کشمیر:گمشدہ شناخت کی کشش

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی کوششوں سے جب مغرب حرکت پذیر ہوتا نظر آیا تو پیچ و تاب کھا کر ہندوستان نے کہا کہ کشمیر اس کا اندرونی مسئلہ ہے اور کشمیری بھی ویسے ہی ہندی ہیں جیسے انڈیا کے دوسرے سب لوگ۔ یہ کہتے ہوئے ہندوستان بھول بیٹھا تھا، جس طرح اب بھی اُسے یہ بات یاد نہیں رہتی کہ مسلمان جس رنگ روپ میں بھی ہوں وہ اپنی تاریخ کا یہ احساس و ادراک ہمیشہ ظاہر کرتے رہیں گے کہ انہوں نے جنوبی ایشیا اور ہندوئوں پر ہزار سال حکمرانی کی اور اب یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ انہیں اس خطے میں ’’لاشے‘‘ بناکر رکھ دیا جائے۔ ایلن کیمبل جانسن نے اپنی کتاب Mission with Mountbatten (1951) میں کھلے دل سے اعتراف کیا: ’’کشمیر اس عمومی جذباتی ٹکرائو کا مظہر اور رمزوکنایہ ہے جس نے تقسیم (برصغیر) کو ناگزیر بنادیا تھا‘‘۔
پاکستانی انتظامیہ اپنے عمومی سیکولر ذہن کے باوجود، اس جذباتی اپیل سے بہ خوبی واقف تھی جو کشمیریوں کے دلوں میں اسلامی مملکت کے لیے موجود تھی، لیکن اُس نے اس کیفیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی۔ بلکہ ان لوگوں نے پاکستان کو اس کے اسلامی راستے سے بھٹکانے کی شعوری تدبیریں کیں۔ انہیں یہ احساس تک نہ ہوا کہ اس گمراہانہ طرزِعمل کا نتیجہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان قائم روحانی رشتے کمزور کرنے کا باعث ہوگا۔ صدر ضیا الحق کا دور (1977-88ء)، گو بھرپور اسلامی تو نہ تھا، تاہم ایک استثنائی مرحلہ ضرور تھا، جس میں کم از کم پاکستان کے ایک ممکنہ اسلامی ریاست کا خیال ابھر کر سامنے آیا، خواہ حقیقی اسلامی ریاست بننے کی بات ابھی دور کی بات تھی۔ اس دور میں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں حصہ ڈال کر، کسی درجے میں قانون سازی کرکے، اور ٹیلی وژن نشریات کو کسی حد تک ستھرا کرکے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ اس صورتِ حال میں کشمیریوں نے پاکستان کے لیے خصوصی کشش محسوس کی۔ انہوں نے اپنی گمشدہ شناخت یعنی وحدتِ اسلامیہ پر کچھ اتنی قوت اور کھردرے پن سے زور دیا کہ ہندوستان جڑوں تک ڈول گیا۔
اس کے نتیجے میں وہی فطری منطق عود کر آئی، یعنی کشمیری اپنی اسلامیت پر زور دیتے رہے اور ہندوستان اپنے دکھوں کے مداوے کے لیے لادینیت کی دُہائی دیتا رہا۔ کسی فریق نے شاید چاہا بھی نہ تھا، لیکن موجودہ چپقلش نے وہی پرانا انداز اختیار کرلیا ہے جو جنوبی ایشیا میں صدیوں سے ہندو مسلمان مخاصمت اور جھگڑے کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔
ہندوستان اس کوشش میں کہ کشمیر اس کے ہاتھ سے جانے نہ پائے، اسے یونین کے اندر محدود خودمختاری دینے پر رضامند ہے۔ یہ وہی خیال ہے جس کی کتربیونت اور صورت گری اس نے 1960ء کے عشرے میں کی۔ یہ گویا الٹی زقند ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ تاریخ واقعی صراطِ مستقیم میں نہیں چلا کرتی۔
بہ طور ایک آپشن ’’خود مختار کشمیر‘‘ کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور 1960ء کے عشرے تک مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ وقتاً فوقتاً اس خیال سے کھیلتا رہا، لیکن اُس کی ترجیح انڈین یونین کے اندر رہنے کی ہی رہی۔ اُس کی موت نے کشمیر کے سیاسی منظر سے ایک کرشماتی وجود ختم کردیا۔ اب پیچھے وہ سیکولر مبتدی مرید رہ گئے ہیں جنہیں ایک ایسی صورتِ حال کا سامنا ہے جس کی صورت گری وادی میں جاری جہادی تحریک نے کی ہے۔ اس صورتِ حال میں خودمختار کشمیر اور اس تصور کی علَم بردار تنظیم یعنی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور شیخ عبداللہ کے باقیات، دونوں ہی پس منظر میں جاچکے ہیں اور وادی کے لوگوں کے لیے ان میں کم ہی اپیل باقی رہ گئی ہے۔
پاکستان بالیقین اس خیال کی پذیرائی کا سوچے گا بھی نہیں۔ انڈیا اگر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کو ترجیح دے رہا ہے تو یہ حقیقی نہیں بلکہ اس کی صرف حربی چال ہے، کیونکہ دور کی سوچنے والی ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں میں رہ کر خودمختار کشمیر کا مطلب حالات کو جوں کا توں رکھنا ہوگا۔ خودمختار کشمیر تو عملاً تب ہی وجود میں آسکتا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں اس سے ہاتھ اٹھا لیں اور اپنے اپنے علاقائی دعووں سے دست بردار ہوجائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ غیر جانب دار ہوجائیں اور کشمیریوں کے معاملات میں دخل نہ دیں۔ تیسری صورت یہ ممکن ہوسکتی ہے کہ کشمیری اجتماعی طور پر اس خیال پر متحد اور متفق ہوں۔ خودمختار کشمیر کے لیے ان تینوں میں سے ایک وجہ بھی بروئے کار آتی دکھائی نہیں دیتی۔
خود مختار کشمیر اگر وجود پاتا ہے تو پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ بنے گا کہ جغرافیائی طور پر اس کے دست و بازو کاٹ دیئے جائیں اور اس کی علاقائی گہرائی کو محدود کردیا جائے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا کے اس خطے میں مسلم شناخت شکست سے دوچار ہوجائے۔ یہ اس تاریخی عمل کی معکوسی گردش ہوگی جو ساتویں صدی عیسوی میں برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ اس زاویۂ نظر سے دیکھیں تو خودمختار کشمیر کا مطلب کشمیریوں کا ہمیشہ کے لیے ہندی پنجرے میں محبوس ہوجانا ہے۔ یہ وہ نتیجہ ہے جسے وادی میں جہاد برپا کرنے والے کبھی سامنے نہیں آنے دیں گے۔
آبادی کے پہلو سے معاملے کا جائزہ لیں تو بھی خودمختاری کی بات کسی سمت بیٹھتی نظر نہیں آتی۔ طاقت کے چار بلاک واضح دکھائی دیتے ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی اپنی سمت زور لگا رہا ہے۔ کشمیری پنڈت ہیں جو ہندی یونین کے اندر رہتے ہوئے کشمیر کے خطہ محصورہ (Enclave) میں اپنے لیے جداگانہ وطن چاہتے ہیں۔ جموں کے ہندو، ہندوستان میں شامل رہنا چاہتے ہیں۔ شمال میں واقع لداخ کے بدھ سکم کی سی خودمختاری کے خواہاں ہیں۔ آخر میں کشمیری مسلمان ہیں جو اکثریت میں ہیں، وہ پاکستان سے الحاق کے متمنی ہیں۔ یہ ساری تقسیم، جس کی جڑیں دور اندر تک تاریخ اور مذہب میں پیوست ہیں، خودمختار کشمیر کے تصور کو چلنے ہی نہیں دے رہی۔ سچ یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی تدبیر عمل میں لائی گئی تو یہ انڈیا کے خلاف کشمیریوں کے کاز کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگی اور وادی میں جاری تحریک کا سارا زور اور آہنگ درہم برہم ہوجائے گا۔
(”سیکولرزم۔۔۔مباحث اور مغالطے“۔طارق جان)

بیاضِ مجلس اقبال

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

یہ شعر کل کی طرح آج بھی اہلِ مغرب کی حکومتوں کی منافقانہ پالیسی بیان کرتا ہے کہ ان کی حکومتیں علم و حکمت اور فلسفہ کی تعلیم کے دعوے تو بہت کرتی ہیں، جس طرح برصغیر میں برطانوی راج میں ہورہا تھا کہ اصل میں تو وحشی اور ظالم مگر زبان پر حقوق، محبت، انسانیت اور مساوات جیسے دعوے ہوتے تھے۔ آج کے حالات میں عراق، افغانستان، لیبیا اور شام وغیرہ مسلمان ممالک میں مغربی وحشت و دہشت اور درندگی کا منظر دیکھیں اور ان کی زبانوں پر امن و حقوقِ انسانی جیسے دعوے، تو ان کی منافقانہ روش سامنے آجاتی ہے۔ کس قدر غضب کا مقام ہے کہ پورے عالمِ اسلام پر ننگی جارحیت کے ارتکاب اور آگ و بارود کی موسلادھار بارش کے باوجود عالمی سلامتی کونسل کے مالکان بنے ہوئے ہیں۔ یوں ’’پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات‘‘۔ حقیقت میں علامہ کے الفاظ میں گویا مستقبل کی پالیسی ہے۔

Share this: