پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات

Print Friendly, PDF & Email

مشیر خزانہ اور وزیر منصوبہ بندی میں تنائو

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ حکومت نے سالانہ ٹیکس ہدف میں کمی کی سفارش کی ہے، ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو قرض پروگرام سے الگ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، آئی ایم ایف کو نجکاری سمیت نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس طرح 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت 45 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کے جتن کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزارتِ خزانہ، ایف بی آر، وزارتِ توانائی اور نجکاری سمیت متعلقہ حکام نےشرکت کی۔ آئی ایم ایف ٹیکس ریونیو میں کمی سے ناخوش ہے۔ ایف بی آر نے 5238 ارب روپے کے سالانہ ہدف میں مزید کمی کا مطالبہ کردیا۔ حکومت نے سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پہلے مرحلے میں دو پاور پلانٹس سمیت 6 سرکاری اداروں کی نجکاری اور مختلف وزارتوں کی 27 پراپرٹیز فروخت کرنے کا منصوبہ دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ بجلی اور گیس سمیت توانائی کے شعبے میں ٹیرف کے مربوط نظام اور ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار بھی وضع کیا جارہا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف نے قومی اداروں کی تعداد کم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جس کے بعد قومی اداروں کی تعداد 440 سے کم کرکے 342 کردی جائے گی۔ یہ ہدف 30 ستمبر2020ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔ مذاکرات میں معاشی اصلاحات کے پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیپرا ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کرنے کی مہلت متفقہ طور پر30 جون تک بڑھا دی گئی۔ پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کا عالمی سند یافتہ آڈیٹرز سے آڈٹ کرانے اور اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے پربھی بات چیت ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق ترمیمی قانون سازی کی جائے گی۔ آئندہ سہ ماہی تک کے لیے بجلی، گیس اور ٹیکس محصولات کے اہداف طے کیے جائیں گے۔ جون تک ایف بی آر کو 3153 ارب روپے کا مزید ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنا ہوگا۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں سے 265 ارب وصول کیے جائیں گے اور یہ رقم محصولاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ مذاکرات کے بعد پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات محض بات چیت کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی معیشت کی بدحالی کی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔ منی بجٹ یا نئے ٹیکس، بجٹ کے لیے ایک بار پھر تبدیلی اور نئی معاشی ٹیم کی تشکیل کا فیصلہ بھی رواں ہفتے ہوجائے گا۔ دو سو ارب کے نئے ٹیکس لگنے ہیں یا دو سو چالیس ارب کے، آئندہ ہفتے آئی ایم ایف اور حکومت کے مذاکرات کے بعد یہ سب کچھ سامنے آجائے گا۔ ترقی پذیر ملکوں میں شاید پاکستان واحد ملک ہے جس کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کڑی شرائط عائد کرتے ہیں، یہ عالمی مالیاتی ادارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیادی اساس کے لیے بھی خطرہ بنے رہتے ہیں۔ ماضی میں ہمیں قرض دینے کے لیے ملک میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی شرط رکھی جاتی تھی، لیکن معاملہ کچھ آگے بڑھ رہا ہے، اب ان اداروں کی جانب سے براہ راست نہیں، عالمی این جی اوز کی طرف سے کچھ مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں، ان این جی اوز کاسب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کو مغرب جیسا لبرل اور سیکولر بنایا جائے۔ عالمی این جی اوز باقاعدہ پاکستان کو امداد یا قرض دینے والے ان اداروں کے لیے کام کرتی ہیں۔ ملک کی پارلیمنٹ اس خطرے سے نمٹنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے؟ یہ بلین ڈالر کا سوال ہے۔ ہر حکومت بہتر منصوبہ بندی کرنے سے معذور اور زمینی حقائق سے منہ موڑتی رہی ہے، غیر ملکی قرضے اور ان پر سود کی ادائیگی ملکی معیشت پر ایسا بوجھ ہے جسے اتارے بغیر ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ عوام خوشحال ہوسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے بہتر ہے کہ خودکشی کرلی جائے، لیکن یہ حکومت بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح قول و فعل کے تضاد کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 120 کی سطح سے 160 روپے کی سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے قرض ملنے کے بعد ڈالر کی سطح 155 سے 156 روپے تک مستحکم ہے۔ پاکستان کے سرکاری قرض و اخراجات میں 15 ماہ میں 40 فیصد اضافے کے بعد حکومت نے جنوری سے جولائی 2020ء تک مزید 19 کھرب روپے کا قرض لینے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے۔ یہ محض الزام اور سنی سنائی بات نہیں بلکہ وزارت خزانہ پارلیمنٹ میں اس کا تحریری اعتراف کرچکی ہے۔ ملکی قرضوں کے حوالے سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے پالیسی بیان میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2018ء کے اختتام پر مجموعی قرض اور واجبات 290 کھرب 87 ارب 90 کروڑ روپے تھے جو ستمبر 2019ء تک 410 کھرب 48 ارب 90 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئے یعنی اس میں 39 فیصد یا 110 کھرب 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ 2019ء کے اختتام تک مجموعی قرض اور واجبات میں 35 فیصد یا 100 کھرب 34 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 402 کھرب 23 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت حد سے زیادہ قرضوں پر انحصار کررہی ہے، کیونکہ وزارت خزانہ حکومت کی ضروریات، ریونیو اور اخراجات کا فرق طے کرنے کے بعد قرض لیتی ہے، حکومت اب 19 کھرب کا قرض لینا چاہ رہی ہے، 11 کھرب روپے بیرونی جبکہ 8 کھرب روپے مقامی ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے، یوں حکومت 2023ء میں اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے تک 12 ہزار 261 ارب مقامی جبکہ 28 ارب 20 کروڑ ڈالر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت نے قرض لینے کے لیے کوئی سرکاری املاک کسی قومی یا غیر ملکی قرض دہندہ ادارے کے پاس گروی نہیں رکھوائی لیکن 3 اثاثوں کو اجارہ سکوک منتقلیوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ حکومت نے اسلام آباد موٹروے کے لیے 71 ارب روپے اور اسلام آباد سے لاہور موٹروے کے 2 حصوں کے لیے 2 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔ یوں غیر ملکی قرضے ایک کھرب 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران 27 فیصد حقیقی اخراجات کے ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے کہا ہے کہ اُسے مشکلات کا شکار معاشی نمو کو سہارا دینے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی بجٹ کا مکمل استعمال کرنا چاہیے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی آئی ایم ایف وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ آئی ایم ایف نے سرکاری ترقیاتی پروگراموں کے لیے مختص کردہ رقم کے مکمل استعمال کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنے کا مطالبہ کیا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جہاں اس وقت اسد عمر اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے مابین سخت تناؤ ہے، صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب دونوں میں سے ایک ہی رہ سکتا ہے۔ اسد عمر تو اعتراف کررہے ہیں کہ آئندہ 4 ماہ میں مزید مہنگائی بڑھے گی۔ وہ مشیر خزانہ کی وجہ سے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے بھی گریزاں ہیں، انہیں گلہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام اور دیگر وجوہات کی بنا پر زیادہ توجہ وزارت خزانہ کی جانب ہونے کے باعث ملک کی پالیسی تشکیل دینے اور منصوبہ بندی کی سمت متعین کرنے کے حوالے سے پلاننگ کمیشن کی اہمیت ختم ہوگئی ہے، اس سمت میں اس سال جون تک کے نئے اہداف میں وزیراعظم کی ہدایات پر 23-2021ء تک کی 3 سالہ معاشی نمو کی حکمت عملی کا آغاز بھی شامل ہے، لیکن سب سے اہم پہلو یہ رہا ہے کہ پروجیکٹ ڈیولپمنٹ، مانیٹرنگ اور جائزہ لینے والا سسٹم ہی کمزور ہوچکا ہے جسے اب جون 2020ء تک نئے سرے سے تیار کیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی وعدوں کو پورا کیا جاسکے۔ ان کی کوشش ہے کہ رواں برس گوادر ایکسپو 2020 کے انعقاد کے ساتھ ساتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حوالے سے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے، جون تک اس حوالے سے ایک مکمل فریم ورک تشکیل دے دیا جائے گا۔ تقریباً 2 دہائیوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح بلندیوں کو چھونے لگی ہے۔ جولائی 2019ء میں جب پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز ہوا تو اسی ماہ شرح سود 13.25 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ آئی ایم ایف کے تمام پروگراموں کا آغاز شرح سود میں اضافے، زرِمبادلہ کی شرح میں کمی سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو آپ پائیں گے کہ مہنگائی کا زور 2000ء میں اس وقت ٹوٹا تھا جب ملک کے اندر ایک مختصر لیکن سخت آئی ایم ایف پروگرام پر کامیاب عمل درآمد کیا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد مہنگائی کی شرح میں دوبارہ اضافہ ہوا لیکن 2002ء میں پاکستان جب دوسرے آئی ایم ایف پروگرام کی طرف بڑھا تو مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر کمی آگئی۔ اس پروگرام کا دورانیہ 3 برس ہونا تھا لیکن 2004ء میں ہی پاکستان کی جانب سے اسے اُس وقت ختم کردیا گیا جب جنرل پرویزمشرف کو محسوس ہوا کہ چونکہ تمام اہداف پہلے ہی حاصل کرلیے گئے ہیں اس لیے ملک کو پروگرام کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد (مہنگائی سال بہ سال بڑھتی گئی اور) اگست 2008ء میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ نومبر 2008ء میں ملک ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام کی طرف گیا اور پھر 2011ء تک مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک گھٹ گئی جبکہ سال کے آخری حصے میں تو 10 سے بھی کم رہ گئی تھی۔ یہ اچھی خاصی کمی تھی، لیکن جس سطح پر ملک کے اندر ایڈجسٹمنٹس کی گئی تھیں اس کے پیش نظر مہنگائی کی شرح میں اس سے بھی زیادہ کمی کی توقع کی گئی تھی۔ مہنگائی میں کمی لانے کے لیے یہ لازمی ہے کہ مرکزی بینک کمرشل بینکوں کو اس قسم کے قرضوں کی فراہمی کے رجحان میں کمی لائے اور اسٹیٹ بینک سے براہ راست قرضہ لینے سے گریز کیا جائے-2013ء تک جب ملک ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام کی طرف گیا تب مہنگائی کی شرح پہلے ہی تیزی سے نیچے آرہی تھی، اس کے باوجود شرح سود کو ایک طویل عرصے تک 9 فیصد تک برقرار رکھا گیا تاکہ سیلز ٹیکس کی شرح، بجلی کے نرخوں میں اضافے اور زرِمبادلہ کی شرح میں کمی کے ذریعے کسی حد تک متوقع مہنگائی کے دباؤ پر قابو پایا جاسکے۔ 2015ء تک مالی خسارے میں کمی آنا شروع ہوگئی، بینکاری نظام سے حکومتی قرضہ لینے کا رجحان کم ہوا اور مالیاتی پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا۔ اس سب کے نتیجے میں شرح سود 6.5 فیصد تک گھٹ گئی۔ جب یہ حکومت اقتدار میں آئی تب مالیاتی پھیلاؤ قابو سے باہر تھا۔ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینا نوٹ چھاپنے جیسا ہی ایک عمل ہے۔ جون 2018ء میں حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے قرضے کا حجم 3 کھرب 67 ارب روپے تھا جو فروری 2019ء تک دگنا ہوکر 7 کھرب 60 ارب تک پہنچ گیا تھا۔ قرض کی یہ شرح غیر معمولی تھی، جس کے باعث قلیل عرصے میں ہی پیسوں کی گردش میں بڑی سطح پر اضافہ ہوا۔ اس پوری پریکٹس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں برآمد ہوا جو مارچ 2019ء میں 9.4 فیصد تک پہنچ گئی جس نے حکومت کو ہکا بکا کردیا۔ حکومت نے یہ کہہ کر اس نتیجے کو بدلنے کی کوشش کی کہ ادارہ شماریات پاکستان سے اعداد کے حساب کتاب میں غلطی ہوئی ہے۔ اعتراض کیا گیاکہ ادارہ شماریات افراط زرِ کی شرح غلط بتارہا ہے۔ جب کہ مالی سال کے اختتام تک افراطِ زر کی شرح ماہانہ اوسط 7 فیصد سے کچھ زائد رہی۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جب آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد شروع ہوا اور اسی اثنا میں شرح سود میں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2019ء کی آخری سہ ماہی کے دوران شرح مبادلہ میں آنے والی کمی کی وجہ کسی حد تک مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے، اور کسی حد تک ایندھن پر عائد بھاری ٹیکس تھے۔ عام طور پر ایسا تب ہوتا ہے جب بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کا آغاز ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس قسم کی ایڈجسٹمنٹ عام طور پر اپنے ساتھ شرح سود میں اضافہ لاتی ہے۔ حکومت کے اندازوں کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 11 سے 12 فیصد کے قریب اضافہ ہوگا جبکہ ماہانہ اوسط تو ویسے ہی 11.6 فیصد تک پہنچی ہوئی ہے۔ وزیرِاعظم اس کی وجہ مافیاؤں اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ منافع خوروں یا مافیاؤں کا گٹھ جوڑ ہے تو پھر وہ اس حکومت کی ناک کے نیچے سرگرم کیسے ہوگئے ہیں؟ آئی ایم ایف کے وفد کی جانب سے کارکردگی کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد ایف بی آر رواں مالی سال کی پہلی 2 سہ ماہیوں میں محصولات کی وصولی میں کمی کو دور کرنے کے لیے منی بجٹ کو افواہیں قرار دے رہا ہے۔ مالی خسارے کی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف کی سخت نظرثانی کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف سے بات چیت اب تک صرف گزشتہ سہ ماہی کی کارکردگی کے جائزے پر مرکوز تھی۔ پالیسی مذاکرات جن میں اگلی سہ ماہی کے لیے بینچ مارکس طے کیے جائیں گے وہ اب تک شروع نہیں ہوئے تو منی بجٹ کی بات قبل از وقت ہے۔ آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 105 ارب روپے کا ریونیو ہدف پورا نہ ہونے کے باوجود ایف بی آر کی کارکردگی کو ”تسلی بخش“ قرار دیا۔ 10 فروری سے آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی ٹیم کے ساتھ پالیسی مذاکرات کا آغاز کرچکا ہے جو 13 فروری کو مکمل ہوں گے، اس عرصے کے دوران تیسری سہ ماہی کے لیے حکام کے ساتھ اہداف طے کیے جائیں گے جنہیں پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈ کو پیش کیا جائے گا۔آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ ایف بی آر 52 کھرب 70 ارب روپے کے ہدف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ بتادیا ہے کہ مزید ٹیکسوں کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس طرح پاکستان میں کاروبار بند ہوجائیں گے۔ آئی ایم ایف ٹیکس ریونیو ہدف میں مزید کمی پر اتفاق کرتا ہے یا نہیں، یہ فیصلہ مذاکرات کے پالیسی مرحلے میں کیا جائے گا جو اب شروع ہونے والے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ برس کے 38 کھرب 50 ارب روپے کے مقابلے میں ایف بی آر کی ریونیو وصولی 48 کھرب روپے کے قریب ہوگی۔

Share this: