بنات النعش کا ثریا سے عقد منسوخ

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ شمارے میں بنات النعش کے حوالے سے امریکہ سے جناب کمال ابدالی نے نہ صرف معلومات میں اضافہ کیا بلکہ بنات النعش کا ایک نام عقد ثریا لکھنے پر اس سے اختلاف کیا ہے۔ ان کی بات صحیح ہے، لیکن اس میں ہمارا قصور نہیں۔ اس مغالطے میں مولانا غلام رسول مہر (مرحوم) نے ڈالا ہے۔ انہوں نے دیوانِ غالب کی شرح میں غالب کے بنات النعش گردوں والے شعر کی تشریح کرتے ہوئے اس کا ایک نام عقد ثریا لکھا ہے۔ ہم نے اس پر اعتبار کیا، ورنہ اردو کی لغات میں بنات النعش اور عقد ثریا الگ الگ ہیں۔ لغت کے مطابق عقد ثریا میں 6 ستارے ہیں، جب کہ بنات النعش 7 ستاروں کا مجموعہ ہے، چنانچہ ہم اس ’’عقد‘‘ کو منسوخ کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو جناب کمال ابدالی کا شکریہ کہ انہوں نے نہ صرف کالم پڑھا بلکہ اس پر تبصرہ بھی کیا اور مزید معلومات فراہم کیں۔ بنات النعش کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’فلکیات کی کتابوں میں بالعموم اس مجموعے کو دُبِّ اکبر (Ursa Major) کہا جاتا ہے۔ اس مجموعے کے ستارے ’’سُہا‘‘ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ مجموعے کے سات روشن ستاروں میں ایک کے بالکل قریب ایک بہت مدھم سا ستارہ ہے، سُہا اسی کا نام ہے۔ قدیم زمانے میں سُہا کو دیکھ سکنا اچھی بینائی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ آج کل مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے آسمان اتنا منور رہتا ہے کہ خالی آنکھ سے یہ ستارہ نظر نہیں آسکتا۔ ’’سُہا‘‘ کا انگریزی نام ’’Alcor‘‘ ہے جو عربی لفظ ’’الخَوِّر‘‘ (یعنی ’’کمزور‘‘ یا ’’ناقابلِ لحاظ‘‘) سے مستعار ہے۔ ثریا (Pleiades) ایک چھوٹا سا مجموعہ ہے جس میں کئی روشن ستارے ایک جھمکے کی شکل میں ٹنکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی لیے اسے ’’عقدِ ثریا‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ثریا کا ایک اور نام ’’پروین‘‘ ہے۔‘‘
لیکن جہاں تک دُبِّ اکبر کا تعلق ہے، تو ’دُب‘ ریچھ کو کہتے ہیں اور لغات کے مطابق دُبِّ اکبر اور دُبِّ اصغر قطب شمالی کے قریب چند ستاروں سے ترتیب پاکر دو صورتیں ریچھ کی سی بن گئی ہیں، ایک چھوٹی اور ایک بڑی۔ چھوٹی کو دُبِّ اصغر اور بنات النعش صغریٰ، بڑی کو دُبِّ اکبر بنات النعش کبریٰ کہتے ہیں۔ بات الجھ گئی۔ ایک کے بجائے دو دو بنات النعش سامنے آگئیں۔ اب غالب نے کون سی کے بارے میں کہا تھا کہ شب کو اُن کے جی میں کیا آیا کہ عریاں ہوگئیں۔ محترم ابدالی صاحب اس پر روشنی ڈالیں کہ انہوں نے فلکیات پر بھی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔ ہم ایسے موضوعات سے دب کے چلتے ہیں۔ بقول شاعر ’’وہ دبدبہ کہ ادب سے ہوا بھی دب کے چلی‘‘۔
ثریا کے بارے میں لغت کی گواہی ہے کہ وہ ستارے جو باہم متصل واقع ہیں۔ پروین بھی اسی کو کہتے ہیں، لیکن پروین (فارسی) چھے چھوٹے ستاروں کا نام جو آپس میں ملے ہوئے ہیں، عقد ثریا۔

یار کے کان میں جھمکا جو نظر آتا ہے
اے فلک دیکھ کے پروین اسے شرماتا ہے

اس شعر سے تو ظاہر ہے کہ پروین مذکر ہے اور ہمارے ہاں لڑکیوں کے نام ہوتے ہیں۔ ویسے تو اس برصغیر میں کتنے ہی نام ایسے ہیں جو واضح طور پر مردانہ ہیں مگر خواتین کے رکھ دیے جاتے ہیں، مثلاً قیصر، شاہجہاں، انور، اقبال وغیرہ۔ مونث ظاہر کرنے کے لیے ایسے ناموں کے آگے بیگم یا بانو لگالیتے ہیں۔ ویسے انور، اقبال ایسے نام ہیں جو ہندو اور سکھ بھی رکھ لیتے ہیں۔ مثلاً انور سنگھ، اقبال سنگھ۔
انگریزی کا ایک لفظ ’’الیکٹری سٹی‘‘ (Electricity) ہے لیکن ہمارے رپورٹر حضرات عموماً اسے الیکٹرک سٹی لکھتے ہیں یعنی بجلی کا شہر۔ رپورٹرز کو تو چھوٹ ہے، مگر 2 مارچ کے ایک اخبار کی سپر لیڈ میں ’’الیکٹرک سٹی‘‘ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خبر کے متن میں ’’الیکٹرسٹی‘‘ ہے جو غنیمت ہے۔ انگریزی کے دیگر الفاظ کی طرح یہ بھی اردو میں رچ بس گیا ہے حالانکہ اس کا آسان متبادل ’’برقیات‘‘ ہے۔ برق عربی کا لفظ ہے لیکن عرب میں برقیات یا بجلی کے لیے ’’کہربا‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جو اپنی اصل میں فارسی ہے، اور یہ ’’کاہ ربا‘‘ ہے، ایک خاص قسم کا پتھر جو گھاس، پھونس، تنکوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ گویا اس میں برقی صلاحیت ہے۔ حکیم حضرات ایک دوا استعمال کرتے ہیں جس کا نام ’’کہربا شمعی‘‘ ہے۔ یہ شمعی کیا چیز ہے، حکیم حضرات ہی جانیں۔ ’’برق‘‘ عربی میں آسمانی بجلی کو کہتے ہیں۔ بقول مرزا غالب ’’گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلی، نہ طور پر‘‘۔ غالب نے بڑا دعویٰ کردیا کہ اگر ان پر برقِ تجلی گرتی تو وہ طور کی طرح جل کر راکھ نہ ہوجاتے۔ برق اُس روشنی کو کہتے ہیں جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ برق اور صاعقہ میں یہ فرق ہے کہ وہ چمک جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے وہ ’’برق‘‘ ہے، اور وہ بجلی جو زمین پر گرے ’’صاعقہ‘‘ ہے۔ لیکن اردو میں تو جو چمکے یا گرے، بجلی ہی ہے۔ غالب کا شعر ہے:۔

خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آئے
سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ابھی سے برق خرمن کو

یعنی برق غالب کے کھیت پر گر کر رہے گی۔ لیکن کیا غالب کھیتی بھی کرتے تھے؟ برق کا مطلب بطور صفت تیز، چالاک، ہوشیار اور مشاق بھی ہے۔ داغؔ کا شعر ہے:۔

قاصد یہاں سے برق تھا پر نصف راہ سے
بیمار کی ہے چال، قدم ناتواں کے ہیں

یعنی گھر سے تو بڑی تیزی سے نکلا تھا، مانندِ برق۔ اب آگے کیا ہوا کہ ڈھیلا پڑ گیا۔ برق کا مطلب صاف، شفاف، چمکیلا بھی ہے۔ علاوہ ازیں برق آہنگ، برق ناز، برق جولاں، برق سوار، برق نگاہ، برق جہندہ (برق کی طرح جھپٹنے والا)۔ برق خاطف اُس چمک کو کہتے ہیں جو آنکھ کو خیرہ کردے۔ فارسی میں برق شدن کی ترکیب استعمال ہوتی ہے یعنی نہایت تیز۔ براق بھی برق سے ہے۔
گزشتہ کالم میں ہم نے ’’اوسط‘‘ بروزن حیرت، عجلت وغیرہ لکھا تھا لیکن یہ وزن کہیں اور لگ گیا۔ قارئین درست کرلیں۔ کچھ الفاظ ٹی وی چینلز پر تکرار سے سننے میں آرہے ہیں مثلاً مسمار، اظہار وغیرہ۔ یہ الفاظ بالکسر ہیں یعنی مِسمار، اِظہار۔ ایسے اور بھی کئی الفاظ ہیں، پھر کبھی سہی۔ ایک بار پھر جناب ابدالی کا شکریہ، امریکہ والے تو ویسے بھی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔

Share this: