کورونا وائرس عالمی وبا یا بلا؟۔

Print Friendly, PDF & Email

کورونا وائرس کا سب سے خوفناک پہلو اس کے پیچھے آنے والا بے روزگاری اور کساد بازاری کا طوفان ہے

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا زکام اب ایک خوفناک عالمی وبا یا Pandemicکی شکل اختیار کرچکا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے عرض کیا تھا، چینیوں کا ظالمانہ شوقِِ کام و دہن اس عفریت کے آغاز کا سبب بنا جب چمگادڑ کے سوپ، بھنی بلی یا زندہ چوہوں سے کورونا وائرس کسی انسان کو منتقل ہوا، جس نے اسے باقی لوگوں تک پہنچا دیا۔گزشتہ چند دنوں سے چینی وزارتِ خارجہ کے کچھ افسران اشارہ کررہے ہیں کہ یہ آفت آئی نہیں بلکہ لائی گئی ہے اور

ہر بلا کا ہے جہاں سے نزول
یہ بلا بھی وہیں سے آئی ہے

چینی حکام کی اس مبہم گفتگو کو مغرب کا صحافتی حلقہ بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے، اور گزشتہ ہفتے جب صدر ٹرمپ اپنے طبی اور سائنسی ماہرین کے ہمراہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی پر امریکی عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے آئے تو کئی صحافیوں نے اُن سے براہِ راست سوال پوچھے، جنہیں صدر نے fake news کہہ کر نظرانداز کردیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ چینی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور بیجنگ سے جاری ہونے والا اس نوعیت کا کوئی ٹویٹ ان کی نظر سے نہیں گزرا۔
اس عذاب کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ گزشتہ سال کے اختتام پر وسطی چین کے صوبے خوبے (Hubei)کے دارالحکومت ووہّان میں کئی لوگوں کو گلے میں شدید تکلیف کے ساتھ تیز بخار کی شکایت ہوئی۔ مقامی ڈاکٹروں نے اسے نزلہ زکام سمجھ کر نظرانداز کردیا۔کچھ طبی ماہرین نے اس زکام کو ایک خاص طریقے کا نمونیا قرار دے کر علاج شروع کیا، لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ ایک چینی ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر لی وینلیانگ (Li Wenliang) نے سب سے پہلے اس نزلے کو ایک خوفناک متعدی مرض کا آغاز قراردیا، لیکن اس بات پر کان دھرنے کے بجائے چینی حکومت نے افواہ سازی اور عوام کو خوف زدہ کرنے کے الزام میں 34 سالہ ڈاکٹر لی کو گرفتار کرلیا۔ دوسری طرف مرض بڑھتا رہا اور ہزاروں افراد ہسپتال پہنچ گئے۔ متاثرین کے لعاب دہن، بلغم اور خون کے تفصیلی تجزیے پر ان مریضوں کے خون میں ایک مخصوص جرثومے کی علامات پائی گئیں جسےCOVID-19 یا نوویل کورونا وائرس کہتے ہیں۔ لفظِ کورونا کی وجۂ تسمیہ یہ ہے کہ خوردبینی تجزیے کے دوران اس جرثومے کے جزئیات تاج (کرائون) کی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر لی کا خدشہ درست ثابت ہونے پر انھیں رہا کردیا گیا اور شکوہ شکایت کیے بغیر ڈاکٹر لی مریضوں کے علاج میں جت گئے۔ اس جرثومے نے ڈاکٹر لی کو نہ چھوڑا اور 7 فروری کو اس فرض شناس ڈاکٹرکی موت واقع ہوگئی۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس مرض کو ’کووِڈ 19‘ (COVID-19)کا نام دیا ہے۔
انسانیت وقتاً فوقتاً عالمی وبائوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اس نوعیت کی:۔
٭ایک بڑی وبا 430 قبلِ مسیح یونان میں پھوٹی، جسے ’ایتھنز طاعون‘ کا نام دیا گیا۔ یہ وبا ایتھنز کی ایک چوتھائی آبادی کو نگل گئی۔
٭یوکرین کے شہر کریمیا سے 1347ء میں کالے چوہوں سے پھوٹنے والی بیماری کو سیاہ طاعون کا نام دیا گیا جو 4 سال جاری رہی اور اس وبا نے سارے ایشیا اور یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے سات کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ بعض محققین ہلاکت کا حجم 20 کروڑ بتاتے ہیں۔ یوں سمجھیے کہ دنیا کی ایک تہائی آبادی اس وبا کا شکار ہوئی۔
٭اس وبا کے 500 سال بعد چین میں طاعون کی بیماری پھیلی جو جلد ہی ہندوستان تک پھیل کر عالمی وبا کی شکل اختیار کرگئی جس سے ایک کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ کچھ عرصے بعد جنوبی ایشیا میں اس کا اثر کم ہوا تو امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو کو طاعون کی وبا نے گھیر لیا اور ہزاروں افراد اس کا نشانہ بنے۔
٭کورونا وائرس قسم کی ایک خوفناک وبا نے 1918ء میں بھی قیامت ڈھائی تھی جسے ہسپانوی زکام یا Spanish Flu کا نام دیا گیا۔ سو سال گزرجانے کے باوجود اس نامراد کی جائے ولادت کا تعین نہیں ہوسکا۔ اکثریت نے اس کا نقطہ آغاز لاطینی امریکہ کے ملک ارجنٹینا (Argentina)کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے اسے ہسپانوی زکام کا نام دیا گیا۔ تاہم امریکی ریاست کنساس، فرانس میں برطانیہ کے ایک فوجی اڈے اور سنکیانگ کے شہر ارمچی سے اس کا آغاز بھی خارج از قیاس نہیں۔ جو جرثومہ اس خوفناک وبا بلکہ بلا کا سبب بنا، اسے ماہرین نے H1N1 Influenza Virus کا نام دیا ہے۔ اس بیماری سے 50 کروڑ افراد متاثر ہوئے جن میں سے ایک کروڑ 70 لاکھ موت کے منہ میں چلے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دادا فریڈرک ٹرمپ بھی اسی مرض کا شکار ہوئے اور صرف ایک دن کے تیز بخار کے بعد انتقال کرگئے۔ موت کے وقت آنجہانی کی عمر صرف 49 سال تھی۔ یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں، لیکن اسے ستم ظریفی کے سوا اور کیا کہا جائے کہ جرمن تارکِ وطن کے پوتے اور برطانوی خاتون کے بیٹے صدر ٹرمپ امریکہ میں تارکین وطن کی آمد کے مخالف ہیں۔
٭گیارہ سال قبل 2009ء میں یہ جرثومہ ایک بار پھر نمودار ہوا۔ اِس بار اس کا ظہور مادہ سور کے ذریعے ہوا تھا اور اسی مناسبت سے اسے ’سوائن فلو‘ (Swine Flu) کا نام دیا گیا۔ ویکسین کے مؤثر استعمال کی بنا پر سوائن فلو کی وبا سے انسان تو بڑی حد تک محفوظ رہے لیکن مویشیوں اور سوروں کے ہزاروں ریوڑ تلف کرنے پڑے۔
چین سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا اب دنیا کے 162 ملکوں میں پھیل چکی ہے، اور تادم تحریر اس سے متاثر مریضوں کی تعداد پونے دولاکھ کے قریب ہے، اور سات ہزار سے زیادہ افر اد اس مرض سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ چین نے بظاہر اس وبا پر قابو پالیا ہے اور اب ان عارضی ہسپتالوں کو بند کردیا گیا ہے جہاں اس وائرس کے مریضوں کا علاج ہورہا تھا۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت نے تاریخی تناظر میں چین سے احتیاطی سرگرمیاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے کہ اس وبا کی تجدید خارج ازامکان نہیں جسے طبی اصطلاح میں relapseکہتے ہیں۔
چین کے بعد اس جرثومے نے ایران کو اپنا ہدف بنایا جہاں صورتِ حال بدستور بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ 15 ہزار افراد اس جرثومے سے متاثر ہیں اور لگ بھگ 860 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ملک کی نائب صدر اور بہت سے وزرا اور ارکانِ پارلیمان بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مشہور عالمِ دین اور ایران فقہا کونسل کے سینئر رہنما آیت اللہ ہاشم بطحائی سمیت 12 رہنما اس مرض میں جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ 13 سرکردہ قائدین بسترِ مرگ پر ہیں۔
چین اور ایران کے بعد اب کورونا وائرس کا ہدف اٹلی نظر آرہا ہے جہاں اتوار کو صرف ایک دن میں 349 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہاں اب تک 30 ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے2000 ہلاک ہوگئے۔ کیٹولینا تحریک آزادی کے رہنما مسٹر تورا بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ عوام کے مطالبے پر صدر ٹرمپ نے بھی اپنا ٹیسٹ کروایا جو ان کی خوش قسمتی سے منفی رہا۔
اٹلی کے ساتھ جرمنی، فرانس، پولینڈ، روس، برطانیہ، کینیڈا، ہسپانیہ، پرتگال اس وائرس کی لپیٹ میں ہیں اور ان ممالک کے کئی وزرا اور سیاسی رہنمائوں میں جرثومے کی موجودگی کا شبہ ہے، جن میں پولینڈ کے وزیر ماحولیات مائیکل واس اور کینیڈا کی خاتونِ اوّل بھی شامل ہیں۔ امریکہ کے کئی سینیٹر شک کی بنا پر رضاکارانہ قرنطینہ میں ہیں۔
اگرچہ دنیا کا کوئی حصہ اس عفریت سے محفوظ نہیں، لیکن اب تک افریقہ نسبتاً کم متاثر نظر آرہا ہے۔ افریقہ میں کورونا وائرس کے مریض یورپی تارکینِ وطن ہیں۔ اسی بنا پر سوشل میڈیا میں یہ ٹویٹ وائرل ہورہی ہے کہ پہلے گوروں نے افریقہ کو Colonizeکیا اور اب ہمیں Coroniseکررہے ہیں۔
یورپ اور شمالی امریکہ میں مرض کو پھیلنے سے روکنے کی کلید میل جول روکنے کو قرار دیا جارہا ہے، جس کے لیے ماہرین نے سماجی خلیج یا Social Distancing کی اصطلاح وضع کی ہے جس کے تحت عبادت گاہوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ امریکی مسلمان مساجد میں چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا اہتمام کرکے نماز ادا کررہے ہیں۔ کئی جگہ نجی گھروں پر نماز باجماعت ادا کی جارہی ہے۔
کورونا وائرس سے بیماری و موت کا خوف تو اپنی جگہ، پابندیوں نے زندگی خاصی مشکل کردی ہے۔ لوگوں نے خوف کے پیش نظر دکانیں خالی کردی ہیں اور اکثر جگہ غذائی اجناس اور اشیائے ضرورت کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ موقع پرست، دکانوں سے اشیا خرید کر Amazonکے ذریعے اسے بیچ کر بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس خوف و ہراس سے دہاڑی پر کام کرنے والے شدید مشکل میں ہیں جن کا روزگار ختم ہوگیا ہے۔ ٹیکسوں میں رعایت، بیماری میں تنخواہ کے ساتھ چھٹی، اور سرکار کی طرف سے تمام امدادی مراعات برسرِ روزگار لوگوں کے لیے ہیں۔ ICNAکا خیراتی ادارہ ’اکنا ریلیف نادار‘ بہت سی جگہ نادار لوگوں کو غذائی اجناس فراہم کررہا ہے، لیکن ان کا ذخیرہ بھی ختم ہونے کو ہے۔
کورونا وائرس کا سب سے خوفناک پہلو اس کے پیچھے آنے والا بے روزگاری اور کساد بازاری کا طوفان ہے جس کا بدحواس قائدین کو شاید اندازہ ہی نہیں۔ کورونا وائرس سے صحت یابی کا تناسب 97 فیصد سے زیادہ ہے۔ روایتی نزلے اور زکام سے مرنے والے ضعیف لوگوں کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے، لیکن کورونا وائرس سے دنیا بھر میں جو خوف طاری ہے اس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، اور بھیڑ چال میں پاکستان اور تیسری دنیا کی قیادت بھی معیشت سے بے خبر وہی اقدامات کررہی ہے جو امریکہ و یورپ میں اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے سخت پریشان تھے، اب Social Distancing نے رہا سہا کاروبار بھی ختم کردیا۔ مغربی دنیا میں نسبتاً بہتر طرزِ حکمرانی اور سماجی خدمات کے مؤثر نظام کی وجہ سے کاروبار کی وقتی تالا بندی سے پیدا ہونے والی پریشانیاں سرکاری وظائف اور مراعات نے عام لوگوں کے لیے کسی حد تک قابلِ برداشت بنادی ہیں، لیکن پاکستان میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں، چنانچہ عام لوگوں کی زندگی بے حد مشکل بن چکی ہے۔
یہ جرثومہ امریکی بازارِ حصص کو چاٹ چکا ہے اور 10 ہزار پوائنٹس کی گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈالر غرق کردیے۔ کورونا وائرس سے ہوائی جہاز، سیاحت اور اس سے وابستہ صنعتوں کا برا حال ہے۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کی نصف سے زیادہ ائرلائن کمپنیاں دیوالیہ کے قریب ہیں، اور صرف امریکہ میں 2 لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے۔ ہوائی جہازکمپینیوں کی امریکی انجمن نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر 50 ارب ڈالر کی مالی اعانت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔
ائرلائنز، پُرتعیش بجرے، ہوٹل، تفریحی مقامات، ریستوران، مے کدے، جوا خانے اور رقص گاہوں کے ساتھ عام دکانیں بھی بند ہورہی ہیں کہ اکثر شہروں کی مقامی انتظامیہ نے لوگوں کی غیر ضروری آمدورفت پر پابندی لگادی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہزاروں صنعتی ادارے بند ہیں جن کا خام مال چین سے آتا تھا، اور ساتھ ہی برآمدکنندگان بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ بین الاقوامی پروازیں بند ہیں اور بحری جہاز بندرگاہوں پر لنگرانداز ہیں۔ ان بندشوں نے غذائی اجناس، پولٹری، زندہ جانور، دودھ اور گوشت فراہم کرنے والوں کے لیے سخت مشکلات پیدا کردی ہیں کہ برآمد کے لیے تیار پرندے اور جانور ان کا منافع کھا چکے، اب ان کے آب ودانہ کے لیے گرہ سے رقم خرچ کرنی پڑرہی ہے۔
اس کے ساتھ تیل کی صنعت بھی شدید بحران میں ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ساری دنیا بالخصوص چین کی صنعتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کا اثر تیل کی کھپت پر ہے اور قیمتوں کی خوفناک جنگ سے تیل 28 ڈالر فی بیرل سے بھی سستا ہوگیا۔ تیل کی ارزانی اور حفاظتی اقدامات کے بھاری اخراجات سے خلیجی ممالک کی معیشت شدید دبائو میں ہے۔ تیل کے بعد عمرہ، حج اور زیارات سعودی آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہیں، اور حرم کی بندش سے آمدنی کا یہ سوتا بھی خشک ہوگیا۔
امریکہ اور بحر شمالی (North Sea) میں پیداواری لاگت قیمتِ فروخت سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے تیل کی صنعت کے لاکھوں کارکن بے روزگار ہوگئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے صنعت کا پہیہ چالو رکھنے کے لیے ملک کے تزویرانی پیٹرولیم ذخیرے کے لیے تیل خریدنے کا اعلان کیا ہے۔
جب 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران سعودی فرماں روا شاہ فیصل نے امریکہ اور مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی پر پابندی لگائی اُس وقت امریکیوں نے عارضی اور طویل المدتی منصوبے بنائے۔ اسی ضمن میں خام تیل کا ایک عظیم الشان ذخیرہ تعمیر کیا گیا جسے Strategic Petroleum Reserve یا SPRکہتے ہیں۔ خلیج میکسیکو میں زیرآب (Offshore) اور لوزیانہ میں onshore کنویں کھود کر غاروں اور depleted reservoirs میں تیل ذخیرہ کرنے کا اہتام کیاگیا۔ اب ان چار ذخائر میں مجموعی طور پر 73 کروڑ بیرل تیل محفوظ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘ گنگناتے ہوئے کم قیمت تیل سے لطف اندوز ہونے کے بجائے پاکستان بھی سستا تیل خرید کر مستقبل کے لیے اسے محفوظ کرلے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں میںDepleted Reservoir موجود ہیں جہاں خام تیل کے ذخائر قائم کیے جاسکتے ہیں۔ ترکی کی قومی تیل کمپنی کا بنیادی کاروبار ہی گیس ذخیرہ کرنا ہے۔ گرمی میں کم قیمت خریدی جانے والی گیس سردیوں میں یورپ کو فروخت کی جاتی ہے۔ تیل کا ذخیرہ معیشت کے ساتھ ہماری قومی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستانی سمندروں کے قریب عدم استحکام پیدا کرنا دشمن کے لیے مشکل نہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی بحریہ اس قسم کی ناکہ بندی کو توڑنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، لیکن شدید تصادم کی صورت میں ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ تو ہر وقت موجود ہی ہے۔ ان ذخائر کی تعمیر کے لیے کنووں کی کھدائی اور زمینی تنصیبات کے حوالے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹھٹھری ہوئی تیل کی مقامی صنعت میں تیزی آئے گی۔
احباب سے معذرت کہ ایک ذیلی موضوع پر ہم نے ایک پورا لیکچر گوش گزار کردیا۔
امریکہ میں الرجی و انسدادِ وبائی امراض کے ڈائریکٹر اور کورونا وائرس کے خلاف بنائی گئی صدر ٹرمپ کی ٹاسک فورس کے اہم رکن ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بہت دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری زندگی اب ویسی نہیں رہے گی جیسی کورونا وائرس سے پہلے تھی‘‘۔ بہت سے لوگ ڈرامائی تبدیلی کے حوالے سے کورونا وائرس عفریت کا موازنہ 9/11 سے کررہے ہیں کہ جیسے نیویارک میں ہونے والے دو گھنٹہ چار منٹ کے واقعے کے اثرات دو دہائی گزر جانے کے بعد آج تک ساری دنیا میں محسوس کیے جارہے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ دنیا بھر کی معیشت و معاشرت پر ایک عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔ کیا پاکستان اور تیسری دنیا کی قیادت کو ان اقدامات کے تباہ کن اثرات کا ادراک ہے جن کا چند ماہ بعد عام لوگوں کو سامنا کرنا پڑے گا؟

اب آپ مسعود ابدالی کی تحریر و مضامین اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر masood@MasoodAbdali پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ تفصیل کے لیے www.masoodabdali.com پر تشریف لائیں۔

Share this: