کورونا کی ہلاکت خیزیوں کا پھیلائو۔عالمی معیشت تباہی سے دوچار

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے چلی جائے گی

لاک ڈائون، کرفیو، قرنطینہ مراکز کے قیام کے باوجود کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں کا پھیلائو پاکستان سمیت پوری دنیا میں کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ مریضوں، متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عام تاثر کے برخلاف کورونا سے پیدا ہونے والی تباہ کن صورت حال مزید 6ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی ریسرچ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس وبا سے دنیا کی پونے 8 ارب آبادی میں سے 7 ارب انسان متاثر ہوں گے، ایسے میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے ہی بنی نوع انسان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
پاکستان میں کورونا کی وبا پھیلنے کی رفتار روز بروز تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ تادم تحریر پاکستان میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی مصدقہ تعداد دو ہزار سے اوپر، اور اموات کی تعداد 25 تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد ایک ماہ میں 13324 ہوگئی ہے۔ کورونا کی تشخیص کے لیے نئی لیبارٹریوں کا قیام اور حفاظتی کٹس کی تیاری بھی حکومت کے منصوبے میں شامل ہے۔ چین سے وینٹی لیٹرز، ماسک اور دوسرا حفاظتی سامان منگوایا جا رہا ہے جس کی چوتھی کھیپ پاکستان پہنچ چکی ہے۔ چینی ڈاکٹروں نے بھی پاکستان میں کام شروع کردیا ہے۔ پنجاب میں وبائی امراض کے انسداد کے لیے آرڈیننس نافذ کیا گیا ہے جس سے صورت حال میں بہتری کی توقع ہے۔
کورونا کے بارے میں یہ رائے بھی موجود ہے کہ یہ آسمانی نہیں بلکہ انسان کی لائی ہوئی مصیبت ہے، دنیا بھر میں خوف پھیلانے کے لیے عالمی میڈیا اور حکومتیں خریدی گئی ہیں۔ اس رائے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ فی الوقت کورونا وائرس نے ملک میں ہر طرف خوف پھیلایا ہوا ہے اور لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، اسی وجہ سے ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈائون کیاگیاہے اور فوج طلب کی گئی ہے تاکہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے۔ کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ 1625 کیسز میں 857 ایران سے آنے والے زائرین اور 247 دیگر ممالک سے آئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور مشیر معید یوسف نے تفصیلات بتائی ہیں کہ ہسپتالوں میں 783 میں سے 773 افراد کی حالت بہترہے، چاروں صوبوں کی طرح گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی5 ہفتوں کے لیے طبی سامان دے دیا گیا ہے، سندھ حکومت کو20 ہزار، پنجاب کو5 ہزارٹیسٹنگ کٹس دی گئی ہیں، رواں ہفتے 4 سے5 پروازیں چین جائیں گی۔ بیجنگ سے آنے والے سامان میں 100واک تھرو تھرمل اسکین ہیں۔ 6 اپریل سے پہلے پہلے ایک لاکھ تک حفاظتی کٹس پہنچ جائیں گی جن میں 1200 سے 1500 وینٹی لیٹر بھی ہوں گے، واک تھرو گیٹس مل جانے اور انہیں ائرپورٹس اور ریلوے اسٹیشنوں پر نصب کرنے کے بعد فیصلہ ہوگا کہ ملک میں کتنی ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی اور کتنے ایئرپورٹ دوبارہ فعال کیے جائیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں 570 ریلوے اسٹیشنوں میں قرنطینہ کے لیے انتظامات ہیں، ایمرجنسی کی صورت میں ریلوے نے 450 بستروں کے اسپتال کا انتظام کیا ہے۔ فی الحال مسافر ٹرینیں بند رہیں گی تاہم فریٹ ٹرینیں چلتی رہیں گی تاکہ اشیائے خورونوش کی ترسیل جاری رہے۔ اسلام آباد میں پاک چائنا سینٹر، او جی ڈی سی ایل کی عمارت اور ایک ہوٹل، اور راولپنڈی میں ٹرین میں 50 بستروں پر مشتمل قرنطینہ قائم کردیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں ریلوے کے اسپتال میں 450 بستروں پر مشتمل قرنطینہ کی سہولت ہے۔
یہ تمام حکومت کی بتائی ہوئی تفصیلات ہیں۔ کچھ حیران کن دعوے وزراء کی جانب سے بھی کیے گئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت میں خود بھی یکسوئی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے نکتہ اٹھایا ہے کہ ملک میں آنے والا طبی سامان تصدیق شدہ نہیں ہے، اسے ڈرگ کنٹرول اتھارٹی سے چیک کرائے بغیر استعمال نہ کیا جائے۔ اس بات کا جواب خود این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے دیا اور بتایا کہ چین سے آنے والا سامان تصدیق شدہ ہے۔ معلوم نہیں وزرا ایسے سوال کیوں اٹھا رہے ہیں؟ ،نمائندۂ فرائیڈے اسپیشل کی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں تجزیہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کرفیو جیسے اقدام کی جانب نہیں جائے گی۔ اگرچہ وزیراعظم نے ٹائیگر فورس کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ دبائو میں ہیں کہ حکومت گھروں میں کھانا کیسے اور کتنے دن پہنچا سکتی ہے! انہیں حکومت کی اہلیت اورصلاحیت کا خوب اندازہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن کے سخت خلاف تھے، وہ سمجھتے تھے کہ لاک ڈاؤن سے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن جو فیصلہ ہوا اُسے برقرار رکھا جائے گا۔ سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت طلب کیا گیا ہے اور اس نے انتظامات بھی سنبھال لیے ہیں۔ پنجاب بھر میں اب زیادہ سختی کی جارہی ہے کہ لوگ گھروں باہر نہ نکلیں۔ سندھ کے بعد اب وفاق نے بھی کچھ کرکے دکھانے کا پروگرام تو بنایا ہے لیکن اس کے پاس حکمت عملی نہیں ہے۔ اُن سے ابھی تک تفتان بارڈر نہیں سنبھالا جارہا۔ وہ یہ بات خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہاں درست انتظامات کا ماحول نہیں تھا۔
حکومت نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کردی ہے۔ اب سامان کی نقل و حمل کے لیے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کی مکمل اجازت ہوگی۔ وزیراعظم کا معاشی پیکیج اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، لیکن اس پیکیج میں تعمیراتی صنعت کے لیے فنڈز رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کا فیصلہ تو بہت پہلے کیا جاچکا تھا، مگر اب اسے معاشی پیکیج کا حصہ بنادیا گیا ہے، جب حالات درست ہوں گے تو ملک میں تعمیراتی کام شروع ہوں گے، فی الحال یہ پیکیج ایک خاص طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ بزنس کمیونٹی کو ایکسپورٹ اور انڈسٹری کے لیے 100ارب کے فنڈز دیے جائیں گے، اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری اور زراعت کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ان کو کم شرح سود پر قرضے بھی دیے جائیں گے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ عالمی رہنمائوں سے رابطے میں ہیں تاکہ عالمی امداد کے ذریعے کووڈ۔ 19 کے چیلنج سے نبرد آزما ہوسکیں۔ اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر جولین فریڈرک مارکوم ہارنیس سے ملاقات کرکے وزارت خارجہ پاکستان کی معاشی مشکلات سے انہیں آگاہی دی ہے۔
یہ پہلو بہت اہم ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور عام شہریوں کے علاوہ اس وبا کے خلاف فرنٹ لائن سپاہیوں کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی کورونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔ ملک میں اب تک 20 ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ گلگت بلتستان میں ایک ڈاکٹر اور محکمہ صحت کے ملازم کی ہلاکت بھی ہوچکی ہے، جبکہ پنجاب میں 9 ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں تین کا تعلق گجرات، دو کا راولپنڈی، دو کا ڈیرہ غازی خان اور دو کا ہی لاہور سے ہے۔ سندھ میں پانچ اور بلوچستان میں چار ڈاکٹروں میں کورونا پایا گیا ہے۔ اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں ایک ڈاکٹر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد 28 ڈاکٹروں کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملک بھر کے ڈاکٹر کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی کٹس کی کمی اور ناکافی سہولیات کو ڈاکٹروں میں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسپتال میں کورونا وائرس کے لیے قائم کیے گئے آئیسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر فضل خان کے مطابق ڈاکٹروں کو احتیاطی لباس فراہم کرنے میں تاخیر کی گئی ہے۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ایک ڈاکٹر میں کورونا مثبت آنے سے پورے عملے کو قرنطینہ میں رکھنا پڑے گا جس سے عملے کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق ملک میں محدود کٹس کی وجہ سے جہاں ضروری سمجھا جاتا ہے وہاں کٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی چین سے آنے والی حفاظتی کٹس فراہم کررہی ہے، سات ہزار حفاظتی کٹس ملک بھر کے ڈاکٹروں کو فراہم کی جائیں گی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بھی اس کام میں شریک ہے۔ چین سے مزید پانچ ہزار کٹس پاکستان پہنچ جائیں گی۔
معاشی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ حالیہ بحران سے ملک کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی جائے گی اور حکومت کو ٹیکس وصولی میں 350 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس سے وابستہ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے معیشت پر کورونا کے منفی اثرات کا تخمینہ لگانے کی ذمہ داری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے سپرد کی ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 5 سے 6 کروڑ ہے، جو حالیہ لاک ڈاؤن اور بحران سے دو گنا ہوسکتی ہے۔ وائرس کی وجہ سے ملک میں معاشی سرگرمیاں معطل ہوجانے پر بے روزگاروں کی تعداد 2 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، اور ایف بی آر کو ٹیکس وصولی میں مارچ سے جون 2020ء کے دوران 300 ارب روپے سے 350 ارب روپے تک کمی ہوسکتی ہے۔ حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف سے ہدف میں 48 کھرب روپے کی کمی کی درخواست کرچکی ہے، جبکہ لاک ڈائون کی وجہ سے تیل کے استعمال میں کمی سے ریونیو جمع کرنے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی اور اس کے کئی اجلاس ہوچکے ہیں جس میںکورونا سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی آگے بڑھائی گئی اسی کے تحت فیصلہ ہوا کہ ملک بھر میں 31 مئی تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے ۔
پاکستان نے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور کورونا وائرس کے اثرات سے لڑنے کے لیے بجٹ سپورٹ میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف قرض دہندہ اور امدادی اداروں سے اضافی 4 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا انتظام کرلیا وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اضافی فنڈز کے لیے متحرک ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ انہی شرائط،کہ جس پر فنڈ پروگرام جاری ہے اضافی ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے فنڈ تیزی سے فراہم کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے.وزیراعظم نے مالیاتی پیکج اور ایمرجنسی ریسپانس پیکج کے لیے ایک بڑی رقم دی ہے تاہم پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر تشکیل دیے گئے 50 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ میں اضافی فنڈز حاصل نہیں کررہا کیوں کہ اس کا اہل ہونے کے لیے ایک خاص سطح کے معاشی نقصان کا معیار مقررہے اور حکومت کو امید ہے کہ پاکستان اس سطح تک نہیں جائے گا حکومت نے سوچا کہ اگر ہم ایمرجنسی فنڈ کے اہل نہیں تو ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ فوری بنیادوں پر اضافی فنڈز حاصل کرنے کا وعدہ کروالیا جائے اس لیے حکومت نے عالمی بینک سے ایک ارب ڈالر کی معاونت اور دیگر منصوبوں کے لیے پہلے سے جاری غیر استعمال شدہ فنڈز کو کسی اور جگہ استعمال کرنے کے لیے درخواست کی ہے ایشیائی ترقیاتی بینک فوری طور پر 35 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا اور ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے رواں برس جون تک 90 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی جانب سے 60 کروڑ ڈالر مجموعی اضافی فنڈز کا وعدہ کیا گیا ہے جاپان انٹرنیشل کووآپریشن ایجنسی اور برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے علاوہ دیگر ممالک سے ریسکیو کے لیے بات چیت جاری ہے کیوں کہ کووِڈ 19 سے ہونے والے نقصانات کے جائزے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے میں شامل ہوگئے ہیں اگلے مرحلے میں حکومت بجٹ اور اقتصادی سپورٹ کے لیے مختلف قرض دہندہ اداروں سے مالی معاونت کے حصول کی کوشش کرے گی ۔آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹا لینا جارجیویا نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت تباہی سے دوچار ہے، دنیا بھر میں لاک ڈائون، صنعتوں، کارخانوں کا پہیہ جام ہونے نیز فضائی کمپنیوں، تجارت اور سیاحت کی بندش کے باعث کساد بازاری کا عمل شروع ہو گیا ہے جو گزشتہ عشرے کے معاشی بحران سے زیادہ سنگین ہوتا نظر آرہا ہے اندیشہ ہے کہ کئی ملک اس کے ہاتھوں دیوالیہ ہو جائیں گے پاکستان صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی خاطر موثر اقدامات کے لیے کوشاں ہے۔

Share this: