مطالعہ اسلام اور استشراقی تنقیدات

Print Friendly, PDF & Email

فتنۂ استشراق کی طرف اہلِ علم متوجہ ہورہے ہیں، ان کے مطالعات کے نتائج کتابی شکل میں مرتب ہونے لگے ہیں۔ عربی زبان میں اس سلسلے میں بہت کام ہوا ہے۔ اردو زبان میں بھی اب کتابیں آنی شروع ہوگئی ہیں، اسی سلسلے میں ڈاکٹر محمد فیروز الدین کھگہ کی زیر نظر کتاب ’’مطالعہ اسلام اور استشراقی تنقیدات‘‘ کے عنوان سے ہر خاص و عام کی دسترس میں ہے۔ ڈاکٹر محمد فیروز الدین کھگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’فرانس کے ایک صحافتی ادارے کے تحت 1901ء میں ’’بیسویں صدی میں اسلام کی مختلف جہات پر جامع غور و فکر‘‘ کے زیرعنوان ایک مباحثہ (Symposium) منعقد ہوا، جس میں انسائیکلو پیڈیا کے پہلے ایڈیشن میں متعدد مقالات رقم کرنے والے مستشرق کاراڈی واکس سمیت کئی معروف مستشرقین نے حصہ لیا۔ کاراڈی واکس نے بڑے جذباتی انداز سے Segmenting the Islam یعنی اسلام کو تقسیم کرنے، اس کی بنیادوں کو کمزور اور کھوکھلا کرنے کے لیے نیشنلزم اور دیگر ذرائع کو استعمال میں لانے کی پُرزور تاکید کی۔ اس کے بقول ہمیں لسانی اور سیاسی تقسیمات کی پالیسی اپناتے ہوئے مسلمانوں کی بیخ کنی اور ان کے مابین اخلاقی یکجہتی کے بت کو توڑنا ہوگا، تاکہ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے اجتماعی ضمیر سے امت کا تصور مفقود ہوجائے۔
اگرچہ اس پالیسی کو سو سال سے بھی زائد عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس کی بازگشت نہ صرف یہ کہ آج بھی مغربی علمی اور سیاسی و سماجی اداروں میں مؤثر طور پر نظر آتی ہے بلکہ پوری قوت سے روبہ عمل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 1800ء سے 1950ء کے مابین مغرب میں اسلام کے مختلف پہلوئوں پر کم و بیش ساٹھ ہزار کتابیںشائع کی گئیں۔
مغرب میں گزشتہ تین دہائیوں سے براہِ راست قرآن کریم کے تاریخی لحاظ سے مستند ہونے کے حوالے سے تنقید کا رجحان بڑھا ہے۔ محققینِ اہل مغرب (مستشرقین) اپنے متنوع سیاسی، معاشی، علمی اور مخصوص مذہبی مفادات و مقاصد کے سبب اسلام کے مصادر بالخصوص قرآن کریم، حدیث اور اسلامی تاریخ سے متعلق متنازع نظریات شدومد سے تجویر کررہے ہیں، اس ضمن میں وہ جدید دنیا کے لیے اسلامی احکام و متون کی دوبارہ تشریح و تعبیر کے نظریے (Revisionism) کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تحریکِ استشراق عالمِ اسلام میں قرآن کریم کے الوہی ہونے کے روایتی اسلامی نقطہ نظر سے متعلق براہِ راست تنقید و تبصرہ کے تسلسل کی وجہ سے مشہور و معروف ہے۔
یہ بات بھی اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے کہ علومِ قرآنیہ کے شعبے میں استشراقی کاوشوں اور مسلسل غوروخوض کے پس منظر میں ان کے کردار کو نظرانداز کرنا کافی حد تک مشکل ہورہا ہے۔ بلاشبہ مستشرقین نے اس حوالے سے کئی زبردست کارہائے نمایاں بھی سرانجام دیے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ قرآن کریم اسلام میں کیا حیثیت رکھتا ہے، قرآن ایک غیر معمولی اور منفرد یادگار ہونے کی وجہ سے، نیز اسلام کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا جزوِ کامل ہونے کی وجہ سے ایک اعلیٰ مقام کا حامل ہے۔ تقریباً دنیا کی آبادی کا ایک سدس قرآن کریم کی ایک بلند و بالا روحانی اور مذہبی متن کی حیثیت سے تکریم کرتا ہے۔ یہ قرآن ہی ہے جو دین اسلامی کی تحریک کا ایک بنیادی روحانی محرک اور فیضان ہے، جس نے ایک وسیع رقبے کی تہذیب کو بامِ عروج، شاندار شوکت اور قوتِ حیات بخشی ہے۔ معروف مستشرق اے جے آر بری تسلیم کرتا ہے کہ ’’تاریخ کے دھارے پر واضح طور پر قرآن کا تاثر لامحدود رہا ہے اور بلاشبہ اپنے انتہائی عظیم ہونے کی بدولت یہ تاثر ایسے ہی رہے گا‘‘۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ ’’قرآن اسلام کے دل میں پایا جاتا ہے بلکہ اسلام تو قرآن ہی ہے‘‘۔ یہی وہ کلیدی سبب ہے کہ مستشرقین کئی برس سے نصِ قرآنی کو اپنے کڑے ناقدانہ مطالعہ کا بنیادی موضوع بنائے ہوئے ہیں۔
اسلامی روایت میں قرآن کو خدائی وحی کے طور پر مانا جاتا ہے جو وحی حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعہ جناب رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی گئی۔ تاہم استشراقی روایت میں وحی کے اس سارے تاریخی ڈھانچے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ چنانچہ مستشرقین نے قرآنی متن کو تاریخی قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے، اس کی تدوین میں ارتقاء کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اس کے رسم الخط، قرأت اور ترتیب کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ اسلام سے متعلق مصادر کو محرف اور عیب دار ثابت کرنے میں مستشرقین کی تاریخ بڑی عجیب ہے۔ قرآن کے تاریخی لسانی نقطہ نظر کے حوالے سے ایک منظم مطالعے کا بیڑہ اٹھانے کے بعد مستشرقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ایک غیر عرب قوت کے ذریعے معرضِ وجود میں آیا ہے۔ اسی طرح استشراقی علمی حلقوں میں اہم مباحث میں سے ایک بحث قدیم مواد کو مستعار لینے اور پھر ان کو بطور قرآن تصنیف کرنے کا الزام ہے (جسے بائبل سے مستعار لیا گیا نظریہ کہا جاتا ہے)۔
مستشرقین کا دعویٰ ہے کہ قرآن پہلی دو صدیوںکے دوران اپنی تکمیلی شکل و صورت کے مراحل سے گزرتا رہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ عہدِ نبویؐ و عہدِ صحابہؓ میں قرآن مکمل نہ ہونے کی وجہ سے گویا تحریفات اور کمی و بیشی کا شکار ہوتا رہا۔ ان مستشرقین کا مؤقف حسبِ ذیل خیالات سے عبارت ہے:
1۔ اسلامی تاریخ کے مصادر، عصری تحقیقی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ لہٰذا ان کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔
2۔ جزیرہ عرب خصوصاً نجب کے مضافاتی علاقوں میں کھدائی کے دوران جو آثار اور قدیم تحریری نقوش دریافت ہوئے ہیں وہ یہ بات واضح کرتے ہیں کہ پہلی صدی ہجری میں قرآن موجودہ شکل میں نہیں تھا۔
3۔ قدیم قرآنی مخطوطات جو یمن کے شہر صنعاء سے ماضیِ قریب میں منصۂ شہود پر آئے ہیں وہ ایک لمبا عرصہ قرآنی متن میں ارتقاء اور تغیرات کا اشارہ دیتے ہیں۔
4۔ قرآنی متن کے تنقیدی مطالعے سے کتابت اور تحریر قرآن میں غلطیوںکی نشاندہی ہوتی ہے۔
5۔ کیا جدید اور قدیم متن کے مابین مماثلت کے تصور کا لازمی طور پر مطلب مستعار یا سرقہ ہے؟
اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی باعثِ تعجب اور افسوس ناک ہے کہ مغرب کے طاقتور طبقے نے اسلامی اساسات اور تہذیبی خدوخال کو پیش کرنے میں جس غیر منصفانہ رویّے اور کھلے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے، ہمیں اس کا پوری طرح سے ادراک بھی نہیں، اور نہ ہی ہم اس سے باخبر رہے۔ ان میں سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں پر مذہبی تعصب نے پٹی باندھ دی ہے، اس لیے وہ مشاہدۂ حق سے عاری ہیں۔ ان کے اندر قومی عصبیت کارفرما ہے، اور ان کا قومی غرور انہیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسری قوم کی فضیلت کا اعتراف کریں۔ لیکن بقول مصطفیٰ سباعی ہماری اسلامی تہذیب کے معاملے میں ان کی آرا سے خود ہمارا (مسلمانوں کا) متاثر ہوجانا ناقابلِ فہم اور لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مسلمانوں ہی کی قوم کے بعض افراد کیوں اپنی اس آفاقی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کے قدموں پر پوری دنیا کئی صدیوں جھکی رہی ہے۔
متنِ قرآن میں قرأتِ قرآنیہ ان اہم موضوعات میں سے ایک ہے جس کو مستشرقین نے اپنے خصوصی مطالعے و تحقیق کے لیے نقطۂ ارتکاز بنایا ہے۔ کیونکہ یہ موضوع براہِ راست نصِ قرآن سے تعلق رکھتا ہے، اگر اس میں شکوک و شبہات پیدا کردیے جائیں تو خود مسلمانوں کے دلوں میں قرآن کی صحت پر اعتبار متزلزل ہوجائے گا، چنانچہ مستشرقین نے قرآن کو ہدفِ تنقید بنانے کے لیے قرأتِ قرآنیہ کو دو وجوہ کی بنیاد پر موضوعِ بحث بنایا۔
امر اوّل: قرأت کا قرآن سے بڑا مضبوط تعلق ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کیا گیا۔ جب کہ قرأت، وحیِ قرآنی کے الفاظ میں تغایر کا نام ہے، مثلاً قرآن میں ارشاد ہے ’’ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا‘‘ یہ ایک قرأت ہے، اور اس کی دوسری قرأت ’’ان جاء کم فاسق بنباء فتثبتوا‘‘ ہے، دونوں میں تغایر کے باوجود دونوں قرأتیں قرآن ہیں۔ مستشرقین ذکرکردہ حقیقت کو ایک منفی طرزِ فکر کے جلو میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی رو سے اُن کے مطابق قرآنی متن میں عہد بہ عہد تبدیلی واقع ہوتی رہی، نیز یہ کہ قرآن مختلف شکلیں (Versions) بدلتا رہا ہے۔ ان بے سروپا آرا و افکار کے ذریعے استشراقی حلقے مسلم امت کا کتاب اللہ سے رشتہ کمزور کرنے کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امردوم: قرأت کا موضوع ایک خاص موضوع ہے، دینیاتی علوم کے جاننے والے بھی بہت کم اس سے واقف ہیں۔ اس موضوع کے بارے میں دیارِ اسلامیہ میں عمومی طور پر کم شناسائی پائی جاتی ہے، مسلمانوں میں اس فن کی تخصیص اور اس میں بحث و تحقیق کا رجحان نسبتاً کم رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں مستشرقین نے اس فن میں مطالعہ و تحقیق اور غوروخوض کو اپنے لیے آسان سمجھا اور سائنٹفک طرزِ تحقیق کے نام پر قرآن کریم میں تصحیف و تحریف کا دروازہ کھولا۔
مستشرقین مختلف مصاحفِ قدیمہ میں وارد تفسیری روایات، شاذہ قرأت اور ذاتی و نجی مصاحف کی بنا پر ان میں موجود رسم عثمانی کے برعکس رسم قیاسی املائی کو بھی قرآن میں تحریف کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
چنانچہ مصاحفِ قدیمہ میں رسم اور قرأت کی تبدیلیوں کو اکثر مستشرقین قرآنی نص میں ارتقاء اور تطور کا نام دیتے ہیں۔ بیسویں صدی عیسوی میں جن مستشرقین نے خصوصیت سے متنِ قرآنی میں ارتقاء کا نظریہ قائم کیا ہے ان میں گولڈزیہر (Goldziher)، الفونس منگانا (Alphonse Mingana)، آرتھر جیفری (Arthur Jeffery) اور ڈاکٹر جی۔ آر پیوئن (Dr.G.R.Puin) قابلِ ذکر ہیں۔
اس لحاظ سے وقت کا تقاضا ہے کہ ان تمام شبہات اور استشراقی مناہجِ تحقیق اور ان کے بدلتے رجحانات کا بغور مطالعہ کیا جائے، اور اس کے تناظر میں نصِ قرآنی کے بارے میں مسلم محققین کے حقیقی نقطۂ نظر اور استشراقی طرزِ استدلال کا موازنہ کیا جائے، تاکہ استشراقی طرزِ تحقیق کے نقائص واضح ہوسکیں۔ چنانچہ زیرنظر تالیف میں ہم اسلامی علوم سے متعلق استشراقی تحقیقات کے اہداف و مقاصد، بالخصوص قرآنی متن سے متعلق قدیم و جدید استشراقی شبہات، اسی طرح آنجناب علیہ السلام کی رسالت کی عالمگیریت اور آفاقیت کے بارے میں استشراقی تنقیدات و مغالطات کا تنقیدی جائزہ پیش کریں گے‘‘۔
یہ کتاب مصنف کے اُن مقالات کا مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف پاکستانی جرائد و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
کتاب درج ذیل مقالات پر مشتمل ہے:
٭ استشراق: تاریخ، پس منظر اور اہداف۔
٭ متن قرآن: استشراقی تحقیقات و رجحانات کا جائزہ
٭ گولڈزیہر اور متنِ قرآن: نقد وجائزہ
٭ نصِ قرآنی اور آرتھر جیفری
٭ روایاتِ حفص اور ورش کا تقابل (ایڈرین براکٹ کے مؤقف کا ناقدانہ جائزہ)۔
٭ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمی حیثیت (استشراقی افکار و نظریات کا ناقدانہ جائزہ)۔
٭ مصادرِ اسلامیہ پر ابن وراق کی تنقیدات کا تجزیاتی مطالعہ۔
٭ اکیسویں صدی کا امریکی قرآن… تنقیدی جائزہ
٭ اسلام کا سیاسی نظام… استشراقی استعماریت کے تناظر میں
کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کی گئی ہے، مجلّد ہے، سادہ مگر خوبصورت سرورق سے مزین ہے۔

Share this: