بلوچستان مشکل دور سے نکل رہا ہے!۔

Print Friendly, PDF & Email

نواب بگٹی کے بہیمانہ قتل کے بعد بلوچستان ایک آتش فشاں بن گیا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ اس دور سے نکل گیا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں صوبے میں بلوچ اور پشتون قوم پرست پارٹیوں کا اتحاد ہوا، اور اس میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل تھی۔ صوبے میں حکومت بناتے ہوئے نوازشریف نے فیصلہ کیا کہ حکومت کا نصف دور قوم پرست پارٹیوں کا اور نصف مسلم لیگ (ن) کا ہوگا۔ قوم پرست پارٹیوں میں پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کا منصوبہ تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو اقتدار سے دور رکھا جائے گا، اور اس منصوبے میں ڈاکٹر عبدالمالک کی نیشنل پارٹی بھی شامل تھی۔ پانچ سال تک جمعیت اقتدار کے لیے ترسا دی گئی۔ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور جمعیت میں یہ سیاسی کشمکش 1972ء کے بعد سے شروع ہوئی تھی، اُس وقت عبدالصمد خان پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان اسمبلی کے رکن تھے۔ اُن کی شہادت کے بعد پارٹی کی سربراہی محمود خان کے ہاتھ میں آگئی، اور پھر پشتون خوا اور جمعیت کی کشمکش جاری رہی۔ افغانستان میں سوویت جارحیت اور پھر کمیونسٹ حکومت ختم ہونے کے بعد بھی ان پارٹیوں میں طویل کشمکش اور محاذ آرائی رہی۔ فتوے بھی جاری کیے گئے۔ 2018ء کے انتخابات نے پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا صفایا کردیا۔ عوام نے انہیں رد کردیا۔ یہ دونوں قوم پرست پارٹیوں کے لیے شدید جھٹکا اور صدمہ تھا۔ دونوں بلوچ اور پشتون قوم پرست پارٹیاں نواز لیگ کے کیمپ میں کھڑی تھیں۔ اب بھی یہ دونوں نوازکیمپ میں ہیں جبکہ بی این پی عمران خان کے سیاسی کیمپ میں ہے۔ اختر مینگل کے 6 نکات انہیں عمران خان کے قریب لے گئے۔ ایک محاذ آرائی نیشنل پارٹی اور بی این پی میں جاری ہے۔ بی این پی نے عمران خان کی حمایت کی ہے مگر وزارتوں سے دور کھڑی ہے۔ ایک خوف نے اسے اقتدار سے باز رکھا ہے۔ یعنی بی این پی سیاسی حلوہ پکانے میں شامل ہے مگر کھانے سے خوف زدہ ہے۔ اب وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قریب چلی گئی ہے اور بلوچ علاقے میں جمعیت سے انتخابی اشتراک کیا ہے۔
ان سب سے دلچسپ تضاد پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور جمعیت میں نظر آرہا ہے۔ دونوں کو عمران خان کی سیاست نے اقتدار سے باہر کردیا ہے، اور اب 48 سال کی دوری کے بعد پشتون خوا نے مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی امامت کو تسلیم کرلیا ہے، اور دونوں شیر و شکر ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں آنے والے انتخابات میں جمعیت اور پشتون خوا سیاسی اتحاد کرلیں گی، یہ جماعتیں اقتدار کی جانب دیکھ رہی ہیں، مسلم لیگ (ن) بھی اس اتحاد میں شریک ہوگی۔
سوویت یونین کے انہدام نے لیفٹ اور قوم پرست سیاست کا رُخ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب نہ کوئی لیفٹ رہا، نہ کوئی قوم پرست، اور نہ اب پنجابی استعمار مُردہ باد کے نعرے رہے، اب یہ سب ماضی کے مزار میں دفن ہوگئے ہیں۔ یہ ایک مختصر سا جائزہ ہے تاکہ ماضی کو بالکل فراموش نہ کردیا جائے۔
ہم بات کررہے تھے کہ بلوچستان نواب بگٹی کی شہادت کے بعد بالکل دوسرے رخ پر چلا گیا تھا اور خدشہ تھا کہ کہیں اپنے دائرے سے باہر نہ نکل جائے۔ لیکن اُس وقت اس حوالے سے مؤثر منصوبہ بندی سے کام لیا گیا اور اقتدار بلوچ قوم پرست پارٹی نیشنل پارٹی کو دے دیا گیا۔ جو نوجوان مسلح جدوجہد کررہے تھے وہ ماضی میں ڈاکٹر عبدالمالک، اختر مینگل اور خیر بخش خان کے خیالات سے متاثر تھے۔ یوں بادشاہ گروں نے اقتدار ان کے حوالے کیا جو نوجوانوں کو پہاڑوں پر بھیج رہے تھے۔ یوں مسلح جدوجہد کرنے والوں کا مقابلہ اپنے ہی لوگوں سے تھا۔ 2013ء کے بعد سے مسلح جدوجہد آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی اور حکومت کی منظم منصوبہ بندی نے یہ کام آسان کردیا۔ 2006ء ایک ڈرائونا خواب تھا، اب بلوچستان 2006ء سے آگے نکل گیا ہے۔ اقتدار کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہمیشہ بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ جب ایک بلوچ قوم پرست پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو دوسری مخالفت میں ہوتی ہے، مگر مرکزی اقتدار خوش قسمت ہے کہ اس کو ہر دور میں ایک بلوچ قوم پرست اور ایک پشتون قوم پرست پارٹی کی حمایت حاصل رہی ہے اور مرکزی اقتدار انہیں بڑی آسانی سے اقتدار کے شیشے میں اُتار لیتا ہے۔
بلوچستان میں اب 2006ء والی کیفیت نہیں ہے بلکہ صوبہ پُرسکون ہوگیا ہے۔ دہشت گردی بہت حد تک قابو میں آگئی ہے۔ اس کا اندازہ بلوچستان اسمبلی کی درج ذیل رپورٹ سے ہوجائے گا جو رکن بلوچستان اسمبلی محترمہ زینت شاہوانی کے ایک سوال کے جواب میں صوبائی حکومت کے وزیرداخلہ نے پیش کی ہے۔ رپورٹ میں دھماکوں اور بارودی سرنگ پھٹنے کے واقعات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ 2015ء سے2019ء تک کی ہے:
نمبر شمار علاقہ واقعات شہدا زخمی
1 قلعہ عبداللہ 1 3 NIL
2 کوئٹہ 2 1 NIL
3 چاغی 1 NIL 1
4 ڈیرہ بگٹی 101 28 18
5 کوہلو 20 18 10
6 سبی 18 11 13
7 نصیر آباد 12 8 17
8 جعفر آباد 7 4 2
9 ژوب 1 1 NIL
10 پنجگور 1 1 NIL
11 خضدار 1 3 1
12 آواران 2 1 NIL
13 قلات 4 2 6
14 مستونگ 2 NIL 5
15 بارکھان 3 NIL NIL
کل تعداد 176 18 168
ان برسوں میں جو مالی معاونت حکومت کی طرف سے لی گئی ہے اس کی تفصیل یوں ہے:۔
نمبر شمار مالی سال ادا شدہ رقم
1 2015-16ء 48801100
2 2016-17ء 1187838000
3 2017-18ء 398376000
4 2018-19ء 326015039
5 2019-2020ء 162940000
کل رقم 2410070139 روپے
ہمارے سامنے 2006ء کے اعداد و شمار نہیں ہیں- اس رپورٹ سے اندازہ ہوجائے گا کہ بلوچستان ماضی کی نسبت بہت بہتر صورت حال میں آگیا ہے اور مزید بہتری کی جانب رواں دواں ہے۔

Share this: