یوم یکجہتی کشمیر۔عوام سڑکوں پر نکل آئے

Print Friendly, PDF & Email

ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں،امیر جماعت اسلامی پاکستان و دیگرکا خطاب

پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھر پور جوش و جذبے سے منایا گیا،مظاہرے ریلیاں ، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی گئیں ، اہم شاہراہوں اور عمارتوں پر کشمیر کے پرچم لہرائے گئے جبکہ مظاہروں کے دوران کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے اور مودی کے پتلے نذر آتش کیے گئے، کراچی میں جماعت اسلامی کے تحت 20کلو میٹر طویل ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں دن کاآغاز مساجد میں کشمیریوں کے لیے دعائوں سے کیا گیا،یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں ریلیاں اور اجتماعات منعقد کیے گئے ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے تقاریب کے ذریعے کشمیریوں سے بھرپوریکجہتی کی گئی ۔یوم یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب مظفر آباد میں منعقد کی گئی جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے پلوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔، اس کے علاوہ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے متعدد مقامات پر دستخطی کیمپ بھی لگائے گے۔کشمیری عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لیے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ رابطہ کارکوایک یادداشت پیش کی گئی ۔ راولپنڈی ہولاڑپل پر کشمیریوں سے یک جہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی، اراکین اسمبلی، اے سی کہوٹہ، سماجی کارکنان اور اسکول کے بچوں سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ کوئٹہ، چمن شہر میں بھی یوم یک جہتی کشمیر جوش و جذبے سے منایا گیا ، شہر کی اہم شاہراہوں اور اہم عمارتوں پر کشمیر کے پرچم لہرا دیے گئے ، مختلف ریلیوں کا انعقاد بھی کیا گیا ۔لاہورمیں بھی دن بھر مختلف تقاریب اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ،دن کا آغاز مساجد میں کشمیریوں کے لیے دعائوں سے کیا گیا ۔ جنرل اسپتال میں یوم کشمیر کے حوالے سے ریلی نکالی گئی ۔لاہور آرٹس کونسل کے زیر اہتمام بلڈ ان دی ویلی کے عنوان سے تصویری نمائش کا اہتمام کیا ۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے فیصل چوک مال روڈ پر یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب کیا۔پنجاب اسمبلی سے لاہور پریس کلب تک یوم یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس کی قیادت وفاقی وزیر و سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرونے کی ۔ریلی میں سیاسی ، سماجی ، دینی ، تاجر تنظیموں اور نوجوان طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔پنجاب اسمبلی کے سامنے کارکنوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بد ترین مظالم اور اقوام متحدہ کی بے حسی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ کراچی میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں کراچی میں ریلی نکالی گئی، ریلی میں موجود طلبہ اور اساتذہ نے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا کر رہیں گے، مودی نے نہتے مسلمانوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا، قائداعظم کا دو قومی نظریہ بالکل درست تھا، پوری دنیا سے اپیل کرتے ہیں بھارتی مسلمانوں پر مظالم کا نوٹس لے، مودی کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ کیا جائے۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا، وزیراعظم نے پوری دنیا میں کشمیر کاز کو اجاگر کیا، متنازع شہریت بل سے بھارت مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا، پاکستان دنیا بھر میں کشمیر کا مسئلہ موثر اندازمیں اٹھا رہا ہے، بھارت کو پیغام دینا چاہتے ہیں، کشمیر بنے گا پاکستان۔نعرہ تکبیر اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے۔ مظاہرین نے مودی کے پتلے اور تصاویر بھی نذر آتش کیں۔ شرکا نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک کے سوئے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہر مشکل گھڑی میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ادھر امر یکا میں بسنے والے کشمیریوں اور پاکستانیوں نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرہ کیا، نیویارک کے مصروف ترین علاقے مین ہیٹن میں ٹیکسیوں پر کشمیر کی آزادی والے نعروں کے بورڈز لگا ئے گئے ۔فری کشمیر مہم کا اہتمام نیویارک کے ٹیکسی ڈرائیورز نے کیا۔ ٹیکسیوں پر کشمیر کی آزادی کے علاوہ بھارتی مظالم اور کئی ماہ سے جاری کرفیو کے خلاف نعرے درج تھے۔ ٹائم اسکوائر میں بھی بڑی تعدا د میں ٹیکسی ڈرائیورز گزرتے رہے۔اس کے علاوہ لندن اور برسلز سمیت دیگر ممالک میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں جس میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم رکوانے کا مطالبہ کیا گیا۔
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں کراچی میں 20 کلومیٹر طویل ہاتھوں کی زنجیر کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے وزیر اعظم ،چیف آف آرمی اسٹاف اور اہل اقتدار و اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے اب عملی اقدامات کریں ،پاکستان کی فوج پاکستان کے لیے ہے ،قوم کا مطالبہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے لیے آگے بڑھے ، پور ی قوم ان کی پشت پر کھڑی ہوگی ،حکمران دورنگی اور منافقت چھوڑ کر اور امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے ٹیپو سلطان بن کر جہاد کا اعلان کریں ،مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے او آئی سی کا اجلاس اسلام آباد یا مظفر آباد میں بلایاجائے ،اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے استصواب رائے کا حق دلوائے ،اہل کشمیر اور پوری کشمیری قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے جو بدترین ریاستی جبر و تشدد کے باوجود آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہے ، آج اہل کراچی اور بالخصوص خواتین مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے 20کلومیٹر طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر بناکر اہل کشمیر کو یہ پیغام دیا ہے کہ پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کے تحت یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر شارع فیصل پر میٹروپول تا قائد آباد 20کلومیٹر طویل ’’انسانی ہاتھوں کی زنجیر ‘‘ کے شرکا سے میٹروپول،نرسری بس اسٹاپ اور قائد آبادپر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی نے بھی خطاب کیا ۔واضح رہے کہ 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے 1990ء میں کیا تھا تب سے آج تک یہ دن کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی علامت کے دن کے طور پرمنایا جاتا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ کراچی سے چترال تک پوری قوم سڑکوں ،چوکوں اور چوراہوں پر نکلی ہوئی ہے ،طویل زنجیر نے ثابت کیا ہے اوربچے ، بوڑھے ، جوان ،مائیں ، بہنیں ،بیٹیاں اور سب مل کر اظہار یکجہتی کررہے ہیں کہ پوری قوم مظلوم اور نہتے کشمیریوں کی پشت پر ہے۔یہ ساری دنیا کو پیغام ہے کہ دنیا اگر چاہتی ہے کہ یہ خطہ ایٹمی جنگ سے محفوظ رہے اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے تو کشمیریوں کو جینے کا حق دیا جائے ،بھارت کی غلامی سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کا حق دیا جائے ۔آج عوام یواین او سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ خود اپنی قراردادوں کے مطابق مقوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ریاستی جبر وتشدد کے شکار کشمیریوں کو استصواب رائے کے حق کو یقینی بنائے۔ اقوام متحدہ جنوبی سوڈان کوالگ کرنے اور مشرقی تیمور کو علیحدہ ریاست بنانے کے لیے تو سرگرم عمل ہوجاتی ہے لیکن کشمیریوں پر مظالم پر خاموش ہے اور ان کو حق خود ارادیت دلوانے کے لیے کچھ نہیں کرتی ۔انہوں نے کہاکہ آج انسانی ہاتھوں کی عظیم الشان اور طویل زنجیر علامت ہے کہ اگر دنیا ساتھ دے نہ دے پہلے پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے ،آج یوم کشمیر کے موقع پر ہم حکمرانوں سے بھی کہتے ہیں کہ 72سال ہوگئے آپ کی بے اثر تقاریر سے کشمیریوں کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکا ، اس کے لیے اب پیش رفت کرنے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، اہل کشمیرکے لیے اور کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ، بین الاقوامی قوانین کے تحت کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرے ۔

Share this: