عدل،احسان اور صلہ رحمی

Print Friendly, PDF & Email

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بہاج بن حکیم سے روایت ہے کہ اُن کے والد نے اُن کے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔
’’اس شخص پر افسوس ہے جو جھوٹی باتیں کرتا ہے تاکہ لوگوں کو ہنسائے‘‘۔
۔(ترمذی، احمد، ابودائود)۔
سید طاہر رسول قادری
ترجمہ:”اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے، اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔
اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو۔ اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بناچکے ہو۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔ تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا پھر آپ ہی اسے ٹکڑے کر ڈالا… تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعے سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔“ (النحل: 90 تا 92)
ان آیات میں مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ جب تم نے سرِ تسلیم خم کردیا ہے تو اب بحیثیت مسلمان اول اپنی زندگی میں، پھر معاشرے میں ان تین صفات کو پیدا کرو، اور ان تین برائیوں سے رک جائو۔ تمہارا معاشرہ خودبخود درست ہوجائے گا۔
اول: عدل، عدالت، عدیل، اعتدال، معتدل عادل اس سے مراد وہ انصاف نہیں ہے۔ اس کا مطلب نصف نصف یا آدھے آدھ ہے۔ بلکہ اس سے مراد توازن اور تناسب ہے، اور یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقے سے دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ جس عدل کو قائم کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ خودساختہ مساویانہ تقسیمِ حقوق نہیں ہیں، بلکہ متوازن اور متناسب حقوق کی ادائیگی ہے۔ کیونکہ ہر حالت میں حقوق کی تقسیم مساوی نہیں ہوسکتی۔ کسی کی جائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت چھین کر دوسروں میں تقسیم کردینا عدل نہیں ہے، بلکہ عدل یہ ہے کہ ہر شخص کو جائز وسائل و ذرائع دولت کمانے کے مساوی حقوق حاصل ہوں۔ تعلیم سب کے لیے یکساں اور عام ہو۔ حقوقِ شہریت سبھوں کے برابر ہوں۔ انصاف میں امیر و غریب سب برابر ہوں۔ ملازمت کے دروازے سب کے لیے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہوں… یہ عدل نہیں ہے کہ والدین اپنی اولاد کو چاہے کبھی بے جا ہی ڈانٹ ڈپٹ کردیں تو اولاد بھی بدلہ چکائے… مرد کمائے تو لازماً عورت بھی ملازمت کرے اور گھر کا خرچ چلانے میں برابر کی شریک ہو۔ ایک شخص جو کم پڑھا لکھا ہے اور کم تر درجے پر ملازم ہے، اُس کی بھی تنخواہ اتنی ہی ہو جتنی ڈائریکٹر یا منیجر کی ہو۔ ہاں اس بارے میں اتنا لحاظ ضرور رکھنا چاہیے کہ کسی کی تنخواہ اُس کی جائز ضروریات سے ہرگز کم نہ ہو۔ تنخواہوں کے موجودہ تضادات اور غربت و امارت میں آج کل جو زمین و آسمان کا فرق ہے یہ عدلِ اسلامی کے خلاف ہے۔ اسلام اسلامی معاشرے میں جس عدل کو قائم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے وہ توازن و تناسب ہے، اور جس عدل کا اس آیت میں حکم دیا جارہا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اُس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ ادا کیے جائیں۔
دوم: احسان، حسن، حسن تحسین محسن، محاسن حسنیٰ آراستہ کرنا، خوبصورت بنانا، لطف و مہربانی سے پیش آنا، خوش معاملگی سے پیش آنا، درگزر، باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس و لحاظ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا ہے۔ یہ سب احسان کے درجے میں شامل ہے۔
اسلام جس معاشرے کو تشکیل دینا چاہتا ہے وہ فیاضی اور اعلیٰ ظرفی کا معاشرہ ہے، جس میں عفو و درگزر ہو، جذبہ فیض رسانی اور خیر خواہی ہو، ہرچیز اور ہر بات ترازو کے کانٹے پر ہی تولی نہ جاتی ہو۔ عدل سے بڑا درجہ احسان کا ہے۔ یعنی اگر کسی شخص نے کسی کو ایک طمانچہ مارا تو عدل یہ ہے کہ وہ بھی نپا تلا اسی طرح ایک طمانچہ مار دے۔ احسان یہ ہے کہ بدلے میں صرف بدن کو چھولے یا معاف کردے… کسی کو قرض دے کر حسبِ وعدہ قرضے کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز اور قرین انصاف ہے، لیکن تقاضا نہ کرنا یا اُس کے حالات درست ہونے تک مہلت دے دینا احسان ہے۔ یہ احسان نماز میں بھی ہے اور جانوروں کو ذبح کرنے میں بھی ہے۔ نماز کے جو آداب، فرائض و واجبات ہیں ان کو اچھی طرح پورا کرلینے سے نماز ادا ہوجاتی ہے، لیکن انتہائی خشوع کے ساتھ اس طرح نماز ادا کی جائے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے، یا یہ کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے، یہ نماز کا حسن ہے، احسان ہے۔ جانور ذبح کرتے وقت اس کو پانی پلا دینا، چھری تیز کرلینا اور اس ارادے کے ساتھ ذبح کرنا کہ جانور کو زیادہ اذیت نہ ہو، ذبح کا احسان ہے۔ غرض یہ کہ جس انسانی معاشرے میں عدل و انصاف ہوگا وہ معاشرہ تلخیوں اور ناخوشگواریوں سے تو یقیناً محفوظ ہوجائے گا۔ شر و فساد سے بچ جائے گا۔ توڑ پھوڑ اور غیظ و غضب کے خوفناک واقعات اس میں نہ ہوں گے، لیکن انسان کو جس لطف و حلاوت اور جس سکون و راحت کی ضرورت ہے وہ عدل سے بڑھ کر احسان کے جذبات عام ہونے ہی سے پوری ہوسکتی ہے۔
سوم: اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى۔ صلہ رحمی، اس کا تعلق قریب اور دور کے رشتہ داروں سے ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس کے تمام احکامات و ہدایات فطری تقاضوں کے مطابق ہیں۔ قرآن میں خدا کی بندگی کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور فیاضی کا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو نظر انداز کرکے دوسروں کا خیال رکھنا خواہ وہ مالی اعانت کے سلسلے میں ہو یا نیکی اور حق کی دعوت کے معاملے میں ہو، درست نہیں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ کے حکم کے مطابق اسلام کی اشاعت کا کام پہلے اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں سے ہی شروع کیا تھا۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے گھر والوں کو تو جہالت کی حالت میں اور اسلامی تعلیمات سے غفلت میں چھوڑ دیا جائے اور خود جرمنی اور جاپان تبلیغ کے لیے سفر اختیار کرلیا جائے۔ اپنے عزیز رشتہ دار افلاس و غربت کی حالت میں ہوں اور ہم اپنی زکوٰۃ و صدقات دوسروں میں تقسیم کرتے پھریں… صلہ رحمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ صرف ان کی خوشی و غمی ہی میں شریک نہ ہو، بلکہ تنگی و ترشی میں ان کی بلاطلب دستگیری بھی کرے۔ شریعتِ اسلامی نے اس سلسلے میں جو اصول مقرر کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہر خاندان کے خوشحال افراد پر پہلا حق ان کے اپنے غریب رشتہ داروں کا ہے، پھر دوسروں کے حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں۔ یہی اصول ہے جن کی بنا پر حضرت عمرؓ نے ایک یتیم بچے کے چچا زاد بھائیوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی پرورش کے ذمہ دار ہوں، اور ایک دوسرے یتیم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اگر اس کا کوئی بعید ترین رشتہ دار بھی موجود ہوتا تو میں اس پر اس کی پرورش لازمی کردیتا۔
فحشا… تین بھلائیوں عدل، احسان اور صلہ رحمی کے مقابلے میں تین برائیوں سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بچنے اور رک جانے کا حکم دیا ہے، جن میں پہلی برائی فحشا ہے۔ فحش، فواحش، فاحشہ فحش، ان سب کا اطلاق تمام بے ہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے، اور ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں قبیح ہو فحش کہلائے گی، جیسے بخل، زنا، برہنگی، عریانی چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا، بدکلامی کرنا اور دوسرے تمام برے افعال مثلاً عملِ قومِ لوط، محرمات سے نکاح کرنا وغیرہ، اسی طرح برائیوں کو پھیلانا، جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے، فلمیں، عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کر منظرعام پر آنا، علی الاعلان مردوزن کا اختلاط اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا… یہ سب فحش ہے۔
٭منکر نکر، نکور، نکیر، منکرات، وہ قول یا فعل جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو اور اس سے مراد وہ تمام برائیاں ہیں جن کو لوگ جانتے ہیں، اور برا سمجھتے ہیں اور ہر دور میں ان کو برا ہی سمجھا گیا ہے، اور جس سے شریف طبیعت ابا کرتی ہو۔ اور تمام شریعتوں میں اس کو منکر ہی قرار دیا گیا ہو، اور اس سے منع کیا گیا ہو۔
٭ بغٰی… بغیابغی بغیان، البغی، حق سے ہٹ جانا، نافرمانی کرنا، دراز دستی، ظلم و تعدی کرنا، زنا کار فاحشہ عورت، اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا… خواہ حقوق خالق کے ہوں، خواہ مخلوق کے۔
٭تین بھلائیوں کو کرنے، پھیلانے اور معاشرے میں رواج دینے، اور تین برائیوں سے بچنے اور معاشرے کو بچانے کا حکم دینے کے بعد عہدکی پاسداری کی تاکید کی جارہی ہے۔ اور یہاں جس عہد کی پابندی کا حکم دیا جارہا ہے اس میں ہر قسم کا عہد شامل ہے، خواہ وہ عہد انسان نے خدا کے ساتھ باندھا ہو، خواہ کسی فرد یا قوم نے کسی فرد یا قوم کے ساتھ باندھا ہو اور اس پر اللہ کی قسم کھائی ہو، یا کسی نہ کسی طور پر اللہ کا نام لے کر اپنے قول کی پختگی کا یقین دلایا ہو۔ خواہ وہ عہد اللہ کا نام لیے بغیر کیا گیا ہو۔ ان سب کی پابندی ازروئے اخلاق، ازروئے قانون ضروری ہے۔ البتہ تیسرے درجے کا عہد جو اللہ کا واسطہ یا اللہ کی قسم کھائے بغیر یا اللہ کا نام لیے بغیر کیا گیا ہو، اوپر کے دو عہد کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم اور پختہ تو نہ سمجھا جائے گا، تاہم خلاف ورزی جائز نہیں سمجھی جائے گی۔
اسلام میں حدود وقیود کی پابندی اور عہد کی نگہبانی کی سخت تاکید کی گئی ہے اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ چاہے وہ معاملات میں ہو، چاہے قول و قرار میں ہو سب کی پابندی ہونی چاہیے۔ جس انسانی معاشرے میں اس کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا جائے گا وہ معاشرہ جلد یا بدیر فساد کی لپیٹ میں آجائے گا۔ اس صدی کے اندر دو عظیم جنگیں محض معاہدہ شکنی ہی کی وجہ سے ہوئیں، اور کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنیں۔ آج کی دنیا میں عہد شکنی کو ڈپلومیسی سمجھا جاتا ہے اور اس قسم کی چالبازیاں کرنا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ ہر معاہدہ دراصل معاہدہ کرنے والے شخص اور قوم کے اخلاق و دیانت کی آزمائش ہے، جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہوں گے وہ اللہ کی عدالت میں مواخذے سے بچ نہیں سکیں گے۔
(52 دروسِ قرآن، انقلابی کتاب… حصہ دوئم)

Share this: