رسالہ قواعد فارسی موسوم بہ صرفِ صغیر

Print Friendly, PDF & Email

ڈپٹی نذیر احمد کا یہ نہایت ہی مفید رسالہ قواعد فارسی ڈاکٹر تحسین فراقی مدظلہ کی نظرِ عنایت سے مجلس کی طرف سے طبع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔
’’ڈپٹی نذیر احمد (1830ء۔ 1912ء) اردو کے عناصر خمسہ میں بہت ممتاز مقام کے حامل تھے۔ اردو، فارسی، عربی کے عالم تھے، اور انگریزی سے بھی وافر آگہی رکھتے تھے۔ نادرالوجود تھے، صاحب الرائے تھے۔ اردو ادب میں ان کا مقام اس قدر رفیع اور رشک کے قابل ہے کہ اس پر کچھ کہنا تحصیلِ حاصل ہے۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم کے باب میں بھی کئی مفید کتابچے تالیف کیے، جنہیں نصاب الصبیان کی ذیل میں رکھنا چاہیے۔ انھی میں ’’قواعد فارسی موسوم بہ صرفِ صغیر‘‘ کا شمار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی کے خیال میں اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1870ء یا ذرا بعد کا ہے (مولوی نذیر احمد دہلوی۔ احوال و آثار، ص 238)، جبکہ ان کے پیشرو سید افتخار عالم مارہروی کے نزدیک یہ مختصر رسالہ 1869ء میں لکھا گیا (حیات النذیر، ص 169)۔ کتاب دوسری بار مطبع فاروقی دہلی سے 1892ء میں شائع ہوئی، اور کم و بیش دگنی ضخامت کے ساتھ یعنی گٹھی ہوئی کتابت میں چوالیس صفحات پر مشتمل۔ پیش نظر کتاب اسی دوسرے ایڈیشن کی تازہ اشاعت ہے۔ کتاب اپنے حاوی مفید مشمولات کے باعث اس قابل تھی کہ اسے پھر سے شائع کیا جائے، لہٰذا مجلس ترقیِ ادب کے زیر اہتمام اس کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا ہے۔
یہ کتاب اردو کے اُن طلبہ کے لیے لکھی گئی تھی جنہیں فارسی زبان سکھانا مقصود تھا۔ کتاب سہل ہے اور ڈپٹی صاحب نے اسے اپنے اسلوب سے دلچسپ اور قابلِ مطالعہ بنادیا ہے۔ نصاب کی کتابوں اور خصوصاً قواعد میں دلچسپی کا عنصر قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ عموماً روکھی پھیکی ہوتی ہیں، مگر نذیر احمد کی کتاب چند مستثنیات میں سے ہے، اور ان کے دلچسپ اسلوب کی کچھ جھلکیاں اس کتاب میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔
ماضی میں بھی یہ روایت رہی ہے کہ بعض قواعد کو منظوم کردیا جاتا تھا تاکہ آسانی سے طلبہ کے حافظے کا حصہ بن جائیں۔ ڈپٹی صاحب نے بھی کہیں کہیں اس کا اہتمام بہ خوبی کیا ہے۔ ان کا اسلوب رواں اور دل نشین ہے۔
قواعدِ فارسی میں فاضل مولف نے مصادر کی فہرست بھی الف بائی ترتیب سے شامل کردی ہے۔ انہوں نے بعض مقامات پر صیغہ واحد غائب مضارع کی جگہ خالی چھوڑ دی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض مصادر کا صیغہ واحد غائب مضارع نہیں ہوتا، مگر بعض جگہ جہاں ضروری تھا بہ وجوہ ان کا ذکر نہیں آسکا۔ میں نے ایسے مقامات پر حواشی میں متذکرہ صیغے کی نشان دہی کردی ہے۔
پیش نظر کتاب کے آخر میں فاضل مؤلف نے فارسی کے مشہور اقوال، امثال، مصرعے اور شعر درج کیے ہیں۔ ترتیبِ نو میں مذکورہ مشمولات کو الگ الگ سطروں میں درج کیا گیا ہے تاکہ قارئین انھیں آسانی سے پڑھ سکیں اور ان سے حظ اندوز ہوسکیں۔ علاوہ ازیں اصل متن میں بعض لفظ درج ہونے سے رہ گئے تھے، انھیں زیرنظر اشاعت میں درج کردیا گیا ہے۔ متن میں راہ پا جانے والی اغلاط کی تصحیح کردی گئی ہے۔ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ انیسویں صدی کے اردو املا کے خصائص میں بعض الفاظ کو اعراب بالحروف سے لکھنے کا رواج تھا۔ ایسے الفاظ کو آج کے مروجہ املا میں لکھا گیا ہے مثلاً ’’چورانا‘‘ کے بجائے ’’چُرانا‘‘ وغیرہ۔ بعض الفاظ کے صحیح املا یا معانی کی قُلابین میں نشاندہی کردی گئی ہے۔
’’قواعدِ فارسی‘‘ اپنی اشاعتِ ثانی کے ایک سو چھبیس برس بعد اشاعتِ جدید کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ امید ہے کہ فارسی کے طلبہ و اساتذہ اور اس زبان و ادب کے چاہنے والے اس کتاب کی موجودہ اشاعت کو بہت مفید پائیں گے اور اس کا خیرمقدم کریں گے۔ بیٹی حمیرا تحسین کا، جو فارسی زبان و ادب سے گہرا لگائو رکھتی ہیں، ممنون ہوں کہ انھوں نے کتاب کی پروف خوانی میں میری بہت معاونت کی۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے۔ میں محب مکرم پروفیسر محمد رفیق صاحب سابق صدر شعبہ فارسی جی سی یونیورسٹی لاہور کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں نے مسودے پر ایک نظر ڈالی اور مفید مشوروں سے نوازا‘‘۔
یہ علمی کتاب فارسی کے طالب علموں اور اساتذہ کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ مجلّد ہے، سفید کاغذ پر کمپیوٹر کمپوزنگ میں خوب صورت طبع کی گئی ہے۔

مقالاتِ سرسید(حصہ دوم) تفسیری مضامین

کتاب : مقالاتِ سرسید
حصہ دوم
تفسیری مضامین
مرتبہ : مولانا محمد اسماعیل پانی پتی
صفحات : 198 قیمت:250 روپے
ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلس ترقیِ ادب۔ 2کلب روڈ، لاہور
جناب اسماعیل پانی پتی نے مقالاتِ سرسید غالباً چودہ پندرہ جلدوں میں مرتب کیے تھے، ان مقالات کا حصہ دوم تفسیری مضامین پر مشتمل تھا۔ موجودہ ایڈیشن اس کی طبع سوم ہے جو کمپیوٹر کمپوزنگ میں اہتمام کے ساتھ طبع کیا گیا ہے۔ مجلّد ہے، سفید آفسٹ پیپر پر چھاپا گیا ہے۔ اس میں چھے مضامین ہیں
(1) تفسیر السمٰوات، (2) اصحاب الفیل کا واقعہ (سورۂ فیل کی تشریح)، (3)کافر اگلے زمانے میں بھی گزرے ہیں، (4) سورۂ جن کی تفسیر، (5) جنوں کی حقیقت (الجن والجان علیٰ مافی القرآن)، (6) قرآن مجید کی تفسیر کے اصول (سرسید کا ایک نایاب مضمون)۔
سرسید کے تفسیری خیالات سے عموماً اہلِ علم و فضل نے اتفاق نہیں کیا اور ان کو متجددانہ خیال کیا۔ بہرحال ان کے جو بھی خیالات ہوں ان کا اظہار ان مضامین میں ہوا ہے۔ ان کے علم کے لیے کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

قدیم عبرانی لغت (حصہ اوّل)۔

کتاب : عبرانی کتبِ مقدسہ کے تقریباً 400 افعال اپنے قدیم فکری و ثقافتی تناظر میں۔قدیم عبرانی لغت (حصہ اوّل)
تالیف و ترجمہ : جیف اے بینر
صفحات : 120 قیمت: 450 روپے
ناشر : بسم اللہ بک ہائوس۔ اردو بازار، کراچی
موبائل : 0312-2846175
واٹس ایپ : 0303-2353839
فیس بک : www.facebook.com/bismillah.book.house
مترجم کا بیان ہے کہ ’’جیف اے بینر کی تالیف کردہ اس ’’قدیم عبرانی لغت‘‘ کے حوالے سے مجھے کچھ نہیں کہنا، سوائے اس کے کہ اس کا اردو میں ترجمہ کرنے پر نہ تو میں کسی قسم کی خوش فہمی کا شکار ہوں کہ جیسے اس کام کو میرے سوا کوئی کرہی نہیں سکتا تھا، نہ ہی اس کے بدلے مجھے کسی صلے کی توقع ہے کہ جیسے اس کام کی تکمیل پر میں نے کسی پر کوئی احسان کیا ہو، اور نہ ہی کسی قسم کی معذرت کا خواہاں ہوں، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ہر تعلیمی و تحقیقی کام کی اپنی ایک مخصوص افادیت ہوتی ہے اور اس سے بہتیروں کو استفادہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی ایسا بھی کسرِنفسی کا مقام نہیں کہ میں اس کام کو یکسر حقیر خیال کروں۔ یہ لغت اردو خواںطبقے کے معلمین، محققین، مترجمین، ناقدین اور مبلغین کے لیے خاطرخواہ مدد فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سے زیادہ نہ مجھے کچھ کہنا ہے اور نہ ہی کہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
کتاب سفید کاغذ پر طبع ہوئی ہے۔

سہ ماہی ’’الصدیق‘‘ صوابی

مجلہ : سہ ماہی ’’الصدیق‘‘ صوابی ۔تحقیق میں ندرت اور تنوع کا حامل علمی، تحقیقی اور اصلاحی مجلہ
مدیر مسئول : حضرت مولانا عبدالرئوف بادشاہ
مدیر : منفعت احمد
معاون مدیر : محمد اسلام حقانی
ناشر : دفتر سہ ماہی الصدیق۔ معہد الصدیق للدراسات اسلامیہ
بام خیل صوابی، خیبرپختون خوا
فون : 0313-9803280،0345-9506009
ای میل : alsiddiq2016@gmail.com
سہ ماہی الصدیق صوابی کا یہ شمارہ جلد 3 شمارہ 4 ذیقعدہ تا ربیع الثانی، جون تا دسمبر 2019ء کا ہے۔ اس کے محتویات درج ذیل ہیں:
’’نذرانۂ عقیدت اور التجائے شفاعت‘‘ (منظوم) حکیم الاسلام قاری محمد طیب، ’’نوجوانانِ ملّت شیطانی اور دجالی آلات کی لپیٹ میں‘‘ مدیر، ’’سمت الوصول الی مقدمۃ علم الاصول‘‘ مولانا محمد سجاد المجابی، ’’نبوتِ محمدی اور اسلام کی عالمگیر شان‘‘ مولانا مدثر جمال تونسویؔ، ’’قمار کا فقہی مفہوم اور تطبیقی دائرۂ کار‘‘ مفتی عبیدالرحمٰن، ’’تعددِ ازدواج کی دینی، اجتماعی اور اخلاقی اہمیت‘‘ مولانا عبدالرئوف بادشاہ، ’’ناسخ و منسوخ قرآن و حدیث کے تناظر میں‘‘ ڈاکٹر عتیق الرحمٰن قاسمی‘‘، ’’امام سیبویہ رحمہ اللہ کی الکتاب اور اس کی شرحیں‘‘ ڈاکٹر محمد ظہورالحق، ’’نکاح کی اہمیت، ضرورت اور مقصد‘‘ مولانا عبدالمتین، ’’مدرسہ ڈسکورسز کا فکری اور تہذیبی جائزہ‘‘ جناب محمد دین جوہر، ’’مثنوی مولانا روم رحمہ اللہ کے چند اہم اردو تراجم کا جائزہ‘‘ ڈاکٹر مغیث احمد، ’’سول سوسائٹی… مطلب، مقاصد، اہداف اور تاریخی پس منظر‘‘ ڈاکٹر علی محمد رضوی، ’’الفارق بین المصنف والسارق: علمی سرقے پر دلچسپ رسالہ‘‘ مولانا نایاب حسن قاسمیؔ، ’’علامہ ابنِ جوزی رحمہ اللہ ناقد تصوف یا محدث صوفی؟‘‘ مولانا ضیا الرحمٰن علیمی، ’’جامعہ کے شب و روز‘‘ مولانا صالح محمد، ’’کتاب شناسی‘‘ مبصر کے قلم سے

Share this: