مسلم روشن فکر قیادت

Print Friendly, PDF & Email

مائیکل ہیملٹن مورگن/ترجمہ و تلخیص:ناصر فاروق
۔’’اے داؤدؑ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تُو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر، اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر، کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔‘‘ (سورہ ص، 26)۔
ابتدائی مسلم ریاست میں روشن فکر قیادت نے کئی سنہرے ادوار کی راہ ہموار کی۔ ناگزیر انسانی انا، ادارتی ناکامیوں، بدقسمتی اور بدعنوانی کے باوجود، آٹھ صدیوں سے زائد عرصے تک اس روشن فکر روایت کے سبب علم وتحقیق اور درس وتدریس کا ماحول مستحکم رہا، اور اس دوررس بلند نگاہ نے یورپ اور دیگر غیر مسلم دنیا میں مستقبل کی روشن خیال قیادتوں کی رہنمائی کی۔
اس کا ایک نتیجہ وہ علمی اور تحقیقی کامیابیاں ہیں، جن کا اس کتاب میں ذکرکیا گیا ہے: ریاضی، حکمت، سائنس، علم الادویہ، اور فنی صلاحیتیں وغیرہ۔ اس روشن فکر رہنمائی کے دیگر نتائج میں اعلیٰ معیار کے کتب خانے اور جامعات کی روایت، معاشرتی انصاف، صحتِ عامہ ، اور بین العقاعد، بین الاقوامی، اور بین النسلی ہم آہنگی، برداشت اور ضبط وتحمل کی روایتیں شامل ہیں۔
یہ روشن فکر رویہ رائے کی آزادی، اتفاقِ رائے، تنازعات کے حل اور عوامی آراء کے احترام میں رہنما ثابت ہوا ہے۔ گو کہ سارے ہی انسانی نظاموں میں منفی قوتیں بھی کارفرما رہی ہیں۔ یہ قوتیں انا، تنگ نظری، جہالت، تعصب، اور کج فہمی کے سبب وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ کبھی کبھی ان منفی قوتوں نے عروج بھی پایا ہے۔ تاہم ساتویں سے پندرہویں صدی تک مسلم روشن فکر اور طاقت ور قیادت مسلسل موجود رہی ہے، گو کہ تاریخ میں اُسے گُم گَشتہ کردیا گیاہے۔
قرآن حکیم کی تعلیمات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ، اور قدیم دستاویزات واضح کرتی ہیں کہ ابتدائی مسلم قیادت یعنی خلافتِ راشدہ کے دور میں صورت حال عملاً بہترین تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پہلا خطبہ تعلیماتِ اسلام کی سادہ اور واضح ترجمانی کرتا ہے: ۔
۔ ’’امابعد! اے لوگو! مجھے تمہارا حاکم مقرر کیا گیا ہے، حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر تم مجھے حق پر پاؤ تو میرے ساتھ تعاون کرنا، اور اگر مجھے باطل پر پاؤ تو میری اصلاح کرنا۔ جب تک میں اللہ عزوجل کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرتے رہنا، اور جس دن میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کروں تم پر میری اطاعت واجب نہیں رہے گی۔ یاد رکھو! میرے نزدیک تم میں قوی شخص ضعیف ہے جب تک کہ میں اس سے حق وصول نہ کرلوں، اور ضعیف شخص اُس وقت تک قوی ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں۔ میں اللہ سے سب کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے الفاظ پر حرف بہ حرف عمل کیا۔ اپنے وعدوں کی پاسداری کی۔ تعلیماتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرمن وعن عمل کیا، اور کسی نئی پالیسی یا حکمت عملی سے ممکنہ گریز کیا۔ اسلام میں وہ پہلی شخصیت تھے، جنھوں نے اپنے غلاموں کو آزاد کیا، اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلی مسجد تعمیر کروائی، اور زندگی بھر کی جمع پونجی چالیس ہزار درہم اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کردی۔
انگریز مؤرخ ایڈورڈ گبن History of the Saracens میں لکھتا ہے ’’جب ابوبکرؓ نے خلافت سنبھالی، مستحقین میں مال و متاع تقسیم کردیا، وراثت میں کھدر کی چادر اور سونے کے پانچ سکے چھوڑے، اورخلیفہ دوم حضرت عمرؓ نے آہ بھری کہ ابوبکر اعمالِ صالحہ میں بازی لے گئے۔‘‘
ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت وہ میراث تھی، جو عجز، ایمان داری، اور فلاحِ عام کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کردینے سے عبارت تھی۔ ان اعلیٰ انسانی اقدار نے مسلم دنیا اور اس سے آگے تک قیادت کے رہنما اصول مہیا کیے۔ یہی وہ اعلیٰ نمونہ ہے، جو آج اکیسویں صدی میں بھی سیاسی اسلام کی جانب مسلمانوں کو راغب کرتا ہے۔
چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ پہلے رہنما تھے، جو اعلیٰ قائدانہ اقدار ضبطِ تحریر میں لائے۔ یہ وہ رہنما اصول تھے، جو بعد کی قیادتوں میں منصۂ شہود پر آئے۔ بنوامیہ سے عباسی خلافت، فاطمی خلافت سے سلجوقیوں، اور دلی کے مغلوں سے خلافتِ عثمانیہ تک یہ رہنما اصول زمینی حقائق تھے۔ اس کا ایک دستاویزی ثبوت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مالک بن اشتر کے نام وہ خط ہے، جو مصر کی گورنری پر تقررکرتے ہوئے لکھا گیا:
’’تمھیں معلوم ہونا چاہیے، مالک! کہ میں تمھیں ایک ایسے ملک کا گورنر مقرر کررہا ہوں، جو اس سے پہلے بھی کئی حکومتیں دیکھ چکا ہے۔ ان میں سے کچھ عادل اور کچھ ظالم تھیں۔ لوگ تمھیں بھی اُسی طرح جانچیں گے جس طرح ماضی کی حکومتوں کو جانچا گیا، اور تم پر بھی تنقید کریں گے کہ جس طرح گزشتہ حکومتوں پرکی گئی۔
یاد رکھنا مالک، تمہاری رعایا میں دو طرح کے لوگ ہوں گے: ایک وہ جو تمہارے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، یہ تمھارے بھائی ہیں۔ دوسرے وہ جو دیگر مذاہب سے متعلق ہیں، وہ تمہاری طرح کے انسان ہیں۔ اُن سے محبت اور مہربانی سے پیش آنا، ان کی حفاظت اور مدد اُسی طرح کرنا کہ جیسی حفاظت اور مدد تم خدا سے چاہتے ہو۔
خود سے کبھی یہ نہ کہنا کہ تم اُن پر حاکم ہو، بلکہ ہمیشہ عجز اور انکسار سے پیش آنا۔ کیونکہ حاکمانہ سوچ تمھارے ذہن کا توازن بگاڑ دے گی، تمھیں متکبر اور زیاں کار بنادے گی۔ تمھارے ایمان کو کمزور اور اللہ کے سوا دوسروں کا محتاج کردے گی۔
ہمیشہ یہ حکمت حرزِ جاں بنائے رکھنا، نہ زیادہ سختی برتنا اور نہ ہی بہت زیادہ نرم پڑجانا۔ انصاف پر مبنی فیصلے سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ یاد رکھنا، عوام کی ناخوشی اور ناداروں کی بے کسی اہم لوگوں کی خوشی سے زیادہ اہم ہے۔ چند بڑے اہم لوگوں کی ناراضی مول لی جاسکتی ہے اگر اس میں عوام کی فلاح مضمر ہو۔ تمھیں لازماً یہ جان لینا چاہیے مالک! تمھارے عوام کئی درجوں اور طبقات پر مشتمل ہوں گے، ان سب کی بھلائی ایک دوسرے سے جُڑی ہوگی، کوئی بھی ایک طبقہ خود انحصاری پر پھل پھول نہیں سکتا، اور نہ ہی دوسرے کی مدد اور نیک خواہشات کے بغیر باقی رہ سکتا ہے۔ یاد رکھنا مالک! کسی بھی حکمران کا دل اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ ریاست انصاف کے اصولوں پر چل رہی ہے، اور اُس کی رعایا اُس سے محبت کرتی ہے۔ اور رعایا تم سے اُس وقت محبت کرے گی جب تمھارے لیے اُس میں کوئی خلش، کوئی تحفظات نہ ہوں گے۔ تم سے اُن کی وفاداری اور اخلاص اُس وقت سامنے آئے گا جب وہ مشکل میں تمہارے گرد جمع ہوجائیں گے، جب وہ تمہاری حکومت بلا چوں چرا قبول کرلیں گے، چھپ چھپ کر تمہاری حکومت کے خاتمے کی آرزو نہ کریں گے۔ اس لیے ان کی جائز امیدوں کے لیے امید بنو، جہاں تک ممکن ہو مددگار بنو۔ جوتعریف کے مستحق ہیں اُن سے حُسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ ان کے احسن اقدامات کی تحسین کرو، اور اس تحسین کو لوگوں میں مشتہر کرو۔‘‘
گوکہ دورِ خلافت میں جانشینی کی چپقلش میں شیعہ سنی تقسیم سامنے آئی، مگر خلیفہ کے انتخاب میں مشاورت اور انتخاب کے عمدہ طریقے اختیار کیے گئے تھے، جو بیسویں صدی تک اسلامی جمہوریت پر اثرانداز ہوئے۔ تاہم دورِ خلافت کے بعد بادشاہتوں اور آمریتوں کا مستقل سلسلہ قائم رہا۔ مسلم سیاست کا نمونہ بیشتر آمرانہ اورمذہبی رنگ لیے رہا۔ یہ بنوامیہ سے شروع ہوا، انھیں عباسیوں نے 750ء میں اقتدار سے بے دخل کیا، اور انھیں منگولوں نے 1258ء میں تاراج کیا۔ اسپین میں امویوں نے خاندانی بادشاہت کا نمونہ اپنایا، جسے مصر میں فاطمیوں اور مملوکوں نے بھی اختیار کیا، فارس اور مشرق وسطیٰ میں سلجوقیوں نے، اور ہندوستان میں مغلوں نے اپنایا۔ ترک عثمان وہ آخری حکمران تھے جنھوں نے خلافت کا لقب اختیار کیا۔
دمشق کی اموی حکومت نے معاشرتی ڈھانچے کے استحکام اور معاشی ترقی پر توجہ دی۔ بغداد میں عباسیوں نے سیاسی، فنی، مالی، اور علمی سرگرمیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ گو ان حکمرانوں نے بزور طاقت اقتدار حاصل کیا اور موروثی بادشاہت روا رکھی، مگر رحم دلی، عدل و انصاف، اور روشن فکر رجحان پروان چڑھایا۔ اندلس میں امویوں نے عباسیوں کی ہر اچھی پیش رفت پر مسابقت کی۔ ترقی کے سارے رستے اختیار کیے۔ ہر شعبے میں ہر سطح پر بہتر سے بہتر انتظامی اور اخلاقی نظام قائم کیا۔
وہ بغداد کی ایک شام تھی، 801ء کا سن تھا، دو افراد شہرکی گلیوں کی جانب نکل آئے تھے۔ چودھویں کے چاند کی چاندنی شہر پر چھا رہی تھی۔ یہ گرمیوں کی ایک خوشگوار رات تھی۔ جس وقت یہ دونوں شہر میں چل پھر رہے تھے، گھروں میں رات کی پُرتعیش ضیافتیں چل رہی تھی، محافظ اور گھوڑے باہر چاق چوبند کھڑے تھے۔ کہانی گھر ناظرین سے بھرے ہوئے تھے۔ جیسی کہانی تھی ویسے جذبات اور اُن کے تاثرات چہروں پر آجا رہے تھے۔ سرائے خانے مسافروں سے بھرے تھے، قہقہے سنائی دے رہے تھے، بحث و مناظرے ہورہے تھے، اور وہ سب کچھ جو ایک ترقی یافتہ شہر کے آسودہ ماحول میں چاندنی رات میں متوقع تھا۔
کسی سیاسی مباحثے کی ایک بات ان دو تاجروں میں سے ایک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرگئی، اسے اپنا نام سنائی دیا تھا، وہ لمحے بھرکو رکا اورسننے لگا۔
’’میں تم سے کہتا ہوں ہم نے فارسیوں کو بہت سر چڑھا لیا ہے‘‘، ایک نے کہا، ’’وہ آج دربار چلارہے ہیں، پورا ملک اُن کی مٹھی میں آچکا ہے‘‘۔
’’فارسی بہت ذہین لوگ ہیں‘‘، دوسرے نے دلیل دی، ’’ہمیں اُن کی ضرورت ہے‘‘۔
’’نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ انھیں ہماری زیادہ ضرورت ہے‘‘، پہلے نے جواب دیا۔ ’’عظیم عربوں نے ان پر فتح حاصل کی، انھیں یہ یاد دلانا بہت ضروری ہے۔‘‘
باہر اندھیرے میں سننے والے ایک فرد نے دوسرے کی طرف دیکھا اور آنکھ ماری۔ دونوں نے دریا کی جانب قدم بڑھادیے، جس کے کنارے شہر کا مرکزی بازار تھا۔ پہلا فرد جس نے عام لباس پہنا ہوا تھا اور چہرے کو تقریباً ڈھانپا ہوا تھا، وہ خلیفۂ وقت ہارون الرشید تھا۔ جبکہ دوسرا بچپن کا دوست جعفر تھا، جو برمکی خاندان کے وزیراعظم کا بیٹا تھا۔ نشیب میں بازار کے ساتھ ساتھ، کئی دکاندار اب تک دکانوں پر موجود تھے۔ موم بتیوں اور چراغوں سے روشن دکانوں میں کپڑے، عطریات، لوبان، مسالے، اور جواہرات وغیرہ فروخت کررہے تھے۔ قصے کہانیوں کی کتابیں بھی یہاں دکانوں پر رکھی ہوئی تھیں۔ خلیفہ ایک دکان پر رکا، جہاں ایک عرب دکاندار نے شام سے درآمد شدہ خنجر سجائے ہوئے تھے۔ ’’یہ کتنے کا ہے؟‘‘ خلیفہ نے چمڑے سے بنے خنجر کے غلاف کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ایک درہم‘‘، دکاندار نے کہا۔ ’’اوہ میرے خدا ، اتنا مہنگا؟‘‘ خلیفہ نے کہا۔ ’’کیا تم یہیں کے رہنے والے ہو؟‘‘دکاندار نے پوچھا۔ ’’ہم مدینہ سے آئے ہیں‘‘، جواب ملا۔ دکاندار نے دھیرے سے سر ہلایا، مگر وہ پوری طرح سے قائل نہیں ہوا تھا۔ ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم نہیں جانتے کہ مجھے کتنا محصول بھرنا پڑتا ہے، جو بہت بڑھ چکا ہے۔ مجھے اپنے تحفظ کے لیے کوتوالِ شہر کو بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے، دکان مالک کو کرایہ دینا ہوتا ہے، جو ہر ماہ بڑھتا جاتا ہے۔ اس لیے ایک درہم مناسب سودا ہے‘‘۔ ’’کیا تمھارا ٹیکس بہت زیادہ ہے؟‘‘پوچھا گیا۔ ’’ہاں بالکل‘،‘ دکاندار نے اثبات میںسر ہلایا۔ ’’تم یہ شاندار پُل دیکھ رہے ہو، یہ محلات اور یہ اونچی اونچی فصیلیں، اور اب ایک اور سونے چاندی کا محل تعمیر ہورہا ہے۔ خلیفہ منصور کے محل میں کیا خرابی ہے؟ کیا وہ کافی نہیں ہے؟ اور یہ ٹیکس کہاں جاتا ہے؟‘‘ دکاندار روانی میں بولتا چلا گیا۔ خلیفہ اور اُس کا دوست خاموشی سے سن رہے تھے۔ ’’کوتوال کو تحفظ کی مد میں واقعی کوئی رقم دینی پڑتی ہے؟‘‘خلیفہ نے پوچھا۔ ’’نہ صرف کوتوال کو، بلکہ قاضی اسد سے نیچے تک جس سرکاری اہلکار کے پاس ضرورت سے جانا پڑے، جیب گرم کرتا ہے۔ یہ سب میرا خون پی رہے ہیں!‘‘ دکاندار پھٹ پڑا تھا۔
’’تم کیا سمجھتے ہو، کیا ہونا چاہیے؟‘‘ ہارون رشید نے پوچھا۔ ’’میں سمجھتا ہوں خلیفہ کو اپنی شاہانہ مصروفیات چھوڑ کرکسی دن یہاں آنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ لوگ کس مصیبت میں ہیں۔ دیکھنا چاہیے کہ اُس کے نام پرکیا کچھ ہورہا ہے یہاں۔ لوگوں کی فریاد سننی چاہیے۔ معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کس حال میں ہیں، اور سمجھنا چاہیے کہ ریاست کن ٹٹ پونجیوں کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘
’’خلیفہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ ہارون رشید نے پوچھا۔
’’میں کیسے جان سکتا ہوں! میرا اُس سے کبھی براہِ راست واسطہ نہیں پڑا، مگر لوگ کہتے ہیں وہ عورتوں اور شراب میں بدمست رہتا ہے‘‘۔ دکاندار نے خلیفہ کی نقل اتارتے ہوئے آنکھیں گھمائیں اور منہ کھلا چھوڑ دیا۔ تینوں ہی اس حرکت پر ہنس پڑے۔
خلیفہ نے ایک درہم نکال کر دکاندار کے حوالے کیا، جو چند روز پہلے ہی ٹکسال سے نکلا تھا۔ دکاندار درہم کی چمک دیکھ کرحیران رہ گیا، چباکر روشنی میں اس کا معائنہ کیا۔
خلیفہ اور جعفر پھر گلیوں میں گُم ہوگئے۔ ’’یہاں کا کوتوال کون ہے؟‘‘ خلیفہ نے پوچھا۔
’’میں معلوم کرتا ہوں‘‘، جعفر نے جواب دیا۔
’’قاضی اسد سے لے کر نیچے تک ہر افسر کا نام مجھے چاہیے‘‘۔
’’جو حکم‘‘۔
’’یہ محصولات کا نظام کیسا ہے؟ ہم نے آخری بار کب جائزہ لیا تھا؟‘‘
’’گزشتہ سال خلیفہ، جب ہم اضافی اخراجات کا جائزہ لے رہے تھے، نئے محل کا خرچ، اور ہسپتال وغیرہ کی تعمیر کا بجٹ دیکھ رہے تھے‘‘۔
’’ٹھیک ہے میں اس پر نظرثانی کروں گا‘‘۔
اور پھر صبح کے جھٹپٹے میں دونوں واپس محل پہنچ گئے۔ دن شروع ہوتے ہی خلیفہ ہارون نے اپنا شاہی لباس پہنا، خنجر نئے غلاف میں اڑسا، اور جعفر کے ہمراہ اُسی بازار کا رخ کیا۔ بغداد کے شہریوں کی شاہراہوں پر چہل پہل شروع ہوچکی تھی۔ لوگ شاہی سواری دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ بہت سے لوگوں نے گھروں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں سے خلیفہ کی شان میں آوازیں بلند کیں، جنھیں خلیفہ نے ہاتھ ہلاکر جواب دیا۔ خلیفہ ہارون رشید رات والی دکان کے سامنے جا رکا۔ دکاندار اسے پہچان کر ششدر رہ گیا، اپنی جگہ سے کھڑا بھی نہ ہوسکا۔ ہونٹوں سے لگا چائے کا پیالہ ہوا میں ہی رہ گیا۔
’’کیا یہ درست ہے کہ خلیفہ نے اپنا چہرہ کبھی ظاہر نہیں کیا، اور تم نے اُسے کبھی نہیں دیکھا؟‘‘ ہارون رشید نے پوچھا۔ دکاندار نے چائے کا کپ رکھا اور ڈھیلا پڑگیا، سوچ رہا تھا کہ اب شاید سزا دی جائے، سرتن سے جدا کیے جانے کا حکم صادرکردیا جائے۔ مگرخلیفہ نے اسے دھمکانے کے بجائے اپنے زین سے منسلک تھیلے میں ہاتھ ڈالا اور درہموں کی ایک تھیلی نکالی اور دکاندار کی جانب اچھال دی۔ دکاندار بمشکل ہی تھیلی تھام پایا۔ ’’خلیفہ کے سامنے سچ بولنے سے کبھی نہ گھبرانا‘‘، خلیفہ نے ہنستے ہوئے تاکید کی۔ اس کے بعد وہ اور اس کا قافلہ آگے روانہ ہوگیا، جہاں نئے پُل کی تعمیرکا جائزہ لینا تھا۔
دکاندار جو چند لمحوں پہلے تک سانس روکے بیٹھا تھا، اب اپنی خوش نصیبی پر حیران تھا، پڑوسی دکانداروں نے اس کا گھیراؤ کرلیا، اور مبارک باد دی۔
اسلامی تاریخ میں ہارون رشید کے کردار کو خاصا رومانوی بناکر پیش کیا گیا ہے۔ الف لیلہ کی داستان میں بھی وہ مرکزی کردار میں نظرآتا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر، تاریخ گُم گَشتہ یہ حقیقت سامنے لاتی ہے کہ ہارون رشید کو بہترین حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی عسکری قوت، پسندیدہ شخصیت، ہردل عزیزی، اورذہانت معروف ہے۔ ہارون رشید نے فن اور فنکاروں کی بھرپور سرپرستی کی۔ علمی سرگرمیوں، تحقیق اور سائنسی تجربوں کی روایتیں پروان چڑھائیں، اور سرکاری سطح پر بھرپور حوصلہ افزائی کی، ترجموں کے منصوبے تشکیل دیے اور انھیں آگے بڑھایا۔ اُس کے جانشین مامون الرشید نے ان ساری سرگرمیوں کو خوب ترقی دی، بغداد کو موجودہ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر بنادیا۔ ہارون رشید نے پہلے ہسپتال کی بنیاد رکھی۔ جابر بن حیان کے کیمیائی تجربات کی سرپرستی کی۔ اسی کے دور میں ہندوستانی اور یونانی فلسفوں اور دیگر علوم کے بڑے بڑے ترجمے ہوئے، دنیا بھر سے علوم کے بڑے بڑے مسودے بغداد منگوائے گئے، جنھوں نے ایک دن الخوارزمی کواپنی جانب متوجہ کیا۔ ہارون رشید ذاتی طور پر ادب، شاعری، اور فنونِ لطیفہ کا شائق تھا۔ ہارون رشید نے ہی بغداد کے سنہرے دور کی بنیاد رکھی تھی۔ ڈیڑھ صدی بعد مؤرخ مسعودی نے کتاب The Book of Golden Meadows میں لکھا: ’’ایک دن خلیفہ ہارون نے بہت بڑی ضیافت کا انتظام کیا، دعوت کے دوران اُس نے شاعر ابولعتاہیہ کو بلا بھیجا، اور کہا کہ محفل کو شاعری میں بیان کردو۔ شاعر شروع ہوا: ۔

اے خلیفہ زندہ آباد رہو!۔
اپنی تمناؤں میں شاد رہو
شاہانہ محل کے سائے میں آباد رہو
ہرصبح ہر شام تمھاری خدمت گار ہو
اور جب موت کی دستک ہو، توجان جاؤ
کہ یہ سب خوشیاں محض پرچھائیاں تھیں…۔

ہارون رشید کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ وزیراعظم کے بیٹے فضل نے شاعر سے کہا ’’خلیفہ نے تمھیں اس لیے بلایا تھا کہ دل بہلاؤ، تم نے تو رلادیا‘‘۔ ’’کہنے دو اُسے، مت روکو‘‘ ہارون رشید نے اسے ٹوک دیا۔ ’’اس نے ہمیں اندھے پن کی حالت میں دیکھا، اور ہماری آنکھیں کھول دیں!‘‘
(جاری ہے)

Share this: