مقبوضہ کشمیر: لاک ڈاؤن سے لاک ڈاؤن تک

Print Friendly, PDF & Email

دنیا کورونا وائرس سے لڑنے میں مصروف ہے لیکن 9 لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کی زندگیوں کو اجیرن کررہی ہے

سال 2019ء میں راشٹریہ، ہندوتَوا، اور بھارت کی مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے لیے نیا ہتھیار ایجاد کیا تھا، جسے لاک ڈائون کا نام دیا گیا تھا۔ ساری زبانوں، ساری عبادتوں، معاشی ریاضتوں اور علمی درسگاہوں پر تالے ڈال دیے گئے۔ ٹرانسپورٹ، برقیات، مواصلات، اے ایم، ایف ایم ریڈیو، سوشل میڈیا، واٹس ایپ، ایمیزون، ٹویٹر، فیکس، اسکائپ… غرضیکہ فریاد کا ہر راستہ بند کردیا گیا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مارچ 2020ء میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 12کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے کورونا وائرس کے پھیلائو سے بچنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر مارچ 2020ء میں 627 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ 337 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں 118دکانوں اور 490 گاڑیوں کو سیل کردیا گیا۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار متعدد سیاسی رہنمائوں سمیت تقریباً 50 افراد کو رہا کیا گیا جن میں سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ بھی شامل ہیں۔ شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، میاں عبدالقیوم، محمد یاسین خان، نعیم احمد خان، محمد الطاف شاہ اورایازمحمد اکبر سمیت بڑی تعداد میں حریت رہنما اور کارکن جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔ محبوبہ مفتی اور ڈاکٹر شاہ فیصل بھی مسلسل زیر حراست ہیں۔ جموں شہر کے ساتھ خطہ چناب، پیر پنجال اور دیگر اضلاع میں معیاری سبزیوں اور میوہ جات کی شدید قلت ہے۔ لاک ڈائون کے سبب کشتواڑ ضلع میں دودھ، سبزی و کھانے پینے کی دیگر اشیاء کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ زبردست لاک ڈائون کے دوران نسل کُشی اور مظالم کی تصاویر کی میڈیا میں کثرت ہے، لیکن نقل مکانی کرکے واپس لوٹے محنت کشوں اور مزدوروں پر بریلی میں کیڑے مار دوائوں کا چھڑکائو کرکے انہیں سزا دینا ظلم اور غیر انسانی ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ ریاستی مشینری کورونا وائرس سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ لاک ڈائون پر پوری دنیا خاموش تھی، گویا کشمیری ہونا قتل ہونے کے لیے کافی ثبوت تھا، اب ایک اَن دیکھے وائرس نے سورمائوں کو لاک ڈائون میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔
عجیب دور ہے اور عجیب ماحول کہ ایسا ہی ایک دروازہ 500 سال بعد پھر کھلا ہے۔ یہ غرناطہ کی مسجد ہے۔ 5 صدیوں پہلے شہر کی اس مرکزی مسجد سے اذان پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اب غرناطہ کے موذن کو مسجد کے مرکزی مینار پر چڑھ کر اللہ اکبر کی صدا بلند کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس سے پہلے شہرِ غرناطہ کے مسلمان گھروں کی کھڑکیوں سے اذان دیا کرتے تھے۔ کشمیر کا لاک ڈائون بھی ٹوٹے گا، جس کے لیے ہماری حکومت اور پارلیمنٹ کو طاقت پکڑنی ہوگی۔
سینیٹ کا ایک اور پارلیمانی سال مکمل ہوچکا ہے، اور قومی اسمبلی تین ماہ کے بعد تیسرے پارلیمانی سال میں داخل ہوجائے گی۔ یوں تحریک انصاف کے اقتدار کے لیے آئینی مہلت پہلی نصف مدت کے قریب آن پہنچی ہے۔ اس دوران اس خطے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر پانچ اگست کی قیامت گزری ہے، جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں رہی، بھارتی آئین میں اب اس کی حیثیت یونین کی ہے۔ اس قدر بڑے سانحے کے باوجود قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قراردادِ مذمت پاس کیے جانے کے سوا پانچ اگست کے واقعے پر خارجہ پالیسی سامنے رکھ کر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات اور شب و روز بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں، بھارتی سرکار نے گرفتار سیاسی رہنمائوں کو آہستہ آہستہ رہا کرنا شروع کردیا ہے، مگر یہ رہائی اس شرط پر ہورہی ہے کہ ’’ظلم کے ضابطوں کو مانا جائے گا‘‘، جو نہیں مانے گا وہ زندان میں ہی رہے گا۔ پوری دنیا کی طرح مقبوضہ کشمیر بھی کورونا وائرس کی زد میں آیا ہوا ہے، وہاں بھی سماجی فاصلے کا ماحول ہے، لیکن انٹرنیٹ سروس نہیں ہے جس سے اسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں مشکل پیش آرہی ہے۔ پاکستان نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں قیدیوں کی رہائی اور پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں پر تشویش ہے۔ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور 2 ہلاکتوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے ہزاروں لوگ جیلوں میں قید ہیں۔ ان قیدیوں کو اپنے لواحقین سے دور نامعلوم مقامات پر رکھا گیا ہے۔ بیان میں بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظربند اور بعض کو جیلوں میں قید کیا ہوا ہے۔ حریت رہنما یاسین ملک اور آسیہ اندرابی کو جھوٹے مقدمات میں قید کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اسکول اور کالج بند ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش سے طالب علم آن لائن بھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دنیا کورونا وائرس سے لڑنے میں مصروف ہے لیکن 9 لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کی زندگیوں کو اجیرن کررہی ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر توجہ دے اور فوری پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرے۔ دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکومت ہزاروں نوجوانوں، حریت رہنماؤں کی رہائی، مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی اور قابض فوج کا انخلا یقینی بنائے۔ پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز سینز فرنٹیئرز (آر ایس ایف) نے مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے دوران براڈبینڈ انٹرنیٹ پر جاری پابندی کو نئی دہلی کی ممکنہ طور پر مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔ سائوتھ ایشین وائر کے مطابق میڈیا کو جاری ایک بیان میں آر ایس ایف ایشیا پیسفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیل بیسٹارڈ نے کہا ہے کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو انٹرنیٹ سے محروم کرنا مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد صحافیوں کے حوالے سے آر ایس ایف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے افراد کو وبائی مرض سے زیادہ خطرہ لاحق ہے، کیونکہ وہ اپنے دفاتر میں یا حکومت کے زیر انتظام میڈیا سہولت مرکز میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صحافیوں نے صحتِ عامہ کی معلومات کو پھیلانے میں اپنے اہم کردار کو پورا کرنے میں بھی اپنی عاجزی کا اظہار کیا ہے۔ جب کوویڈ 19 کی وجہ سے پوری دنیا لاک ڈائون کی زد میں ہے اور طبی شعبے سے وابستہ افراد گھر پر اس سے متعلقہ ویڈیو اور فلمیں دیکھنا تجویز کرتے ہیں تو جموں و کشمیر حکومت نے کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کے ایک اور حکم کا اعلان کردیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد40 ہوگئی ہے۔ جموں خطے میں اب تک 6، جبکہ لداخ میں 13افراد متاثر ہوچکے ہیں، جس میں کشمیر سے 12، جموں اور راجوری سے 3 تین مریضِ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ 65 برس کے ایک شخص کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ اب تک 5,763 ایسے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یا تو بیرونِ ملک سے واپس آئے ہیں یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔3,136 افراد کو گھر، جبکہ 169 افراد کو اسپتال قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ جن افراد کو اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے ان کی تعداد 1,877ہے، جبکہ581 افراد نے 28دن کی نگرانی کی مدت پوری کی ہے۔ سری نگر کے صورہ اسپتال میں آئیسولیشن وارڈ میں بستر کم پڑ گئے۔ حریت کانفرنس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں قرنطینہ وارڈ میں بستروں کی تعداد اب 62 ہوگئی ہے، مریضوں رش بڑھ رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کے خطے میں صرف97 وینٹی لیٹر موجود ہیں۔
پولیس نے مسجد سے باجماعت نماز ادا کرنے والے 14 نمازیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ مسجد امام سمیت 3 افرادکے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جنوب و شمال میں لاک ڈائون، اور اخبارات سے ان مہلک جراثیم کی منتقلی کے خدشات کے نتیجے میں اخبارات کی ترسیل، تقسیم اور خریداری میں خاصی کمی واقع ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں اخبارات مالکان کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی مہلک وبا کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے سبب وادی کشمیر میں بھی مکمل لاک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کرفیو کے باعث اگر لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو بھارتی فوجی ان پر بہیمانہ تشدد کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلائو کے پیش نظر متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں جو قیدیوں کی رہائی پر غور کرے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ٹویٹر پر مزاحیہ انداز میں ایک میم شیئر کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران ضروری چیزوں میں حجام کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہونی چاہیے، نہیں تو قرنطینہ کے بعد ہر گھر میں ایک عمر عبداللہ ہوگا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد سے ہی عمر عبداللہ کو گھر میں نظربند کردیا گیا تھا، اپنی نظربندی کے دوران انہوں نے داڑھی نہیں کٹوائی تھی، اور جب ان کی پہلی تصویر سامنے آئی تو وہ بالکل مختلف نظر آرہے تھے۔ بڑھی ہوئی داڑھی کی وجہ سے عمر عبداللہ پہچان میں بھی نہیں آرہے تھے۔ اصل میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حجاموں کو کام نہ کرنے دیا گیا تو مقبوضہ وادی میں داڑھی والے نوجوان بڑھ جائیں گے۔

Share this: