سرمایہ دارانہ صنعتی انقلاب کی تباہ کاری اور کورونا عالمی وبا

Print Friendly, PDF & Email

امریکی اور برطانوی اسکالرز کی 2020ء میں نمونیا جیسی کسی عالمی وبا یا ”حیاتیاتی دہشت گردی“ کی پیشن گوئی کر چکے ہیں

ظفر اقبال
آج کل کورونا وائرس (corona virus) کی وبا نے پوری دنیا کو جس طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس نے عالمِ انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی نفسیات پر میڈیا کے ذریعے خوف اور دہشت کا ایسا تسلسل قائم کردیا گیا ہے کہ آدمی معمولی بخار اور کھانسی سے بھی ڈر رہا ہے۔ تاریخِ انسانی میں پہلی بار پوری دنیا میں خود کو مسلمان کہلانے والوں نے ریاستی جبر کے ذریعے مساجد کو تالے لگا دیے ہیں اور مصافحے کی سنت کو معاذ اللہ ”جرم“ بنادیا ہے۔ جس قدر اس وبا کو لے کر خدشات اور اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے، اسی قدر ان گنت مضامین، مقالات، ٹاک شوز آراء و تجاویز بھی معاشرے میں گردش کررہی ہیں۔ کورونا وائرس کے اسباب و وجوہات کے حوالے سے معاشرے میں عام طور پر تین مؤقف پائے جاتے ہیں۔ پہلے نقطہ نظر کے مطابق یہ ایک وبا ہے، جس طرح انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں طاعون، چیچک اور ہیضے کی وبائیں پھوٹتی رہی ہیں، یہ بھی اسی طرح کی ایک وبا ہے۔ دوسرے خیال کے مطابق یہ صنعتی انقلاب اور بے لگام ٹیکنالوجیکل ترقی کا شاخسانہ ہے۔ تیسرے پہلو سے یہ ایک باقاعدہ created disaster ہے، جسے عالمی طاقتوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے مخصوص اور مذموم مقاصد کے لیے انسانوں کے مابین منتشر کیا ہے۔ یہ مستقبل میں اپنی نوعیت کے ایک نئے دور کا آغاز اور جنگی حکمت عملی کا سبب بنے گا۔ باَلفاظِ دیگر دنیا اسلحہ، بموں، بارود اور ہتھیاروں کی جنگ کے دور سے آگے بڑھ کر اب مہلک جراثیمی ہتھیاروں کے نئے دور میں داخل ہورہی ہے۔
جہاں تک پہلے نقطہ نظر کا تعلق ہے اس پر بہ حیثیت مسلمان ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ اسے عبادات کے اہتمام، دعاؤں کی کثرت، گناہوں سے توبہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی صورت میں تعلق مع اللہ کو ازسرنو استوار کرکے تمام طبی و احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ یہی اس کا واحد حل ہے۔ بڑی طاقتوں کے متکبر، سرکش، اکڑی گردنوں والے حکمرانوں نے بھی اپنی عاجزی اور خالق کے رو بہ رو دعا کا عندیہ دیا ہے: ۔

بابِ عطا کے سامنے اہلِ کمال کا ہجوم
جن کو تھا سرکشی پہ ناز وہ بھی اُسی قطار میں

دوسرے اور تیسرے نقطہ نظر پر کچھ تفصیل سے گفتگو کی جاتی ہے۔
انسانی تاریخ کا بہ نظر غائر مطالعہ اس امر کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ ہر عہد میں انسانوں نے معاشرے کو آرام اور آسانی فراہم کرنے والی تیکنیکات وضع کی ہیں۔ یہ تیکنیکات کسی بھی تہذیب کے تصورِ حقیقت، تصورِ کائنات اور اس میں پنہاں علمیات اور اقدار کا ثمر ہوتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ انقلاب [جس کا آغاز یورپ میں پندرھویں سولہویں صدی میں ہوا، اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اس کا ارتقا ہوا اور پھیلاؤ بڑھا، اور بیسویں صدی میں اس نے ایک عالم گیر غلبے کی شکل اختیار کرلی] کے بعد ٹیکنالوجی جدید سائنسی نظریات کے تابع ہوکر تخلیق کے نئے مراحل سے دوچار ہوئی۔ یہ جدید سائنسی نظریات ایک خاص قسم کے تصورِ حقیقت، تصورِ ذات، تصورِ عقل اور تصورِ کائنات کے نتیجے پروان چڑھے۔ اس نے ماقبل تمام تہذیبوں کی دینی، روایتی، اساطیری مابعدالطبیعات (metaphysics) کو رد کر کے سرمایہ دارانہ مابعدالطبیعات کو قبول کیا۔ جدید ٹیکنالوجی اسی مابعدالطبیعات کا مادی ظہور ہے۔ اسے اپنی نوعیت کا ”اعتقادی مظہر“ بھی کہا جاسکتا ہے، جس کا پھیلاؤ اور بہاؤ کسی رویّے کے طور پر نہیں، ایک مذہب کے طور پر ہوا، جس پر مغرب اور اس کے عالی دماغ مفکرین کسی قسم کے قابلِ عمل سمجھوتے یا بامعنی مکالمے کے لیے تیار نہیں۔ ہر انسانی سرگرمی، خواہش اور تمنا اب اس کے تابع ہوچکی ہے۔ ریاستی جبر اور قانونی تحکم کے ذریعے اس کا نفاذ عمل میں آیا۔ اب قانون کی حکمرانی (rule of law) سے مراد rule of capital، اور عدل سے مراد سرمائے کی تنفیذ قرار پائی۔ سرمایہ دارانہ عقلیت اور علمیت کے سہارے سرمائے کو خیر و شر کا واحد پیمانہ بنادیا گیا۔ اس کا اظہار افراد کی زندگیوں میں عملِ صَرف (consumption) کے ذریعے ہوتا ہے، یہ عمل ِصَرف لذت پرستی (hedonism) اور افادہ پرستی (utilitarianism) کے بغیر ممکن نہیں ہے، باَلفاظِ دیگر فرد مارکیٹ میں جتنا خرید و فروخت کے عمل میں مشغول رہے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اپنی ارضی تمناؤں اور سفلی خواہشات کی تکمیل بہم پہنچاکر اپنی آزادی (freedom) کو بامعنی بنا سکے گا، جس سرعت اور تیز رفتاری سے سرمایہ دارانہ اقدار کو باقی تمام اقدار پر برتری حاصل ہوتی چلی جائے گی، اسی قدر صرّاف طرزِ حیات کو فروغ حاصل ہوگا، اتنی ہی تیز رفتاری سے technological progress بڑھتی چلی جائے گی۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں صنعتی انقلاب (industrial revolution) اور صراف انقلاب (consumer revolution) کو فروغ حاصل ہوا، اس محیر العقول انقلاب کے نتیجے میں ایک طرف حاجتوں (necessitates) اور تعیش(luxuries) اور ضرورتوں (needs) اور چاہتوں (desires) کے مابین موجود فرق ہی دھندلا گیا۔ دوسری طرف خود انسان بھی ایک object of consumption بن کر رہ گیا۔ اس ترقی کے نتیجے میں سہولیات اور پُرتعیش زندگی تو ملی ہے، مگر کس قیمت پر؟ کیمیائی اور زہریلی گیسوں، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کلورو فلورو کاربنز کے بے دریغ اخراج، جنگلات کی مسلسل کٹائی، صنعتی فضلات اور کیمیائی کھادوں کے باعث پانی، ماحولیات اور فضا میں پیدا ہونے والی آلودگی اور موسمی تغیرات نے اس کرۂ ارض پر انسان سمیت تمام مخلوقات کی زندگیوں کو خوف ناک حد تک تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ چین جہاں سے کورونا وائرس پھیلنے کی ابتدا ہوئی ہے، معروف امریکی مؤرخ، ماہر جغرافیہ اور anthropologist جیرڈ ڈائمنڈ (Jared Diamond) اعداد و شمار کے مطابق بتاتا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث چین میں ہر سال تین لاکھ اموات ہوتی ہیں اور صحت کے حوالے سے 54 بلین ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں، جو چین کی قومی پیداوار کا آٹھ فی صد ہے: ۔
about 300, 000 deaths per year, and 54 billion dollars of health costs (8 % of the gross national product( are attributed to air pollution. (Collapse: How Societies Choose to Fail and Succeed, p. 376)
وہ مزید بتاتا ہے کہ اگر چین کے لوگ دیگر ملکوں کا سفر نہ کریں اور دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی روابط منقطع کرلیں، تب بھی دنیا اس کے باعث متاثر ہوتی رہے گی، اس لیے کہ چین ان ہی سمندروں میں اپنے صنعتی فضلے چھوڑ رہا ہے اور اسی فضا میں گیسیں خارج کررہا ہے۔ اس کے الفاظ پڑھیے:۔
Even if China’s people had no connection through trade and travel with people elsewhere, China’s large territory and pollution would guarantee effects on other peoples merely because China is releasing its wastes and gases into the same ocean and atmosphere.(Ibid- p. 377 )
بات صرف چین ہی سے مخصوص نہیں، اب یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ آسٹریلیا کے معروف ماہر حیاتیات پروفیسر فرینک فینر (Frank Fenner) پیشین گوئی کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی تباہی، اور موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں آئندہ سو سال میں نسلِ انسانی اس دنیا سے فنا ہوجائے گی: ۔
overpopulation, environmental destruction and climate change would result in the extinction of human beings within one hundred years.(Ian Cook, The Politics of the Final Hundred Years of Humanity: 2030 – 2130, p. 1)
فرینک فینر کوئی واحد دانشور نہیں ہیں، بلکہ ٹورس نے اس نوعیت کی پیشین گوئیاں کرنے والے افراد کی ایک مستقل فہرست مہیا کی ہے، جن میں جان لیس لی (John Leslie)، نکولس سٹیرن (Nicholas Stern) اور نک بوسٹروم (Nick Bostrom) وغیرہ شامل ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے centre of the Study of Existential Risk سے وابستہ سر مارٹن ریس (Martin Rees) لکھتے ہیں کہ 50/50 فی صد امکان ہے کہ بائیسویں صدی تک انسانی تمدن ختم ہوجائے :۔
there is a 50/50 chance of civilization beings destroyed before 22nd century.(Ibid.)
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 2020ء تک انسانی وجہ سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کو دو طریقوں سے دور کیا جاسکتا ہے: ایک راستہ جو بالعموم عوام اور حکومتیں بالخصوص اپنا سکتی ہیں، وہ یہ ہے کہ شمال میں ہونے والی انسانی سرگرمیوں کو کم سے کم کیا جائے، تاکہ تباہ کن ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکا جاسکے جو کہ انسانیت کے لیے اس کرۂ ارض سے خاتمے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا کی حکومتیں اور عوام بہ تدریج ایک وسیع غیر فعالیت کی طرف قدم اٹھائیں، تاکہ خطرناک ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کیا جاسکے۔ یہ خطرہ اس سیارے پر انسانی موجودگی کے امکان، اس کی رہائش پذیری میں کمی اور انسانی سماج میں ایک گہرے انتشار کا سبب بن سکتا ہے اور بین الاقوامی سیاست کو ایک ایسی نہج پر پہنچا سکتا ہے، جہاں انسانیت فنا ہوجائے۔ ماہرین کی رائے یہ یے کہ: ”انسانیت کو اپنے آخری سو سال میں داخل ہونے سے بچانے کے لیے جن لازمی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ان میں گیس یا تیل سے چلنے والی کوئی صنعت، کوئی کاروبار یا گھر نہ ہو، گیسولین یا ڈیزل سے چلنے والی کوئی گاڑی موجود نہ ہو، کوئلے اور گیس سے چلنے والے تمام پلانٹ بند ہوجائیں، پیٹرو کیمیکل انڈسٹری ایک سبز کیمسٹری میں بدل جائے اور بھاری صنعتیں یا تو کاربن فری ذرائع استعمال کریں، یا پھر کاربن کے اخراج کو مستقل طور پر بند کرکے محفوظ کرنے کا بندوبست کریں“۔ تجاویز کے اصل الفاظ یہ ہیں:۔
no home, business or industry heated gas or oil; no vehicles powered by diesel or gasoline; all coal and gas power plants shuttered; the petrochemical industry converted wholesale to green chemistry; and heavy industry … either using carbon-free energy sources or employing technology capture CO2 emissions and permanently store it. ((Ibid-p.2
مصنف مزید کہتے ہیں کہ اگر 0.4- 2.7 ملین اسکوائر میل زمینی رقبے کو بائیو انرجی پیدا کرنے والی فصلوں سے بھر دیا جائے اور 2050 ءتک86.3 ملین اسکوائر کلو میٹر رقبے پر جنگلات اضافہ کیا جائے تو بھی اس سے صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج stabilized ہوسکے گا۔ مسئلہ یہ ہے گزشتہ سو سال میں جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کی گئی ہے، وہ آئندہ سو سال تک گرمی کی شدت کو متاثر کرتی رہے گی، اور 2050 ءتک بھی فضا میں بہت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود رہے گی۔ یہ تباہ کن اعداد وشمار بیان کرنے والے اور انسانیت کی ہلاکت کا نوحہ پڑھنے والے اسی تہذیب کے افراد ہیں، جس نے روئے زمین اور اس میں بسنے والی مخلوقات کو تباہی کی اس سطح تک پہنچادیا ہے۔ نت نئی بیماریاں اور انواع و اقسام کے مہلک جراثیم کی افزائش دن بہ دن بڑھ رہی ہے، اصل مبحث ان کے اسباب کی تشخیص اور اس کا ازالہ کرنے سے تعلق رکھتا ہے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ہوئے جرمن فلسفی Jacques Ellul بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو ایسی تقدیس حاصل ہوگئی ہے کہ وہ absolute power اور absolute value کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ ظاہر ہے جب اسے ایسی تقدیس حاصل ہوچکی ہو تو اس کے لیے ہر عقیدے، عمل اور قدر کی قربانی دینا روا ہو جاتا ہے۔ اگر ٹیکنالوجیکل ترقی کے کیمیائی مادوں، جوہری و تابکاری اثرات سے زمینی و آبی مخلوقات تباہ ہوکر فنا کے گھاٹ اتر جائیں اور فضا اور کرۂ ارض میں بد ترین قسم کی آلودگی پھیل جائے تو روا ہے، لیکن کوئی اس خراچ معاشرے اور صنعتی ترقی کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔ اس پر رپورٹیں مرتب ہوسکتی ہیں، کانفرنسیں منعقد کی جاسکتی ہیں، سیکڑوں مقالات شائع کیے جاسکتے ہیں، ماحولیاتی بحران (environmental crisis) کے نام سے جامعات میں ایک کلیہ بنایا جاسکتا ہے، تاکہ اس سے مزید پیسہ کما کر سرمایہ داری کی خدمت کی جاسکے، لیکن اسے عملاً ختم کرنے کا کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاسکتا، اس لیے کہ:۔
Because of our supreme faith in technology and because of our belief that technology itself can solve our all problems, we do not perceive the need to provide such feedback.
جہاں تک تیسرے نقطہ نظر کی بات ہے کہ کورونا وائرس جدید دنیا کا خود تخلیق کردہ ایک مہلک ہتھیار ہے، اس بارے میں کوئی یقینی فیصلہ سردست ممکن نہیں ہے، البتہ بعض قرائن سے اس کی طرف اشارے ملتے ہیں، غور و فکر کے لیے ان امور اور حوالہ جات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ معروف امریکی مصنفہ Sylvia Browne جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی آیا کرتی تھیں، انھوں نے 2008ء میں اپنی شائع ہونے والی بیسٹ سیلر کتاب میں پیشین گوئی کی تھی کہ 2020ء کے لگ بھگ نمونیا جیسی بیماری پوری دنیا میں پھیل جائے گی، جو پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں پر حملہ آور ہوگی اور علاج کے معروف طریقوں کی مزاحمت کرے گی۔ خود بیماری سے زیادہ حیران کن حقیقت یہ ہوگی کہ جیسے اچانک یہ بیماری آئے گی، ویسے اچانک غائب ہوجائے گی ، دس سال بعد دوبارہ حملہ آور ہوگی، اور پھر مکمل طور پر غائب ہوجائے گی، مصنفہ کے الفاظ یہ ہیں:۔
In around 2020 a severe pneumonia-like illness will spread throughout the globe, attacking the lungs and the bronchial tubes and resisting all known treatments. Almost more baffling than the illness itself will be the fact that it will suddenly vanish as quickly as it arrived, attack again ten years later, and then disappear completely.
(End of Days: Predictions amd Prophecies About the End of the World, p. 190(
اس پیشین گوئی سے پھیلنے والی بیماری کے پسِ پشت مقصد واضح نہیں ہوتا، اس کو سمجھنے کے لیے برطانوی ماہر فلکیات اور کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر مارٹن ریس، جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، کی ایک شرطیہ پیشین گوئی کا ذکر کیا جاتا ہے، انھوں نے 2003ء میں برطانیہ سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں ہزار ڈالر کی یہ شرطیہ پیشین گوئی کی تھی کہ 2020ء میں کسی حیاتیاتی غلطی (bioerror)یا حیاتیاتی دہشت گردی (bioterror) کے باعث لاکھوں انسان مارے جائیں گے۔ مارٹن ریس کے الفاظ یہ ہیں:۔
I staked thousand dollars on a bet: “That by the year 2020 an instance of bioerror or bioterror will have killed a million people.”
(Our Final Hour: A Scientist’s Warning: How Terror, Error and Environmental Disaster Threaten Humankind’s Future in this Century – on Earth and Beyond p. 75)
ریس کی اس شرط کو کئی اور مغربی مفکرین کے ساتھ کچھ عرب اصحابِ قلم نے بھی بیان کیا تھا۔ ایسے ہی مصنفین میں سے ایک ہشام طالب بھی ہیں، انھوں نے 2006ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں مارٹن ریس کی اس شرطیہ پیشین گوئی کو نقل کرنے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اشرار کی شر انگیزیوں یا بشری خطا کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کے قتل کے باعث 2020 ءکو ”بائیولوجیکل غلطی“ کا سال قرار دیا جائے گا۔ ہشام طالب کے الفاظ یہ ہیں :۔
كل هذا يتم بتدبير من ”أشرار“ أو نتيجة خطأ بشري، غير أن العام 2020 سيكون عام ”الخطأ البيولوجي“ الذي يتسبب بمقتل مليون إنسان . (بناء الكون ومصير الإنسان: نقض لنظرية الانفجار الكبير، صفحہ 671)۔
قابلِ بحث اور لائقِ گفتگو نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اگر یہ وبا ہے تب بھی، اور تخلیقی ہتھیار ہے تب بھی، دونوں صورتوں میں یہ بے لگام سرمایہ دارانہ صنعتی ترقی کا شاخسانہ ہے۔ پہلی صورت میں یہ صنعتی ترقی کا لازمہ ہے اور دوسری صورت میں صنعتی ترقی کی دوڑ میں مختلف طاقتوں کا ایک جنگی ہتھیار ہے۔ اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا کچھ بھی نہ ہو، یہ سرمایہ دارانہ طبقات اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز کا ایک عالمی ڈراما ہو، معروف عرب عالم دین الدکتور شیخ سفر الحوالی نے بہت پہلے کورونا اور برڈ فلو جیسی بیماریوں کا نام لے کر اس طرف اشارہ فرمایا تھا کہ وہ مجرمانہ مکر و فریب جو یہ سرمایہ دار طبقہ (جن کے خادم اہلِ سیاست ہیں خصوصاً اسلحہ کا فروخت کنندہ طبقہ جن سے بچنے کی تنبیہ امریکی صدر آئزن ہاور نے اپنے آخری وقت میں کی تھی، اسی طبقے نے آئزن ہاور کے قتل کے بعد امریکی صدر جان کینیڈی کو قتل کیا کیونکہ اس نے سوویت یونین کے سیاسی سربراہ خروشچیف سے ”خلیج الخنازیر“ کی مشہور جنگ میں ہاتھ ملانے کی کوشش کی تھی، اور یہ سرمایہ دار طبقہ جنگوں کو بھڑکانا چاہتا تھا تاکہ اسلحہ کی فروخت ہو، اور یہ مجرم طبقہ صرف اسلحہ کا کاروبار ہی نہیں کرتا بلکہ سنیما، جسم فروشی، دواؤں، کاریگریوں، کھیلوں اور منشیات وغیرہ کا کاروبار بھی کرتا ہے، اور ان میں اکثر صہیونی یہود ہیں۔ صہیونی یہود اور اسی طرح صہیونی نصاریٰ سب کے سب اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، اور یہ حقیقت صہیونی حکومت کے بارے میں امریکہ کے دائمی موقف سےکھل کر ظاہر ہوجاتی ہے) اختیار کرتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ”عالمی ادارۂ صحت“ پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ کسی خاص دوا کو شہرت دے جسے انھوں نے بنایا ہوتا ہے، یا ایسے امراض کی جعل سازی کرے جو موجود نہیں ہیں، اور بسا اوقات وہ ان امراضِ مصنوعہ سے ڈراتے ہیں اور ان کو حقیقت سے زیادہ بڑھاتے چڑھاتے ہیں جیسے ”کورونا“،”برڈ فلو“ اور اس قسم کے دیگر امراض جو غائب ہوجاتے ہیں یا جب ان کی مصنوعی ویکسین بالکل ختم ہو جائے اور سب کی سب فروخت ہو جائے تو یہ اپنی قدرتی مقدار پر واپس آجاتے ہیں، اور بعض ڈاکٹر ان پر اعتراض بھی کرتے ہیں، مگر یہ انہیں خاطر میں نہیں لاتے، اور اگر یہ لوگ اتنے ہی سچے ہیں تو ان بیماریوں کے لیے کیوں ویکسین تیار نہیں کرتے جو ہر سال لاکھوں لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہیں جیسے ملیریا ہے۔ یا خطرہ صرف اسی بیماری میں ہے جس کے لیے انھوں نے کوئی علاج یا ویکسین تیار کی ہو؟ شیخ سفر الحوالی کے الفاظ یہ ہیں:۔
ومن الحيل الخبيثة التي يلجأ إليها التجار الضغط على “منظمة الصحة العالمية” لترويج دواء معين يصنعونه، أو افتعال أمراض غير موجودة، وربما هولوا منها واعطوها اكبر من الحقيقة، مثل “كورونا” و “انفلونزا الطيور” وأمثال ذلك من الأمراض التي تختفي أو تعود لحجمها الطبيعي إذا نقد اللقاح المصنوع وبيع كله، وبعض الأطباء يعترض عليهم ولا يبالون به، وإذا كانوا صادقين فلماذا لا يصنعون اللقاح للأمراض التي تفتك بالملايين سنويا كالملاريا مثلا أم أن الخطر فيما يصنعون له دواء أو لقاحا فقط ؟(المسلمون والحضارة الغربية، 1020 ) ۔
متذکرہ جتنی صورتیں بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ہر صورت alarming اور گہرے غور و فکر کی متقاضی ہے۔ ان میں سے موجودہ حالات میں خواہ کوئی صورت درپیش ہو، مستقل تقاضا یہی ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر دین کی طرف لوٹا جائے اور فطری طرزِ معاشرت کو قابلِ عمل صورتوں میں اپنایا جائے۔

Share this: