کراچی ، تباہی و بربادی کا ذمہ دار کون؟۔

Print Friendly, PDF & Email

کراچی کا نوحہ لکھنے والا کوئی نہیں… عدالت عظمیٰ کے سربراہ کی جانب سے کراچی کے لیے ایک صدا

تاتاریوں نے بغداد کو تاراج کیا، مگر بغداد تاتاریوں کا نہ تھا۔ احمد شاہ ابدالی اور انگریزوں نے دِلّی کی اینٹ سے اینٹ بجادی، مگر دِلّی احمد شاہ ابدالی اور انگریزوں کی نہیں تھی۔ اسٹیبلشمنٹ، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے کراچی کو تباہ و برباد کردیا، اور کراچی اسٹیبلشمنٹ کا بھی تھا، ایم کیو ایم کا بھی تھا، پیپلز پارٹی کا بھی تھا اور نوازلیگ کا بھی تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تاتاری بغداد اور احمد شاہ ابدالی و انگریز دِلّی کے لیے جتنے ہولناک تھے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کراچی کے لیے اس سے زیادہ ہولناک ثابت ہوئے۔ میر تقی میرؔ نے دِلّی کے اجڑنے کا نوحہ ان الفاظ میں لکھا ہے:۔

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دِلّی کہ ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لُوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے

بدقسمتی سے کراچی کا نوحہ لکھنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ البتہ کبھی کبھی معاشرے اور ریاست کے کسی کونے سے کراچی کے لیے ایک صدا بلند ہوجاتی ہے۔ ایسی ہی ایک صدا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس گلزار احمد نے بلند کی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا ہے کہ کراچی میں نہ شہری حکومت کام کررہی ہے، نہ صوبائی حکومت کام کررہی ہے، نہ وفاقی حکومت کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی Mega Problem City بن گیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے فرمایا کہ DHA یعنی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی کی تحقیقات ہوئی تو پوری ڈی ایچ اے فارغ ہوجائے گی اور شاید اس کے ساتھ ہم بھی فارغ ہوجائیں مگر ہمیں اس کی پروا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس اس سے قبل کراچی سرکلر ریلوے کے راستے میں آنے والی تمام عمارتوں کو گرانے کا حکم صادر فرما چکے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ سمیت تمام اعلیٰ افسروں کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کا حکم بھی دے چکے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کراچی میں سرکاری زمینوں پر قبضہ منظور نہیں۔ اہلِ کراچی اب تک یہ سمجھتے تھے کہ کراچی میں صرف ملک ریاض کا بحریہ ٹائون ایک ’’مافیا‘‘ ہے، مگر چیف جسٹس کے ریمارکس سے ثابت ہوا کہ کراچی میں فوج کا ادارہ DHA بھی ایک ’’مافیا‘‘ ہے، ایسا مافیا کہ اگر تحقیقات ہوجائیں تو پورا ڈی ایچ اے منہدم کرنا پڑ جائے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک قائداعظم اور لیاقت علی خان زندہ رہے کراچی پاکستان کا دارالحکومت رہا۔ قائداعظم اگر 1960ء اور لیاقت علی خان 1970ء تک زندہ رہتے تو کراچی ہی پاکستان کا دارالحکومت ہوتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جنرل ایوب خان نے ملک کے دارالحکومت کو اسلام آباد منتقل کرکے قائداعظم اور لیاقت علی خان کی فکر اور بصیرت کے خلاف پرچمِ بغاوت بلند کیا۔ یہ کراچی کے ساتھ ظلم اور زیادتی کا آغاز تھا۔ کراچی صرف ملک کا دارالحکومت ہی نہیں تھا، کراچی پاکستان کا سب سے بڑا ’’نظریاتی‘‘ اور ’’مزاحمتی‘‘ شہر بھی تھا۔ جس وقت جنرل ایوب، مادرِ ملّت کو ’’بھارتی ایجنٹ‘‘ کہلوا رہے تھے اُس وقت کراچی مادرِ ملّت کے ساتھ کھڑا تھا۔ مادرِ ملّت نے جنرل ایوب کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا تو موجودہ پاکستان میں ہر جگہ جنرل ایوب کامیاب ہوئے، مگر کراچی میں محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب اور ان کی فوجی آمریت کو شکست سے دوچار کیا۔ یہ صورتِ حال اس امر کی علامت تھی کہ کراچی تحریکِ پاکستان کی مزاحمتی روح کا استعارہ ہے۔ کراچی نے صرف جنرل ایوب کی آمریت کی مزاحمت نہیں کی، بلکہ اس نے پوری قوت کے ساتھ بھٹو کی سول آمریت کو بھی چیلنج کیا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی آمریت سامنے آئی تو کراچی کی مزاحمتی روح جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ، روزنامہ جسارت اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل میں منتقل ہوگئی۔ ان تمام دائروں میں ایم کیو ایم کے فاشزم کی ایسی مزاحمت ہوئی کہ اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔
اسٹیبلشمنٹ نے کراچی پر سب سے بڑا ظلم الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو مسلط کرکے کیا۔ مہاجروں کو سندھیوں اور پٹھانوں سے لڑانے کے لیے ایسے ایسے فتنے کھڑے کیے گئے جن کی مثال نہیں ملتی۔ کراچی کے ایک بڑے اردو اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ سندھ نیشنل الائنس کا جلوس کراچی کے علاقے صدر سے گزر رہا تھا کہ ایک مہاجر عورت کی کار جلوس میں پھنس گئی۔ عورت کے ساتھ اس کا ایک شیرخوار بچہ بھی تھا۔ جلوس کے شرکا نے اس بچے کو کار سے نکال کر سڑک پر پٹخ دیا۔ ایک بڑے سندھی اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ کراچی کے جناح اسپتال میں 11 سندھی خواتین کی لاشیں لائی گئیں جن کی چھاتیاں کٹی ہوئی تھیں۔ بعض صحافیوں نے ان واقعات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ واقعات سرے سے ہوئے ہی نہیں۔ لیکن ان خبروں سے سندھیوں اور مہاجروں میں جو نفرت پیدا کی جاسکتی تھی وہ پیدا ہوئی۔ کراچی میں ہونے والے سانحۂ علی گڑھ کا قصہ یہ ہے کہ مبینہ طور پر پٹھانوں کے ایک گروہ نے مہاجروں کی ایک بستی پر حملہ کیا اور درجنوں لوگوں کو مار ڈالا۔ اُس وقت غوث علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ تھے۔ موصوف نے چھے گھنٹے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متاثرہ علاقے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ سانحہ علی گڑھ کے ذمے دار ’’پٹھان‘‘ کون تھے؟
کراچی میں کتنے بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ہوئی ہے اس کا پنجاب، کے پی کے، بلوچستان، یہاں تک کہ دیہی سندھ کے لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہے۔ سندھ رینجرز کے سابق سربراہ میجر جنرل محمد سعید نے اے آر وائی کو انٹرویو دیتے ہوئے ابھی حال ہی میں کہا ہے کہ گزشتہ 35 برسوں کے دوران کراچی میں 92 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان نے بھارت سے چار چھوٹی بڑی جنگیں لڑی ہیں، اور ان چار جنگوں میں 92 ہزار افراد ہلاک نہیں ہوئے۔ تاتاریوں نے بغداد کو تاراج کیا مگر ایک اندازے کے مطابق انہوں نے بغداد میں پچاس سے ساٹھ ہزار افراد کو قتل کیا۔ دِلّی پر نادر شاہ نے حملہ کیا تو دِلّی میں 92 ہزار افراد ہلاک نہیں ہوئے، انگریزوں نے دِلّی کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو ایک محتاط اندازے کے مطابق دِلّی میں 25 ہزار افراد شہید ہوئے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی حکمرانی میں اہلِ کراچی نے 35 برسوں میں 92 ہزار لاشیں اٹھائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اس کشت و خون کے دوران ہم ایک رات اپنی اہلیہ کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نارتھ ناظم آباد کے ایک علاقے میں نکلے تو ہر پچیس تیس قدم کے بعد وہ مقام آجاتا تھا جہاں سے کوئی نہ کوئی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ہم اس فضا میں سینکڑوں بار دفتر سے گھر لوٹے تو دس کلومیٹر کے سفر کے دوران ہمیں راستے میں انسان کیا، کتا بھی نہیں ملتا تھا۔ کراچی کے کتے تک ’’تجربے‘‘ سے جان گئے تھے کہ رات کے وقت کراچی غیر محفوظ ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی شہروں نے بدامنی دیکھی ہے بلکہ وہ جنگ کے تجربے سے گزرے ہیں۔ اس تجربے میں کوئی نہ کوئی گلی کسی نہ کسی کے لیے غیر محفوظ ہوتی تھی۔ مثلاً بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو کی کچھ گلیاں مسلمانوں کے لیے، اور کچھ گلیاں سربوں اور کروٹس کے لیے غیر محفوظ تھیں، مگر گزشتہ 35 سال کے دوران کراچی کی ہر گلی دشمن کی گلی بنی ہوئی تھی۔ اس لیے کہ کراچی کی ہر گلی میں آپ کے قتل ہونے کا اندیشہ موجود تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادت، اور گزشتہ 35 سال کے دوران اہم عہدوں پر فائز رہنے والے اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ اہلکار اگر آخرت میں دوسرے الزامات سے بری ہو بھی گئے تو کراچی کی قتل و غارت گری ان کی آخرت کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہوگی، اور یہ لوگ جہنم کا ایندھن ضرور بنیں گے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ میں کوٹا سسٹم متعارف کراکے کراچی پر بڑا ظلم کیا۔ بدقسمتی سے کوٹا سسٹم کے حوالے سے نہ مہاجر انصاف کی بات کرتے ہیں، نہ سندھی انصاف کی بات کرتے ہیں۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ کوٹا سسٹم 20 سے 25 سال کے لیے سندھ کی ضرورت تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مہاجروں میں علم اور اہلیت کی سطح سندھیوں سے بلند تھی، اور سندھی نوجوان میرٹ پر مہاجر نوجوانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ کوٹا سسٹم کے ذریعے سندھی نوجوانوں کی دو تین نسلوں کو ’’معاشی تحفظ‘‘ فراہم کرنا ضروری تھا۔ مگر بدقسمتی سے کوٹا سسٹم کو ’’دائمی‘‘ بنادیا گیا۔ یہ مہاجر نوجوانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ ہم نے آج سے 20 سال پہلے جسارت کے ایک اداریے میں لکھا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت سندھی نوجوانوں کو دائمی طور پر کوٹا سسٹم کی چھتری کے نیچے رکھ کر اُن پر ظلم کررہی ہے۔ اس لیے کہ دنیا نجی شعبے کی معیشت کی طرف مراجعت کررہی ہے، اور نجی شعبے میں وہی کامیاب ہوگا جو اہل ہوگا۔ نجی شعبے میں کوئی کوٹا سسٹم نہیں ہوگا۔ اتفاق سے یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ آج ’’پبلک سیکٹر‘‘ سکڑ رہا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر پھیل رہا ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ کراچی ملک کو مجموعی قومی آمدنی کا 60 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر پورا ملک سال میں سو روپے کماتا ہے تو اس رقم میں سے 60 روپے کراچی سے مہیا ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ کراچی 100 روپے میں 60 روپے نہیں بلکہ 70 روپے کماکر دیتا ہے۔ لیکن چلیے ہم 60 روپے ہی کو درست مان لیتے ہیں۔ مثلاً کراچی ملک کے 100 روپے میں 60 روپے پیدا کرتا ہے، مگر پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے کبھی قومی آمدنی سے 5 روپے بھی کراچی پر صرف نہیں کیے۔ کراچی میں اس ظلم کے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں وہ ہولناک ہیں۔ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ ہے، اور اس آبادی میں ایک کروڑ20لاکھ لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ کراچی کو روزانہ ایک کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے، مگر اسے بمشکل 65 لاکھ گیلن یومیہ پانی فراہم ہورہا ہے۔ یعنی شہر کی نصف آبادی 35 سال سے پانی کو ترس رہی ہے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر میں ٹریفک کے مسئلے کو سرکلر ریلوے، زیرزمین ریل کے نظام اور بڑی بسوں کے بڑے بیڑے کے ذریعے قابو میں لایا جارہا ہے، مگر کراچی میں نہ سرکلر ریلوے موجود ہے، نہ ریل کا زیرِ زمین نظام موجود ہے، یہاں تک کہ اب شہر میں بڑی بسوں کا بیڑا بھی موجود نہیں۔ 1990ء کی دہائی میں 22 ہزار بڑی بسیں موجود تھیں، مگر اِس وقت کراچی میں صرف 6 ہزار بڑی بسیں موجود ہیں، حالانکہ 1990ء میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ تھی، اور اِس وقت ڈھائی کروڑ ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ کراچی میں رکشا کی سواری ’’سستی‘‘ تھی، مگر اِس وقت یہ صورتِ حال ہے کہ کراچی میں رکشے والے ڈیڑھ دو کلومیٹر تک سفر کے بھی 100 روپے مانگتے ہیں۔
کراچی میں صفائی کا یہ عالم ہے کہ شہر کا نصف کچرا اٹھایا ہی نہیں جاتا، چنانچہ پورے شہر میں کوڑے کے ڈھیر موجود نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی صفائی مہم بھی ’’اشک شوئی‘‘ کے سوا کچھ ثابت نہ ہوسکی۔ کراچی کا نکاسیِ آب کا نظام 50 سال پرانا ہوچکا ہے، چنانچہ کراچی میں جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں، گلی محلے کی سڑکیں ہی نہیں، مرکزی شاہراہیں تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کراچی کے ہر ضلع کا حال خراب ہے مگر ’’ضلع وسطی‘‘ تو ’’ضلع پستی‘‘ کا منظر پیش کررہا ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ ملعونہ آسیہ کی رہائی کے سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ سپریم کورٹ، نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو ’’ایک پیج‘‘ کیا ’’ایک سیج‘‘ پر لے آئی تھی۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسئلہ آیا تو اسٹیبلشمنٹ چند دن میں تحریک انصاف، نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو ’’ایک سیج‘‘ پر لے آئی، مگر کراچی اور اس کی ڈھائی کروڑ آبادی کو روتے، بلکتے، سسکتے 35 سال ہوگئے، مگر اسٹیبلشمنٹ کراچی کی ابتری کے ذمے داروں کو ’’ایک سیج‘‘ کیا ’’ایک پیج‘‘ پر بھی نہیں لاسکی۔ اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کراچی کی تباہی و بربادی اور اس کی المناکی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی “Strategic interest” ہے؟ ٹھیک اسی طرح جس طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی حکمران طبقے میں موجود پنجابی، پشتون اور مہاجر اشرافیہ کا”Strategic interest” تھی۔ مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا تو 56 فیصد ہونے کی وجہ سے بنگالیوں ہی کو ملک کا حکمران ہونا تھا۔
پاکستان کے حکمران طبقے نے کراچی کی مردم شماری کو بھی ایک تماشا بنادیا ہے۔ گزشتہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ دکھائی گئی ہے، حالانکہ کراچی کی آبادی کسی طرح بھی ڈھائی کروڑ سے کم نہیں۔ اس طرح مردم شماری کرنے والوں نے اعداد و شمار کے ذریعے کراچی کی ’’نسل کُشی‘‘ کر ڈالی ہے۔ کسی کہنے والے نے خوب کہا ہے کہ جھوٹ کی تین اقسام ہوتی ہیں: جھوٹ، سفید جھوٹ اور اعداد و شمار۔ بدقسمتی سے مردم شماری کرنے اور کرانے والوں نے آبادی کے حوالے سے کراچی کے سر پر اعداد و شمار کے جھوٹ کی ضرب لگائی ہے۔
ایک وقت تھا کہ کراچی سے زیادہ وسیع القلب اور وسیع المشرب شہر پاکستان میں موجود نہیں تھا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ مہاجر لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تو سندھیوں نے کھلے دل کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے مہاجروں کے لیے انصار کا کردار ادا کیا۔ 1960ء کے بعد کراچی میں پشتونوں اور پنجابیوں کی آمد شروع ہوئی تو کراچی نے ان کو بھی اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ کراچی میں افغان مہاجرین، بنگالی اور برمی آئے تو کراچی نے ان کے لیے بھی دامن کشادہ کیا۔ اسی لیے کراچی ’’منی پاکستان‘‘ کہلایا۔ بلکہ کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان تو کراچی کو ’’منی عالم اسلام‘‘ کہا کرتے تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی پورے پاکستان کے لیے قومی اور ملّی اتحاد کی سب سے بڑی علامت اور ایک زندہ مثال تھا، مگر اسٹیبلشمنٹ نے کراچی میں لسانی نفرت کی آندھیاں کاشت کردیں۔ ایم کیو ایم کل بھی اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی تھی اور آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی ہے۔ اس کے تمام دھڑے اسٹیبلشمنٹ ہی سے کنٹرول ہورہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ کراچی لسانی تعصبات کی کھائی سے نکلے۔ اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کراچی میں ’’الطاف حسین مُردہ باد‘‘ اور ’’ایم کیو ایم زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ بھی یقیناً اسٹیبلشمنٹ کا کوئی Strategic Interest ہوگا۔
یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنے ڈیڑھ سال ہوا ہے، مگر ہم آپ کو ایسے سینکڑوں کالم اور ٹاک شوز نکال کر دکھا سکتے ہیں جن میں اس بات کا ماتم کیا گیا ہے کہ عثمان بزدار سے پنجاب نہیں چل رہا، عثمان بزدار نے پنجاب کو تباہ کردیا۔ لیکن کراچی میں گزشتہ 35 سال میں 92 ہزار لاشیں گر گئیں، ڈھائی تین لاکھ سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے، کھربوں کا بھتہ لے لیا گیا، شہر میں بوری بند لاشوں کا ’’کلچر‘‘ عام ہوگیا، لسانی تعصبات شہر کی روح کو کھاگئے۔ شہر پانی، ٹرانسپورٹ اور نکاسیِ آب کی سہولتوں سے محروم ہے۔ یہاں تک کہ شہر ’’کچرا کنڈی‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ مگر قومی صحافت میں کراچی گزشتہ 35 سال سے کہیں زیر بحث نہیں۔ ہم آپ کو حسن نثار کے ایک درجن ایسے کالم نکال کر دکھا سکتے ہیں جن میں انہوں نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی تعریفوں کے پُل تعمیر کیے ہیں۔ ہمیں مجیب الرحمٰن شامی کا ایک کالم یاد آرہا ہے جس میں ایم کیو ایم کا جبر اور ظلم تو نظر نہیں آیا تھا البتہ انہیں ایم کیو ایم کے ’’ڈسپلن‘‘ نے بڑا متاثر کیا تھا، اس لیے کہ الطاف حسین جیسے ہی جلسے میں ’’ایک، دو، تین‘‘ کہتے تھے جلسے میں سناٹا چھا جاتا تھا۔ ہمیں یاد ہے ممتاز صحافی ارشاد احمد حقانی سے برادرِ عزیز یحییٰ بن زکریا نے لاہور میں پوچھا کہ آپ ہر موضوع پر لکھتے ہیں مگر کراچی کے مسئلے پر نہیں لکھتے؟ یہ سن کر حقانی صاحب نے فرمایا ’’بھائی میں نے سنا ہے کہ الطاف حسین تنقید کرنے والوں کو مروا دیتا ہے‘‘۔ ہم نے پڑھا ہے کہ مشرقی پاکستان سقوطِ ڈھاکا کی طرف بڑھ رہا تھا اور پاکستانی پریس خاموش تھا، یا مشرقی پاکستان میں فوج کے لیے محبت کے زمزمے بہا رہا تھا۔ کراچی 35 سال سے تباہ ہورہا ہے اور پورا قومی پریس کراچی کے حوالے سے خاموش ہے۔ اس نے حال ہی میں کچھ زبان کھولی ہے، مگر اس لب کشائی میں نہ گہرائی ہے نہ وسعت، نہ جامعیت ہے نہ شدت۔
ایک وقت تھا کہ اہلِ کراچی صرف ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو قبضہ مافیا سمجھتے تھے، مگر اب چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا ہے کہ انہیں DHA کراچی کی پوری کہانی معلوم ہے اور اگر تحقیقات کرائی جائیں تو پورا DHA فارغ ہوجائے گا۔ اس پر ایک پرانا شعر یاد آیا:۔

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

Share this: