گوگل نے اپنی مقبول ترین ایپ کو مکمل ری ڈیزائن کردیا

Print Friendly, PDF & Email

گوگل نے اپنی مقبول ترین میپس ایپس کو مکمل بدلنے کا اعلان کیا ہے جس میں نئے فیچرز کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔ گوگل میپس کی 15 ویں سالگرہ کے موقع پر گوگل کی جانب سے اس ایپ کے ری ڈیزائن ورژن کو متعارف کرایا گیا۔ اس ری ڈیزائن کے بعد اب ایپ میں نیچے 5 ٹیبز دیے جائیں گے جن میں ایکسپلور، کمیوٹ، سیوڈ، کنٹری بیوٹ اور اپ ڈیٹس شامل ہیں۔ کنٹری بیوٹ ٹیب میں لوگ گوگل کو مقامی تفصیلات جیسے ٹریفک کی صورت حال فراہم کرسکیں گے، جبکہ اپ ڈیٹ ٹیب میں مقامی ٹریول گائیڈز یا مضامین کے ذریعے مقامات کے بارے میں بتایا جائے گا۔ ایک نیا فیچر ٹرانزٹ ایٹروبیٹ بھی متعارف کرایا جارہا ہے جس میں لوگوں کو پبلک ٹرانزٹ کی صورت حال کے بارے میں اس میں سفر کرنے والے افراد کی شیئر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ ایپ کا لوگو اور آئیکون بھی نیا دیا جارہا ہے اور اب یہ گوگل کے مخصوص رنگوں کے میپنگ پن کی شکل میں ہوگا۔گوگل میپس کی سینئر نائب صدر جین فٹزپیٹرک نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا ‘کہ جب ہم نے دنیا کے لیے میپ کو متعارف کرایا تو ہم جانتے تھے کہ یہ ایک چیلنج ہے، مگر 15 سال بعد بھی میں اب تک حیران ہوں کہ یہ کتنا بڑا ٹاسک ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران گوگل کی جانب سے میپس کو نیوی گیشن ٹول کے بجائے اطلاعات کا ہب بنانے کی کوشش کی گئی، یعنی ٹرانسلیٹ فیچرز، فوڈ ڈیلیوری اور ہوائی پروازوں کے ساتھ ہوٹل بکنگ کی تفصیلات کا اضافہ کیا گیا۔
گزشتہ سال دسمبر میں گوگل نے انکشاف کیا تھا کہ گوگل ارتھ کی بدولت اب میپس ایپ دنیا کے 98 فیصد سے زائد حصے کو کور کررہی ہے اور اب تک ایک کروڑ میل طویل اسٹریٹ ویو امیجری جمع کی جاچکی ہے۔
ایک کروڑ میل کے حوالے سے بات کی جائے تو گوگل کا کہنا تھا کہ یہ فاصلہ اتنا ہے کہ جتنا کوئی دنیا کے گرد 400 سے زائد بار چکر لگالے اور گوگل ارتھ میں صارفین کو 36 ملین اسکوائر میل سے زائد سیٹلائیٹ امیجری میں براؤز کی سہولت دستیاب ہے۔
گوگل نے گزشتہ سال لائیو ویو نامی ٹول متعارف کرایا تھا جو اگیومینٹڈ رئیلٹی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے اور حقیقی دنیا کی تصاویر پر ڈیجیٹل گرافکس کا اضافہ کرتا ہے، اور اب کمپنی نے بتایا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ ٹول مزید صارفین تک پہنچایا جائے گا۔

غریب ممالک میں 2040ء تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اگلے 20 برس میں کینسر کی غیر معمولی صورت حال کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ان ممالک میں سرطان کے مریضوں کی تعداد آج کے مقابلے میں 81 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
اس کی وجہ بتاتے ہوئے ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ ان ممالک میں ماہرین کی تیاری، انفرااسٹرکچر، اسپتالوں اور تحقیق پر کوئی منصوبہ بندی یا سرمایہ کاری نہیں ہورہی۔ ڈبلیو ایچ او نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس وقت یہ تمام ممالک کینسر کے بجائے یا تو ماں اور نومولود کی صحت پر اپنے وسائل خرچ کررہے ہیں، یا پھر انفیکشن سے پھیلنے والے امراض پر متوجہ ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے معاون نائب سربراہ رین مینگوئی نے بتایا کہ ہماری تحقیق آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جو امیر اور غریب ممالک کے درمیان سرطان سے وابستہ سہولیات کے درمیان بڑھتی ہوئی خطرناک خلیج کو ظاہر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے مرحلے میں مریضوں کو ابتدائی طبی امداد اور دیگر اداروں تک رسائی میں مدد دی جائے تو کینسر کا درست انداز میں بروقت علاج ممکن ہوسکتا ہے۔ کسی کے لیے اور کہیں بھی سرطان سزائے موت نہیں ہونا چاہیے۔
یہ رپورٹ عالمی یومِ سرطان کی مناسبت سے جاری ہوئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اگلے عشرے میں لاکھوں کروڑوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر عالمی ادارہ برائے صحت کے ایک اور ماہر نے بتایا کہ کینسر قابو کرنے میں بہت زیادہ رقم درکار نہیں ہوتی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2040ء تک پوری دنیا میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، اور اب بھی تمباکو نوشی سرطان کی 25 فیصد اموات کی اہم ترین وجہ ہے۔

چینی سائنس دان کورونا وائرس پھیلانے کے ’ذمہ دار‘ کو ڈھونڈنے میں کامیاب

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پراسرار وائرس سے متعلق تحقیق میں مصروف چینی سائنس دان پراسرار وائرس کے پھیلنے کی وجہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ایک ممالیہ جانور ’پینگولین‘ ہے۔
جنوبی چین کی ایگری کلچرل یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ایک ہزار سے زائد نمونوں کا معائنہ کیا جن سے حاصل ہونے والا جینوم ممالیہ جانور پینگولین میں 99 فیصد تک پایا گیا ہے، جس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا پینگولین سے ہی ہوئی۔ قبل ازیں یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کورونا وائرس چمگادڑ سے انسانوں میں پھیلے، تاہم تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا پینگولین سے ہی ہوئی ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ پینگولین سے وائرس چمگادڑ میں منتقل ہوا ہو، اور پھر چمگادڑ سے انسانوں تک پہنچا ہو۔ سائنس دان ہلاکت خیز کورونا وائرس تک تو پہنچ گئے ہیں لیکن تاحال اس بیماری کا علاج ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، جس کے لیے کئی تحقیقی ٹیمیں شبانہ روز محنت میں مصروف ہیں۔

Share this: