مسلمانوں کی زندگی کا مقصد

Print Friendly, PDF & Email

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا اُس وقت لوگوں میں مسلمان کے لیے بہتر مال بکریاں ہوں گی، ان کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں میں (بستی سے الگ) اپنا دین بچاتا ہوا فتنوں سے بھاگتا پھرے گا۔
(بخاری۔ عن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ)

سید طاہر رسول قادری
(ترجمہ)’’تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں… کہو ’’یہ انفال تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو‘‘ … سچے اہلِ ایمان تو وہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں، اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں… ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں۔ قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔‘‘
(الانفال، آیت 1 تا 4) (تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 128)
اسلام کے قلعے کی مضبوطی کا تمام تر انحصار مسلمانوں کے درمیان اخوت، رحم دلی، فیاضی، شرافت اور باہمی تعلقات کی بہتری اور ایک دوسرے کی خیر خواہی پر ہے… اگر یہ نہ ہو، یا ہو مگر خوب تر نہ ہو، تو ان کی بقا و سلامتی کی ضمانت نہ تو سیاسی استحکام دے سکتا ہے اور نہ فوجی قوت دے سکتی ہے… اور نہ جنگ وجہاد میں ان کی کامیابیاں دیرپا ہوسکتی ہیں۔ ایک مسلمان ٹوٹی ہوئی تلوار سے تو لڑ کر کامیاب ہوسکتا ہے، لیکن آپس کے پھٹے ہوئے دلوں کے ساتھ لڑ کر کسی وجہ سے کامیاب ہو بھی جائے تو اس نعمت کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔
یہ سورۃ الانفال جس کی پہلی چار آیات تلاوت کی گئی ہیں، ان میں مسلمانوںکو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد نہ مالِ غنیمت کا حصول ہے، اور نہ کشور کشائی ہے۔ ان کو دنیا میں بین الاقوامی انقلابی جماعت بناکر اس لیے نہیں اٹھایا گیا ہے کہ وہ دنیا کی دوسری حکمراں قوموں کی طرح ایک حکمراں قوم بن جائیں، بلکہ اس لیے ان کو وجود میں لایا گیا ہے کہ دنیا سے جو خدا خوفی اٹھ گئی ہے، اس کوخود متقی بن کر دوبارہ قائم کریں… آپس کے تعلقات کو درست کریں… آپس کی بدگمانیوں کو دور کریں۔ اپنے درمیان سے حرص و لالچ کو نکال دیں۔ اپنے بھائیوں کے خیر خواہ بنیں اور ان کے بارے میں غلط خیال اور تصور کو دل میں داخل ہونے نہ دیں… ابھی جنگِ بدر کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کے سلسلے میں جن غیر دانش مندانہ باتوں کا اظہار ہوا، ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپس کے تعلقات میں مزید استواری، راستی، ہم آہنگی، خوش اسلوبی اور خیرخواہانہ جذبے کی ضرورت ہے۔
…اور ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع اور فرماں بردار رہیں… اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت نہ کریں اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور تقویٰ کی روش پر قائم رہیں۔
… نیز ان کو جلد سے جلد اپنی حالت ایسی بنا لینی چاہیے کہ ان کے ایمان میں ہمیشہ بالیدگی ہوتی رہے۔ جب کبھی کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف، ان کی رائے اور تصورات کے خلاف، نظریات کے خلاف، ان کی مانوس عادتوں کے خلاف، ان کے مفادات اور ان کی لذت و آسائش کے خلاف، ان کی محبتوں اور دوستیوں کے خلاف، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت میں ملے تو بس اسی کومان لیں، اور اپنی خواہشات سے دست بردار ہوجائیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے اور ہمیشہ کرتے رہیں گے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوگا۔ ان کے دلوں کی حالت ایسی ہوجائے گی کہ جس وقت بھی وہ اللہ کا ذکر سنیں گے ان کا دل کانپ اٹھے گا۔ اور جب کبھی اللہ کی آیات سنیں گے فوراً اس کی تصدیق کریں گے اور کہہ اٹھیں گے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور اس کی ہدایات بالکل سچی ہیں۔
…اپنے رب پر اعتماد رکھنے والے بنیں۔ ان کو بھروسا فوجی برتری، دنیا کے ظاہری اسباب و وسائل، اپنی قوت و توانائی، اپنی دوراندیشی اور معاملہ فہمی، اپنے کنبے اور قبیلے پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنے رب پر رکھنا چاہیے۔ مومن کی یہ شان ہونی چاہیے کہ اسبابِ دنیوی سے قطع نظر کرکے محض اپنے رب کے بھروسے پر تمام کاموں کا فیصلہ کرے خواہ وہ دنیا کا کام ہو یا آخرت کا… سورۃ الاحزاب کی آیت 48 میں مسلمانوں کو بشارت دیتے ہوئے یہ بات کہی گئی ہے: ’’ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پروا نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی، اور بھروسا کرلو اللہ پر۔ اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے‘‘۔
…نماز قائم کرتے رہو۔ متفرق طور پر اپنی اپنی جگہ نماز پڑھ لینے کے بجائے مسجدوں میں اوقاتِ نماز میں مقررہ وقت پر جماعت کے ساتھ ادا کرو۔
واضح رہے کہ نماز جسمانی عمل ہے، اور اس عمل کی ضرورت ایک مسلمان کے لیے صرف اس لیے نہیں ہے کہ وہ بندگی کے اظہار کا ایک فعل ہے، بلکہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آدمی کے ذہن میں جب تک کوئی خیال محض خیال کی حد تک رہتا ہے، اس میں استحکام اور پائیداری نہیں ہوتی، اس خیال کے ماند پڑ جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے، اور بدل جانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اس کے مطابق کام کرنے لگتا ہے تو وہ خیال اس کے اندر جڑ پکڑ لیتا ہے۔ اور جوں جوں وہ اس پر عمل کرتا جاتا ہے اس کا استحکام بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس عقیدے اور فکر کا بدل جانا یا ماند پڑ جانا مشکل سے مشکل ہوتا جاتا ہے… اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو رجوعِ الی اللہ، تقویٰ، آپس کے تعلقات کو درست کرنے کا حکم، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری اور وفا شعاری، رقیق القلبی اور یادِ خدا کی مطلوبہ حالت میں رہنے کی تاکید اور دیگر تمام ہدایات اور احکام الٰہی پر عمل میں استحکام ہر روز پانچ وقت کی نماز باجماعت کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے بڑھ کر کوئی دوسرا طریقہ کارگر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دوسرا جو عمل بھی ہوگا اس کی نوبت دیر میں آتی ہے، یا متفرق صورتوں میں مختلف مواقع پر آتی ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جو ہرچند گھنٹوں کے بعد متعین صورتوں میں ایک مسلمان کو کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح سے بار بار کے تذکرے اور یاد دہانی سے جہاں دوسرے احکامات و ہدایات تازہ ہوتے رہتے ہیں،۔ اور ان کی قبولیت میںپختگی آتی رہتی ہے، وہاں مسلمانوں کے درمیان آپس کے تعلقات میں بھی پختگی، ہم خیالی اور ہمدردی و اخوت کا احساسِ باہمی پیدا ہوتا رہتا ہے۔
…جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ یعنی تنگ دل نہ بنو زرپرستی نہ اختیار کرو اور اپنے مال میں … خدا اور بندوں کے جو حقوق مقرر کیے گئے ہیں انہیں ادا کرتے رہا کرو۔ اور اگر یہ چاہتے ہو کہ فاتح بنو، انقلابی امت بنو، تقویٰ تمہارے اندر پیدا ہو۔ آپس کے تعلقات بہتر ہوں تو فیاض بنو، اور جو پیغام الہٰی لے کر اٹھے ہو اس کی خاطر مالی قربانی سے دریغ نہ کرو۔
…اے مالِ غنیمت پر آپس میں الجھنے والے مومنو! ان مومنانہ صفات کو اپنے اندر پیدا کرو، ان کو ابھارو، ان کو پروان چڑھائو، حقیقی مسلمان بن جائو گے۔ دنیا میں اچھے رہو گے اور مرنے کے بعد بھی اللہ کے یہاں بڑے درجے ملیں گے۔
انفال: جمع ہے نفل کی معنی ہے واجبات اور ضروریات سے زائد کام۔
اللہ تعالیٰ نے مالِ غنائم کو انفال سے تعبیر فرمایا ہے، جس کا صاف مطلب جنگِ بدر کے مجاہدین اور بعد میں آنے والے تمام مجاہدین فاتحین کو یہ بتانا ہے کہ جنگوں اور فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالِ غنائم تمہاری محنت و کاوش کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ عطیہ الٰہی ہیں، جو انعامات کی صورت میں بخشے گئے ہیں۔ ان پر تمہارے لیے بطور خود حقوق نہیں بن جاتے ہیں، بلکہ ان کی تقسیم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور منشاء کے مطابق ہوگی۔ جب کسی چیز کے تم بطور خود حق دار نہیں ہو تو پھر اس کے اپنے طور پر دعویدار کیوں بنتے ہو۔
اے مسلمانو! تمہارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مالِ غنیمت میں سے تمہیں کیا ملتا ہے، اور کتنا ملتا ہے۔ بلکہ تمہارے لیے قابلِ توجہ مسئلہ صرف اور صرف یہ ہے کہ تم کیوں کر اور کس طرح اپنے کو خدا ترس اور متقی بناتے ہو، اور تمہارے آپس کے تعلقات کیسے اور کیوں کر بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔
[52 دروس قرآن… حصہ دوئم]

Share this: