کشمیری خواتین کا یومِ مزاحمت

Print Friendly, PDF & Email

بھارت دنیا بھر میں اپنے حامیوں اور صنعت کاروں، سرمایہ کاروں کو باور کرا رہا ہے کہ آئین کی دفعہ 370 کا خاتمہ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے ہدف کے حصول کی طرف پہلا قدم تھا، اور اس کا اگلا ہدف پاکستان ہے۔ جموں و کشمیرکو جو مرکزی دھارے میں نہیں تھا، مکمل طور پر بھارت کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر میں ڈومیسائل قانون بہت جلد آنے والا ہے، جس کے بعد زمینی ایکٹ کی بھی منظوری دی جائے گی۔ جموں کے سی آئی ایس آر انسٹی ٹیوٹ آف انٹی گریٹو میڈیسن میں کینیڈین دوا ساز کمپنی کے ساتھ بھنگ سے دوا تیار کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں بھنگ کی کاشت کاری کرکے اسے دوا سازی کے لیے استعمال کیا جائے گا، ان دوائوں کا استعمال متعدد بیماریوں کے علاج کے لیے ہوگا۔ جموں وکشمیر میں بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے گلوبل انویسٹرز سمٹ ہونے جارہا ہے، جس کے لیے جموں وکشمیر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران پورے ملک کا دورہ کررہے ہیں۔ کینیڈین دوا ساز کمپنی کے ساتھ معاہدے کے لیے دو سال پہلے بات چیت شروع ہوئی تھی۔ ریاست میں دفعہ 370 نافذ ہونے کی وجہ سے ریاست میں سرمایہ کاری کے کاموں میں مشکلات حائل ہوتی تھیں، ریاست میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کاروبار کرنا آسان ہوگیا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری، ریاست میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ بھنگ سے ادویہ تیار کرنے سے جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ریاست میں بھنگ آسانی سے کاشت کی جاتی ہے اور اب اس کو لوگوں کی جان بچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ 2019ء میں آسٹریلیا نے بھی بھنگ سے کینسر کا علاج ممکن بنانے کے لیے ہونے والی تحقیق کے لیے دو ملین ڈالر سے زائد فنڈز فراہم کیے تھے۔ بھنگ سے بنی ادویہ اور مصنوعات کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
وادی کے اس پس منظر میںکشمیری خواتین کا یوم مزاحمت اتوار کو لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف منایا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے جڑواں دیہات کنن اور پوش پورہ میں بڑے پیمانے پر عصمت دری اور تشدد سے بچ جانے والوں کی جدوجہد سے متاثر ہوکر 2014ء کے بعد سے ہر سال اس دن کو کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 27 سال پہلے 1991ء میں 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب انڈین آرمی نے وادی کشمیر کے کنن اور پوش پورہ گائوں میں سرچ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر 23 سے 100 کشمیری خواتین کا گینگ ریپ کیا تھا، اور مردوں پر بھی بے دردی سے جسمانی تشدد کیا گیا۔ کنن اور پوش پورہ سے بچ جانے والوں کی تین دہائیوں سے جاری جدوجہد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی ریاست کے تنظیمی اور ساختی تشدد کے خلاف جاری وسیع جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اس دن کے سلسلے میں ایک سترہ سالہ کشمیری لڑکی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم تحریکِ آزادی کے دوران اپنے مردوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور جب تک آزادی حاصل نہیں ہوگی، نہیں رکیں گے۔ 2013ء میں مشہور وکیل اور ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ پرویز امروز کی نگرانی میں خواتین نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل رٹ دائر کی، جب ہائی کورٹ نے ان کی شناخت مانگی تو پچاس عورتوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ فوج نے نومبر 2013ء میں کپواڑہ کورٹ میں اس کیس کو بند کرنے کے لیے ایک رٹ دائر کی جس کو کورٹ نے خارج کردیا۔ اس کے بعد فوج نے بڑے ہتھکنڈے استعمال کیے اور کنن اور پوش پورہ میں دھماکہ بھی کرایا تاکہ یہ لوگ ڈر کے مارے اس کیس کو واپس لے لیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ مئی 2014ء میں ہائی کورٹ کی جانب سے ایک حکم صادر ہوا جس میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ اس کیس کو خود دیکھے گی کیونکہ پولیس اس کیس کی تفتیش میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس کیس کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جو اس کیس کی تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔ یہ چوبیس سال میں واقعی ان لوگوں کے لیے فتح تھی جو اس کیس کو ایک اسٹیٹ اور طاقت کے خلاف بہادری کے ساتھ لڑتے آرہے تھے۔ اس لیے 23 فروری 2013ء کو پہلی بار یوم مزاحمت خواتین کشمیر منایا گیا، جو اب ہر سال منایا جاتا ہے۔ القمر آن لائن کے مطابق اسی دن ڈی سی یاسین نے اس کیس کی حقیقت سب کے سامنے رکھ دی تھی۔ ڈی سی یاسین کی رپورٹ سچائی پر مبنی ہے جس کو وقتاً فوقتاً مسترد کیا گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ اس دن کے حوالے سے جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 2300 سے زائد خواتین کو شہید کیا۔ جنوری 2001ء سے اب تک کم سے کم 670خواتین شہید ہوئیں۔ 1989ء میں علیحدگی کی جدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اُن کے ساتھ زیادتی کی گئی، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9 فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1989ء سے اب تک 22,905 خواتین بیوہ ہوئیں، جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,140خواتین کی بے حرمتی کی۔ کشمیری مزاحمتی رہنمائوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ہمیشہ سانحہ کنن، پوش پورہ اجتماعی عصمت دری اور سانحہ شوپیاں سمیت خواتین کے خلاف عصمت دری، قتل اور انسانی حقوق کی پامالی کے دیگر واقعات کی غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ فروری 1991ء میں کپواڑہ کے کنن، پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں نے 100 سے زائد خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی، جبکہ دو خواتین آسیہ اور نیلوفر کو مئی 2009ء میں شوپیاں میں وردی میں ملبوس بھارتی اہلکاروں نے اغوا کیا، زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد قتل کردیا، جبکہ گزشتہ سال جموں کے علاقے کٹھوعہ میں 9 سالہ بچی آصفہ کی بھارتی پولیس اور ایک ہندو پجاری نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنوں کے دوران پیش آئے۔ ایچ آر ڈبلیو کی ایک اوررپورٹ کے مطابق کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسدادِ بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو ’’کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر‘‘ قرار دیا ہے۔ 8جولائی 2016ء کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ و طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنوںکے استعمال سے زخمی ہوچکے ہیں۔آزادی پسند رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت متعدد خواتین نظربند ہیں۔ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے، جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتا ہیں۔

Share this: