اقبال صاحبِ حال

Print Friendly, PDF & Email

۔’’بزمِ اقبال‘‘ کا قیام 1950ء میں اُس وقت کے گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر کے ایماء پر عمل میں لایا گیا، تاکہ مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال… جنہوں نے فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کی اہمیت پر زور دے کر پاکستان کی ثقافتی و روحانی میراث سے اس کا رابطہ قائم کیا… کے فرمودات و خیالات عام کیے جائیں اور ان کی تصنیفات سے دنیا کو آگاہ کیا جائے۔ اپنے قیام کے بعد کچھ عرصے تک ’’بزمِ اقبال‘‘ نے اپنے مقاصد کے حصول، پیغامِ اقبال کو عام کرنے اور نئی نسل کو اس سے روشناس کرانے کے لیے فعالیت سے خدمات انجام دیں اور سہ ماہی مجلہ ’’اقبال‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کی حیات اور افکار کے مختلف پہلوئوں سے متعلق ڈھائی سو سے زائد کتب بھی شائع کیں۔ بزم نے اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں علامہ اقبال کی شاعری، خطبات اور دیگر تصنیفات کے ترجمے کا بھی اہتمام کیا، اور اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی، پنجابی اور دیگر زبانوں میں بھی کتب شائع کی گئیں۔ اہلِ فکر و دانش میں ’’بزمِ اقبال‘‘ کی ان خدمات کو ستائش کی نظر سے دیکھا گیا اور علمی، ادبی اور فکری حلقوں نے ان کی پذیرائی میں بھی کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ مگر پھر بہت سے دیگر اداروں کی طرح ’’بزمِ اقبال‘‘ بھی اربابِ اختیار کی عدم توجہی کا شکار ہوئی، جس کے سبب نہ صرف اس کی کارکردگی انحطاط سے دوچار ہوئی، بلکہ بزم کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔ تاہم مقامِ شکر ہے کہ جب سے ملک کے سینئر ترین صحافیوں میں شمار ہونے والی شخصیت محترم ریاض احمد چودھری نے ادارے کے ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، وہ بزمِ اقبال کو متحرک اور فعال بنانے کے لیے شب و روز کوشاں ہیں، اور اب ان کی کوششیں رنگ بھی لاتی دکھائی دے رہی ہیں، وہ ادارے کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی میں خاصی حد تک پیش رفت کرچکے ہیں اور بزم نے مختلف النوع سرگرمیوں کا بھی ازسرنو آغاز کردیا ہے، جن میں سے ایک اقبال ؒ اور افکارِ اقبال سے متعلق کتب کی اشاعت بھی ہے۔ ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی مرحوم کی ’’اقبالؒ صاحبِ حال‘‘کی اشاعت اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی مرحوم بنیادی طور پر ایک صحافی تھے اور زندگی کا ایک حصہ ایک قومی اخبار میں خدمات انجام دینے کے بعد جامعہ پنجاب لاہور کے مرکز مطالعاتِ جنوبی ایشیا سے وابستہ ہوگئے تھے، یہاں رہتے ہوئے انہوں نے اپنا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے۔ اقبال صاحبِ حال بھی ان کے تین تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے جس میں ’’اقبالؒ صاحبِ حال‘‘، ’’اقبال ؒ اور مشاہدۂ حق‘‘ اور ’’زوال سے اقبالؒ تک‘‘ شامل ہیں۔ کتاب کے آغاز میں فرزندِ اقبالؒ جسٹس (ر) جاوید اقبال مرحوم کے ایک خط کا عکس بھی شائع کیا گیا ہے جس میں وہ ڈاکٹر جہانگیر تمیمی کی کاوش کی ان الفاظ میں تحسین کرتے ہیں: ۔
’’محترمی و مکرمی جناب ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی صاحب! السلام علیکم۔ آپ کی ارسال کردہ کتاب ’’اقبال اور مشاہدۂ حق‘‘ موصول ہوگئی اور میں نے اسے بڑے شوق سے پڑھ بھی لیا۔ آپ نے حضرت علامہ کے اس نہایت مشکل پہلو کو بڑے اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔ فکرِ اقبال کے اس پہلو پر وہی شخص تحریر کرسکتا ہے جسے خود بھی روحانی تجربہ ہوا ہو۔ بہرحال یہ تصنیف ایک اچھی کوشش ہے۔ امید ہے اُن حلقوں میں پسند کی جائے گی جو روحانی تجربے سے گزرے ہوں۔
خیر اندیش۔ جاوید اقبال‘‘
حکومتِ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری سید مبشر حسین جن کی مساعی کو اس کتاب کی اشاعت میں خصوصی دخل ہے، کتاب کے ابتدائیہ میں ہدیۂ تحسین پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:۔
’’اقبال صاحب حال‘‘ پوری کی پوری کتاب عشق و مستی میں ڈوبی ہوئی بھی ہے اور وفورِعشق کا اظہار بھی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے جملہ مراحل فیضانِ نظر اقبال کا سلسلہ ہیں، سچائی کی تلاش اور اس کے اظہار کا صدقۂ جاریہ بھی ہیں۔ اللہ رب العزت جذبوں اور عقیدتوں سے بھری ہوئی اس کوشش کو اپنی بارگاہ بے کس پناہ میں شرفِ قبولیت بخشے (آمین)۔‘‘
عدالتِ عالیہ کے سابق جج نذیر احمد غازی دیباچہ میں لکھتے ہیں:۔
’’ ڈاکٹر جہانگیر تمیمی نے مولانا مودودیؒ کی تحریر کا ایک اقتباس ایک حوالے سے درج کیا ہے، آپ بھی پڑھیے:۔
’’مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت جتنا وہ مسلمان تھا اُس کے منجدھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ مسلمان پایا گیا، اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ جب اس کی تہ میں پہنچا تو زمانے نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہوچکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا۔ وہ جو سوچتا قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا، جو کچھ دیکھتا تھا قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔‘‘
دیباچہ کا اختتام وہ ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’ڈاکٹر جہانگیر تمیمی نے اقبالؒ کا حال بیان کرکے اہلِ محبت کی آرزو کی شرح کی ہے۔ جذباتیت اور ورود کیفیت کا یہ انداز ان کی طبیعت کا میلان ہے، لیکن حقیقت بیانی میں وہ کہیں بھی بے وزن نہیں ہوتے۔ صاحبِ حال کا حال بیان کرتے ہوئے صاحبِ قلم بھی حالتِ کیفِ ایمان میں مستغرق ہو تو تاثیر کا میدان وسیع ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر جہانگیر تمیمی اہلِ تنقید سے یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے ہیں:۔

رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے‘‘

’بزمِ اقبال‘ نے یہ کتاب محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومتِ پنجاب کے تعاون سے عمدہ سفید کاغذ پر مضبوط جلد کے ساتھ نہایت اہتمام سے شائع کی ہے اور موضوع سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ فکر و نظر کے لیے ایک قابلِ قدر تحفے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں علامہ اقبالؒ کی شخصیت کے ایک منفرد پہلو سے نقاب کشائی کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ علمی، فکری اور خصوصاً روحانی حلقوں میں ’’اقبال صاحبِ حال‘‘ کی خاطر خواہ پذیرائی کی جائے گی۔

Share this: