فلسطین ،برطانوی سیاست میں اسرائیل کیسے قائم ہوا؟ ۔

Print Friendly, PDF & Email

ایک نادر تحریر جو مجلہ “جامع” علیگڑھ مارچ،اپریل 1924میں شائع ہوئی

انتخاب اور حواشی : م۔ ص۔ ف۔ رفعت
فلسطین کی مقدس سرزمین، ایشیا کے منتہائے مغرب میںصحرائے شام اَور سواحل ِ بحرِابیض کے درمیان واقع ہے۔ اِس کا رقبہ ۱۷ ہزار مربع کیلو میٹر ہے۔ جس کے اکثر حِصّے نہایت سرسبز اَور ز رخیز ہیں۔ باشندوں کی تعداد ۸ لاکھ تک پہنچی ہے، جن میں ۸۱ ہزار یہودی، ۸۸ ہزار عیسائی، اَور باقی سب مسلمان ہیں۔یہ سرزمین ‘دُنیا کے تین (۳) بڑے مذاہب کی گہری عقیدتوں کا مرکز ہے‘اَور یہودی، عیسائی اَور مُسلمان ‘تینوں ایک دوسرے کے دُشمن اَور حریف ہونے کے باوجود اگر کسی چیز کے تقدُّس کو متحدہ طَور پر تسلیم کرتے ہیں ،تو وہ یہی ارضِ مقدّسہ ہے۔گزشتہ جنگِ عظیم کے اِبتدائی ایّام تک دوسرے عربی ممالک کی طرح یہاں بھی ترکی کی حکومت تھی۔اس حکومت کے نظام اَور عربوں کے ساتھ اس کے برتاؤ پر کوئی تفصیلی بحث کرنا، اس مضمون کے موضوع سے خارِج ہے،البتّہ مختصراً صرف اِس قدر کہا جاسکتا ہے کہ ترکی حکومت میں عربوں کو اُن مصائب وشدائد کا ایک سواں (۱۰۰؍۱) حصّہ بھی کبھی برداشت نہیں کرنا پڑا جو ہمیشہ ایک قوم کو دوسری قوم کی حکومت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں‘اَور اِس حیثیت سے یہ دعویٰ بالکل حق بجانب ہوگا کہ اعرابِ فلسطین کے لیے ایک قَومی حکومت کے بعد اگر کوئی نظامِ حکومت مُشفقانہ و مُربیّانہ ہو سکتا تھا، تو وہ ترکی حکومت کا ہی نظام تھا۔اِس کی وجہ محض یہ نہیں کہ ترکوں اَور عربوں کے درمیان اِسلام کے مذہبی رشتہ نے اخوت و بھائی چارہ قائم کردیا تھا، بلکہ ترکی قَوم کی تاریخ اِس امر کی زبردست شہادتیںدیتی ہے کہ اُس نے تمام غَیر قوموں پر بِلا اِمتیاز مذہب و مِلّت ،اَیسی شفقت اَور رَوَاداری کی حکومت کی ہے،جس کی ِمِثال اِس بیسویں صدی کی مُہذّب ترین حکومتوں میں بھی ڈھونڈے نہیں مِل سکتی۔مگر عربوں نے ترکوں کی اِس اچھی حکومت کو بھی اپنے اُوپر ہمیشہ گراں سمجھا۔اَور وہ اپنی اُس حُریت پسندی کے باعِث جو فِطرت نے بہت مبالغہ کے ساتھ اُن کی جَبلّت میں وَدیعت کی ہے،ایک غَیر قَوم کی حکومت سے کبھی خوش نہیں رہے۔پھر چوں کہ عرب و ترک دونوں بہادر اَور اپنی بہادری اَور شُجاعت پر فخر و غرور کرنے والی قَومیں ہیں، اِس لیے فطرتاً عر بوں پر تُرکوں کا غَلبہ وتسلّط بہر حال عربی شُجاعت کے لیے ایک چیلنج تھا،تاہم مذہبی رابطہ اَور منصبِ خلافت کا اثر و اِقتدار ‘ قَومی جذبات سے بہت زیادہ قوی تھااَور عربی قَوم کو کئی صدیوں تک خلیفۃ المعظّم کا نہ صرف مطیع و فرماں بردار بلکہ وفادار و جاں نثار بنائے رکھا۔
اُنیسویں صدی کے اواخر میں، جب کہ اِستعمار و اِستعباد کے لیے یورپین قَوموں کی حریصانہ کوششیں اپنے پورے عروج پر تھیں، اَور خصوصاً اِسلامی ممالک کو غلام بنانے اَور اِسلام کی دُنیو ی طاقت کو توڑدینے کی متفقہ سعی کی جارہی تھی، مدبرین یورپ نے نام نہاد تحریک ’’عربیت‘‘ اِیجاد کی۔ اِن دقیقہ رس مدبّرِین کی باریک نظروں نے اُس خفیف سے شِگاف کودیکھ لیا جو خِلافت کے مضبوط بند میں موجود تھا، اَور اُس چوہے کی طرح جس نے ’’عرم‘‘ کے اُس تاریخی بند کو کھودا تھا، رفتہ رفتہ اِس شِگاف کو فراخ کرنے لگے۔اُنھوں نے عربوں کی رِقابت کوجو محض بالقویٰ موجود تھی،اُبھار کر عملی صورت میں لانا شروع کردیا، اَور اُن کے اندرحُرّیّت و خود مختاری کا جذبہ پیدا کرنے کے بعد اِس خیال کی پروَرِش شروع کردی کہ خِلافت در اصل اُن کا ہی حِصّہ ہے جسے تُرکوں نے غصب کررکھا ہے۔ نوجوان اَور بے وقوف عرب جن میں مغربیت کی نئی نئی ہَوا لگی تھی اَور جو مغربی بخت کی محض چمک دار اِصطلاحوں پر مرتے تھے، اِن عِنایتوں کی اصل غایت تک نہ پہنچ سکے اَور اپنے ’’یورپین ہادیوں‘‘ کو اپنی قَوم کا ’’نجات دہندہ‘‘ سمجھ کر اُن کے اِشاروں پر حرکت کرنے لگے۔آخر کار بیسویں صدی کے اِبتدائی دَور میں عربی خلافت کی تحریک اپنے شباب کو پہنچ گئی، نوجوان عربوں میں تُرکوں کے خلاف بُغض و عناد پوری طرح مُستحکم ہوگیا۔ عربوں نے اپنے یورپین رہنماؤں کی نگرانی میں تمام ممالکِ عربیہ سے تُرکوں کو نکال دینے کے لیے خُفیہ سازشیں شروع کردیں،اَور اُس شِگاف نے جو برسوں سے خلافتِ عثمانی کے بند میں پھَیلایا جارہاتھا، رِسنا شروع کردیا۔فلسطین، مسیحیت کے خُداوندِ مصلوب کا مولدو مدفن ہونے کی حیثیت سے، اِن تمام کوششوں کا ایک حد تک مرکزِ مقصود تھا۔
۱۹۱۴؁ء میں جب ’’ اتحاد وترقی‘‘کی حکومت نے تلوار سے موت و حیات کا آخری فیصلہ چاہنے کے لیے سنٹرل یورپ کا ساتھ دے کر جنگ میں شرکت کی تو اِتحادیوں نے اپنے پُرانے عزائم کی تکمیل کے لیے اس وقت کو مُناسب ترین وقت خیال کیا۔تمام عربی قَوم کو اُمّیدیں دِلائی گئیںکہ اگر اُنھوں نے اِتحادی قوتوں کا ساتھ دے کر تُرکی حکومت سے بغاوت کردی تو یہ امر اُن کی نِجات کا بہترین ذریعہ ہوگا۔اُن سے وعدے کیے گئے کہ فتح کے بعد ایک مُتحدہ عربی سلطنت قائم کی جائے گی، اَور عربی قَوم کے بچّے بچّے کو اِن اعلانات کے ساتھ اپنی حق پرستی کا یقین دِلایا گیا کہ اِتحادی طاقتیں محض غلام قوموں کو آزاد کرانے اَور اِستبداد کو نیست و نابود کرکے’’ حق ِ اِنتخاب ِ حکومت‘‘ کا زرّیں اُصول دُنیا میں رائج کرنے کے لیے جنگ کررہی ہیں۔حتیٰ کہ ۱۹۱۵؁ء کے معاہدے کی رُو سے عربی حکومت قائم کرنے اَور عربوں کو پوری طرح آزاد کرادینے کی ضمانت لے لی گئی۔
یورپین سیاست سے ناواقف اَور ڈپلومیٹک چالوں سے نابلد عرب سمجھ بیٹھے کہ بس اب آزادی کی ضمانت مِل گئی اَور بجائے خود مطمئن ہوگئے کہ عربی خود مُختاری کا خمیر تُرکوں کے خون سے تیار ہوجائے گا۔مکّہ میں شریف نے بغاوت کی، فلسطین کی ’’حزب الوطنی‘‘ نے لارڈ ،اُس وقت جنرل ایلنبی[۱] سے ساز باز کیااَور شام و عراق کے عربوں نے اِ س مثال کی تقلید کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۱۷؁ء کا خاتمہ گویا ممالک ِ عربی سے ترکی حکومت کا خاتمہ تھا۔
اِس حد تک اُن اسباب سے بحث کرنے کے بعد جن کی بدولت عربوں کا رِشتہ تُر کوںسے ٹوٹ کر انگریزوں سے جڑا تھا، اب سلسلئہ کلام کوجوڑنے کے لیے، فتح ِ فلسطین کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔تُرکی قوت اِس محاذ پر نہایت مُستحکم اَور ناقابل ِ تسخیر تھی۔ لارڈ ایلنبی کی تمام اِبتدائی کوششیں اس کو توڑنے کے لیے بے کار ثابت ہوئیں۔ مگر اہل ِ فلسطین نے برطانوی وعدوں پر اعتماد کرکے تُرکوں کے خلاف سازِش کی اَور اَیسے نازُک موقع پر جب کہ اُ ن کے خِلاف ایک زبردست دُشمن برّوبحر سے حملہ آور تھا، دفعۃًاُٹھ کھڑے ہوئے ‘جمال پاشا مرحوم نے بڑے تدبّر اَور ہوشیاری کے ساتھ مُدا فعت کا سامان کیا تھا اَورمُشکل تھا کہ انگریزی فوجیں صحرائے سینا سے آگے بڑھ سکتیں، مگر اِس اندرونی بغاوت نے اُن کو بالکل بے بس کردیا، اَور آخر ِکارارضِ مقدّس کا ایک ایک اِنچ اُنھیں خالی کرنا پڑا۔ حتیٰ کہ ۱۱۔دسمبر ۱۹۱۷؁ء کو دُنیائے مسیحیت کی وہ آخری آرزو بھی پوری ہوگئی جس کے لیے اِسلام کی گذشتہ ۱۳ صدیوں میں ہزاروں مرتبہ خوںریز کوششیں کی گئی تھیں‘اَور یروشلم کی تسخیر ‘اِسلام پر مسیحیت کی آخری فتح کی صورت میں مکمّل ہوگئی۔ یہ سب اعرابِ فلسطین کی اِعانت کا نتیجہ تھا۔
بیت المقدس میں داخل ہوتے ہی لارڈ ایلنبی کاسب سے پہلا کام یہ تھا کہ اُنھوں نے عربوں کے اعتماد کو زیادہ استوار کرنے کی کوشش کی، اَور اُن ابلہ فریب اعلانات کی زیادہ پُرزور لہجہ میں تجدید کی، جن کی بدولت اُنھیں اِس قدر عظیم الشان کامیابی حاصل ہوئی تھی۔چناں چہ ایک اجتماع ِ عظیم کے سامنے انگریزی، ہندوستانی اَور عربی فوجوں اَور اہل بیت المقد س سے مرکّب تھا، اُنھوں نے’’ منارئہ داؤد‘‘کے نیچے کھڑے ہوکر ایک تقریر کی، جس کے صاف اَور صریح الفاظ یہ تھے، کہ:
’یہ جنگ اِسلام پر حملے کی غرض سے نہیں بلکہ فلسطینی باشندوں کو عثمانیوں کے اِستبداد سے آزاد کرانے اَور اُنھیں خود مُختاری دِلانے کے لیے کی گئی ہے۔‘‘
پھر تکمیل ِ فتح کے بعد دوبارہ ایک اعلان کیا گیا اَور فلسطین کی چھوٹی سی چھوٹی بستی تک یہ الفاظ پہنچائے گئے ،کہ:
’’ہم خالِص مُلکی حکومت قائم کرنے میں تُمہاری اِعانت اَور ہِمّت افزائی کریں گے۔ ہم نے اس مُلک کو اپنی حکومت قائم کر نے کے لیے نہیں لیابلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تم اپنی مرضی کے مُطابق آپ حکومت کرو۔‘‘
اعرابِ فلسطین بجائے خود مطمئن تھے کہ بس اب عن قریب آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے، اَور جنگ ختم ہوتی ہی ہماری غُلامی کا خاتمہ بھی یقینی ہے،مگر عہد نامہ التوائے جنگ پر دستخط ہونے کے بعد[۲] عین اُس وقت جب کہ ہر دِل توقعات سے معمور تھا ، دفعۃً ، ۲۔نومبر ۱۹۱۸؁ء کو رائٹ آنریبل مسٹر (اب‘ لارڈ) بالفور[۳]نے فلسطین پر برطانوی سیادت کا اعلان کردیا، اَور صرف اِسی پر بس نہیں بلکہ یہ بھی اعلان کیا، کہ:
فلسطین میں ’’یہودیوں کا قَومی وطن‘‘ قائم کیا جائے گا، اَور تمام اطرافِ عالم سے یہودیوں کو سمیٹ کر ارضِ مقدس میں بسایا جائے گا۔[۴]
یہ ایک بجلی تھی، جس نے ایک آنِ واحد میں اعرابِ فلسطین کی چہار سالہ اُمّیدوں کو پھونک کر رکھ دیا۔ پہلے تو وہ بہت جھنجلائے، مگر وقت ہاتھ سے کھو چُکے تھے، اِ س لیے بہت جلد اُن کا غُصّہ مایوسی سے بدل گیا۔برطانوی سیادت کے ظاہری الفاظ پر اگر غَور کیا جائے، تو ایک ناواقِف شخص یقین کرے گا کہ اِن میں اہالی [اہالیان] کی اندرونی اَور اُن پر محض برطانوی نگرانی وہدایت کے معنی پوشیدہ ہیں۔اِس کے ساتھ اگر قبلِ جنگ اَور دَورانِ جنگ وعدوں اَور تصریحات ِ بالفور کے الفاظ کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ یقین، وثوق کے درجہ کو پہنچتا ہے مگر امر ِ واقعہ اَور نفسِ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔یہاں اُس استبداد سے بھی کچھ زیادہ شدید استبداد حُکمران نظر آتا ہے، جو تُرکو ں کے زمانہ میں تھا، اَور جس سے عربوں کو ’’آزاد‘‘ کرانے کے لیے جنگ کی گئی تھی۔تُرکی حکومت گو اِصطلاحاً ایک اِستبدادی حکومت تھی، مگراُس میں عربوں کو ایک بڑی حد تک خود مُختاری حاصِل تھی۔ والی اَور چند بڑے افسروں کے سوا، حکومت کی مشین، اوّل سے آخر تک عربی پُرزوں سے مرکّب تھی،بلکہ بڑے افسروں میں بھی چند افسر عربی ضرور ہوتے تھے۔تُرکی میں پارلیمنٹ قائم ہونے کے بعد عربوں کو بھی پوری نیابتی حقوق حاصل ہوگئے تھے اُور قسطنطنیہ کے دار المبعوثین میںفلسطین کے جائز طَور پر منتخب کیے ہوئے نمائندے پوری آزادی کے ساتھ اپنے مُلک کی نیا یت کر رہے تھے علاوہ، رِعایا کی داد رسی ، خود سلطان المعظم فرماتے تھے ،اَور عربوں پر اُن کی شفقت و محبت تمام دوسری محکوم اقوام سے زیادہ تھی۔ مگر برطانوی تسلّط کے بعد نقشہ بدل گیا۔ دَورانِ جنگ کا ذِکر نہیں، عہدِ امن قائم ہونے کے بعد جو نِظامِ حکومت فلسطین پر نافذ کیا گیا وہ ایک مُکمّل اِستبدادی نظام تھا۔ ہائی کمشنر تما م اہالی فلسطین کا مالک الرقاب تھا، اُس کو مشورہ اَور رائے عامّہ کے استرضا کی قطعاً ضرورت نہ تھی، اَور اُس کی زُبان وقلم اپنی ایک ادنیٰ جُنبش سے اہلِ مُلک کی قسمتوں کا فیصلہ کر سکتی تھی۔اُس دَور میں سر ہربرٹ سیمویل[۵] کی گرفت جمال پاشا کے فوجی پنجہ کی گرفت سے کہیں زیادہ سخت تھی۔پھر جب مجلس ِ اقوام [۶]نے ’’باقاعدگی‘‘ کے ساتھ فلسطین کو برطانوی سیادت میں دے دیاتو یہ نظا م ذرا بدلا گیا، اب اُس مطلق العنان کو آ ئینیت اَور شورائیت کا لباس پہنانے کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ دُنیا کی ظاہر بیں نظریںخوب صورت کپڑوں کو دیکھ کر بدصورت جسم کی طرف سے مطمئن ہوجائیں۔چناںچہ’’ہز ایکسی لینسی سرہربرٹ سیمویل‘‘ نے اعلان کیا، کہ:
’’اب فلسطین میں ایسی حکومت قائم کی جائے گی جو رائے عامّہ کی مرضی کے مطابق حکومت کرے گی۔’’میں ‘‘ ایک مجلسِ شوریٰ قائم کرتا ہوں، جس میں ۱۱ نمائندے سرکاری ہوں گے، اَور ۱۰ نمائندوں کو ’’میں‘‘ خود ہر قوم میں سے نام زد کروں گا۔ یہ کونسل مختلف اَوقات میں میرے زیرِ صدارت اجلاس کرے گی، اَور تمام اہم مسائل اِس کے مشورہ سے طے ہوں گے۔‘‘
یہ کونسل قائم کرکے گویا مدبرین سلطنت نے اہلِ فلسطین کو وہ’’ حق ِ اِنتخابِ حکومت‘‘ عطا کردیا،جس کے وہ تُرک حکومت میں سخت مُحتاج تھے، اَور جسے اُن کو دِلانے کے لیے ایک عظیم الشان جنگ کی گئی۔مگر سب سے بڑی مصیبت جو اعلانِ بالفور کی بدولت اہلِ فلسطین پر نازل ہوئی، وہ ’’یہودیوں کے قومی وطن‘‘ کی مصیبت تھی۔اِس قومی وطن کی تحریک نے مُلک کے اصل باشندوں کو اُن کے جائز حقوق سے محروم کردیا ہے اَور وہ مالی، اخلاقی، جسمانی اَو رہر حیثیت سے تباہ و بربادہو رہے ہیں۔
بالفور کے اعلان کی بُنیاد یہ خیال ہے کہ فلسطین یہودیوں کا قدیم گہوارہ ہے، اَور بنی اِسرائیل کی پُرانی بستی ہے، اِس لیے اب یہاں انھی کو آباد کر نا چاہیے۔لیکن اگر اِس دعوے کی حقیقت کو ٹٹولا جائے تو نہ کسی طریقہ سے یہ بات ثابت کی جاسکتی ہے کہ فلسطین یہودیوں کا حق ہے اَور نہ یہ حرکت کبھی حق بجانب ہو سکتی ہے کہ مُلک کے موجودہ باشندوں کا نکال کر جو صدیوں سے یہاں رہتے ہیں، اُن کے گھروں میں یہودیوں کو بسایا جائے، جو صدیوں پہلے رہتے تھے۔اگر تاریخی حیثیت سے دیکھا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آج سے دوہزار سال پہلے اِس سرزمین پریہودیوںکے قبائل آباد تھے۔ چارسو (۴۰۰) برس سے کچھ ہی مدت زیادہ گزری ہوگی کہ رومیوں کا سَیلاب آگیا اَور بقائے اصلح کے قانون نے اِسرائیل کی اَولاد کو نکال کر رومی فاتحوں کے لیے جگہ خالی کرالی۔آخر ساتویں صدی عیسوی میں عربی قوت ریگستان ِ حجاز سے اُٹھی اَور مملکت ِ فارس سے مصر تک پھیل گئی۔ اُسی زمانہ میں فلسطین فتح ہوا،اَور ساتویں صدی ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ تمام اہلِ ملک نے اِسلام قبول کرلیا۔پس تاریخ ۴۰۰ برس کے یہودی قیام کے مقابلے میں ۱۳۰۰ برس کی اِسلامی آبادی کو پیش کرتی ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ اوّل ا لذِکر کی وطنیت پر آخر الذِکر [کی]وطنیت کا کتنا ترجیحی حق ثابت ہوتا ہے۔نسلی حیثیت سے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بنی اِسرائیل سے قبل یہاں عمالقہ آباد تھے جو عربی الاصل تھے ، پھر اسماعیلیوں نے یہاں اپنے خیمے لگائے اَور اُن کے بعد بنی اِسرائیل آباد ہوئے۔بس[پس] بنی اِسرائیل سے پہلے یہاں عرب کی سکونت ثابت ہوتی ہے۔اگر آثار کو دیکھیں تو ہمیں فلسطین میں اِسرائیلی آثار اِتنے بھی نظر نہیں آتے کہ اُن کی بِنا پر مُلک کے کسی ٹُکڑے کو بھی خالص اِسرائیلی کہا جاسکے۔برخلاف اِس کے مسلمان ہیں کہ اِس سرزمین کا کوئی چپّہ اَیسا ہی نہیں جو اِسلامی تمدّن وعمرانیت کے آثار سے خالی ہو۔حتیٰ کہ جب ایک سیّاح کسی چھوٹے سے چھوٹے قریہ میں داخل ہوتا ہے تو عہدِ قدیم کے اِسلامی آثار اَور عہدِ حاضر کے اعلام مقدسہ کو نمایاں دیکھتا ہے اَور اُسے اپنے گرد ایک اَیسا ماحَول نظر آتا ہے جس میں اِسلامی تمدّن ،اِسلامی رِوایات، اِسلامی آثار اَور اِسلامی تہذیب کے سوا‘اَور کچھ نہیں۔لیکن اگر اِن تمام تاریخی واثری شواہد سے قطع نظر کر کے ہم تسلیم بھی کرلیں کہ اِن تمام حیثیات سے فلسطین ایک اِسرائیلی مُلک ہے، تب بھی اِنصاف نہیں چاہتا کہ اِس مُلک سے ۱۳ سوبرس کی عربی اکثریت کو نکال کر اُن اِسرائیلیوں کو تمام اقطاعِ ارضی سے لا لا کر بسایا جائے جو آج سے دو ہزار سال پہلے یہاں بستے تھے۔اَورآج مذہبی رِوایات کے سِوا فلسطین میں اُن کے لیے اَور کوئی جاذبیت ایسی نہیں جو اُنھیں اِس کی طرف کھنچ جانے پر مجبور کرسکے۔مُسلمان یہاں ۱۳ صدیوں سے رہتے ہیں،آبادی میں ۹۰ فی صد ی اُن کا حصّہ ہے ، جائدادیں ۹۵ فی صدی اُن سے تعلّق رکھتی ہیں،مُلکی تجارت اَور کاروبار میں اُن کا سرمایہ اربوں تک پہنچتا ہے،جو ثروتِ مُلکی کا کم از کم ۹۲ فی صد ی ہے، اِسلامی اَوقاف اِس کثرت سے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں کہ صرف قدس شریف میں اُن کے خرچ پر ۱۰(دس) ہزار طالب علم دینی تعلیم پا رہے ہیں۔اگر اِن تمام مادّی و اِقتصادی اعتبارات کے مقابلہ میں محض تاریخی و اثری اعتبارات کو وزن دیا جاسکتا ہے ،اَور اگر صرف اِنھی دلائل کی بناپر عربوں کو اُن کے گھروں سے محروم کرکے باہر کے یہودیوں کو اُن کی جگہ آباد کیا جاسکتا ہے،تو یقینا ایسے ہی قوی دلائل پیش کر کے امریکہ کے موجودہ ساہوکاروں کو حبشیوں کے لیے جگہ خالی کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، کینیڈا،آسٹریلیا اَور نیوزی لینڈ وغیرہ برطانوی مستعمرات کے آبادکاروں کو قدیم وحشی باشندوں کے لیے اپنی تجارتی کوٹھیاں چھوڑدینے کا مشورہ دیا جاسکتا ہے، اَور ہندوستان کی پوری سامی اَور آرین آبادی کو بھیلوں اَور گونڈوں کے حق میں اپنے اِس نظامِ تمدّن سے دست بردار ہوجانے کی رائے دی جاسکتی ہے۔اَور میں تو یہ کہتا ہوںکہ اگرآج یہی اُصول دُنیا میں رائج کردیا جائے تو اِس معمورئہ ارضی کی تمام جدید نسلوںکو پُرانی نسلوں کے لیے جگہ خالی کرنی پڑے گی اَور کچھ عجب نہیں کہ موجودہ نسلوں کو یہ کُرئہ زمین چھوڑ کر کسی اَور ویران کرّہ میں اپنے لیے جائے قرار ڈھونڈنی پڑے۔
پس ہر ہوش مند اِنسان یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ اعلانِ بالفور کی تائید میں تاریخی و اثری دلائل پیش کرنا محض ایک بہانہ ہے، جس کی تہ میں اِ س مقصد کے سوا کچھ اَورپوشیدہ نہیں ہو سکتا کہ یہودیوں کو اپنا رہین ِ منّت بنا کر اُنھیں خطرناک مُسلمانوں کے بجائے سویز کے مضافات میں آباد کیا جائے۔اگر اس اجمال کی تفصیل کی جائے تو بحث ضرورت سے زیادہ طویل ہوجائے گی، اِس لیے اختصار کے ساتھ صرف اِتنا کہہ دینا کافی ہے کہ جب سے مصریوں کے وطنی جذبات برطانوی حمایت (Protection) کے لیے اندیشہ ناک ہوگئے ہیں، اُس وقت سے مدبرین برطانیہ کو ہندوستان کے راستہ پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے ایک ایسے مُستقر کی ضرورت محسوس ہورہی ہے، جو وادیٔ نیل سے زیادہ مستحکم ہو، اَور اگر کسی وقت سرزمین ِ فراعنہ پر انگریزی سیاست کے لیے عرصئہ حیات تنگ ہوجائے تو اَیسا نہ ہو کہ آبنائے سویز بھی ہاتھ سے نکل جائے۔ ظاہر ہے کہ مصر کے بعداگر سویز کی حفاظت کے لیے کوئی اَور علاقہ موزوں ہو سکتا ہے تو وہ فلسطین ہی ہے،جو لیوانٹ کا نچلا حصّہ ہے، اَور آبنائے کی سرزمین سے متصل واقع ہے،چناں چہ اِسی کو اُنھوں نے منتخب کیا ہے اَور اب چاہتے ہیں کہ یہ پورا علاقہ ایسی قَوم سے آباد ہو جو ہمیشہ برطانیہ کی دوست اَور خیر خواہ رہے،اَور اگر کسی وقت مصرکی طرح خطرناک ثابت نہ ہو۔یہی راز ہے جو یہودیوں کے وطن ِ قومی کی تحریک میں پوشیدہ ہے اَور اِسی خواہش نے اُنھیں اِس صریح ظلم پر آمادہ کیا ہے۔اِس داغ کو چھپانے کے لیے وہ تاریخ وآثار کے خوش نما لباس استعمال کررہے ہیں، مگر اُنھیں پتہ نہیں کہ یہ کپڑے جالی دار ہیں، جن میں سے اُن کا عیب بالکل نمایاں نظر آتا ہے۔
فلسطین کے مُسلمانوںنے بارہا اِس امر کی درخواست کی ہے کہ رائٹ آنریبل مسٹربالفوریا ڈاؤننگ ا سٹریٹ کے دوسرے اربابِ حل و عقد نومبر ۱۹۱۸؁ء کے اعلان کی تشریح کرد یں، اَور کھلے لفظوں میں بتلادیں کہ ’’وطن ِ قومی‘‘ کا مقصد کیا ہے؛ اِس کو قائم کرنے کے لیے کیا ذرائع اختیار کیے جائیں گے، اَور موجودہ غیر یہودی اکثریت کی قسمت کاکیا فیصلہ ہوگا۔مگر جدید فن سیاست کا یہ بنیادی اُصول ہے کہ حکومت کی پالیسی اَور اُس کے احکامات کبھی استدلال اَور توضیح و تفصیل سے آلودہ نہ کیے جائیں۔ کیوںکہ ابہام نہ صرف دغا کا ایک خوب صورت آلہ ہے بلکہ اِس کی بدولت عمل کا مَیدان وسیع رہتا ہے اَور سلطنت کے قوائے عملی کے لیے کوئی روک اَور بندِش نہیں رہتی۔ لارڈ بالفور اَور برطانوی سیاست خارجہ کے دوسرے ارباب حل و عقد اُن لوگوں میں ہیں جو موجودہ فن سیاست کے’’ ائمہ کاملین ‘‘میں شمار کیے جاتے ہیں، پھر کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اپنے اعلان کی کوئی تشریح کرتے۔
مگر ہمارے پاس صہیونی [۷]لیڈروں کی تصریحات موجود ہیں جو پورے اعلان کی ساتھ کی گئی ہیں اَور کم از کم اُن وعدوں پر مبنی ہیں جو وطن قومی کی تعمیر اَور اُس کی نوعیت کے متعلّق اُن سے کیے گئے ہیں۔اُن کی تقریریں اَور تحریریں پڑھ کر ہمیں پوری طرح اُن مقاصد کا علم حاصل ہوجاتا ہے جو وطن قومی کے مؤسِّسین کے پیش ِ نظر ہیں۔ مثال کے طَور پر کارلسباڈ [۸]کانفرنس کی تقریریں پیش کی جاسکتی ہیں، جن میں ہر یہودی مقرر نے کھلے الفاظ میں اِس مفہوم کو دُہرایا تھا ،کہ:
’’اب فلسطین یہودیوں کا ہے اَور غیر یہودی کے لیے وہاں ایک انچ زمین بھی نہیں مل سکتی‘‘۔
ورسیلز کانفرنس میں صہیونی کانگریس کے صدر ڈاکٹر وائزمین [۹]نے علیٰ رؤوس الاشہاد یہ الفاظ کہے تھے، کہ:
’’بالفور کے اعلان کا مقصودِ حقیقی یہودیوں کے لیے فلسطین کے دروازے کھول دینا ہے تاکہ’’کم سے کم‘ مدّت میں وہ اُسی طرح اُن کا وطن بن جائے جس طرح انگلستان ‘انگریزوں کے لیے اَور امریکہ امریکیوں کے لیے ہے‘‘۔[۱۰]
صہیونی کانگریس کے وکیل ڈاکٹر ایدر [۱۱]نے اضطراباتِ یافا کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے نہایت زور سے کہا تھا ، کہ:
’’فلسطین میں ایک قَوم کے سوا کسی اَور کا وطن بننے کی ذرّہ برابر بھی گنجائش نہیں۔ وہ یہودیوں کاہو چکا ہے۔ اَور اب یہ بات قطعاً ناممکن ہے کہ مُسلمانوں کو برابر کے حقوق دیے جائیں‘‘۔[۱۲]
ایک اَور صہیونی لیڈر مسٹر زنگ ویل[۱۳] جو صہیونی کانگریس کا نہایت ممتاز رکن ہے، اپنے مضمون میں لکھتا ہے، کہ:
مُسلمانوں کے لیے اب اِس کے سوا کوئی چارہ نہیںکہ ارضِ مقدس سے بوریا بستر لپیٹ کر کسی اَور جگہ اپنا گھر بنائیں‘‘۔[۱۴]
سر الفریڈ مونڈ [۱۵]،ایک اَور سر برآوردہ لیڈر، بڑے پُرزور لہجہ میں کہتا ہے ، کہ:
’’میں اپنی زِندگی کے آخری ایّام مسجد ِ اقصیٰ کی جگہ ایک عظیم الشان ہیکل تعمیر کرانے میں صرف کروں گا۔ــــــــ‘‘[۱۶]
اِن صاف اَور صریح بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی قوم پرست فلسطین میں ایک خالص یہودی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اَور اُنھیں اِس مقصد میں کامیابی کا پورا پورا یقین ہے، صرف اِسی پر بس نہیں بلکہ صہیونی تحریک کی تاریخ اَور اُس کے مقاصد کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے عزائم فلسطین کے حدود سے گزر کر عراق و شام اَور اطرافِ جزیرہ تک پھیل رہے ہیں اَور اُن کی لالچی فطرت تمام مشرقِ ادنیٰ کو گھیر لینا چاہتی ہے۔اَور یہ بات ظاہر ہے کہ جب تمام معمورئہ ارضی کے کونے کونے سے یہودیوں کو جمع کر کے ایک مرکز پر اِکٹھا کیا جائے گا تو فلسطین اُن کے ایک دسویںحصّہ کو بھی مشکل سے جگہ دے سکے گا۔ کیوں کہ اِس میں حد سے حد ۱۰ لاکھ آدمیوں کی گنجائش ہے اَور یہودیوں کی مجموعی آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ سے کسی طرح کم نہیں۔ اِس لیے یہودی لیڈروں نے اپنے پاؤں ابھی سے پھیلانے شروع کردیے ہیں۔ اَور فلسطین کی حدود کھینچ کھینچ کر مشرقِ ادنیٰ پر محیط کرنا چاہتے ہیں۔چناںچہ ،اُن کے ایک لیڈر ڈاکٹر اوسیشکن[۱۷] نے جو صہیونی کانگریس کی شاخِ فلسطین کا صدر ہے، ایک موقع پر حکومت ِ انگلستان کو سخت ملامت کی تھی کہ ’’ وہ ماورائے اُردن کو فلسطین کا ایک ٹکڑا کیوں نہیں تسلیم کرتی ! ‘‘اِسی طرح اُن کے چند لیڈروںنے متحدہ طَور پر دعویٰ کیا ہے کہ توراۃ کی رُو سے اصلی فلسطین کی حدود موجودہ جغرافیائی فلسطین کے مقابلہ میںکہیں زیادہ وسیع ہیں اَور اُن میں حوران اَور عراق و شام کے بعض حصّے داخل ہیں‘ اُن کے اِس دعویٰ کو تو شاید کوئی تسلیم نہ کرے مگر یہ حقیقت بالکل ناقابلِ انکار ہے کہ اُن کی حرص و آز کے حدود اِس سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہیں۔اعلانِ بالفور نے فلسطین کے اِنتظامِ حکومت میں سب سے پہلا جوتغیر کیا وہ یہ تھا کہ صہیونی کانگریس کو نظمِ حکومت میں روز افزوں دخل حاصل ہونے لگااَوراُس کو ایک مجلسِ شوریٰ کی سی حیثیت حاصل ہوگئی۔یہودیوں کی قَوم کے لیے اِتنا سہارا کافی تھا۔ اُس نے رفتہ رفتہ اپنا اثر بڑھانا شروع کیااَور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وضعِ قوانین میں اُس سے مشورے لیے جانے لگے‘قومی وطن کی تعمیر میں وہ ایک صلاح کار جماعت بن گئی، اَور تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اُس کا نفوذ حکومت کی رہ نُمائی کی حد تک پہونچ گیا۔یہ غَیر معمولی اِقتدار حاصل کرنے کے بعد یہودیوں نے مستقل طَور پر زمامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اَور کارلسباڈ کانفرنس میں نہایت زور سے مُطالبہ کیا گیا کہ فلسطین کا ہائی کمشنر ایک یہودی ہونا چاہیے۔ لندن کی حکومت شاید اِس کو منظور کرلیتی مگر اُس نے بعض سیاسی وجوہ سے اَیسا کرنا مُناسب نہ سمجھااَور اِسرائیلیوں کی آتش ِ طمع کو محاکم عدلیہ اَور دائرہ صنعت وتجارت (Chambers of Commerce & Industries) کی کُنجیاں دے کر بُجھادیا۔اِس کامیابی سے یہودی لیڈروں کی ہمّت اَور بڑھی ‘اَور اُنھوں نے اپنی ساری قوت اِس کوشش میں صرف کردی کہ حکومت کے دروازے مُسلمانوںکے لیے بند کردیے جائیںاَ ور حکومت ِ فلسطین کی اِنتظامی مشین کلیۃً یہودی کل پُرزوں سے مرکّب ہو۔ اِن کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہر محکمہ میں کثرت کے ساتھ یہودی بھرتی کیے جارہے ہیںاَور ہزاروں حق دار مُسلمانوں کے حق کاٹ کر ایسے ایسے یہودیوں کو دیے جارہے ہیں جو حقوق و قابلیت میں مُسلمانوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتے، مثلاًمحکمہ زراعت میں مفتش کے عہدہ پر ایک یہودی کو مقرر کیا گیا ،جس کے مقابلہ میں بیسیوں مُسلمان اُمید وار ‘ مدارسِ زرعیہ کے کامیاب شدہ موجود تھے۔ اَور پولیس کمشنری کے عہد ہ پر کم و بیش ۱۰ مُسلمانوں کے مقابلہ میں ایک یہودی کو منتخب کیا گیا حال آں کہ مُسلمان اُمیدوار اُس سے بدرجہا زیادہ قابل اَور تجربہ کار تھے، و قس علیٰ ہذا۔
صرف مُلازمتوں ہی پر بس نہیں بلکہ صہیونی تحریک نے حاکمانہ اِقتدار سے مُسلُح ہو کر مُسلمانوں کے لیے فلسطین کی آب و ہوا میں سانس لینا مُشکل کردیا اَور اِ تنے ہاتھ پاؤں پھیلائے کہ مُسلمانوں کو مُلک چھوڑ دینے کے سوا اَور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا، وضعِ قوانین کا اِختیار اُنھیں حاصل، قوانین کو نافذ کرنے کی ساری قوتیں اُن کے قبضہ میں، دولت و ثروت کے وہ مالک، صنعت و تجارت کی کنجیاں اُن کے پاس، زراعت کا محکمہ اُن کے زیرِ اثر، عدالت کی کرسی پر وہ متمکّن، اَور سب سے بڑی بات یہ کہ شاہی سلطنت اُن کی پشتیبان، پھر مُسلمان غریبوں کے پاس کیا دھَرا ہے کہ اُن کا مقابلہ کریں، اَور اپنی اِجتماعی و اِنفرادی ہستی کو ہلاکت سے بچالیں۔ یہ الفاظ کچھ زورِ بیان کی خاطر نہیں ، بلکہ ٹھیک ٹھیک اُن حقائق کو پیش کرتے ہیں، جو اِس وقت فلسطین میں رُونُما ہورہے ہیں۔ گنجائش نہیں کہ استیعاب کے ساتھ وہاں کے نظامِ حکومت پر بحث کی جائے، ورنہ اِن الفاظ کی صداقت رَوشن ہوتی، تاہم اِختصار کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اُن آئینی مظالم کی چند مثالیں یہاں پیش کی جاتی ہیں:
ا۔ایسے جابرانہ قوانین جو اِنتظامی قوت کو غَیر محدود اِختیارات دیتے ہیں ، کثرت کے ساتھ وضع کیے جارہے ہیں: ۔ من جملہ اُن کے ایک قانون ’’ابعاد‘‘ ہے، جس کی رُو سے ایک مجسٹریٹ جس وقت چاہے اَورجس شخص کو چاہے بغیر کسی قانونی کارروائی کے اَور بغیر کوئی سبب ظاہر کیے، اپنے حدودِ اِختیارات سے باہرنکال سکتا ہے؛۔ قانون ’’منع ِ جرائم‘‘ کی وسعت کا یہ حال ہے کہ ایک مجسٹریٹ یا ایک انسپکٹر پولیس جس شخص کوچاہے بغیر مقدمہ چلائے اَور بغیر کوئی وجہ ظاہر کیے گرفتار کرلے؛ قانونِ ضماناتِ مشترکہ کی رُو سے صرف ایک شخص کے جرم کی ذِمّہ داری پوری بستی پر بلکہ بعض اَوقات آس پاس کی بستیوں پر بھی عائد ہوجاتی ہے اُور اِن سب کو جرمانہ کی سزا بھُگتنی پڑتی ہے۔قانون ‘پولیس کے ایک کانسٹبل کو اِختیار دیتا ہے کہ جس شخص اَور جس گھر کی چاہے تلاشی لے لے اَورپھر اِس تلاشی کا خرچہ بھی وصول کرلے۔تنفیذی قوّت یہودیوں کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے اِن جابرانہ قوانین کا نِفاذ کّلیّتاًمُسلمانوں تک محدود ہے۔اَور خصوصیت کے ساتھ اِنھیں ایسے مقامات پر اِستعمال کیا جاتا ہے جہاں یہودیوں کی دست درازی کے جواب میں کسی مُسلمان فرد یا جماعت کو مجبوراً مدافعت کرنے کا جرم سرزد ہوجاتا ہے۔قدس شریف کا حادثہ جو ۲۔ستمبر ۱۹۲۱؁ء کو مسلمانوں اَور یہودیوں کے دَرمیان پیش آیا تھا۔اُس میں صیہونیوں نے مسلمانوں پر مسلّح ہجوم کیا ‘اُن کی مذہبی توہین کی اَور ہزاروں نہتّے مسلمان‘اُن کے ہاتھوں مجروح اَور شہید ہوئے، مگر بعد میں جب بلوائیوں پرمقدمے چلائے گئے تو ہم نے دیکھا کہ ثابت شُدہ مجرم جنھوں نے علانیہ آتشیں ہتھیار اِستعمال کیے تھے ،صرف اِس بِنا پر رِہا کردیے گئے کہ وہ یہودی تھے،اَور بے گناہ مسلمان جن کی مجروحیت اَور مظلومیت نُمایاں تھی،بے بُنیاد اِلزامات پر سخت سے سخت سزائوں کے مستجب قرار دیے گئے۔حتیٰ کہ ایک مسلمان کو صرف اِس جرم مین ۱۰ (دس) سال کی سزا دی گئی کہ وہ ایک یہودی کی لاش کے قریب کھڑا دیکھا گیا تھا اَور دو(۲) مسلمانوں کو ۱۵‘۱۵ سال کے لیے صرف اِس اِلزام میں [جیل] بھیج دیا گیاکہ وہ بلوے کے بعد ہتھیار چُنتے ہوئے پائے گئے تھے!۔اِسی طرح یافاکے حوادِث میں سینکڑوں یہودی بلوائی جن کے سنگین جرائم پر خود انگریزی فوج کے انگریز اَورہندوستانی افسر شاہد تھے، صاف بری کردیے گئے اُور اُن کے مُقابلے میں مُسلمانوں کو ناکافی شہادتوں اَور بے بُنیاد اِلزاموں پر عبرت ناک سزائیں دی گئیں۔ایک یہودی کرنل جس نے اپنے سِپاہیوں کو لے کر خود بلوہ میں حِصَّہ لیا تھا اَور فوجی ہتھیار اَور فوجی وَردیاں یہودی بلوائیوں کو تقسیم کر کے ہنگامہ کو بہت بڑھا دیا تھا،صرف خارج الملک کیا گیا مگر اُس کے مقابلہ میں ایک مسلمان کانسٹبل کو محض اِس جرم پر کہ وہ بلوے کے وقت غیر حاضر تھا، تین (۳) سال کی سزا دی گئی،اَور ایک مسلمان کو صرف اِس اِلزام میں کہ اُس کے قبیلے نے یہودیوں پر ہجوم کیا تھا ، ۱۰(دس) سال کے لیے قید کردیا گیا ۔
۲۔ مُسلمانوں کی زراعت کو برباد کرنے کے لیے ایک زبردست کوشش کی جارہی ہے، جس کی بدولت عربی کسان مَوت کے قریب پہنچ گیا ہے۔ جنگ سے قبل ترکی حکومت میں کسانوں کے لیے ایک مصرفِ زراعی (کو آپریٹیو بینک)قائم تھا، جس سے اُن کو فصل پکنے تک بقدرِ حاجت رقمیں قرض دی جاتی تھیں،اَور اُس کے سرمایہ کا یہ اُصول تھا کہ کسانوں پر ہی پر’’اِضافہ مصرف زراعی‘‘ کے نام سے ایک قلیل سا ٹیکس لگادیا تھا۔گویایہ بینک کسانوں کے لیے ایک صندوق تھا ،جس میں وہ لوگ وقتِ ضرورت کے لیے پس انداز کر کے روپیہ رکھ دیتے تھے، اَور دوسروں سے قرض لینے کے بجائے اُنھی کا سرمایہ اُن کے کام آجاتا تھا۔اِس زرّین اُصول کی بدولت فلاحین کی حالت روزافزوں خوش حالی پر تھی۔ انگریزی حکومت جب فاتح کی حیثیت سے مُلک میں داخل ہوئی تو اُس نے ’’مصرف زراعی‘‘ کو بند کردیا،مگر وہ ٹیکس بدستور جاری رکھاکو ’’اِضافہ مصرف زراعی‘‘ نام سے اِس بینک کے لیے عائد کیا گیا تھا۔تاہم اپنے اِبتدائی ایّام حکومت ‘برطانوی حُکّام حاجت مند کسانوںکو خزانہ حکومت سے قرض دیتے رہے، جس کی بدولت اُن کی حالت سنبھلی رہی۔صیہونی دَور شروع ہوتے ہی حکومت کا نقطہ نظر بالکل ہی بدل گیا۔سب سے پہلے اُس نے قرضے بند کیے اَور کسانوں کو یہودی ساہوکاروںکے رحم پر چھوڑدیاجو ہندوستان کے حریص ترین بنیوں سے بھی زیادہ خطرناک مہاجن ہیں۔اِس کے بعد اُس نے ایک قدم اَور بڑھایااَور فلاحین سے اِس مصرف زراعی کے قرضوں کا مطالبہ کیا جو خود اُنھی کی سرمایے سے قائم تھااَور جن کے بند ہوجانے کے بعد کسی حکومت کو بھی اُن سے بقایا طلب کرنے کا حق نہ تھا۔فلاحین کی انجمنوںنے تو پہلے قانونی بحث کی، جب حکومت نے مطالبہ زیادہ سختی سے کیا تواُنھوں نے رحم کی درخواست کی ،جب اُس میں ناکامی ہوئی تو تھوڑی سی مُہلت طلب کی تاکہ اُن کی مالی حالت سنبھل جائے ، جب اُسے بھی رَد کردیاتو آخر میں اُنھوں نے اِلتجا کی کہ اُن کی سب چیزیں قُرق کرلی جائیں مگر زمینیں چھوڑ دی جائیں‘لیکن یہ آخری اِلتجا بھی رَد کی گئی، اَور سینکڑوں غریب کسانوں کی اراضی کم سے کم داموں پر نیلام کردی گئیں، جن کے تمام خریداریہودی تھے۔
۳۔ مُسلمان فلاحین کی بربادی کے لیے صرف یہی ایک طرزِ سِتم نہ تھا جو اِیجاد کیا گیا ، جو لوگ اِس کی زَد سے بچے ہوئے تھے‘اُن کے لیے ’’قانون اراضی متروکہ‘‘ کا دوسرا ہتھیار موجود تھا۔اِس قانون کا منشایہ ہے کہ جو شخص اپنی زمین پر تین (۳) سال تک زراعت نہ کرے ‘اُس کی زمین ’’ارضِ متروکہ‘‘ سمجھی جائے گی اَور اُسے حکومت کی مِلک قرار دے دیا جائے گا۔ چار(۴)سال کی مسلسل اَور ہولناک جنگ سے فلسطین کے کسان بالکل مفلس اَور مفلوک القویٰ ہو کر نکلے تھے۔ آبادی میں ایک معتدبہ کمی واقع ہوگئی تھی اَور ہر قریہ اپنے باشندوں کا تقریباً ۳؍۱ کھو چُکا تھا۔بہت سے کسان جنگ اَور اِنقلاب کی تباہیوں کے باعث خانہ ویراں ہوچکے تھے،اَور اُن کے لیے ممکن تھا کہ زمانہ امن کے ساتھ ہی اپنی کھیتیوں پر واپس آجاتے؛حکومت کا فرض تھا کہ وہ ایسے مُصیبت زدہ فلاحین کی اِعانت کرتی اَور امن قائم ہوتے ہی اُنھیں کھیتی باڑی کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کرتی ‘مگر اُس نے اِن نیم جانوں میں جان ڈالنے کے بجائے اُلٹا ایسا وار چلایا کہ رہی سہی جان بھی نکل گئی،اَور عَین اُس وقت جب کہ پیٹ کی روٹی اَور تن کے کپڑے کو مُحتاج بیٹھے تھے ‘اُنھیں اپنی اراضی کی بھی فکرکرنی پڑی،جن[جس]سے زندگی کی اُمیدیںوابستہ تھیں۔ حکومت قرضوں کا سلسلہ بند کرچکی تھی، مصرف زراعی کا خاتمہ ہوچکا تھا، اَور پاس پیسہ تک نہ تھا۔ مجبوراً کسی نے کھیتی باڑی کرنے کے لیے یہودی ساہوکاروں سے بھاری شرحِ سود پرقرض لیا،اَور کام سے واپس آکر اپنی املاک کی حفاظت کی۔اَور کوئی غریب جو قرض لینے کے ذرائع نہ رکھتا تھا ‘اُس نے اپنی زمین مُفت کھونے سے یہی بہتر سمجھا کہ اِس کے کچھ دام ہاتھ آجائیں، اِس لیے کم سے کم قیمت قیمت پر اُسے فروخت کردیا ، جس کے خریدار بہر حال یہودی تھے۔
۴۔ اِن قوانین کے بعد بھی جو عرب خوش حال رہے ،وہ اراضی مدورہ کے مالک تھے۔ فلسطین میں عہدِ قدیم سے یہ دستور تھا کہ لوگ اپنی اراضی کے بعض حَصّے خلیفۃ المسلمین کوتبرکاً ہبہ کردیتے تھے۔مگر قاعدہ یہ تھا کہ وہ خود ہی اُس پر مُتصرف رہتے تھے اَور صرف اُن کے حاصلا ت کا پانچواں حِصّہ خلیفۃالمعظم کی خدمت میں پیش کردیتے تھے، اِس کے عوض دربارِ خلافت سے اُن کو عشر اَور رسم دیر (لینڈ ٹیکس یا مالگزاری) معاف کردیاجاتا تھا۔اعلانِ دستور کے بعد جنگ ٹرکی میں پارلیمنٹ قائم ہوئی تو دربارِ خلافت نے اِن املاک کو سلطنت کی طرف منتقل کردیا اَور اِن کا نام ــ’’اراضی مدورہ‘‘ رکھا گیا۔ برطانوی تسلّط کے وقت یہ اراضی ہزاروں ایکڑ پر مشتمل تھی،جن سے ۷۰(ستّر) ہزار مُسلمان فلاحین پروَرِش پاتے تھے۔اِن لوگوں کی حالت عام کسانوں سے زیادہ بہتر تھی،کیوں کہ اُن کے ساتھ خاص رِعایتیں کی جاتی تھیں۔موجود حکومت اُن کی خوش حالی نہ دیکھ سکی اَور اُس نے اُن پر دستِ تعدّی دراز کر کے اُن کی ساری رِعایتیں غصب کرلیں۔ ۵۔ خام پیداوار کی برآمد حُکماً بند کرکے مُسلمانوں کی تجارت اَور عام اِقتصادی حالت کو برباد کردیا گیا۔عثمانی حکومت میں فلسطین کے غَلّہ اَور دیگر خام پیداوار کی برآمد ایک بڑی منفعت بخش تجارت تھی۔ مُلکی ضروریات سے جتنا سامان بچ رہتا، وہ سب کا سب باہر بھیج دیا جاتا۔یہ پوری تجارت مُسلمانوں کے ہاتھ میں تھی،اَور یہ تاجر نہایت دولت مندتھے۔یہودیوں کو مُسلمانوں کی یہ خوش حالی گراں گزری،اَور اُنھوں نے اِس کے خِلاف جِدّوجہد کی۔آخر ۱۹۲۰؁ء میں حاصلاتِ زرعیہ کی برآمد حُکماً بند کردی گئی۔ فائدہ یہ ہوا کہ مُسلمان تاجروں کے دیوالے نکل گئے، اَور ثَروَتِ وطنی میں عربوں کا حِصّہ ایک بڑی حد تک کم ہوگیا۔آج اِس حکم کی بدولت سینکڑوں عرب تاجر پیسہ پیسہ کو مُحتاج ہوگئے ہیں اَور اپنی بیش قیمت املاک رہن یا فروخت کر کے قوت لا یموت حاصل کررہے ہیں۔
۶۔ اِن باقاعدہ قانونی کوششوں کے علاوہ بھی متفرق مساعی کا سلسلہ بھی جاری ہے جو عربوں کے حق میں کچھ کم مصیبت کا باعِث نہیں؛ مثلاً پبلک ورکس کے تمام ٹھیکے یہودیوں کے لیے مخصوص ہوگئے ہیں۔ریلوے لائنیں بچھانا، سڑکیں بنوانا، تار اَور ٹیلی فون کے سلسلے قائم کرنا، یہ سب کام اُنھی کو دیے جاتے ہیں۔ایک مُسلمان مزدورایک یہودی مزدور کے مقابلے میں دُگنا کام کرتا ہے اَور نصف اُجرت لیتا ہے،مگر باوجود اِس کے شدید ضرورت کے بغیر کبھی مُسلمان مزدور سے کام نہیں لیا جاتا۔ یہودیوں کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے یہودی دوکان داروںکو متعدد محصولوں سے مستثنیٰ سا کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایک یہودی ہمیشہ مسلمان کے مقابلہ میں سستا مال بیچتا ہے۔دائرہ صنعت و تجارت کا ڈائرکٹر جنرل اَور اُس کا سارا اِسٹاف یہودی ہے‘اِس لیے وہ یہودی تجار کو تمام ممکن آسانیاں بہم پہنچاتا ہے اَور مُسلمانوں کے راستے میں مشکلات پیدا کی جاتی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ مُلک کی صنعت وتجارت بالکل یہودیوں کے قبضہ میں آتی جارہی ہے اَور مُسلمانوں کے لیے مزدوری کرکے بھی پیٹ پالنے کا موقع نہیں رہا۔ضرورت نہیں کہ اِس عملی تشریح پر کوئی توضیح مزید کی جائے، ہر شخص جو مندرجہ بالا تلخیصات کو پڑھے گا ،وہ خود بڑی آسانی سے یہ نتیجہ نکال لے گا کہ یہودی لیڈروں نے اعلان بالفور کی تشریح جن الفاظ میں ہے‘ اَور اِس اعلان کی بنا پر جن عزائم اَور توقعات کو ظاہر کیا ہے، اُنھیں برطانوی دفتر مستعمرات کے ایجنٹ فلسطین میں حرف بحرف پورا کررہے ہیں،مگر صیہونی تحریک کے مُہلک اثرات کاایک پہلو ہم سے چھوٹ گیا ہے،جو یقینا سب سے زیادہ تاریک ہے۔ ایک قوم کا اخلاق اُس کے قومی سرمایہ کی سب سے زیادہ بیش قیمت پونجی ہوتا ہے، اَور اِس اعتبار سے اخلاق کا بگڑجانا‘ایک قوم کے لیے مالی و اقتصادی نُقصانات اَور جسمانی مصائب کے مقابلہ میں زیادہ شدید نقصان اَور الم ناک مُصیبت ہے۔ یہودی مہاجرت کی تحریک اہل ِ فلسطین کی اِس پونجی پر بھی دست ِ تعدی دراز کررہی ہے، اَور اِس کی بدولت اُن کی تہذیب سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔ نومبر ۱۹۱۸؁ء کے اعلان کا شائع ہونا تھا کہ تمام اقطاعِ عالم کے یہودیوں کو فلسطین کی طرف دعوت دی گئی اَور صیہونی کانگریس نے بڑے پیمانہ پر ہجرت کا بندوبست شروع کردیا۔آغازِہجرت کے پہلے ہی سال وہ ۶۰ (ساٹھ)ہزار یہودیوں کو مشرقی یورپ سے لے گئے اَور دوسرے سال اُن کا دریا اِس بُری طرح اُمنڈ آیا کہ صیہونی لیڈروں کو مجبوراً ہجرت کی رفتار سُست کرنی پڑی ،کیوں کہ اِتنی کثیر آبادی کے لیے اسبابِ عیش و تنعم کا مہیا کرنا اَور اُن توقعات کو پورا کرنا ،جنھیں لیے ہوئے وہ لوگ اپنے بسے بسائے گھر چھوڑ کر آئے تھے، نہ صیہونی لیڈروں کے بس کا کام تھا اَور نہ حکومت اِسے انجام دے سکتی تھی۔ تاہم اب تک کم و بیش ۲(دو) لاکھ لاکھ یہودی مہاجرین ارضِ مقدس کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ اِن لوگوں کی صِٖفات کے متعلق یہ کہنا کہ وہ حریص اَور طمّاع ہیں، ایک غیر ضروری سی بات ہے، کیوں کہ یہ صفات یہودیوں کی جبلت میں داخل ہیں، جن سے ہر شخص واقف ہے۔ اِسی طرح یہ کہنا بھی بے سود ہے کہ وہ جنت ملنے کی توقعات لے کر فلسطین پہنچے ہیںاَور تمام ارضِ مقدس کو اپنے بزرگوں کا ترکہ سمجھ کر اُس کی ہر چیز کو اپنی مِلک سمجھتے ہیں، کیوں کہ جس طرح اُنھیں مہاجرت پر اُبھار اگیا ہے اَور تمام یہودی بستیوں میں صیہونی کانگریس نے جس قسم کی تبلیغ و اِشاعت کی ہے، اُس کی بِنا پر ہر یہودی کو ایسی ہی توقعات لیے ہوئے ہجرت کرنی چاہیے۔پس اِن اُمورِ معلومہ کو چھوڑ کر میں اُن غیر معمولی بہیمیتوں اَور حیوانی صفات کا ذِکر کرنا چاہتا ہوں جو اِنسانیت سے کوئی دُور کا علاقہ بھی نہیں رکھتیں اَور جن کی بدولت یقینی اندیشہ ہے کہ فلسطین کی مقدس سرزمین میں تھوڑے ہی عرصہ میں پیرس کے بدترین اخلاق سوز مناظر کی تماشا گاہ بن جائے گی۔ اِس کیفیت کو اپنے الفاظ میںلکھنے سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ خود ایک فلسطینی عرب کے الفاظ یہاں نقل کیے جائیں جو بڑے تاثر اَور دِلی رنج کے ساتھ اِن لوگوں کی حیا سوز تہذیب کا نقشہ کھینچتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:’’مہاجرین زیادہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے بالشویک عقائد اختیار کرلیے ہیں ،اَور بولشوزم ہی کی آب و ہوامیںتربیت پائی ہے۔ یہ لوگ اپنے اُن اِشتراکی اُصولوں کو اِنسانیت کا نچوڑ سمجھتے ہیںاَور اہل ِ فلسطین میں اُن کی اِشاعت کررہے ہیں۔حال آں کہ یہ اُصول نطامِ بشری کے بالکل منافی ہیں اَور اِنسانی تہذیب کے لیے مُہلک ترین جراثیم اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اِن کے بہیمانہ اخلاق کی صحیح کیفیت کو اپنے الفاظ میں لکھناتو الگ رہا‘ اُس کے تصور سے بھی میری شرافت کا نپتی ہے۔وہ لوگ جلوت و خلوت کو ایک سمجھتے ہیں، علانیہ بازاروں اَور عام گزرگاہوں میں وہ حرکات کرتے ہیں جو ایک شریف آدمی اِنسان چھُپ کر بھی نہیں کرتا۔اِن کی عورتیں سینے کھولے ہوئے، ہاتھ کی کہنیوں تک ننگے، پاؤں ‘گھٹنوں تک برہنہ‘اَور باقی حصّہ بدن بھی نہایت باریک کپڑوں سے ڈھانکے ہوئے سڑکوں پر پھرتی ہیں، نوجوان یہودی اُن کو بغل میںلیے علانیہ بوسہ بازی کرتے چلتے ہیں۔ عام طور پر ان کے مرد اَور عورتیں سب کے سب دریا کے کنارے جاکربالکل برہنہ ہوجاتے ہیں اَور نہانے کی تفریح کے ساتھ ساتھ جانوروں کی طرح زنا کی تفریح بھی شروع کردیتے ہیں۔ باقاعدہ مناکحت کا دستور اِن میں نہیں ہے، ایک مرد جب تک چاہتا ہے ایک عورت سے تعلق رکھتا ہے، اَور جب اُن کے دِل بھرجاتے ہیں یا موافقتِ مزاج میں فرق آجاتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کو چھوڑ کر کہیں اَور اپنے حیوانی جذبات کا ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعض نے اِس حالت کو بھی ایک غیر حیوانی حالت قرار دیا ہے، اَور ایسے علاقہ اَور التزام کو بھی ایک بے جا بندِش سمجھتے ہیں جو کچھ عرصہ تک مرد و عورت کے درمیان قائم رہے۔ اُن کے نزدیک اِنسان کی خانگی زِندگی کا منشائے اصلی محض اُس تقاضائے بہیمیت کو پورا کرنا جو قدرت نے بقاے نوع کے لیے اُن کی جبلت میں پیدا کردیا ہے۔پس وہ صرف اُن چند لمحوں کے لیے عورت اَور مرد کے تعلق کو ضروری سمجھتے ہیں،جب وہ تقاضا اِن دونوں کو باہم مواصل ہونے پر مجبور کردے۔ اَور اِس کے لیے ضروری نہیں کہ ایک جوڑا صرف اِن چند ساعتوں کی مواصلت کے لیے کسی خاص مُدت تک التزام و تعلّق کی بندِش میں مُبتلا رہے۔ گویا اُن کی سوسائٹی کا نظام اِنسان کے اُس اِبتدائی عہد کی طرف ترقی معکوس کرگیا ے جب کہ اِنسان جانوروں سے آدمی کی شکل میں نیا ہی نیا آیا تھااَور شکل و صورت کے سِوا اپنی تمام صفات میں بالکل جانور تھا۔اگرچہ یہ حرکاتِ رذیلہ اِنھی لوگوں تک مخصوص ہیں، اَور اِن کی ذِمَّہ داری بھی انھی پر ہے، مگر ہمیں خطرہ ہے کہ اِنھیں دیکھ دیکھ کر ہماری نئی نسلیں بالکل تباہ ہوجائیں گی، اَور فرزندانِ اِسلام اِن سے سبق سیکھ سیکھ کر ایک روز انھی کی طرح حیوان بن جائیں گے۔اِن کی سوسائٹی کی یہ آزادی ایک نوجوان کو پہلی نظر میں بہت خوش نما معلوم ہوتی ہے، اَور اُس کا جوشِ شباب اپنے لیے اِن اِشتراکی اُصولوں میں بہت سی آسانیاں پاتا ہے، اِس لیے ہمیں قوی اندیشہ ہے کہ ہمارے نوخیز بچّے اِس تہذیب کی مُضرتیں محسوس کرنے سے پہلے اِس کے شکار ہوجائیں گے اَور انھیں دیکھ دیکھ کر ہمارے آبا ء و اجداد کی ہڈّیاں اپنی قبروں میں تڑپیں گی۔‘‘
یہ الفاظ کسی اِضافہ کے محتاج نہیں۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صیہونی تہذیب ، فلسطین کے لیے اخلاقی حیثیت سے کس قدر مہلک اَور تباہ کُن ہے۔
اعرابِ فلسطین پر صیہونی مظالم کی داستان صرف یہیں تک نہیں، بلکہ وہ کچھ خونی اَوراق بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہاں تک جو کچھ تھا،اُس کو ایک ’’پُر امن‘‘ جِدّوجہد سے متہم کیا جاسکتا ہے، مگر صیہونیوں نے اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے قتل و غارت سے کام لینے میںبھی کوئی کمی نہیںکی۔ آئے دِن کے لڑائی دنگوں پر اِحاطہ کرنا تو ایک امر مشکل ہے اَور اِس کے لیے اِن صفحات میں گنجایش بھی نہیں نکل سکتی۔ البتّہ چند بڑے بڑے ہنگاموں کو یہاں پیش کیا جاسکتا ہے۔
اپریل ۱۹۲۰؁ء میں مُسلمانوں نے اپنی سالانہ عادت کے مطابق نبی، موسیٰ علیہ السلام کی محفل زیارت منعقد کی۔ اِس تقریب سے سڑکوں پر بے شمار زائرین جمع تھے اَور ہزاروں مُسلمان تکبیر و تہلیل کرتے چل رہے تھے۔ ایک صیہونی یہودی کو مُسلمانوں کی یہ شان اَور اُن کا یہ نظام خوش نہ آیا‘ اَور اُس نے سیّدنا ابراہیم خلیل ؑ کے علَم پر دفعۃً حملہ کردیا۔مُسلمانوں میں اِس حرکت سے ایک شدید ہیجان پیدا ہوگیا اَور ایک عرب نے فوراً‘ اُس یہودی کا کام تمام کردیا۔یہ گویا ایک بڑے ہنگامہ کی تمہید تھی،جو یہودیوں نے ایک سوچے ہوئے نظامِ عمل کے ساتھ بپا کرنا چاہا تھا۔ مجمع میں ہر طرف یہودیوں کی مُسلّح ٹکڑیاں پھیلی ہوئی تھیں،اَور اُن کے کپڑوں میں آتشیں اسلحے چھپے ہوئے تھے۔ ہنگامہ کاسگنل پاتے ہی اُنھوں نے یک بارگی ہر طرف سے آگ برسانی شروع کردی اَور قتل و خون کا بازار گرم ہوگیا۔ مُسلمان باکل نہتّے تھے اَور لڑائی کا اُن میں سان و گمان بھی نہ تھا۔ اِس لیے ابتداء ً ،اُن میں اِنتشار پیدا ہوگیا مگر بعد میں جب اُنھوں نے سنبھل کر حملہ تو یہودی قوت پس کر رہ گئی۔یہ قدس شریف کا پہلا حادثہ تھا، جس میں ہزاروں مُسلمان شہید و مجروح ہوئے۔
مئی ۱۹۲۱؁ء میں بولشویک یہودیوں نے یافا میں ایک مُظاہرہ کیا۔ اِس مُظاہرہ کا مقصد اصلی خواہ کچھ ہی ہو، مگرتمام مُظاہرین راستہ چلتے ہوئے سب سے بڑا کام جو کررہے تھے، وہ مُسلمانوں کو چھیڑنا تھا۔ آخر مُسلمانوں سے نہ رہا گیا اَور اُنھوں نے برابر کا جواب دینا شروع کردیا۔یہ چھیڑ چھاڑ بڑھتے بڑھتے ایک زبردست جنگ کی صورت اِختیار کرگئی اَور تمام یہودی مُظاہرین اپنے چھُپے ہوئے ریوالور اَور رائفلیں لے کر مُسلمانوں پر حملہ آوَر ہوگئے، مُسلمان یہاں بھی نہتّے تھے، اِس لیے کثرت سے مجروح و شہید ہوئے‘اُنھوں نے نہتّے ہونے کے باوجود یہودی قوت کو باکل توڑ دیا۔ بعد میں حکومت نے اِس بلوہ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی مقرر کی جس کے ارکان خود انگریزی فوج کے افسر تھے۔ اِس کمیٹی کے سامنے یہودیوں نے اپنے عزائم کھُلے کھّلے الفاظ میں ظاہر کیے ہیں، جو رپورٹ کے مطالعہ سے معلوم ہوتے ہیں۔
۲ ۔نومبر ۱۹۲۲؁ء کو مُسلمانوں کا ایک جمّ غفیر بارگاہِ الٰہی میں فریاد کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں جمع ہوا۔ اَو ر تمام مُسلمانوں نے اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کر کے اُن برّ ی و بحری بلاؤں سے نجات طلب کی جو اِس منتقم حقیقی نے اُن کے اعمال کی سزا دینے کے لیے دُنیا ہی میں بھیج دی ہیں۔ دُعا اَور فریاد کے بعد جب یہ مجمع باہر نکلا تو یہودی ایک بڑی تعداد میں ریوالور اَور رائفلیں لیے ہوئے اُن کے اِستقبال کو موجود تھے۔ اُنھوں نے باہر نکلنے والوں پر دفعۃً آگ برسانی شروع کردی اَور مسجد اقصیٰ تک گرد خاک و خون کا ایک ہالہ تیار ہوگیا۔ اِس مرتبہ بھی نہتّے مُسلمانوں نے یہودیوں کو سخت شکست دی،مگر اُن کو شدید جانی نُقسان اُٹھانا پڑا۔
یہ مُسلّح ہنگامے بڑی تیاریوں کے بعد بپا کیے گئے ہیں اَور اِن تیاریوں کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ یہودی لیڈر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ خون ریزی کیے بغیر وہ فلسطین کے مالک نہیں بن سکتے۔ اَور اُن کے ذِمّہ دار رہ نُماؤں نے اپنے اِس خیال کو کھلے کھلے لفظوں میں ظاہر بھی کردیا ہے۔ چنانچہ داؤود یلین نے جو صیہونیوں کے اکابرِ رِجال سے ہے، کارلسباد کانفرنس میں کہا تھا،کہ:
’’فلسطین میں ہماری خواہشات خوں ریزی کیے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔‘‘
اِسی طرح صیہونی کانگرین کی مجلس انتظامیہ کے ایک رکن موسیو جاپوٹنسکی نے کہا تھا، کہ:
’’ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک یہودی فوج مرتب کرنی پڑے گی تاکہ ضرورت ہو تو ہم عربوں کا تلوارسے بھی اِستیصال کر سکیں۔‘‘
اِن خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے پہلے اُن کی اِعانت اَور ہمّت افزائی خود حکومت نے کی۔ وہ صیہونی کانگریس کے اِرادوں سے بے خبر نہ تھی بلکہ اُسے خود صیہونیوں بھی کچھ زیادہ اُن کا علم تھا۔ مگر اُس نے جان بوجھ کر خوں ریزی کا سامان کیا اَور اواخر ۱۹۱۲؁ء میں حفاظت ِ نفس کے بہانہ سے یہودیوں کو ہتھیار رکھنے کی اِجازت دے دی۔مُسلمانوں نے اِس پر سخت احتجاج کیا اَور آئینی حیثیت سے بحث شروع کی کہ اگر یہودیوں کی جانیں خطرے میں ہیں تو حکومت کو اُن کی حفاظت کرنی چاہیے اَور اگر حکومت حفاظت سے عاجز ہے تو اُسے مُلک میں ہتھیار رکھنے کی عام اِجازت دینی چاہیے،کیوں کہ ہر شخص کو حفاظت ِ نفس کی ضرورت ہے، اِس کے لیے کچھ یہودیوں کی تخصیص نہیں۔ مگر وہاں تو بحث و اِستدلال کا کوئی موقع ہی نہ تھا، کیوں کہ اصل مقصد تو یہودیوں کی ہمّت افزائی تھی، جس کے لیے حفاظتِ نفس کا محض بہانہ اِختیار کیا گیا تھا۔
یہودیوں کو اِتنا سہارا کافی تھا۔ اُنھوں نے خفیہ طریقوں سے ہر قسم کے ہتھیاروں کی ’’تریب‘‘[۱۸]شروع کردی، اَور غیر مُمالک سے ہتھیار لانے کے لیے ایک زبردست سازش سے اپنا اپنا کام کرنے لگے۔ نہیں کہا جاسکتا کہ اِس طرح کتنے ہتھیار ناجائز طور پر مُلک میں درآمد ہوئے مگرچند واقعات جو ظاہر ہوگئے، اِس فراہمی کی رفتار بتلاتے ہیں۔
۱۹۲۲؁ء کے اوائل میں ایک روز بندرگاہ حیفا کے خلاصی بہت سے بھاری بھاری صندوق اُتار رہے تھے۔ اِتفاقاً ایک صندوق ہاتھ سے چھوٹ کر ٹوٹ گیا اَور اُس میں سے ایک ریوالور باہر نکل آیا۔خلاصیوں نے پولیس کو اطلاع کی۔ ایسی خلافِ توقع خبر پر تمام بحری پولیس اِکٹھی ہوگئی اَور اُنھیں تمام صندوقوں پر شُبہ ہوگیا۔ کھول کر جو دیکھا تو ہر صندوق ریوالوروں اَور کارتوسوں سے بھرا ہوا تھا،چالاکی یہ کی گئی تھی کہ اُن صندوقوں میں اوپر کی طرف شہد کی مکھیاں پرورِش کرنے کے چوبی خانے بنے ہوئے تھے، جن پر چنگی کا محصول معاف ہے اَور اِس لیے چنگی خانہ میں اُن کی تفتیش بھی نہیں کی جاتی۔ اِس قسم کے تین سو (۳۰۰) صندوق جہاز سے اُترے تھے اَور سب کے سب ایک یہودی لیڈر کے نام پر تھے۔ حیفا کی مرکزی عدالت میں اُس پر مقدمہ چلایا گیا۔جرم ظاہر ہے کہ سنگین تھا، ملزم کے مجرم ہونے میں کوئی شُبہ نہ تھا، وہ خود اِقراری تھا کہ صندوق اُسی کے نام پر ہیں، مگر باوجود اِن سب باتوںکے ایک تھوڑا سا قانونی تماشاکرنے کے بعد مجرم صاف بَری کردیا گیا۔
اِس واقعہ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد پولیس نے چند یہودیوں کو گرفتار کیا جو بظاہر تو سمندر کے کنارے نہا رہے تھے، مگر دراصل پانی کی تہ میں سے ٹین کے صندوق نکال رہے تھے۔ پولیس نے اِن صندوقوں کو کھولا تو ہتھیاروں سے مملو تھے۔تحقیق سے معلوم ہو کہ یہ ایک سازِش ہے ۔ اِن لوگوں کے دوست جہازوں میں یہ صندوق اپنے ساتھ لاتے ہیںاَور ساحل کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ اِس پر محکمہ چنگی کو ہوش آیا اَور اُس نے سختی کے ساتھ تفتیش شروع کی۔ نتیجہ ء تفتیش یہ تھا کہ ہر پارسل جو کسی یہودی کے نام پر تھا،ہتھیاروں سے خالی نہ تھا۔حتیٰ کہ کتابوں تک میں ہتھیار رکھتے ہوتے تھے۔ مگر یہ لوگ قانون کی پکڑ سے بدستور آزاد ہیں اَور کسی کو سزا بھی ملتی ہے تو برائے نام۔ حکومت کی اِس رِعایت نے یہودیوں کی ہمّتیں یہاں تک بڑھادی ہیں کہ اب وہ ایک باقاعدہ فوجی نظام قائم کررہے ہیں، جس کے ماتحت یہودی نوجوانوں کو فوجی تعلیم دی جاتی ہے۔
اعرابِ فلسطین پر اِن زیادتیوں اَور خلافِ اِنسانیت مظالم کا جو کچھ اثر پڑ رہا ہے وہ یہ ہے کہ وہی عرب جو کل تک انگلستان کو اپنا ہادی سیاست ،داعی حُریّت اَور نجات دہندہ ‘ بلکہ اِس سے بھی کچھ زیادہ ہی سمجھتے تھے،آج اُنھیںکا یہ حال ہے کہ انگریزی سیادت کے نام سے متنفر ہیں، برطانوی مدبرین کو علانیہ بُرا بھلا کہتے ہیں اَور اُن دِنوں کو ترستے ہیں جب تُرکوں کی مُشفِقانہ حکومت میں وہ فلسطین کے آزاد شہری تھے۔ایک عرب تاجر جو فلسطین کی مہذب اَور تعلیم یافتہ سوسائٹی کے ممتاز ارکان سے ہے، اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے، کہ:’’ہم نے اوّل اوّل انگریزوں کی ایمانداری پر اعتماد کیا تھا، مگر اب ہم اپنی اُس غلطی پر افسوس کرتے ہیں۔ ہمیں زمانہ جنگ کی اِعانت و مددگاری کا بڑا‘اچھا بدلہ دیا جارہا ہے۔ ہمارے گھر چھینے جاتے ہیں۔ہمیںاپنی زمینیں خالی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہماری تجارت ‘زراعت کو برباد کیا جاتا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ یہودیوں کو اَقصاے عالم سے لاکرہماری جگہ بسایا جائے۔ وہ ہم سے کہتے ہیںکہ تمہارے لیے اِس سرزمین پر ایک انچ بھی نہیںرہا۔ تم اپنا بوریا [بوریہ] بستر اُٹھاؤ اَور اپنے گھر غیر ملکی یہودیوں کے لیے خالی کرو۔ عربوںکی چیخ پکار اَور نالہ و شَیوَن کیلیے برطانوی [برطانی] تدبر کے کان بہرے ہوگئے ہیں۔ فلسطین کی فضا میں عربوں کی صدا سے کوئی گونج نہیں پیدا ہوتی۔عرب کی بات سننے کا جو وقت تھا ،وہ اب نکل گیا۔ اب اگر کوئی کام ہے تو وہ صرف بنو اِسرائیل کی حرص و آز اَور طمع و ہوس کی تواضع۔۔۔۔میں ترکوںکے زمانے میں انگریزوںکے گیت گاتا تھا، میری زبان ہر وقت انگریزی اِنصاف ،فراخ دِلی، رَوَاداری،اَور آئینیت کی ثنا و صفت سے تر رہتی تھی، مگر اب میں اپنی اُس بے جا عقیدت پر نادِم ہوں،فلسطین کی حالتِ زارپر مجھے رونا آتا ہے۔اَور تجربہ نے ہم سب کو بتلادیا ہے کہ ترکی کی حکومت ہمارے لیے رحمت تھی۔‘‘
ایک اَور عرب بیت المقدس سے لکھتا ہے:۔
’’شام اَور فلسطین کے عربوں نے اپنے دِینی بھائیوں سے بغاوت کر کے جو زبردست حماقت کی ہے‘اُس کی تلافی صدیوں تک نہیں ہوسکتی۔ ہماری اِس حماقت کا ایک ادنیٰ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم اُن ترکوں سے زیادہ بربادی و تباہی میں مُبتلا ہیں ،جن کا گلا گھونٹ کر ہم نے نجات حاصل کرنی چاہی تھی۔ اب ہمیں تُرکی حکومت کا پُر امن زمانہ یاد آتا ہے‘ اَور ہم ہی نہیں خود عیسائی عرب بھی اُسے یاد کرکے روتے ہیں۔‘‘
خود ایک انگریز جو برسوں فلسطین میں رہا ہے،لکھتا ہے،کہ:’’میں یہاں برسوں رہا ہوں۔ مجھے اہالی فلسطین کے صحیح جذبات و حِسّیات کا گہرا علم ہے۔ اِس علم کی بِنا پرمیری یہ قطعی و یقینی راے ہے کہ عربوں کو یہودیوں سے جتنی نفرت ہے وہ حق بجانب ہے۔ یہ باہر سے آئے ہوئے اجنبی،اہلِ مُلک کو جانوروں سے بھی زیادہ ذلیل سمجھتے ہیں،اَور اُن کے ساتھ سخت وحشیانہ برتاؤ کرتے ہیں۔اِن کی آپس میں تو یہ حالت ہے کہ کُتّے بِلّی کی طرح لڑتے ہیں، مگر مسلمانوں کے مقابلہ میں سب ایک ہیں، اَور حکومت اُن کی پُشت پر۔‘‘
ضرورت نہیں کہ اِس تمام بحث پر اب کوئی اِختتامی تبصرہ کیا جائے۔ ہر شخص جو اِس مضمون کا مطالعہ کرے گا،وہ خود ہی فیصلہ کرے گا کہ جن عربوں کو تُرکی حکومت میں آزادی کی سخت ضرورت تھی، اَور جنھیں آزادی دِلانے ہی کے لیے برطانیہ عظمیٰ نے مشرِق میں آگ اَور خون کا کھیل کھیلا تھا‘ اُنھیں کیسی اچھی آزادی و خود مختاری عطا کی گئی، اَور پھر جن عربوں کی بدولت برطانیہ عظمیٰ کو مشرق میں بالاد ستی حاصل ہوئی، اَور جنھوں نے محض اس کے عہود و مواثیق پر اعتماد کر کے اپنے دِینی بھائیوں کے خلاف اُس کی مدد کی، اُنھیں اِن خدمات کی کیسی اچھی جزا دی گئی۔ یہ بات کہنے سُننے کی نہیں بلکہ ہر شخص کے خود محسوس کرنے کی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

حواشی

(سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے جو حواشی تحریر کیے تھے، اُن کے آخر میں[ مودودیؒ] لکھ دیا ہے تاکہ میری اَور سیّد مرحوم و مغفور کے تحریریں علیحدہ ہی رہیں۔ م۔ص۔ف۔رفعت)
۱۔ایڈمند ہنری ہنمین ایلنبی۔Edmund Hnery Hynman Allenby انگلستان کے شہری۔ مدت حیات:۲۳۔اپریل۱۸۶۱؁ء تا ۱۴ مئی ۱۹۳۶؁ء ۔ ہیلی بری کالج سے تعلیم یافتہ۔انڈین سروس کا امتحان دیا جس میں ناکام ہوئے۔ رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ میں فوجی ملازمت کے لیے ۱۸۸۰؁ء میں امتحان دیا ،جس میں وہ کامیاب ہوئے اَور۱۸۸۲؁ء میں برطانوی فوج میں بطور لفٹنینٹ بھرتی ہوئے اور جنوبی افریقہ میں برطانوی فوج میں شمولیت اختیارکی۔جنگ بوئر میں شرکت کی اور نام پیدا کیا۔ اگست ۱۹۱۴؁ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہونے پر وہ فرانس میں برطانوی فوج میں شامل تھے۔جون ۱۹۱۷؁ء میں مشرق وسطی میں برطانوی فوج کا سربراہ مقرر کیا ،سینا اور فلسطین میں زیر زمین کارروائیاں شروع کردیں جس میں مختلف برطانوی افسران شامل تھے،جن میںایک افسر بہت ہی نامور ہے،یعنی تھامس ایڈورڈ لارنس Thomas Edward Lawrence ،جس نے جنگ کے بعد اپنا نام تبدیل کرلیا تھا اور وہ تھامس ایڈورڈ شا Thomas Edward Shaw لکھنے لگا تھا لیکن آج عام لوگ اس کو’’ لارنس آف عربیا ‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔ صرف لارنس کے ذریعے تقریباً دو لاکھ پاؤنڈ ہرماہ بانٹے گئے۔مختلف جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں بتدریج برطانوی فوج کی پیش قدمی جاری رہی اور تمام کارروائیوں کا آخری نتیجہ یہ تھا کہ ۹ دسمبر ۱۹۱۷؁ء کوترک افواج نے بیت المقدس کو خالی کردیا اور ترک افواج کے جانے بعدبرطانوی فوج نے قبضہ کرلیا۔ ۳۱۔جولائی ۱۹۱۹؁ء کو فیلڈ مارشل بنایا گیا اَور ۷۔اکتوبر ۱۹۱۹؁ء کو خطاب سے نوازا گیا ۔ یعنی: وائیکاؤنٹ ایلنبی میجید و اور فیلکس سٹو۔ (Viscount Allenby of Megiddo and Felixstowe)۔ مصر میں ہائی کمشنر مقرر کیا گیا ، جہاں ۱۹۱۴؁ء سے مارشل لا نافذ تھا۔ اکتوبر ۱۹۲۲؁ء میں ایک آئین جو برطانوی حکومت نے منظور کیا تھا اُسے مصر میں نافذ کیا گیا ،جس میں ایلنبی کی مشاورت شامل تھی اور سعد زغلول پاشا نے وزیر اعظم کی حیثیت سے نئی حکومت تشکیل دی۔ مئی ۱۹۲۵؁ء میں ملازمت سے مستعفی ہوکر برطانیہ واپس ہوئے ۔ ۱۴ مئی ۱۹۳۶؁ء کو لندن میں اچانک شریا ن پھٹ جانے کی وجہ سے انتقال کیا۔
۲۔اِلتوائے جنگ کا عہد نامہ پر ۳۰۔اکتوبر ۱۹۱۸؁ء کو برطانوی بحری جنگی جہاز ’’اگامیمنن‘‘Agamemnon پر کیے گئے تھے جو اُس وقت یونان کے جزیرہ لیمنُس Lemnos کی بندرگاہ مدروس Port Mudros میں لنگر انداز تھا،اَوراِسی لیے کہیں کہیں معاہدہ مدروس بھی لکھا گیا ہے۔
۳۔آرتھر جیمز بالفور Arthur James Balfour سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے ۔ مدت حیات ۲۵ جولائی ۱۸۴۸؁ء تا ۱۹ مارچ ۱۹۳۰؁ء۔ ۱۸۷۴؁ء میں برطانوی پارلیمان کے دارالعوام کے رکن منتخب ہوئے۔ آئر لینڈ کے چیف سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا اور آئر لینڈ میں کسانوں کے احتجاج کو کچلا،۱۹۰۲؁ء سے ۱۹۰۵؁ء کے درمیان برطانیہ کے وزیر اعظم رہے۔ ۱۹۱۶؁ء سے ۱۹۱۹؁ء تک برطانیہ کے وزیر خارجہ رہے۔
۴۔اعلانِ بالفور، بنیادی طور پر صرف ایک خط ہے جو آرتھر جیمز بالفور نے لارڈ رتھ شیلڈ Lord Rothschild کے نام ۲۔نومبر ۱۹۱۷؁ء کوتحریر کیا تھا۔لارڈرتھ شیلڈ ،یہودی بینکار اور مشہور عالم رتھ شیلڈ بینک Rothschild Bankکے مالکان میں سے ایک تھے۔لیکن اِس خط کے مندرجات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ قطعی پر نجی خط نہیں تھا یعنی بالفور کی جانب سے رتھ شیلڈ کے نام، بلکہ خط کے مندرجات سے واضح ہوتا ہے کہ اُس وقت کی برطانوی حکومت کی مرضی اَور منشا سے یہ خط لکھا گیا تھا۔ انگریزی متن اَور اُردو میں ترجمہ ، حسب ِ ذَیل ہے:
’’دفتر خارجہ نومبر ۲، ۱۹۱۷؁ء عزیزم لارڈ رُتھ شیلڈمیں انتہائی مسرت کے ساتھ آپ کو مطلع کررہا ہوں کہ ملک معظم کی حکومت کی جانب سے مندرجہ ذیل اعلان ہم دردی جو یہودی صہیونیوں کی آرزؤں کے ساتھ ہے، جنھیں کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا تھا ا ور جنھیں منظور کیا گیا: ’’ملک معظم کی حکومت اس معاملہ کی حمایت کرتی ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کا ایک قومی گھر(وطن)قائم کیا جائے،اور اس سلسلے میں تمام تر کوشش و سعی کی جائے گی کہ یہ مقصد پورا ہوسکے۔یہاں یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی کہ جس کی وجہ سے فلسطین میں رہنے والے دیگر غیر یہودی باشندوں کے معاشرتی اور مذہبی حقوق کو نقصان پہنچے،اور جس کی وجہ سے دیگر ممالک میںرہنے والے یہودیوں کے سیاسی اور دیگر حقوق کو نقصان پہنچے۔میں انتہائی ممنون ہوں گا اگر آپ اِس اعلان کو صہیونی فیڈریشن کے علم میں لے آئیں.
Foreign Office
November 2nd,1917
Dear Lord Rothschild,
I have much pleasure in conveying to you, on behalf of His Majesty’s Government,the following declaration of sympathy with Jewish Zionist aspirations which has been submitted to, and approved by, the Cabinet.”His Majesty’s Government view with favour the establishment in Palestine of a national home for the Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievement of this object, it being clearly understood that nothing shall be done which may prejudice the civil and religious rights of existing non-Jewish communities in Palestine, or the rights and political status enjoyed by Jews in any other country.”
I should be grateful if you would bring this declaration to the knowledge of Zionist Federation.”
۵۔ ہربرٹ لوئس سیموئیلHerbert Louis Samuel۔برطانوی شہری، لیورپولLiverpool میں ۶۔نوئمبر ۱۸۷۰؁ء کو ایک یہودی گھرانے میں پیداہوئے اَور۵فروری ۱۹۶۳؁ء کو لندن میں وفات پائی۔آکسفورڈ کے بیلائل Balloil Collegeمیں اعلیٰ تعلیم پائی۔ ایک عرصہ تک اُنھیں یہودی طرزکے نام سے مخاطب کیا جاتا رہا یعنی ایلیزر بن پنچاس شموئیلEliezer ben Pinchas Shmuel۔ ۱۸۹۲؁ء میں جس زمانے میں آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کررہے تھے اُنھوں نے تحریر ی طور پر مذہب سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا لیکن اِس کے باوجود بھی وہ یہودی اداروں میں شامل رہے، اُن کی بیوی یہودی تھی اَور کہا جاتا ہے کہ صرف اُ س کو خوش کرنے کے لیے وہ گھر میں اَور دیگر معاملات میں یہودی طریقوں کی پیروی کرتے تھے۔۲ ۱۹۰؁ء میں ایک ضمنی انتخاب کے نتیجے کے طور پر برطانوی پارلیمان کے دارالعوام کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۰۹ء میں برطانوی وزیراعظم ایچ (ہربرٹ)۔ ایچ(ہنری)۔اَیسکوئتھ Herbert Henry Asquith کی کابینہ میں شامل کیا گیا ، مختلف عہدوں پرفائز رہے اَور بالآخر برطانیہ کے وزیر داخلہ بنے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران جب برطانیہ کوفوج میں کمی کا سامنا کر ناپڑا توہربرٹ سیموئیل نے قانون سازی کی جس کے تحت ہز ارہا روسی جو برطانیہ میں پناہ گزین تھے اُن کو کہا گیا کہ وہ یا تو برطانوی فوج میں خدمات انجام دیںورنہ اُن کو برطانیہ سے بے دخل کردیا جائے گا۔ جس کے نتیجے میں ہزارہا روسی نوجوان جن میں اکثریت یہودیوں کی تھی اُن کو برطانوی فوج میں داخل کیا گیا۔ ۱۹۱۵؁ء میں انھوں نے برطانوی کابینہ کو فلسطین میں انتدابی حکومت قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جو اعلان بالفور پر بھی اثر انداز ہوئی۔دسمبر ۱۹۱۶؁ء میں برطانوی وزیر اعظم ایچ۔ایچ۔ایسکوئتھ نے مختلف اختلافات کی وجہ سے وزارت عظمیٰ کا عہد ہ چھوڑدیا اَور اُن کی جگہ لائڈ جارج Lloyd George کو وزیر اعظم بنایا گیا تو اِس کے باوجود کے نئے وزیر اعظم اُن کو وزیر داخلہ کے طور کابینہ میں شامل کرنے کے لیے راضی تھے، اِنھوں نے استعفیٰ دے دیا ۱۹۱۷؁ء میں عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اِنھوں نے ہی برطانوی پارلیمان میں قانون پیش کیا تھا جس کے تحت عورتیں برطانوی انتخابات میں حصّہ لے سکتی ہیں ،جسے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا اَور فوری طور پر تمام ضروری اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا تاکہ ۱۹۱۸؁ء کے انتخابات میں خواتین اپنے اِس حق کو استعمال کرسکیں۔ ۱۹۱۸؁ء کے انتخابات میں شرکت کی لیکن ناکامی کاسامنا کرنا پڑا۔ ۱۹۲۰؁ٗ؁ٗ؁ ء میں فلسطین کا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا ، جس پر برطانوی پارلیمان میں اختلاف رائے ہوا تھا کہ ایک یہودی کو یہ منصب نہیں دینا چاہیے لیکن’’ اکثریتی فیصلہ‘‘یہی رہا۔ اِس تجویز کی مخالفت جنرل ایلنبی نے بھی کی تھی۔فلسطین میں ہر وہ اِقدام کیا جس سے صہیونیوں کے عزائم کی تکمیل ہوتی تھی البتّہ یہ تاثر پوری طرح ہربرٹ سیموئیل کی جانب سے دیا جاتا رہا کہ وہ ذاتی طور پر اَور ملک معظم کی حکومت غیر جانبدار ہے۔
۶۔مجلس ِاقوام کا یہ فیصلہ کہ فلسطین کو برطانیہ کے انتداب میں دے دیا گیا ہے، جینیوا سے۱۲۔اکتوبر ۱۹۲۲؁ء کو جاری ہوا تھا۔
۷۔یہودیوں کی ایک جماعت ہے جسے انگریزی میں (Zionist)کہتے ہیں،یہ دوسرے معنوںمیں قوم پرست یہودی ہیں اَور وطن قومی کی تحریک کے روحِ رَوَاںہیں۔[مودودیؒ]
۸(الف ) :یہ کانفرنس اواخر ۱۹۲۱؁ء میں ہو ئی تھی۔[مودودیؒ]
(ب) : کارلسباد Karlsbadچیکوسکواکیہ کا ایک شہر ،جہاں عالمی صہیونی ادارے نے دو متواتر سالوں یعنی ۱۹۲۱؁ء اور ۱۹۲۲؁ء میں اپنے سالانہ اجتماع کیے تھے۔
۹۔حائم عزرئیل ویصمین (سیّد مودودیؒ نے وائز مین، انگریزی سے ترجمہ کیا ہے ،لیکن روسی اَور عبرانی میں اُن کا نام جس طرح لکھا جاتا ہے اُس کا صحیح تلفظ ’’ویصمین‘‘ ہے۔) Azriel Weizmann Chaim، مدت حیات : ۲۷ نومبر ۱۸۷۴؁ء تا ۹ نومبر ۱۹۵۲؁ء۔ بیلاروس کے ایک گاؤں’’ موتل‘‘میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ چاربرس کی عمر سے گیارہ برس کی عمر تک یہودی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ پھر پنسک شہر کے سکول میں تعلیم حاصل کی ،جہاں اُن کی طبیعت کا میلان کیمیا کی جانب ظاہر ہوا۔۱۸۹۲ء میں جرمنی کے شہر برلن منتقل ہوگئے اور علم کیمیا میں مزید تعلیم حاصل کی۔ برلن میں ہی وہ صہیونی تحریک سے متعارف ہوئے ۔۱۸۹۷ء میں وہ سوئزرلینڈ منتقل ہوگئے اَور فرائی بورگ یونی ورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے ۱۸۹۹ء میںاُنھوں نے کیمیا میں پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کی سند حاصل کی۔۱۸۹۸ ء میں سوئزرلینڈ کے شہر بیسل Baselمیں ہونے والی دوسری عالمی صہیونی کانگریس میں شرکت کی۔۱۸۹۹ء میں ہی اُنھیں جینیوا یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی جہاں وہ شاید ۱۹۰۴ء تک مقیم رہے۔۱۹۰۴ء میں برطانیہ کی مانچیسٹر یونیورسٹی میں شعبہ کیمیا میں پروفیسر ہو کربرطانیہ منتقل ہوئے۔ ۱۹۱۰ء میںاُنھیں برطانوی شہریت حاصل ہوگئی۔۱۸۹۷ء میں ہونے والی پہلی کانفرنس جو سوئزرلینڈ کے شہر بیسل میں منعقد ہوئی تھی، سفری مشکلات کی وجہ سے شرکت نہیں کی تھی ،اُس کے علاوہ آخر تک وہ ہر کانفرنس میں شریک ہوتے رہے۔برطانیہ میں صہیونی تحریک کی بے حد خدمت کی اَور برطانوی سیاسی رہنمائوںکو صہیونی تجاویز کے لیے قائل کرتے رہے، آرتھر بالفور سے اُسی زمانہ میں تعلق ہوا،جس کے نتیجے میں ’’اعلان بالفور ‘‘وجود میںآیا۔۲۱؍۱۹۲۰ء میں عالمی صیہیونی کانفرنس کا صدر منتخب ہوا ۔ ۱۷ فروری ۱۹۴۹؁ء کو اسرائیل کے صدر منتخب ہوئے اور انھوں نے پہلے وزیر اعظم کے طور پر بن گوریان کا انتخاب کیا۔
۱۰ورسائے (ورسیلز)، پیرس میں ہونے والی امن کانفرنس کے اجلاس میں حائم ویصمین (وائزمین) کے الفاظ تھے:
At the Paris Peace Conference, he (Weitzmann) stated that ”the Zionist objective was gradually to make Palestine as Jewish as England was English.”Cleveland. William L. and Bunton, Martin;
A History of the Modern Middle East ; page 245,Westview Press, 4th Edition, 2009 A.D.
۱۱۔ڈاکٹر مانٹیگو داؤد ایدرDr. Montague David Eder۔ برطانوی شہری، یہودی۔مدت حیات۱۸۶۵؁ء تا ۱۹۳۶؁ء۔ سنت بارتھولومیو ہسپتال لندن میں طب کی تعلیم حاصل کی۔ وجہ شہرت ان کی نفسیاتی تحلیل کے سلسلے میں متعدد مقالات و کتب ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد متعدد ممالک یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکا،جنوبی افریقہ اَور بولیویا کے دورے کیے۔ پہلی جنگ عظیم کے دَور ان برطانوی فوج میں خدمات انجام دیں۔ ۱۹۲۱؁ء سے۱۹۲۷؁ء کے دوران فلسطین میں صہیونی ادارے کے سربراہ رہے۔ برطانوی صہیونی فیڈریشن کے سربراہ بھی رہے۔
۱۲۔ڈاکٹر ایدر کے الفاظ، جافا کمیشن کے سامنے یہ الفاظ تھے:
There can be only one national home in Palestine, and that a Jewish one, and no equality in the partnership between Jews and Arabs.
۱۳اسرائیل زنگ ویل Israel Zangwill۔ یہودی،برطانوی شہری۔ لندن میں ۲۱ جنوری ۱۸۶۴؁ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد لیٹویا سے ہجرت کرکے برطانیہ آئے تھے اور ان کی والدہ پولینڈ سے آئیں تھیں۔ یہود کے لیے ایک علیحدہ علاقہ؍وطن اور اِسی قسم کی دیگر تحریکات سے شروع سے ہی متعلق رہے۔ یہودی مہاجرین کے لیے لندن کے ایک مدر سے میں ،اس کے علاوہ پلائی متھ اور برسٹل کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۸۴؁ء میں لندن یونیورسٹی سے تین مضامین میں بی۔اے۔ کی سند حاصل کی۔ کچھ عرصہ میں کسی سکول میںمعلم رہے لیکن دیگر اساتذہ سے اختلاف کی بنا پر مستعفی ہوگئے اور صحافت اختیار کرلی۔ مختلف ڈرامے اور ناول وغیرہ لکھے جس سے بہت شہرت ملی۔ خاص طور پر مختلف یورپی ممالک میں یہودی کی زندگی کے متعلق لکھا۔کہا جاتا ہے کہ ۱۹۰۵ ؁ء میں صہیونت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ کچھ برطانوی سیاست دانوں کی اُس تجویز کے حامی رہے جس کے تحت یہ کہا گیا تھا کہ یہود کو افریقی ملک ’’یوگنڈا‘‘ میں بسادیا جائے۔صہیونیوں کے علاوہ بھی دیگر بااثر افراد کی مخالفت کی وجہ سے اِس تجویز کو بالآخر ترک کردیا گیا۔ مختلف تحریکوں سے وابستہ رہے ۔صہیونیوںکی مخالفت میں بھی بہت کچھ لکھا لیکن عملی طور پر بنیاد پرست یہودی ہی رہے اور بالآخریکم اگست ۱۹۲۶؁ء کو برطانیہ میں وفات پائی۔
۱۴۔ ’’فلسطینیوں کا انخلا‘‘ نامی کتاب جو ۲۰۰۱؁ء میں شائع ہوئی اس میں اسرائیل زنگ ویل کا مضمون جو ’’یروشلم کی آواز‘‘ میں ۱۹۲۰؁ء میں شائع ہوا تھا ،کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل زنگ ویل نے لکھا تھا:
’’ہم عربوں کو یہ اجازت نہا یت دے سکتے کہ وہ تاریخی تعمیرِنو میں کوئی رخنہ اندازی کرسکیں…..اور ہمیں چاہیے کہ ہم اِن کو آمادہ کریں کہ وہ ’’واپس‘‘ ہوجائیںکیوں کہ اُن کے پاس لاکھوں مربع میل پر مشتمل’’ عرب‘‘ موجود ہے……عربوں کے پاس کوئی خاص وجہ نہیں ہے کہ وہ اِس چند کلو میٹر علاقہ سے چمٹے رہیں۔ ’’اپنے خیمے لپیٹیں اور اپنا راستہ لیں‘‘، جو ان کی محاوراتی خصلت ہے، اس کو اب وہ عملی جامہ پہنائیں۔‘‘
اصل انگریزی الفاظ جو نقل ہوئے ہیں وہ ذَیل میں درج ہیں:
“We cannot allow Arabs to block so valuable a piece of historic reconstruction……..And therefore we must generally persuade them to ‘trek.’ After all, they have all Arabia with its million square miles …. There is no particular reason for the Arabs to cling to these few kilometres. “To fold their tents and silently steal away” is their proverbial habit: let them exemplify it now. Zangwill. Israel ; The Voice of Jerusalem, pp. 97-98.
The MacMillan Company, New York, 1921 A.D.
۱۵۔سر الفریڈ (مورص)مونڈ،بیرن میلچیٹ Sir Alfred Mortiz Mond, Baron Melchett۔ان کے والدین یہودی تھے اور جرمنی سے برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔ برطانیہ میں پیدائش ہوئی۔ مدت حیات :۲۳۔اکتوبر ۱۸۶۸؁ء تا ۲۷ ۔دسمبر ۱۹۳۰؁ء۔ چلٹنہام کالج اَور سَنت جان کالج ،کیمبرج میں تعلیم حاصل کی ۔ سائینس کے امتحان میں ناکامی کے بعد ایڈنبرا یونیورسٹی سے قانون کی سند حاصل کی اَور ۱۸۹۴؁ء میں اِنّرٹیمپل Inner Temple میں وکالت کی۔اپنے والد کے کاروباری اداروں میں شریک ہوگئے اور مختلف کاروباری،صنعتی اورمالیاتی اداروں میں ڈائریکڑ رہے۔ ۱۹۲۶؁ء میں زبردست کاروباری منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جس کے نتیجے میں برطانیہ،یورپ،امریکا اور کناڈا کی مختلف کمپنیوں کے انضمام سے امپیریل کیمیکل انڈسٹریز (ICI)وجود میں آئے جس کے پہلے سربراہ یہ خود تھے۔سیاست میں بھرپور حِصّہ کیا اور لبرل پارٹی کے نمائندے کے طور پر ۱۹۰۶؁ء تا ۱۹۱۰؁ء چیسٹر سے برطانوی دارالعوام کے رکن رہے۔ ۱۹۱۰؁ء سے ۱۹۱۸؁ء تک سوانسی کے حلقے سے منتخب ہوئے اَور ۱۹۱۸؁ء سے ۱۹۲۳؁ء تک مغربی سوانسی کے حلقے کی نمائندگی کی۔ڈیوڈ لائڈ جارج کی مخلوط کابینہ میں ۱۹۱۶؁ء سے ۱۹۲۱؁ء تک محکمہ محنت کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ۲۲۔۱۹۲۱؁ء کے دوران کابینہ میں وزیر صحت رہے۔ ۱۹۲۴؁ء سے ۱۹۲۸؁ء تک کارماتھن کی برطانوی دارالعوام میں نمائندگی کی۔ ۱۹۲۶؁ء میں پارٹی سے اختلافات کی بنا پر لبرل پارٹی سے علیحدہ ہوگئے اور قدامت پسند (ٹوری) پارٹی میں شامل ہوگئے۔ ۱۹۲۸؁ء میں انھیں بیرن کا خطاب ملا اور اس کے بعد سے تاحیات برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی دارالامرا کے رکن رہے۔ ۱۹۲۱؁ء میں حائم ویصمین (وائز مین) کے ہمراہ پہلی بار فلسطین کا دورہ کیا، اس کے بعد وہ صہیونی تحریک میں دل وجان سے شامل ہوگئے اور دامے، درمے، سخنے ،ہر طرح سے صہیونی تحریک کی خدمت کی۔’’ تل موند‘‘ کے نام سے ایک بستی بھی فلسطین میں قائم کی ،اس کے علاوہ بھی بے شمار تعمیرات انھوں نے کیں۔ اُن کی یادگار کے طور پر تل ابیب اور دیگر شہروں میں آج بھی میلچیٹ سٹریٹ موجود ہیں۔ان کا سب سا بڑا کارنامہ صہیونی تحریک کے لیے یہ ہے اُنھوں نے اپنے اثر ورسوخ کی بنا پر برطانوی حکومت سے پنہاس روٹنبرگ کو فلسطین میں بجلی بنانے اور تقسیم کرنے کی اجارہ داری دِلوائی۔ان کی دوتصانیف شائع ہوچکی ہیں،ایک ہے ’’صنعت و سیاست‘‘Industry & Politics جو ۱۹۲۷؁ء میں شائع ہوئی اور دوسری ــ’’شہنشاہیت کی اقتصادی یک جہتی‘‘ Imperial Economic Unity جو ۱۹۳۰؁ء میں شائع ہوئی تھی۔ ان کی سوانح حیات مشہور برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھو
Hector Bolitho نے تحریر کی ہے۔
۱۶۔سیّد مودودیؒ نے کسی بھی قسم کا حوالہ نہیں دیا کہ یہ بیان کب اَور کہاں دیا گیا تھا، میں بھی تمام تر کوشش کے باوجود ابھی تک کوئی حوالہ تلاش نہیں کرسکا ہوں۔
۱۷۔ابرام میناحم میندل اوسیشکین Avraham Menachem Mendel Ussishkin بیلاروس کے شہر دوبرونا میں یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مدت حیات ۱۴۔اگست ۱۸۶۳؁ء تا۲۔اکتوبر ۱۹۴۱؁ء۔ ۱۸۹۱؁ء ماسکو کی باؤمان یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔ دورانِ تعلیم ہی مختلف تنظیموںسے وابستہ رہے ۔ فلسطین پہلی بار ۱۸۹۱؁ء میں گئے۔پہلی صہیونی کانگریس کے سیکریٹری رہے۔ چھٹی کانگریس میں برطانوی تجویز یہودیوں کویوگنڈا میں بسادیا جائے‘کی سخت مخالفت کی۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد پیرس کانفرنس میں صہیونی تحریک کی نمائندگی کی۔۱۹۲۰؁ء میں فلسطین میں صہیونی کمیشن کے سربراہ بنے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں ان کی تجویز کے مطابق صہیونی تحریک نے مختلف زر اعتی، تعلیمی اور ثقافتی منصوبے شروع کیے تاکہ نئے آنے والے یہود مستقل طور پر فلسطین میں رہ سکیں۔ یروشلم میں وفات پائی۔
۱۸۔کسی چیز کو قانون کے خلاف چوری سے درآمد یا برآمد کرنا۔ یہ لفظ عربی میںجو (smuggling)کے معنی میں بولا جاتا ہے۔[مودودیؒ]

Share this: