اسلام میں عورت کا مقام

Print Friendly, PDF & Email

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت سبیعتہ اسلمیؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسولﷺنے فرمایا: ’’تم میں سے جو مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو کوشش کرے کہ اسے مدینہ میں موت آئے، اس لیے کہ جسے مدینہ میں موت آئی، میں قیامت کے روز اس کے لیے شفیع یا گواہ ہوں گا‘‘۔ (طبرانی فی الکبیر)۔
وَإِذَا الْمَوْءُدَةُ سُئِلَتْ ، بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ(التکویر 81: 9-8) اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟

لڑکیوں سے حسن ِسلوک

اس آیت کے اندازِ بیان میں ایسی غضب ناکی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے قابلِ نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کرکے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا، بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تُو بے چاری آخر کس قصور میں ماری گئی؟ اور وہ اپنی داستان سنائے گی کہ ظالم ماں باپ نے اس کے ساتھ کیا ظلم کیا اور کس طرح اسے زندہ دفن کردیا۔ اس کے علاوہ اس مختصر سی آیت میں دو بہت بڑے مضمون سمیٹ دیے گئے ہیں جو الفاظ میں بیان کیے بغیر خودبخود اس کے فحوٰی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں اہلِ عرب کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جاہلیت نے ان کو اخلاقی پستی کی کس انتہا پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی ہی اولاد کو اپنے ہاتھوں زندہ درگور کرتے ہیں، پھر بھی انہیں اصرار ہے کہ اپنی اسی جاہلیت پر قائم رہیں گے اور اس اصلاح کو قبول نہ کریں گے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بگڑے ہوئے معاشرے میں کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے۔ جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو دادرسی ہونی چاہیے، اور جن ظالموں نے یہ ظلم کیا، آخر کبھی تو وہ وقت آنا چاہیے جب اُن سے اس بے دردانہ ظلم کی بازپرس کی جائے۔ دفن ہونے والی لڑکی کی فریاد دنیا میں تو کوئی سننے والا نہ تھا۔ جاہلیت کے معاشرے میں اس فعل کو بالکل جائز کر رکھا گیا تھا۔ نہ ماں باپ کو اس پر کوئی شرم آتی تھی، نہ خاندان میں کوئی ان کو ملامت کرنے والا تھا، نہ معاشرے میں کوئی اس پر گرفت کرنے والا تھا۔ پھر کیا خدا کی خدائی میں یہ ظلمِ عظیم بالکل ہی بے داد رہنا چاہیے؟
بے رحمانہ طرزِعمل کی وجوہات: عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا یہ بے رحمانہ طریقہ قدیم زمانے میں مختلف وجوہ سے رائج ہوگیا تھا۔ ایک معاشی خستہ حالی، جس کی وجہ سے لوگ چاہتے تھے کہ کھانے والے کم ہوں اور اولاد کو پالنے پوسنے کا بار ان پر نہ پڑے۔ بیٹوں کو تو اس امید پر پال لیا جاتا تھا کہ بعد میں وہ حصولِ معیشت میں ہاتھ بٹائیں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتا تھا کہ انہیں جوان ہونے تک پالنا پڑے گا اور پھر انہیں بیاہ دینا ہوگا۔ دوسرے عام بدامنی، جس کی وجہ سے بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتا تھا کہ جس کے جتنے زیادہ بیٹے ہوں گے اس کے اتنے ہی حامی و مددگار ہوں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتا کہ قبائلی لڑائیوں میں الٹا ان کی حفاظت کرنی پڑتی تھی اور دفاع میں وہ کسی کام نہ آسکتی تھیں۔ تیسرے، عام بدامنی کا ایک شاخسانہ یہ بھی تھا کہ دشمن قبیلے جب ایک دوسرے پر اچانک چھاپے مارتے تھے تو جو لڑکیاں بھی ان کے ہاتھ لگتی تھیں انہیں لے جاکر وہ یا تو لونڈیاں بنا کر رکھتے تھے، یا کہیں بیچ ڈالتے تھے۔ ان وجوہ سے عرب میں یہ طریقہ چل پڑا تھا کہ کبھی تو زچگی کے وقت ہی عورت کے آگے گڑھا کھود رکھا جاتا تھا تاکہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسی گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دی جائے، اور کبھی اگر ماں اس پر راضی نہ ہوتی، اس کے خاندان والے اس میں مانع ہوتے، تو باپ بادلِ ناخواستہ اسے کچھ مدت تک پالتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جاکر زندہ دفن کردیتا۔
یہ اسلام کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ عرب سے اس انتہائی سنگ دلانہ رسم کا خاتمہ کیا بلکہ اس تخیل کو مٹایا کہ بیٹی کی پیدائش کوئی حادثہ اور مصیبت ہے، جسے بادلِ ناخواستہ برداشت کیا جائے۔ اس کے برعکس اسلام نے یہ تعلیم دی کہ بیٹیوں کو پرورش کرنا، اُنھیں عمدہ تعلیم و تربیت دینا اور اس قابل بنانا کہ وہ ایک اچھی گھر والی بن سکیں، بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں لڑکیوں کے متعلق لوگوں کے عام تصور کو جس طرح بدلا ہے، اس کا اندازہ آپؐ کے ان بہت سے ارشادات سے ہوسکتا ہے جو احادیث میں منقول ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ذیل میں آپؐ کے چند ارشادات نقل کرتے ہیں:۔
”جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو یہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے بچائو کا ذریعہ بنیں گی۔“ (بخاری و مسلم)۔
”جس نے دو لڑکیوں کو پرورش کیا، یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں، تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا“، یہ فرماکر حضورؐ نے اپنی انگلیوں کو جوڑ کر بتایا۔ (مسلم)۔
”جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کو پرورش کیا، ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتائو کیا، یہاں تک کہ وہ اس کی مدد کی محتاج نہ رہیں، تو اللہ اس کے لیے جنت واجب کردے گا“۔ ایک شخص نے عرض کیا: ”یارسولؐ اللہ! اور دو؟“ حضورؐ نے فرمایا: ”اور دو بھی“۔ حدیث کے راوی ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اگر لوگ اُس وقت ایک کے متعلق پوچھتے تو حضورؐ اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔ (شرح السنہ)۔
”جس کے ہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ ذلیل کرکے رکھے، نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ (ابودائود)۔
”جس کے ہاں تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور اپنی وسعت کے مطابق ان کو اچھے کپڑے پہنائے، وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے بچائو کا ذریعہ بنیں گی۔“ (بخاری فی الادب المفرد، ابن ماجہ)۔
”جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح رکھے، وہ اسے جنت میں پہنچائیں گی۔“ (بخاری ادب المفرد)۔
نبیؐ نے سراقہ بن مالک بن جعشم سے فرمایا: ”میں تمہیں بتائوں کہ سب سے بڑا صدقہ (یا فرمایا: بڑے صدقوں میں سے ایک) کیا ۔ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ضرور بتایئے یارسولؐ اللہ!“ فرمایا: ”تیری وہ بیٹی جو (طلاق پاکر یا بیوہ ہوکر) تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہ ہو۔“ (ابن ماجہ، بخاری فی الادب المفرد)،۔
یہی وہ تعلیم ہے جس نے لڑکیوں کے متعلق لوگوں کا نقطہ نظر صرف عرب ہی میں نہیں، بلکہ دنیا کی اُن تمام قوموں میں بدل دیا جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوتی چلی گئیں۔
(تفہیم احکام القرآن، جلد سوم)

Share this: