اُردو تفسیری ادب کا تجزیاتی مطالعہ

Print Friendly, PDF & Email

بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نزولِ قرآن مجید کی شروعات ہوگئی۔ اللہ جل شانہٗ نے اپنے کلام کے ذریعے صراطِ مستقیم کی وضاحت کرنا شروع کی۔ یہ ہدایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہلے، اور مومنین مسلمین کے لیے بدرجہ دوم تھی اور ان کے اعمال کی بنیاد تھی۔ جہاں کہیں وضاحت کی ضرورت پڑتی صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کرتے، اور نبی پاکؐ اس کی وضاحت فرما دیتے۔ پھر یہ سلسلہ صدیوں تک چلتا رہا۔ اہلِ علم یہ وضاحت زبانی اور تحریری طور پرکرتے رہے۔ عربی، فارسی، ترکی اور دوسری زبانوں میں اس کا عظیم ذخیرہ جمع ہوگیا۔ اردو نئی زبان ہے، اس میں بے شمار تفاسیر لکھی گئی ہیں، ان میں نمایاں تفاسیر اس زیر نظر کتاب کا موضوع ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر تحریر فرماتے ہیں:۔
’’اس کتاب میں پیش کی گئی معروضات کا بنیادی مقصد برصغیر کے علمائے کرام کی تفسیر کے شعبے میں خدمات کو تاریخی اور زمانی ترتیب سے مرتب کرکے اس کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کرنا ہے۔ یہ ایک فطری ضرورت اور فطری عمل ہے کہ ایک دور میں منظرعام پر آنے والے افکار و نظریات کو ایک وقت میں مرتب و منضبط کیا جاتا ہے، پھر اس کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ ہوتا ہے۔ ایک وقت کے مسائل و افکار اور اس دور میں معرضِ وجود میں آنے والے افکار کو ساتھ ساتھ رکھ کر جائزہ لیا جاتا ہے کہ یہ افکار، اس دور کے مسائل کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہوئے۔ مسائل کو حل کرنے میں یہ فکری کاوشیں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ کیا کوتاہیاں اور کمزوریاں رہ گئیں۔ کون کون سے افکار نے اپنے اثرات کس حد تک مرتب کیے۔ وہ افکار و نظریات جو کسی دور کے مسائل و تقاضوں سے میل نہیں کھاتے، اپنے دور کے لیے مفید ثابت نہیں ہوتے، یا ان کی بنیاد حقائق پر نہیں ہوتی وہ افکار ختم ہوجاتے ہیں، اور وہی چیز باقی رہتی ہے جو ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہوتی ہے۔
سورۃ الرعد کی آیت نمبر17 میں اسی حقیقت کا ذکر ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو اس کے پانی سے ندی نالے بہنے لگتے ہیں۔ خس وخاشاک تیر کر پانی کے اوپر آجاتے ہیں اور نابود ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جب زیور وغیرہ کو آگ پر گرم کرتے ہیں اور وہ پگھل جاتا ہے تو اس میں موجود ملاوٹ والی چیز تیر کر اوپر کی سطح پر آجاتی ہے، اسے الگ کردیا جاتا ہے، اور اصل سونا باقی رہ جاتا ہے۔ سمندروں وغیرہ میں موجود مونگے، موتی وغیرہ ان کی نچلی سطح پر ہی ہوتے ہیں اور لوگ انہیں حاصل کرلیتے ہیں۔
اس حوالے سے برصغیر کے تفسیری ادب کی علمی و فکری قدر و قیمت کا جائزہ لینے اور مفسرین کرام کی کاوشوں میں سے نئے پیدا ہونے والے علوم و افکار اور تخلیقی مواد حاصل کرنے کے لیے یہ کوشش کی گئی ہے۔ اس کوشش میں مفسرین کی تفسیری کاوشوں کا تعارف، تفسیری رجحانات اور نئے پیدا ہونے والے تفسیری سرمائے کا ممکن حد تک تجزیہ اور ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے تاکہ اسے کھنگال کر اس میں سے اس مواد کو نمایاں کیا جائے جسے قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مفسرین، قرآن میں غواصی کرتے ہوئے اس میں پنہاں اسرار کو منظرعام پر لائے ہیں۔
کتاب میں حاصل شدہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ مفسرینِ برصغیر نے محض حصولِ ثواب کے لیے ہی قرآن میں غور و فکر نہیں کیا، بلکہ ان کا مقصد قرآن کی آفاقی روشنی اور ہدایت کو انسانوں تک پہنچانا تھا۔ انہوں نے اپنے اپنے مقاصد اور بساط کے مطابق قرآن سے ہدایت کی روشنی پھیلائی۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس سے استفادہ کی راہیں نکالیں۔ جس طرح مفسرین نے محض حصولِ ثواب کے لیے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا، اسی طرح ہمارا بھی فریضہ ہے کہ تفاسیر کو محض مطالعے یا بزرگوں کی یادگار کے طور پر ہی نہ پڑھیں بلکہ ان میں جو کچھ پیش کیا گیا ہے اس سے استفادے اور رہنمائی سے عملی زندگی میں استفادہ کریں، اور دنیا کو بتائیں کہ ہماری کتاب رہتی دنیا تک زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اپنی تفاسیر میں بہت سے گوشہ ہائے زندگی کے لیے نئے نئے تفسیری اجتہادات بھی کیے۔ اپنے سے پہلے کے اجتہادات کا اپنے زمانے کے مسائل پر اطلاق کرتے ہوئے مسائل کا حل بھی دیا ہے۔ یہ اجتہادات معاشرت، معیشت، سیاست، عائلی زندگی اور کلامی مسائل میں کیے گئے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے لوگوں کے تفسیری اجتہادات پر نقد بھی ہوا ہے۔ انہیں عقل و نقل اور واقعاتی شواہد سے پرکھا گیا ہے، اور دلائل سے ثابت نہ ہوسکنے والی باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، مفسرین کے خیالات کو نقد کی سان پر چڑھایا گیا ہے۔ پہلے کے مفسرین کے افکار میں توسیع بھی کی گئی ہے۔ ان کی بنیاد پر نئے اجتہادات بھی ہوئے ہیں۔ اس تفسیری مواد میں قرآن کی فصاحت و بلاغت کے نکات کی تشریح و توضیح بھی کی گئی ہے۔ دفاعِ دین کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے مخالفین کی پیدا کردہ تشکیک کا ازالہ بھی کیا گیا ہے، اور سب سے بڑھ کر قرآن کو کتابِ ہدایت قرار دیتے ہوئے عصری ذہنی پس منظر اور اندازِ فکر کی مناسبت سے تفسیر کی گئی ہے۔
تفسیر قرآن کا دعوتی رجحان، برصغیر کی تفاسیر کا ایک غالب رجحان ہے۔ شاہ ولی اللہ نے رجوع الی القرآن کی جس تحریک کا آغاز و احیا کیا تھا، برصغیر کے مفسرین نے اسے آگے چلایا۔ یہ واضح ہوتا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے پھیلائے گئے اس تاثر میں صداقت نہیں ہے کہ علما نے گروہی افکار کو مقبول بنانے کے لیے ہی قرآن کو استعمال کیا اور قرآن کو ’’کتابِ ہدایت‘‘ کے مقام سے گرادیا۔
اس کتاب میں یہ بات بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اردو تفسیری ادب میں گراں مایہ مواد موجود ہے جو قرآن میں غور و خوض کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ مفسرین نے محض گروہی نقطہ ہائے نگاہ کو تقویت دینے یا دوسروں کی تردید و مذمت کے لیے ہی قرآن کو استعمال کیا ہے۔ یہ بات کسی حد تک موجود ضرور ہے، لیکن تمام مخلصانہ کاوشوںکو ہم اس الزام کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے۔ ایسا کرنا لاتعداد مخلص مفسرین کی کاوشوں کی یقیناً توہین ہے۔ دورِ حاضر میں پیدا کیا جانے والا یہ تاثر درست نہیں کہ تفسیر کا سارا علم اور مفسرین کی کاوشیں ایک نظریاتی جدال، مفسرین کی ایک ذہنی مشق اور محض تقلیدی لٹریچر ہے۔ کتاب میں بعض حلقوں کی جانب سے پھیلائے گئے اس تاثر کو غلط ثابت کیا گیا ہے کہ چودہ سو برس میں قرآن کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں جاسکا۔ یہ نقطہ نگاہ اپنے چودہ سو سالہ تفسیری ورثے کی توہین بھی ہے اور غیر منطقی بھی ہے کہ وہ کتاب جو قیامت تک کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی تھی اور جسے مصدق، مھیمن، نور، بصائر، موعظۃ فرقان، اور ھدی للناس کہا گیا، اس کتاب کے حامل چودہ سو برس تک اس کتاب کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ اس نقطہ نگاہ کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
میں نے تفسیری لٹریچر کی حقیقی قدر و منزلت کو واضح کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پہلوئوں کو اجاگر کیا ہے:
-1 یہ نقطہ نگاہ حقیقت کے خلاف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تفسیر بیان نہیں کی، اور جس چیز کو تفسیر کہا جاتا ہے وہ تابعین کے اقوال ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت بھی نہیں اور جو اختلافات سے بھرے پڑے ہیں۔
-2 بعض حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ تفسیر طبری میں رطب ویابس اور غیر مصدقہ روایات اکٹھی کردی گئی ہیں۔ اس کتاب میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر تفسیر طبری میں صحیح اور سقیم روایات اکٹھی ہوگئیں تو وہ اُس وقت کی ضرورت تھی کہ اُس وقت تک تمام تفسیری روایات کو یکجا کیا جاتا۔ خود طبری نے بھی روایات پر نقد کیا۔ اس کے بعد مسلسل نقد و تنقیح کا عمل جاری رہا اور اب تک کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ پورے قرآن کی تفسیر ثقہ طور پر مرفوع احادیث کی روشنی میں ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔
-3 قرآن کتابِ ہدایت سے دُور نہیں ہوا، بلکہ اب بھی درجنوں ایسی تفاسیر موجود ہیں جو محض دعوتی اسلوب پر لکھی گئی ہیں۔
-4 اسی طرح متعدد ایسی تفاسیر موجود ہیں جن میں موجود ’’دعوتی پہلو‘‘ کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چند لوگوں کے پھیلائے ہوئے اس تاثر کو رد کیا جائے کہ مفسرین نے محض فرقہ واریت پھیلائی ہے اور قرآن کو کتابِ ہدایت سے نیچے لاکر تفسیر کو محض کچھ لوگوں کی ذہنی مشق کے لیے استعمال کیا ہے۔
اس کتاب کی افادیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ جہاں جہاں کسی تفسیر کی مناسبت سے مزید تحقیقی کام کروانے کی ضرورت یا گنجائش موجود ہے، اس کی طرف بھی اشارات دیئے ہیں۔ اس سے ایم فل، پی ایچ ڈی کی سطح پر، یا اس کے علاوہ ریسرچ کے لیے عناوین بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
-5 مخصوص مقاصد کے تحت یہ نظریہ عام کیا گیا کہ تفسیری ادب غیر معتبر روایات پر مبنی ہے۔ اس غلط تاثر کو دور کرنے کے لیے بھی تفاسیر کے اس پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے کہ اردو تفاسیر کی ایک بڑی تعداد میں مفسر نے دعویٰ بھی کیا ہے اور اس کا التزام بھی کیا ہے کہ صرف مرفوع روایات ہی شامل کی جائیں۔
-6 عصری مسائل اور تقاضوں کی مناسبت سے تفاسیر میں پیش کیے گئے مواد کی خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے تاکہ واضح ہوکہ مفسرین جدید تقاضوں سے بے خبر نہیں ہیں۔
-7 بعض تفاسیر میں موجود ایسے مواد کی طرف بھی اشارات دیئے ہیں جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
-8 تفاسیر میں موجود تخلیقی اور اجتہادی مواد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کسی محترم مفسر نے کسی عصری مسئلے پر اجتہادی انداز سے جو کچھ روشنی ڈالی ہے، اس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
برصغیر کے تفسیری ادب پر نقد و تجزیہ کے اعتبار سے یہ ایک ابتدائی کوشش ہے، اور ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کتاب میں تمام اردو کتبِ تفسیر شامل ہوگئی ہیں۔ ابھی لاتعداد کتابیں موجود ہیں۔ مجھے اس وقت تک جن کتابوں تک رسائی ہوئی ہے، انہیں موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ باقی رہ جانے والی تفاسیر سے آئندہ استفادہ کیا جائے گا۔ میری یہ شعوری کوشش رہی ہے کہ ہر تفسیر کے نمایاں پہلوئوں کو اجاگر کیا جائے، خوبیوں کو منظرعام پر لایا جائے، اور اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ ہمارا دینی ادب محض تقلیدی رجحان ہی کا حامل ہے۔ اس کے برعکس بیشتر ایسی تفاسیر ہیں جو کسی نہ کسی پہلو سے تخلیقی مواد پر مبنی ہیں۔ خدمتِ قرآن کے سلسلے میں میری اس کاوش کو اللہ قبول فرمائے‘‘۔
کتاب کے محتویات درج ذیل ہیں:
تفسیر میں شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان کی خدمات م 1176ھ
تفسیر القرآن: (سرسید احمد خان دور) م 1898ء/1315ھ
ترجمان القرآن بلطائف البیان (ازنواب صدیق حسن خان) 1207ھ/ 1890ء
مواھب الرحمٰن۔ مولانا امیر علی ملیح آبادی۔ م 1337ھ
تفسیر حقانی۔ مولانا عبدالحق حقانی۔ م 1338ھ
قرآن عزیز، مترجم مولانا احمد علی لاہوری۔ م1963ء
احسن التفاسیر۔ مولانا احمد حسن۔ م 1338ھ
مولانا حمید الدین فراہی۔ م 1930ء
بیان القرآن۔ مولانا اشرف علی تھانوی۔م 1362ھ
تفسیر جواہر القرآن۔ مولانا حسین علی۔ م 1363ھ
المقام المحمود۔ الہام الرحمٰن۔ مولانا عبیداللہ سندھی۔ م 1944ء
تفسیر ثنائی۔ مولانا ثنا اللہ امرتسری
تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن (مولانا ثنا اللہ امرتسری)
تفسیر عثمانی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن (محمد علی لاہوری)
ترجمان القرآن۔ مولانا ابوالکلام آزاد۔م 1958ء
واضح البیان فی تفسیر ام القرآن (مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی)
تفسیر الحسنات۔ سید محمد احمد قادری
تذکرہ (علامہ عنایت اللہ المشرقی) م 1964ء
معالم القرآن از مولانا محمد علی صدیقی
درسِ قرآن۔ مولانا عبدالحئی
تفسیر نعیمی۔ مفتی احمد یارخان۔ م 1391ھ
معارف القرآن۔ مولانا محمد ادریس کاندھلوی۔ م 1974ء
معارف القرآن (مفتی محمد شفیع) م 1396ھ
تفسیر ماجدی۔ مولانا عبدالماجد دریابادی
تفہیم القرآن۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ م 1979ء
مطالب الفرقان۔ غلام احمد پرویز۔ م 1985ء
تفسیر محمود۔ مولانا مفتی محمود
تیسیر القرآن۔ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی۔ م 1995ء
فتح الرحمٰن فی احکام القرآن
تفسیر تدبر قرآن۔ مولانا امین احسن اصلاحی۔ م 1993ء
تفسیر ضیاء القرآن۔ پیر محمد کرم شاہ۔ م 1998ء
اشرف الحواشی از مولانا محمد عبدہ الفلاح
انوارالبیان فی کشف اسرار القرآن
تبیین القرآن (از مولانا محمد حسین نیلوی)
اختصار البیان فی مافی القرآن۔ علامہ شبیر بخاری
معالم العرفان فی دروس القرآن۔ مولانا صوفی عبدالحمید سواتی
ذخیرۃ الجنان۔ مولانا محمد سرفراز خان صفدر
بیان القرآن۔ از ڈاکٹر اسرار احمد
تفسیر تبیان القرآن۔ مولانا غلام رسول سعیدی
اکرم التفاسیر۔ مولانا محمد اکرم اعوان۔ م 2018ء، تذکیرالقرآن (مولانا وحید الدین خان) پ 1925ء
تفسیر منہاج القرآن۔ از ڈاکٹر محمد طاہر القادری
الفرقان۔ از شیخ عمر فاروق
نورالقرآن (مرتب محمد صدیق بخاری)
ام الہدیٰ۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ
تفسیر القرآن الکریم۔ حافظ عبدالسلام بن محمد
قرآن مجید محشی بنام حدیث التفاسیر۔ مولانا عبدالستار/مرتب: مولانا عبدالقہار
تفسیر فاضلی۔ حضرت فاضل شاہ قطب عالم
تفسیر الکوثری۔ مولانا محمد شریف اللہ
البیان۔ جاوید احمد غامدی
بیان الفرقان۔ ملک احسان الحق
القرآن الکریم و ترجمہ معانیہ و تفسیرہ الی اللغۃ الارویہ۔ حافظ صلاح الدین یوسف
گلدستہ تفاسیر/ مولانا عبدالقیوم مہاجر مدنی
حسن تفسیر۔ ڈاکٹر نصیر احمدناصر
عمدۃ التفاسیر:(حضرت نانوتوی کے تفسیری افادات، کاوش مولانا محمد سیف الرحمٰن)
اثمار التنزیل۔ مولانا فرید احمد بالاکوٹی
کشف الرحمٰن مع تیسیرالقرآن و تسہیل القرآن
عقود الازھارمن حدائق الابرار (دروس حمیدیہ) قاضی حمید اللہ
تفسیر قرآن عزیز۔ مسعود احمد بی ایس ای
خلاصہ تفسیر فیوضاتِ الٰہیہ
سائنسی تفسیر۔ دلائل
کتابِ زندگی۔ از سلطان بشیر محمود
سائنسی انداز تفسیر میں غیر متوازن رویہ
برصغیر میں ماثور تفسیری ادب کا ارتقا
کتاب نیوز پرنٹ پر طبع کی گئی ہے۔ مجلّد ہے، سادہ سرورق سے آراستہ ہے۔

Share this: