خواجہ حسن بصریؒ

ابوسعدی

حسن بصریؒ: ابوسعید بن ابی الحسن یسار البصری (21ھ۔ 110ھ) اموی عہد میں بصرہ کے مشہور واعظ اور صوفی تھے۔ ان کے والد کا نام پیروز تھا، جو عراق کی ایک فتح میں قید ہوئے اور انھیں مدینے لایا گیا، جہاں ان کی مالکہ نے انہیں آزاد کردیا۔ ان کی پرورش وادی القریٰ میں ہوئی۔ جنگِ صفین کے بعد وہ بصرہ چلے آئے۔ نوجوانی میں مشرقی ایران کی فتوحات میں حصہ لیا، پھر انتقال تک بصرہ ہی میں رہے۔ ان کی اصل شہرت ان کی نیکی، پارسائی اور دین داری ہے، جس نے ان کے معاصرین کو متاثر کیا۔ پھر ان کے وہ مواعظ اور اقوال ہیں جن میں یہ مسلمانوں کو گناہوں سے متنبہ کرتے ہیں۔ ان مواعظ کے کچھ نمونے عربی نثر میں ملتے ہیں۔ ان کے بعض اقوال اپنی فصاحت و بلاغت کی بنا پر ادبِ عربی کا حصہ ہیں۔ حسن بصری نے قدریہ کے نقطہ نظر کو اپنایا۔ ان کے صوفیانہ افکار، صوفیانہ ادب کی جان قرار دیے جاتے ہیں۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

غیر کا سہارا

ایک مرتبہ ذوالنون مصریؒ ایک پہاڑ کے دامن میں گھوم رہے تھے کہ ایک ہجوم پر نظر پڑی، پوچھا کہ یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟ کسی نے بتایا کہ سامنے کی غار میں ایک عابد رہتا ہے جو سال میں ایک دن باہر نکلتا ہے، آج وہ باہر آنے والا ہے، یہ تمام لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہیں، وہ باہر آکر ہر مریض پہ کچھ پھونکے گا اور پھر اندر چلا جائے گا۔ یہ باتیں ہورہی تھیں کہ عابد غار سے باہر نکلا، نحیف و ضعیف لیکن چہرہ نہایت پُرجلال، اس نے ہر مریض پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور پھر غار میں واپس جانے کو تھا کہ ذوالنونؒ نے دامن تھام لیا اور کہا: ’’آپ نے جسمانی مریضوں کا تو علاج کردیا، یہاں کچھ دل کے مریض بھی ہیں‘‘۔ فرمایا: ’’ذوالنون! چھوڑ دو میرا دامن، تم غیر کا دامن تھام رہے ہو، اللہ سے ڈرو، کہیں وہ تمہیں غیروں ہی کے حوالے نہ کردے‘‘۔ ذوالنونؒ نے فوراً دامن چھوڑ دیا اور زندگی بھر اللہ سے اس گناہ کی معافی مانگتے رہے۔
(ماہنامہ چشم بیدار۔ فروری 2017ء)

چغلی کا نقصان

ایک مرتبہ شیر کلائی کے ٹوٹ جانے سے بہت ہی بیمار پڑا۔ تمام جنگل کے جانور بیمار پرسی کو گئے کہ ایسا نہ ہو اچھا ہوجائے تو سب کی خبر لے۔ لومڑی نہیں گئی تھی۔ بھیڑیے نے شیر سے چغلی لگائی کہ: ’’دیکھیے حضور آپ کی سب رعایا تو حاضر ہے مگر لومڑی نہیں آئی۔ اس کو بڑا غرور ہے‘‘۔
شیر کو لومڑی کی غیر حاضری بہت ناپسند ہوئی اور کہا کہ: ’’اچھا، سمجھا جائے گا‘‘۔
لومڑی کو اس چغلی کی خبر پہنچی۔ اگلے دن دوڑتی ہوئی آئی اور جلدی سے سلام کرکے کہنے لگی کہ: ’’حضور جب سے کنیز نے حضور کی علالت کی خبر سنی، دوا کی جستجو میں جنگلوں جنگلوں ماری ماری پھری۔ اب خدا خدا کرکے ایک بڑی مجرب دوا لونڈی کو معلوم ہوئی‘‘۔
شیر نے مشتاق ہوکر پوچھا: ’’وہ کیا؟‘‘
لومڑی نے کہا: ’’ہر چند اس دوا میں ایک دوست کی جان کا زیاں ہے، لیکن اگر حضور پر ہم سب کی جانیں قربان ہوں اور حضور کو خدا تندرستی دے تو اس سے بہتر کیا‘‘۔
شیر نے کہا: ’’آخر اس دوا کا نام بھی ہے؟‘‘
لومڑی نے کہا: ’’کیا عرض کروں، ایک بڑے پرانے تجربہ کار ’’جراح‘‘ نے بتایا ہے کہ بھیڑیے کا گردہ پیس کر لیپ لگایا جائے۔ بھیڑیے کا گردہ مومیائی سے زیادہ نفع کرتا ہے‘‘۔
وہ چغل خور بھیڑیا بھی حاضر تھا۔ لومڑی کی بات کا جواب بھی نہ دینے پایا کہ چیتوں نے، جو شیر کے چوب دار تھے، پچھاڑ کر گردے صاف نکال لیے۔
حاصل: جو شخص چغلی کھاکر دوسرے کے نقصان کے درپے ہوتا ہے وہ اکثر خود نقصان اٹھاتا ہے۔(”منتخب الحکایات“۔نذیر احمد دہلوی)۔

زبان زد اشعار

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
(غالبؔ)

حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
(مخدوم محی الدین)

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا
(ناصرکاظمی)

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
(میر تقی میرؔ)