جو بازاری لوگ پہنتے ہوں، داعیِ حق کو نہیں پہننے چاہئیں، اور یہ حقیقت ہے کہ جس قسم کا لباس کوئی شخص پہنتا ہے اُس کو دیکھ کر لوگ پہلی نگاہ میں اندازہ کرلیتے ہیں کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ علما اپنے لباس ہی میں اچھے لگتے ہیں اور امامت کے لیے آج بھی اُس شخص کو آگے بڑھایا جاتا ہے جس کی ’’ظاہری مسلمانی‘‘ اچھی ہوتی ہے اور یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔
وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ”اور گندگی سے دور رہو، اپنے کپڑے پاک رکھو“ کہنے کے فوراً بعد ”اور گندگی سے دور رہو“ کہنے کا مطلب واضح ہے کہ گندگی صرف کپڑے اور جسم ہی میں نہیں ہوتی، بلکہ افکار میں، عقائد میں، اعمال میں اور ماحول میں بھی ہوتی ہے۔ ایک داعی، ایک مسلمان کو ہر قسم کی گندگی سے پاک ہونا چاہیے، خواہ وہ عقائد اور خیالات کی ہو یا اخلاق و اعمال کی، یا جسم و لباس اور رہن سہن کی۔ یا اردگرد ماحول میں پھیلی ہوئی کوئی اور خرابی، نقص اور بے ہودگی ہو… فحاشی، عریانی، بدکلامی، ہرزہ سرائی اور لغو گوئی ان سب سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھو۔
وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ،من یمن۔ منان، منت کثیر۔ اکثر۔ کوثر۔ کثرت۔ کثرتِ کار۔۔۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔ دنیا میں نیکی کا کام ہی ایسا ہے جسے کرکے آدمی اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی پر احسان کررہا ہے، یا کیا ہے۔ اگر ایسا سمجھتا ہے تو وہ نیکی نہیں ہوتی۔ اسی لیے ایک طویل حدیث میں حضور اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ اگر کسی نے اللہ اور رسولؐ کے لیے ہجرت کی تو یہ ہجرت ہوئی، اور اگر کسی نے دنیا کے لیے یا عورت کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت کا وہی مقام ہوگا۔ اس لیے اس جملے کا مفہوم یہ ہوا کہ جس پر بھی احسان کرو بے غرضانہ کرو۔ تمہاری عطا اور بخشش اور سخاوت اور حسنِ سلوک محض اللہ کے لیے ہو۔ سورہ البقرہ آیت 264 میں مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے ”اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر خاک میں نہ ملائو“۔ داعیِ الی اللہ، نبیِ برحق کو اس سے بھی بلند تر تربیت دی جارہی ہے، کہ احسان کرو صرف اللہ کے لیے، فائدہ حاصل کرنے کے لیے احسان نہ کرو۔ نیز یہ کہ نبوت کے کام میں اپنی جان لڑا دینے اور ہر قسم کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے باوجود دل میں خیال تک نہ لائو کہ تم اللہ پر کوئی احسان کررہے ہو۔
حضور اکرمؐ کی سیرتِ پاک گواہ ہے کہ آپؐ کے کسی رویّے سے، کسی عمل سے، کسی فکر سے اور زبان سے نکلے ہوئے کسی لفظ سے یہ ظاہر نہیں ہوا کہ آپؐ کسی پر کوئی احسان فرما رہے ہیں۔ طائف میں حضور اکرمؐ کو جو سخت ایذائیں پہنچائی گئیں اُس وقت بھی آپؐ نے اللہ سے جو فریاد کی وہ یہ تھی کہ ’’ارحم الراحمین مجھے تُو نے کن لوگوں کے سپرد کیا ہے۔ ایسے دشمنوں کے حوالے کیا ہے جو ترش روئی سے پیش آئیں؟ یا ایسے دشمنوں کے سپرد کیا ہے جن کو تُو نے میرے معاملات پر متصرف بنادیا ہے؟ اگریہ تیری ناراضی نہیں تو مجھے ان تکالیف کی کوئی پروا نہیں۔ تیری دوسری نوازشیں میرے لیے وسیع ہیں‘‘۔
وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ۔اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔ کارِ نبوت مشکل ہے، جاں جوکھم کا کام ہے، اس میں سخت مصائب، مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہوجائے گی۔ مگر اس راہ میں جو کچھ بھی پیش آئے صبر کرنا، اپنے رب کی خاطر صبر کرنا۔ طائف ہی کے واقعے کو سامنے رکھیے۔ طائف والوں کے سراسر ظالمانہ اور منافی انسانیت سلوک سے نہ تو حضور مایوس ہوئے اور نہ کسی قسم کی بے صبری کا اظہار فرمایا۔ خدا سے فریاد بھی کرتے ہیں تو الفاظ کی رجائیت کے ساتھ ’’اگر یہ تیری ناراضی نہیں تو مجھے ان تکالیف کی پروا نہیں، تیری دوسری نوازشیں میرے لیے وسیع ہیں‘‘۔ ’’میں تیرے اس نورِ ذات کی پناہ لیتا ہوں جس سے تاریکیاں بھی چمک اٹھی ہیں اور جس کی برکت سے دنیا و آخرت کے تمام معاملات درست ہوجاتے ہیں۔ پناہ اس بات سے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو، یا تیری ناراضی۔ میری رضا تیری ہی رضا کے ساتھ پیوستہ ہے۔ ہر حرکت اور ہر قوت اللہ ہی کی توفیق سے وابستہ ہے‘‘۔
حضورؐ کی زندگی کا ہر دن اور تاریخ کا ہر ورق گواہ ہے کہ آپؐ خدا کے لیے صبر میں ہمیشہ صبر کا عنوان رہے، صبر کی زبان رہے اور صبر کی شان رہے۔ صبرِ ایوب علیہ السلام مشہور ہے اور یقیناً یہ بھی پیغمبرانہ صفات ہی کا صبر ہے، کسی دوسرے انسان کے بس کا نہیں۔ لیکن یہ صبر صرف جسم کی تکلیف، جان کی اذیت، دولت کے اتلاف، بچوں کی ہلاکت کا ہے۔ لیکن حضورؐ کی پوری زندگی بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد 23 سال تک مسلسل صبر کرتے گزری۔ بااختیار ہوکر بھی بے اختیاروں کی زبانوں پر صبر کیا اور انتقام لے لینے کے موقع پر صبر کیا۔
(5

Share this: