شجرہائے سایہ دار

Print Friendly, PDF & Email

زیر نظر کتاب ’’شجرہائے سایہ دار‘‘ حیاتِ مودودیؒ کے سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے، کیونکہ یہ مولانا کے اہلِ خانہ نے تحریر کی ہے، اور یہ اس کا چودھواں ایڈیشن ہے جو اہتمام کے ساتھ طبع کیا گیا ہے۔ مرتب جناب سلیم منصور خالد تحریر فرماتے ہیں
۔’’2003ء، تذکارِ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حوالے سے ایک یادگار سال تھا۔
سیّدی [3 رجب 1321ھ/ 25 ستمبر 1903ء۔ 30 شوال1399ھ/ 22 ستمبر 1979ء] کے صد سالہ سالِ ولادت کو حوالہ بناتے ہوئے، اس برس کے دوران نہ صرف پاکستان میں، بلکہ بیرونِ ملک بھی مختلف علمی اداروں نے مذاکروں، مضامین، مقالات اور مطبوعات کے ذریعے بھی اس بطلِ جلیل کی علمی و دینی خدمات کا اعتراف کیا۔ یہ اعتراف اور یہ تذکرہ، مرحوم کی ایمانی غیرت، مجاہدانہ جرأت اور علمی بصیرت کی سچائی کا مظہر ہے۔ سید مودودیؒ انہی مردانِ راہ میں سے تھے، جن کے بارے میں اقبال کہہ گئے ہیں:۔

نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے

ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور کی دو خصوصی اشاعتیں (اکتوبر 2003ء اور پھر اپریل 2004ء) اسی تذکرے کا ایک حصہ تھیں۔ مذکورہ خصوصی اشاعتوں میں قوسِ قزح کے رنگ تھے، پاکیزہ جذبوں کی آنچ تھی اور رہوارِ قلم کو روک روک کر چلنے کا قرینہ تھا۔
انہی مضامین میں سید محترم کی صاحبزادی سیدہ حمیرا خاتون صاحبہ کا مضمون ’’شجرہائے سایہ دار‘‘ سامنے آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ صبر سے گندھے، آنسوئوں سے لکھے اور خوشبو میں ڈھلے اس نثرپارے میں ایک عبدِ رحمٰن اور عاشقِ رسولؐ کی زندگی کا ایک عکس تھا:۔

ارمغانِ آخرت ہے، لذتِ عشقِ رسولؐ

’’ترجمان القرآن‘‘ کا دامن ایک مختصر مضمون کی گنجائش ہی نکال سکتا تھا، لیکن طلب کی شدت کا تقاضا تھا کہ اس گلدستے میں مزید پھول سجائے جائیں۔ مسلسل تقاضوں کے جواب میں، یادوں کے چمن سے جو پھول کھلتے گئے، انہیں یک جا کرتا گیا تو اس مضمون کا حجم بارہ، تیرہ گنا تک بڑھ گیا۔ ان یادداشتوں کی تدوین کے دوران ممکن حد تک تحقیق و جستجو سے کام لیا، اور پھر انہیں کتابی صورت دے دی گئی ہے۔ اس تعاون پر ہم محترمہ سیدہ حمیرا خاتون کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے عظیم والدین کی زندگی کے اُن گوشوں تک قارئین کی رسائی ممکن بنائی ہے کہ جن میں رہنمائی کے بے شمار آثار نمایاں اور رنگ جگمگا رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ کتاب سید مودودیؒ اور ان کے اہلِ خانہ کی رودادِ زندگی کا ایک عکس ہے۔
2010ء میں اس کتاب کی اشاعت کے کچھ ہی عرصے بعد سب سے پہلے اس کا بنگالی میں ترجمہ ڈھاکا سے شائع ہوا۔ پھر ڈاکٹر نور محمد جمعہ نے فارسی، تاجک اور عربی میں ترجمہ کیا، ترکی اور تامل میں بھی ترجمہ شائع ہوا، جب کہ جناب طارق جان نے کتاب کے خاصے حصے کو انگریزی میں ڈھالا۔ 2019ء میں اس کتاب کو چند اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس صدقۂ جاریہ کو قبولیت عطا فرمائے۔ سید مودودیؒ نے زندگی کا ایک ایک لمحہ، اپنے سارے رشتے اور اپنے تمام جذبات، جس مقصدِ حیات کی نذر کردیے، اللہ تعالیٰ اس شمعِ حق کو فروزاں رکھے اور اس کتاب کو قافلے کی راست روی پر گامزن رہنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین‘‘۔
اس قسم کی مبارک کتب کو پڑھنے سے راستے روشن ہوتے ہیں، عملِ صالح کو تحریک اور جہدِ مسلسل کی تشویق ہوتی ہے۔ ہدایت اللہ جل شانہٗ کے پاس ہے، وہی ہادی و مُعز ہے۔ اعمال وہی اچھے ہیں جو دنیا اور آخرت میں نافع اور وزن دار ہوں۔ سیدہ حمیرا مودودی کے قلم سے یہ دل دوز اور جگر سوز تحریر اردو ادب کے لیے باعثِ شرف ہے۔ سیدہ تحریر فرماتی ہیں:۔
’’والدِ محترم سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ملّتِ اسلامیہ کا سرمایہ تھے، اور ان کی یادیں بھی ملّت کی امانت ہیں۔ اسی سلسلے میں کچھ یادداشتیں ماہ نامہ ترجمان القرآن، لاہور کی اشاعتِ خاص (مئی 2004ء) میں پیش کی تھیں۔
دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا بہت آسان ہے، لیکن خود صبر کرنا بہت مشکل کام ہے۔ صبر سب سے کڑوا گھونٹ ہے، اور میں نے اپنی دادی اماں اور اپنے والدین کو ساری زندگی یہ تلخ گھونٹ قطرہ قطرہ پیتے اور کمال صبر کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے۔ اس طرح یہ داستان صبر کے گھونٹوں کی داستان ہے۔ آنکھ میں ہے وہ قطرہ جو گہر نہ بن سکا، لیکن یہ آنسو آنکھوں ہی میں رہے، کبھی پلکوں سے ٹپکنے نہ پائے… انہیں کبھی ٹپکنے کی اجازت نہیں دی گئی! کیونکہ دادی اماں نے کہہ دیا تھا: ’’روتے کے ساتھ کوئی روتا نہیں ہے، جب کہ ہنستوں کے ساتھ سب ہنستے ہیں۔ رونے والوں کا تو دنیا صرف تماشا دیکھتی ہے!‘‘
بیسویں صدی اس اعتبار سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی صدی تھی کہ انہوں نے افکار کی دنیا میں انقلاب برپا کیا اور عالمِ اسلام کی بیش تر دینی تحریکوں نے ان کی برپا کی ہوئی تحریک سے غذا حاصل کی۔ کسی مصنف کی عظیم تخلیقات تب ہی وجود میں آتی ہیں، جب اس کے قریب ترین لوگ اسے ذہنی سکون اور آسودگی فراہم کرتے ہیں۔
زیر نظر کتاب محض یادوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ایک بطل جلیل (جن کو سید قطب شہیدؒ نے اپنی معرکہ آرا تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں ’’المسلم العظیم‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے) اور ایک عظیم سپوت کے عظیم والدین اور ان کی عظیم شریکِ حیات کے صبر و ثبات کی داستانِ عزیمت ہے۔ اس عظیم اسلامی تحریک کے داعی کا تعلق اس گھر سے تھا، جس میں چھوٹے چھوٹے نو بچے تھے، والدہ تھیں اور انتہائی کمزور صحت والی دمے کی مریضہ شریکِ حیات تھیں… اگر اس گھر کے مکین ایک لمحے کے لیے بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے، تو یہ سب کچھ ایسے نہ ہوتا جیسا کہ آج نظر آرہا ہے۔
تحریک، عمل اور قیادت کا تعلق بہرحال انسانوں اور ان کے رویوں سے ہوتا ہے۔ کوئی محاذ کی پہلی صف میں اور کوئی پچھلی صف میں ہوتا ہے، اور بعض بظاہر محاذ پر بھی نظر نہیں آتے، مگر معرکے میں ان سبھی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ یہ داستان دراصل قربانی اور خودداری کی داستان ہے۔ ’’اس گھر‘‘ کی ایک جھلک اس کتاب میں آگئی ہے، جس سے قارئین کو کچھ تھوڑا سا اندازہ ہوپائے گا کہ:۔

کیا ’گزرتی‘ ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

رسالے کے محدود صفحات کی بنا پر ’’شجرہائے سایہ دار‘‘ (دادی اماں، ابا جان اور اماں جان) کے بارے میں کچھ زیادہ نہ لکھا جاسکا تھا… چنانچہ کتاب کے مرتب کے مسلسل اصرار اور والہانہ شوق کے نتیجے میں، اس مضمون کو نظرثانی اور کافی اضافوں کے بعد قارئین کی نذر کیا جارہا ہے‘‘۔
اللہ جل شانہٗ نے سیدہ حمیرا مودودی کو قلمِ وقیع عطا کیا ہے جس سے وہ اردو اور عربی میں نثر وقیع ایک خاص ادبی اسلوب میں تحریر فرماتی ہیں۔ عرصہ ہوا ہمارے محلے میں ایک اسٹیشنری کی دکان پر رسائل بھی آتے تھے جن میں عربی اور فارسی رسائل بھی ہوتے تھے، ان میں ایک رسالہ ’’المسلمون‘‘ بھی ہوتا تھا جو ایک ہفت روزہ تھا اور اس وقت غالباً جدہ سے شائع ہوتا تھا۔ اس میں کئی قسطوں میں مولانا پر عربی میں مقالہ سیدہ حمیرا کے قلم سے شائع ہوا۔ جس دن رسالہ آنے کا امکان ہوتا راقم دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر آتا جاتا رہتا۔ کئی قسطیں راقم نے اسی طرح خریدیں۔ ان کے پاس یہ مضمون ہوگا، جناب سلیم منصور خالد اس طرف توجہ فرمائیں اور اس کو بھی اپنے مکتبے سے شائع کریں۔ خوش قسمتی سے اس کتاب کا ترجمۂ فارسی اپنے ہاں نکل آیا، اس کا ٹائٹل بھی اس تعارف کے ساتھ دے رہے ہیں۔ فارسی میں جناب نور محمد امراء نے اس کا خوب صورت فارسی ترجمہ کیا ہے جو نشرِ احسان تہران سے شائع ہوا ہے، تین ہزار کی تعداد میں طبع کیا گیا ہے۔ چند اردو فقروں کا فارسی ترجمہ قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش خدمت ہے۔
سیدہ حمیرا مودودی نے تحریر کیا:۔
’’دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا بہت آسان ہے، لیکن خود صبر کرنا بہت مشکل کام ہے۔ صبر سب سے کڑوا گھونٹ ہے اور میں نے اپنی دادی اماں اور اپنے والدین کو ساری زندگی یہ تلخ گھونٹ قطرہ قطرہ پیتے اور کمال صبر کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے۔ اس طرح یہ داستان صبر کے گھونٹوں کی داستان ہے۔ آنکھ میں ہے وہ قطرہ جو گہر نہ بن سکا، لیکن یہ آنسو آنکھوں ہی میں رہے، کبھی پلکوں سے ٹپکنے نہ پائے… انہیں کبھی ٹپکنے کی اجازت نہیں دی گئی! کیونکہ دادی اماں نے کہہ دیا تھا: ’’روتے کے ساتھ کوئی روتا نہیں ہے، جب کہ ہنستوں کے ساتھ سب ہنستے ہیں۔ رونے والوں کا تو دنیا صرف تماشا دیکھتی ہے!‘‘
جناب نور محمد امرا نے اس اقتباس کا درج ذیل ترجمہ کیا:۔
’’صبر، تلخ ترین شرابِ وجوداست و باچشمان خود نظارہ کر بودم کہ چکونہ مادر و مادر بزرگم قطرہ قطرۂ آن سرمی کشیدند۔ این خاطرات داستان آن قطرہ ھائی تلخ صبر است، قطرہ ھائی اشکی کہ نہ درچشمان امید بہ گوھر بدل شدند و نہ پلکان صبر و مژگان استقامت بدانھا اجازۂ بیرون پریدن دادند! زیرا مادر بزرگ فی گفت: بافرد گریان کسی نمی گرید، ولی باخندان ھمہ می خندند، پس بخند تا دنیا بہ رویت بخندد‘‘۔
کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اہتمام کے ساتھ یہ نیا ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن طبع کیا گیا ہے۔ یہ اس کا چودھواں اردو ایڈیشن ہے جو اس کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔

Share this: