کورونا وائرس مختلف سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟۔

Print Friendly, PDF & Email

رچرڈ گرے
جیسے جیسے کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے، ہمارا سرفیسز یعنی کسی بھی چیز کی سطح جیسے کہ ٹیبل یا دروازے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔ اب عوامی مقامات پر بہت سے مناظر عام ہوگئے ہیں، جیسے کہ لوگوں کا دروازے اپنی کہنیوں سے کھولنے کی کوشش کرنا، ٹرین کا سفر کرتے ہوئے کسی ہینڈل کو نہ پکڑنا، دفاتر میں ہر روز ملازمین کا اپنی میزوں کو صاف کرنا۔ جن علاقوں میں کورونا کا بہت اثر پڑا ہے وہاں پر تو حکام عمارتوں، پارکوں، اور گلیوں میں جراثیم کُش ادویہ چھڑک رہے ہیں۔ ہسپتالوں، دفاتر، دکانوں سبھی میں صفائی کے اقدامات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ شہروں میں تو کچھ رضاکار رات کے وقت جا جا کر اے ٹی ایم مشینوں کے ’کی پیڈ‘ صاف کرتے ہیں۔ بہت سارےسانس کے نظام پر اثرانداز ہونے والے وائرس کی طرح کورونا وائرس ان چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو کسی کھانسنے والے کے منہ اور ناک سے خارج ہوتے ہیں۔ ایک کھانسی میں 3000 تک ایسے قطرے آسکتے ہیں۔ قطروں میں جو ذرات ہوتے ہیں وہ کسی سطح، یا کسی کے کپڑوں پر گرتے ہیں اور کچھ ہوا میں ہی رہتے ہیں۔ اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ یہ وائرس انسانی اخراج میں بھی موجود ہوتا ہے، اسی لیے جو لوگ بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ صحیح سے نہیں دھوتے وہ جس چیز کو ہاتھ لگائیں اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ امریکہ میں سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ کسی ایسی جگہ پر ہاتھ لگانا جہاں یہ وائرس ہو، اور پھر اسی ہاتھ کو اپنے چہرے پر لگانا اس وائرس کے پھیلاؤ کا مرکزی طریقہ نہیں ہے۔
اس کے باوجود سی ڈی سی اور عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کا اصرار ہے کہ ہاتھ دھونا اور سطح کو بار بار صاف کرنا اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم ترین قدم ہے۔
اگرچہ ہمیں ابھی یہ معلوم نہیں کہ کتنے کیس سطح کو چھونے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں پتا کہ یہ وائرس کتنی دیر تک انسانی جسم کے باہر زندہ رہتا ہے۔ ماضی کی کچھ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اس سے ملتے جلتے وائرس میٹل، شیشے یا پلاسٹک پر نو دن تک رہتے ہیں اگر انھیں صحیح طرح سے صاف نہ کیا جائے۔ کم درجۂ حرارت میں تو کچھ 28 دن تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
کورونا وائرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کئی قسم کی سرفیسز پر زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اور محققین ابھی یہ سمجھنا شروع کررہے ہیں کہ یہ وائرس پھیلتے کیسے ہیں۔
امریکہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں وائرس کے ماہر نیلجے وان دورمالن مختلف سرفیسز پر ان وائرس پر ٹیسٹ کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ کھانسنے کے بعد یہ وائرس ہوا میں تین گھنٹے تک رہ سکتا ہے۔کھانسی کے ایک سے پانچ مائیکرو میٹر چھوٹے چھوٹے قطرے ہوا میں کئی گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں۔ یہ سائز انسانی بال سے 30 گنا زیادہ کم ہے۔ یعنی کسی بغیر فلٹر والے اے سی کے نظام میں یہ زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہی رہ سکتا ہے، کیونکہ جہاں ہوا گھوم رہی ہو وہاں پر یہ قطرے جلدی سرفیسز پر بیٹھ جاتے ہیں۔ تاہم این آئی ایچ کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ وائرس گتے پر زیادہ دیر، یعنی 24 گھنٹے تک زندہ رہتا ہے، اور پلاسٹک اور اسٹیل کی کسی سطح پر یہ دو سے تین دن تک رہ سکتا ہے۔ یعنی دروازوں کے ہینڈلوں پر، ٹیبلوں پر، اور پلاسٹک کوٹڈ دیگر سطحوں پر یہ زیادہ عرصے تک رہے گا۔ مگر محققین کو یہ ضرور پتا چلا ہے کہ کاپر کی سطحوں پر یہ چار گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔
سرفیسرز کو صاف کرنا
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی سطح کو 62 سے 71 فیصد الکوحل والے یا 0.5 فیصد ہائیڈروجن پر آکسائد والے یا گھریلو بلیچ جیسے کسی محلول سے صاف کیا جائے تو وہاں کورونا وائرس ایک منٹ کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی میں بھی کورونا وائرس جلدی مر جاتے ہیں۔ محققین کی رائے میں اس جیسے کورونا وائرس 56 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمی میں مر جاتے ہیں، مگر یہ اتنا گرم ہے کہ اس درجہ حرارت کے پانی میں نہانے سے انسانی جلد کو نقصان ہوسکتا ہے۔
ابھی تک یہ تحقیق سامنے نہیں آئی کہ کپڑوں یا اس جیسے سرفیسز جن کو ڈس انفیکٹ کرنا قدرے مشکل ہے، وہاں یہ وائرس کتنی دیر تک رہتا ہے۔
راکی ماؤنٹین لیبز کے وینسنٹ منسٹر کہتے ہیں کہ ’’ہمارے خیال میں کسی ایسی سطح جہاں وہ جذب ہوسکتا ہو، جیسے کہ کپڑے، وہاں یہ زیادہ جلدی خشک ہوجاتا ہے مگر ان سے چپکا رہتا ہے۔‘‘
درجہ حرارت اور نمی کے تناسب کا بھی اس میں عمل دخل ہے کہ یہ وائرس کتنی دیر تک انسانی جسم کے باہر زندہ رہ سکتا ہے۔ وینسنٹ منسٹر کہتے ہیں کہ ابھی ہم ان دونوں عناصر کے بارے میں زیادہ تحقیق کررہے ہیں کہ ان کا وائرس پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے انسانی جسم سے باہر اتنی دیر تک زندہ رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہاتھ دھونے اور سرفیسز کو صاف کرنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

Share this: