کشمیری شناخت پر بھارت کا حملہ

Print Friendly, PDF & Email

بھارت کا اصل ایجنڈا فلسطین طرز پر آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے

بھارتی حکومت نے کشمیر کی شناخت کی تبدیلی اور خصوصی قوانین کے خاتمے کے آٹھ ماہ بعد اپنے اصل منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔ جموں وکشمیر ری آگنائزیشن آرڈر2020کے نام سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ریاستی ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی تھی، جس کے تحت کشمیر میں پندرہ سال تک مقیم رہنے والے، اور یہاں سات سال تک تعلیم حاصل کرنے، اور دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دینے والے ملازمت کے حق دار ہوں گے۔ ماضی میں 35Aکے تحت ان تمام قوانین کی تدوین اور تیاری کا اختیار کشمیر اسمبلی کو حاصل تھا۔ ان دفعات کے خاتمے کے بعد اب بھارتی حکومت نے یہ سارے کام اپنے ذمے لے لیے ہیں۔ ڈومیسائل قانون کی نئی تشریح کے مطابق اب بھارتی حکومت کے کشمیر میں سات سال تک تعینات رہنے والے اعلیٰ افسروں، آل انڈیا سروس آفیسرز، بھارتی حکومت کے کشمیر میں نیم خودمختار اداروں، کارپوریشنوں، پبلک سیکٹر بینکوں، بھارتی یونیورسٹیوں کے اہلکاروںکے بچے اور وہ خود یہاں کشمیر کے لیے مختص اسامیوں پر ملازمت کرنے کے اہل ہوں گے۔ فوری طور پر نافذالعمل اس قانون کے تحت بھارتی باشندے کشمیر میں جریدہ اور غیر جریدہ اسامیوں پر درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ اس قانون کے نفاذ کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا تھا جب دنیا کی توجہ کورونا بحران کی طرف تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغامات میں نریندر مودی کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کورونا کی جانب دنیا کی توجہ مبذول ہونے کا فائدہ اُٹھاکر کشمیر میں اپنے فاشسٹ ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد کررہا ہے، اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ عمران خان نے اس قانون کو کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اسے چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کوشش سے کشمیر میں بھارت کے عزائم دنیا پر آشکار ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے بھی بھارت کے نئے قانون کو کلی طور پر مسترد کردیا ہے۔آزادکشمیر کے صدر مسعود خان، اور وزیراعظم راجا فاروق حیدرنے بھی بھارت کے نئے قانون کی مذمت کی ہے۔
اس قانون کی زد چونکہ بلا تمیز مذہب اور علاقہ ریاست جموں وکشمیر کے تمام باشندوں پر پڑ رہی تھی، اس لیے کشمیری مسلمانوں سے زیادہ جموں کی ہندو آباد ی اور نوجوان نسل نے اس فیصلے کے خلاف بے چینی ظاہر کرنا شروع کردی تھی۔ جموں کے ہندو نوجوانوں کو اس وقت وادی کے پریشان حال مسلمان طلبہ سے مسابقت درپیش ہے، اور وادی کی تین عشروں سے مخدوش صورتِ حال نے جموں کے ہندو طلبہ کے لیے مقابلے میں آسانی پیدا کردی ہے، مگر جب پورے بھارت سے ایک نئی کلاس یہاں مقابلے اور مسابقت میں اترتی تو یہ جموں کی ہندو آبادی اور نوجوان نسل کے لیے ایک نیا دردِ سر ہوتا۔ اس خطرے کو جموں میں پوری طرح محسوس کیا گیا، اور جموں کے علاقے سے ہندو طلبہ و طالبات نے مودی حکومت کو برسرِ عام ویڈیو پیغامات میں دھمکانا شروع کیا کہ کورونا وائرس کا معاملہ ختم ہونے دو، پھر دیکھنا پورا جموں سڑکوں پر ہوگا۔ خود کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے کی یک زبان ہوکر مخالفت کی۔ اس طرح مخالفانہ ماحول بنتا دیکھ کر بھارتی حکومت نے دوسرے روز ہی اس قانون میں مزید ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ گریڈ ایک سے سترہ تک تمام اسامیاں جموں وکشمیر کے پشتینی باشندوں کے لیے ہی مختص رہیں گی۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے احتجاج اور مفاد کو دو مختلف زاویوں سے دیکھتی اور عمل کرتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اس قانون کی زد صرف وادی کے نوجوانوں کے مفاد پر پڑتی تو نریندر مودی حکومت احتجاج اور مطالبات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہ دیتی۔ اس ترمیم سے کشمیر کے مسلمان تشخص پر منڈلانے والا خطرہ وقتی طور پر توٹل گیا ہے، مگر بھارتی حکومت ایک دو قدم آگے، ایک قدم پیچھے کا یہ کھیل جاری رکھے گی۔
اس دوران بھارت میں آباد کشمیری پنڈت اور بالی ووڈ کے جانے پہچانے اداکار انوپم کھیر نے کشمیری زبان میں کشمیری مسلمانوں کو ایک زہر آلود پیغام دیا ہے۔ انوپم کھیر مسلمان دشمن اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کشمیری زبان کے تین الفاظ ’’رلو(ہم سے مل جائو) گلیو (مرجائو) ژلیو(بھاگ جائو)‘‘ پر مشتمل پیغام میں کشمیری مسلمانوں کو پیغام دیا ہے کہ انہیں بھارت میں گھل مل جانا چاہیے، بصورتِ دیگر ان کے سامنے مرنے یا بھاگ جانے کے دو راستے ہیں۔ انوپم کھیر کی یہ سوچ ایک فرد کے خیالات کی نہیں، بلکہ ایک پورے نظام اور ایک ذہنیت کی عکاس ہے، اور بھارت کے تمام اقدامات کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے۔ اس سوچ میں وہی ہٹلر اور مسولینی جھلکتے اور جھانکتے نظر آرہے ہیں جن کی جانب عمران خان پانچ اگست کے بعد سے دنیا کی توجہ مبذول کراتے آئے ہیں۔
بھارت کے نئے قانونِ کشمیر پر بھارت کا اصل اور طویل المیعاد ایجنڈا فلسطین اسٹائل پر عمل درآمد کا آغاز کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی اور مسلم شناخت کو آبادی کے تناسب کی تبدیلی کے ذریعے بدلنا تھا۔ بھارت 71 برس تک اس راستے پر کبھی کچھوے، تو کبھی خرگوش کی چال چلتا رہا۔ پانچ اگست کے بعد نریندر مودی نے اس سمت میں خرگوش کی چال سے پیش قدمی کرنا شروع کی ہے۔ بھارت جس طرح کشمیر میں اپنا ایجنڈا یک طرفہ طور پر نافذکرنا چاہتا ہے، یہ دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس سے صاف لگتا ہے کہ امریکہ اور کچھ دوسری طاقتیں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے ہاتھ پائوں باندھ کر حقیقت میں بھارت کو کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ٹھوس بنیادیں رکھنے کا موقع فراہم کررہی ہیں۔ اب بھارت نے کورونا کا فائدہ اُٹھا کر اس جانب عملی پیش قدمی شروع کردی ہے۔ یہ کشمیری مسلمان آبادی کو اپنے علاقے میں اقلیت میں بدلنے کی جانب اُٹھایا جانے والا قدم ہے، اس کے بعد بھارت کے بڑے کاروباری گروپ کشمیریوں سے اونے پونے داموں زمینوں کی خریداری کرکے اس منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کردیں گے۔ یہ وہ خطرہ ہے جس کی مدتوں سے نشان دہی کی جاتی رہی۔ بھارت کی اس منظم کوشش کو حالات کی قید میں پھنسے کشمیری ناکام نہیں بنا سکتے، اس کام کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کی ضرورت ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اس سلسلے میں بیان بازی سے آگے بڑھ کر کوئی پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔

Share this: