۔’’ڈومور‘‘ کی گردان

Print Friendly, PDF & Email

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے پوری دنیا کو ’’خوف زدہ‘‘ کردیا ہے۔ امریکہ اور چین جیسی عسکری، اقتصادی اور سیاسی طاقتوں سے لے کر ایشیا اور افریقہ کے پسماندہ ممالک یکساں متاثر ہوئے ہیں۔ اکثر ممالک ’’لاک ڈائون‘‘ ہوچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ عالمی وبا عالمی سیاست اور اقتصادیات پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ کورونا کی عالمی وبا نے بظاہر دیگر مسائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ عالمی سیاست کا سب سے بڑا سوال چین اور امریکہ کی تجارتی کشمکش تھا، جسے ایک نئی سرد جنگ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سیاست یک قطبی سامراجیت سے کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہوگئی ہے۔ افغانستان پر قبضے کی امریکی جنگ ساڑھے18 برس ہونے پر بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس جنگ میں امریکی ناکامی نے روس کی سیاسی و اقتصادی قوت کو بحال کرنے کا موقع دیا ہے۔ اسی جنگ کی طویل مدت نے چین کو مہلت دی جس کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر امریکہ کی سیاسی، فوجی اور اقتصادی برتری کو چیلنج کرنے کی پوزیشن پر پہنچا اور نئی سلک روڈ کی بحالی کے قدیم یورپی اور امریکی منصوبے کی اجارہ داری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ون بیلٹ روڈ منصوبے اور اس کے ذیلی منصوبے سی پیک کے خلاف امریکی اعلانِ جنگ نئی سرد جنگ کی علامت بن چکا ہے۔ یہ سارا منظرنامہ امریکی ’’وار آن ٹیرر‘‘ کی ناکامی کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ اس جنگ میں ذلت آمیز شکست کے مابعد اثرات سے بچنے کے لیے امریکہ نے پاکستان کی مدد سے افغان طالبان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ مذاکرات کے اس عمل کا آغاز پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہوچکا تھا، اب 2020ء میں امریکی سپر پاور ایک چھوٹے سے گروہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوئی اور ساری سہولت کاری حکومت پاکستان نے کی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ’’وار آن ٹیرر‘‘ کا خاتمہ ہوجانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کی سہولت کاری کے ساتھ اماراتِ اسلامی افغانستان کے ساتھ امریکی حکومت کا معاہدہ ہوچکا ہے۔ یعنی امریکہ جو دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا، اس جنگ سے باعزت طور پر جان چھڑانا چاہتا ہے۔ اب وہ اس میں کتنا کامیاب ہوتا ہے اس پر مستقبل کے عالمی منظرنامے اور اس میں پاکستان کے رول کا انحصار ہے۔ کیا عملاً امریکہ نے عالمی وار آن ٹیرر ترک کردی ہے؟ جو طالبان کے ساتھ صلح کے معاہدے کے بعد ختم ہوجانی چاہیے تھی۔ ایسا نہیں ہوا ہے۔ اس کا اظہار ایف اے ٹی ایف کی پاکستان کے سر کے اوپر لٹکی ہوئی تلوار ہے۔ ایک طرف امریکہ افغان طالبان سے پاکستان کی سہولت کاری کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرچکا ہے، دوسری طرف پاکستان کو دہشت گردی کا سہولت کار قرار دے رہا ہے۔ ساڑھے اٹھارہ برس کی اس جنگ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا عنوان ’’ڈومور‘‘ تھا۔ امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں خطِ اول کا اتحادی قرار دیتا تھا، ساتھ ہی دہشت گردوں کا سرپرست بھی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ امریکہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کو مستقل دھمکی دے رہا ہے کہ اسے دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔ ہمارے حکمرانوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آئے گا، لیکن معاصر انگریزی اخبار کے وقائع نگار کی رپورٹ کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے حکومتِ پاکستان کو 13 نکاتی مطالبات پر مشتمل ایک نئی فہرست حوالے کردی ہے جس کے مطابق پاکستان کو جون 2020ء تک اس پر عمل کرکے رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2020ء میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوگا۔ اس کے بعد جون 2020ء کے پہلے ہفتے میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا حتمی اجلاس ہوگا جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگا۔ یہ بات واضح ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا فیصلہ سیاسی اور امریکی ہدایت کے مطابق ہونا ہے۔دہشت گردی کی کوئی متعین تعریف آج تک نہیں کی جاسکی۔ یہ امریکہ اور اُس کے اتحادی ممالک ہیں جو دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتے اور ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اور ہر اُس قوت کو جو امریکی امپیریلزم کو چیلنج کرنے والی ہو، دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں۔ اصل حقائق پر پردہ ڈالتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ نائن الیون کے ذمے دار کون تھے؟ اس کے شواہد آج تک پیش نہیں کیے گئے۔ امریکی یکطرفہ طور پر افغانستان کے طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر 40 ممالک کی فوجوں کو لے کر حملہ آور ہوگئے اور اب ان کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔ اس عرصے میں صرف پاکستان میں 70 ہزار سے زائد شہری دہشت گردی کا شکار ہوگئے، لیکن اب بھی امریکہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کو دھمکی دے رہا ہے کہ اسے دہشت گرد ریاست قرار دے دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ موجودہ اور سابق حکومتوں کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہوگی۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ سابق اور موجودہ حکومتوں نے امریکی وار آن ٹیرر کو چیلنج نہیں کیا۔ ہر امریکی الزام کو تسلیم کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست، معیشت، ثقافت اور امن وامان سب تباہ و برباد ہوگئے۔ ہمارے حکمرانوں کا خیال یہ تھا کہ امریکی ایجنڈے کو قبول کرکے عافیت حاصل کرلی جائے گی، لیکن ایسے لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح ہے کہ بھارت کشمیر میں اور اسرائیل فلسطین میں مسلمانوں کا قتلِ عام کررہے ہیں لیکن امریکہ، اقوام متحدہ، یورپ سب نے انسانی حقوق کی پامالی سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ پرویزمشرف سے لے کر موجودہ حکومت تک تمام حکومتیں امریکی احکامات پر مسلسل تابعداری کررہی ہیں، لیکن حاصل کیا ہورہا ہے؟ ایف اے ٹی ایف کی دھمکی اس بات کی علامت ہے کہ امریکی تابعداری کا کوئی حاصل نہیں ہے۔ ہمارے حکمراں اپنی آخرت تو برباد کر ہی رہے ہیں، ساتھ ہی دنیا بھی ان کی برباد ہورہی ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کی وجہ سے مملکتِ خداداد پاکستان مصیبتوں میں گھری ہوئی ہے۔ امریکی اتحادی بننے کے باوجود پاکستان کو ہر بار دھمکی ہی دھمکی مل رہی ہے۔
(یحییٰ بن زکریا صدیقی)

Share this: