کورونا وائرس کی قیامت اور امریکہ

Print Friendly, PDF & Email

جانوں کے زیاں کے ساتھ دنیا کے پانچ ارب انسانوں کو بے روزگاری اور کساد بازاری کے خوفناک طوفان کا بھی سامنا ہے

کورونا وائرس نے ساری دنیا میں قیامت ڈھا رکھی ہے، اور قطبِ جنوبی پر 55 لاکھ مربع میل کے منجمد قطعہ ارض المعروف انٹارکٹیکا (Antarctica)کے سوا دنیا کا کوئی حصہ اس آفت سے محفوظ نہیں۔ یورپ اور امریکہ میں اس وائرس سے پیدا ہونے والے مرض COVID-19 نے ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔ دنیا کے باقی ممالک بھی اس وبا سے نمٹنے کے جتن کررہے ہیں، لیکن مستقبل قریب میں اس سے چھٹکارے کے آثار نظر نہیں آتے۔ جنوبی کوریا اور چین میں چند ایسے مریض بھی نکل آئے ہیں جو اس مرض سے پوری طرح صحت یاب ہوچکے تھے اور علاج کے اختتام پر منفی ٹیسٹ کے ساتھ ہنسی خوشی اپنے گھروں کو چلے گئے تھے، لیکن اب ان بدنصیبوں کے ٹیسٹ دوبارہ مثبت نکل آئے۔
جانوں کے زیاں کے ساتھ دنیا کے پانچ ارب انسانوں کو بے روزگاری اور کساد بازاری کے خوفناک طوفان کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ میں گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران دو کروڑ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، اور حکومت کی جانب سے نقد مالی مدد کے باوجود خیراتی فوڈ بینک کے باہر نانِ شبینہ سے محروم افراد قطاریں لگائے کھڑے ہیں۔ تاہم سرمایہ دار معاشروں کے مسائل کچھ عجیب ہی نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف لاکھوں گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہیں تو دوسری طرف پھل اور سبزی کاشت کرنے والے زمیندار ٹماٹر اور دوسری سبزیوں کی کھڑی فصلوں پر ٹریکٹر چلا کر انہیں پامال کررہے ہیں کہ صارفین کی قوتِ خرید ختم ہونے سے سبزی منڈیاں ویران ہیں اور فصل کا کوئی خریدار نہیں۔ یہی حال دودھ، پنیر، دہی اور گوشت کا ہے۔ لاکھوں گیلن دودھ نالیوں میں بہایا جارہا ہے۔ دودھ دینے والے جانوروں کے چارے اور دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات ناقابلِ برداشت ہوگئے ہیں، جس کی بنا پر انھیں اونے پونے قصابوں کے ہاتھ فروخت کیا جارہا ہے۔ امریکہ میں سور کے سب سے بڑے ذبح خانے Smith field پر تا اطلاع ثانی تالے لگ گئے ہیں۔ امریکہ بھر میں فروخت ہونے والے سور کے گوشت اور اس کی مصنوعات کا 5 فیصد یہی ادارہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی بندش سے جہاں ہزاروں قصاب اور دوسرا عملہ بے روزگار ہوگیا، وہیں کچھ علاقوں میں گوشت کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ شاید اسی لیے صدرٹرمپ کہتے ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن جاری رہا تو کورونا سے بچ جانے والے بھوک سے مرجائیں گے۔
امریکی صدر کو کورونا وائرس کے ساتھ اِس سال نومبر میں انتخابات کا بھی سامنا ہے۔ اس آفت سے پہلے امریکی معیشت بہت اچھی حالت میں تھی۔ گزشتہ چار سال کے دوران بازارِ حصص میں 9 ہزار پوائنٹ کا اضافہ ہوا، اور بے روزگاری ڈھائی فیصد سے بھی کم رہ گئی، جو امریکہ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ لیکن کورونا وائرس نے ان کی تمام کامیابیوں پر پانی پھیردیا۔ معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے صدر ٹرمپ لاک ڈائون سے ہچکچا رہے تھے، اور اب وہ ملک کو جلد از جلد کھولنے کے لیے بے چین ہیں۔ تین ہفتے پہلے انھوں نے عیدِ ایسٹر پر لاک ڈائون نرم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو 12 اپریل کو منائی گئی، لیکن طبی ماہرین کے اصرار پر انھوں نے لاک ڈائون میں اپریل کے آخر تک توسیع کردی۔
پاکستانی وزیراعظم کی طرح صدر ٹرمپ کو بھی بندش کے ملکی معیشت پر منفی اثرات کا اندازہ ہے، اور وہ کئی بار کھل کر کہہ چکے ہیں کہ لاک ڈائون غیر فطری ہے، دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو غیر معینہ مدت کے لیے بند نہیں رکھا جاسکتا۔ وہ اپنے اس خدشے کو بار بار دہرا رہے ہیں کہ اگر لاک ڈائون بہت دن جاری رہا تو بھوک اور خودکشی سے مرنے والوں کی تعدادکورونا مرض کا شکار ہونے والوں سے زیادہ ہوگی۔
اب صدر ٹرمپ کے مخالفین الزام لگا رہے ہیں کہ چین میں مرض پھوٹ پڑنے کے بعد وہ انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مفروضے پر معاملے کو ٹالتے رہے کہ کورونا وائرس کے امریکہ تک آنے کا کوئی امکان نہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنوری کے آغاز میں امریکی سراغ رساں اداروں نے اپنی خفیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ میں کورونا وائرس کا حملہ دنوں کی بات ہے۔ بلکہ ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ میں کورونا وائرس امکانات سے بڑھ کر خطرے کے سرخ نشان تک پہنچ چکا ہے۔ متعدی مرض کے عالمی وبا بننے سے بہت پہلے امریکہ کے طبی ماہرین اور سراغ رساں اداروں نے اسے ایک خوفناک وبا یا Pandemicکا درجہ دے دیا تھا، لیکن صدر ٹرمپ نے اسے غیر ضروری خوف قرار دے کر مسترد کردیا۔ اُن سے جب بھی اس بارے میں سوال ہوتا تو بہت اعتماد سے فرماتے “Everything Under Control” یعنی صورتِ حال پوری طرح قابو میں ہے۔ 24 جنوری کو اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ چین اس مرض کو قابوکرنے کے لیے شاندار کوششیں کررہا ہے جس کی امریکہ بے حد قدر کرتا ہے، اور امریکی عوام کی طرف سے میں صدر ژی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وزارتِ صحت کے افسران اس تمام عرصے میں یادداشت اور برقی خطوط (email)کے ذریعے نائب صدر اور وزیر صحت الیکس زار (Alex Azar) سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو بھی مطلع کرتے رہے، لیکن صدر ٹرمپ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ وزارتِ صحت کے کچھ سینئر افسران نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ خود وزیرصحت نے کئی بار صدر کو معاملے کی سنجیدگی کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی، لیکن صدر ٹرمپ ہر بار ’’مجھے پتا ہے‘‘ کہہ کر سر جھٹک دیتے۔ رپورٹ کے مطابق جب 30 جنوری کو وزیر صحت نے صدر سے کہا کہ کورونا وائرس اب ایک عالمی وبا بن چکا ہے، چین کا معلومات کے حوالے سے رویہ شفاف نہیں جس پر وہ تنقید کا مستحق ہے، تو صدر ٹرمپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ الیکس زار خوف پھیلا رہے ہیں۔ انھوں نے چین پر تنقید سے انکار کرتے ہوئے اپنے وزیر صحت کو سرزنش کی کہ ’’سنسنی مت پھیلائو‘‘۔ دوسری طرف ری پبلکن پارٹی کے رہنما سینیٹر ٹام کاٹن نے وائرس کے پھیلائوکا الزام چین پر لگادیا، جس پر مشتعل ہوکر چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کورونا وائرس پھیلانے کی ذمہ داری براہِ رست امریکی فوج پر عائدکردی۔
تجارتی تعلقات متاثر ہونے کے خوف نے صدر ٹرمپ کو ماہرین کے اصرار کے باوجود چین سے آنے والی پروازوں پر پابندی سے باز رکھا۔ انھیں ڈر تھا کہ اس سے برآمدات پر منفی اثرات کے ساتھ ائرلائن کی صنعت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر کے مشیرِ تجارت پیٹر نوارو کا بھی یہی خیال تھا کہ چین پر پابندیوں سے تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔ بیجنگ نے کچھ ہی عرصہ پہلے زرعی اجناس، ڈیری اور گوشت کا ایک بڑا سودا کیا تھا، جس کے منسوخ یا معطل ہونے کے خوف سے ہی صدر ٹرمپ پریشان تھے، کہ دیہی امریکہ صدر ٹرمپ کا سیاسی قلعہ ہے، اور اگر معاہدہ منسوخ ہوا تو اس کی انھیں نومبرکے انتخابات میں بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ تاہم بادلِ نخواستہ 31 جنوری کو صدر ٹرمپ نے چین سے آنے والی پروازوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگادی۔
اُس وقت صدر ٹرمپ کو کانگریس کی طرف سے مواخذے کا سامنا تھا، چنانچہ اس زمانے میں امریکی صدر کی تمام تر توجہ مواخذے سے گلوخلاصی پر تھی، اور 5 فروری کو سینیٹ سے بریت کے بعد انھوں نے اس معاملے پر وزارتِ صحت کے اعلیٰ افسران کا اجلاس طلب کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق 21 فروری کو وزارتِ صحت کے ڈاکٹر رابرٹ کیڈلک (Dr Robert Kadlec)نے وہائٹ ہائوس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کو تفصیلی رپورٹ پیش کی، اور اس موقع پر آفت کے مقابلے کے لیے مشق بھی کی گئی۔ تیاری کے لیے متاثرین کا ہدف سوا کروڑ طے کیا گیا، جن میں سے 77 لاکھ لوگوں کے ہسپتال میں علاج اور اور 6 لاکھ اموات کی تیاری کی گئی۔ اس دوران Social Distancing اور لاک ڈائون کے نتیجے میں امریکی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے اور اس کے نتیجے میں بے روزگار ہونے والے امریکیوں کی عبوری امداد و بحالی کے اقدامات بھی ترتیب دیے گئے۔
اس تفصیلی مطالعے اور مشق کے باوجود صدر ٹرمپ نے دلچسی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ امریکی صدر کی سردمہری کے باوجود وزارتِ صحت نے اپنے طور پر تیاری شروع کردی، اور قومی مراکز برائے مدافعت اور امراضِ تنفس کی سربراہ ڈاکٹر نینسی میسونیئر (Dr Nancy Messonnier) کی قیادت میں وبا کے پھیلائو کی روک تھام کے لیے ایک جامع منصوبے کی تیاری شروع کردی گئی۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تیارکردہ رپورٹ کے جائزہ اجلاس میں صدر ٹرمپ کو دعوت دی گئی، لیکن امریکی صدر نے یہ نشست منسوخ کرکے نائب صدر مائیک پینس کو ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کردیا۔
فروری کے آخر میں جب صحت کے امریکی ماہرین اس وبا کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ ظاہر کررہے تھے، صدرٹرمپ نے ان تنبیہات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے وبا کے امکانات کو ڈیموکریٹک پارٹی کا ڈھکوسلہ (Hoax) قرار دیا۔ انھوں نے 24 فروری کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہاکہ جن 15 امریکیوں میں کورونا کے ٹیسٹ مثبت پائے گئے ہیں وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے، اور معجزاتی انداز میں یہ مرض کافور ہوجائے گا۔ انھوں نے یہ ماہرانہ رائے بھی دی کہ اپریل میں موسم گرم ہوتے ہی یہ وائرس دم توڑ دے گا۔
صدر ٹرمپ وسط مارچ تک معاملے کو ٹالتے رہے۔ وہ معیشت پر تباہ کن اثرات کے خوف سے لاک ڈائون کو حتی المقدور ٹالتے رہے، حتیٰ کہ 16 مارچ کو جب صدر ٹرمپ نے امریکہ میں انسدادِ وبا مہم کا باقاعدہ آغاز کیا اُس وقت پانی سروں سے اونچا ہوچکا تھا اورکورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 4226 تک پہنچ گئی تھی۔ تین ہفتے پہلے جب وزارتِ صحت نے مشق کا اہتمام کیا تھا اُس وقت سارے امریکہ میں مثبت نتائج والے افرادکی تعداد صرف 15 تھی۔
نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے صدر ٹرمپ شدید دبائو میں ہیں۔ روزانہ بریفنگ میں اب ان کا زیادہ وقت انسدادِکورونا کے لیے حکومتی اقدامات کی تفصیل کے بجائے مبینہ تاخیر کی تردید میں گزرتا ہے۔ دودن پہلے سی این این کے ایک انٹرویو میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کے روحِ رواں ڈاکٹر انتھونی فائوچی سے سوال پوچھا گیا کہ اگر Social distancing اور اور دوسرے اقدامات کا فیصلہ جلد کرلیا جاتا تو کیا امریکیوں کو بڑے نقصانات سے بچایا جاسکتا تھا؟ ڈاکٹر صاحب سوال کو ٹالتے رہے، لیکن صحافی کہاں جان چھوڑتے ہیں! چنانچہ ڈاکٹر فائوچی نے کہا کہ تاریخی حقائق کے پس منظر میں کسی قدم کا تجزیہ بہت آسان ہے لیکن جب صرف 15 کیس تھے اُس وقت کس کو پتا تھا کہ ایسی قیامت آجائے گی؟ لہٰذا صدر کا فیصلہ کسی بھی اعتبار سے غلط نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن جب سی این این کے نمائندے نے بہت اصرار سے پوچھا کہ اگر فروری کے شروع میں یہ حفاظتی اقدامات کرلیے جاتے تو کیا ان نقصانات سے بچا جاسکتا تھا؟ تو ڈاکٹر انتھونی فائوچی نے کہا کہ ہاں اس صورت میں نقصان کم ہوسکتا تھا۔ اس مرحلے پر ڈاکٹر صاحب نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کا دفاع کیا اور گویا ہوئے کہ اُس وقت کسی کو حالات کے اس قدرخراب ہوجانے کا اندازہ نہ تھا، اور ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ صدر نے تمام فیصلوں سے پہلے انھیں اعتماد میں لیا اور شریکِ مشورہ رکھا۔
نازک مزاج صدر ٹرمپ کو ڈاکٹر فائوچی کی یہ گفتگو پسند نہیں آئی۔ صدر کے کسی حامی نے جناب فائوچی کے اس انٹرویو کے خلاف ایک سخت ٹویٹ پیغام لکھ مارا، اور ساتھ ہی فائوچی کو برطرف کرو (Fire Fouci) کا Hash tag جڑ کر اسے ایک مہم کی شکل دے دی۔ صدر ٹرمپ نے اس ٹویٹ کو اپنے سرکاری اکائونٹ سے Re- Tweet کرکے اس خواہش کی توثیق بھی کردی۔
13 اپریل کو جب امریکی صدر کورونا وائرس کی بریفنگ کے لیے آئے تو انہوں نے جناب فائوچی کی تعریف کرتے ہوئے انھیں برطرف کرنے کی سختی سے تردید کی، لیکن وہ تاخیر کے الزام پر سخت غصے میں تھے۔ انھوں نے اپنی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی پرانی ویڈیو کلپس کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہر قدم بروقت اٹھایا گیا ہے، اور ان کے بروقت فیصلوں سے ملک بہت بڑے نقصان سے بچ گیا۔ وہ گاہے بگاہے صحافیوں پر برستے بھی رہے۔ اس دوران صحافیوں سے ان کا رویہ بے حد توہین آمیز تھا۔
لاک ڈائون ختم کردینے کے معاملے پر بھی امریکی صدر نے سکھاشاہی رویّے کا اظہار کیا اور بہت زور دے کر کہا کہ ملک کو کھولنے یا بند رکھنے پرگورنروں کو شریکِ مشورہ تو رکھا جائے گا لیکن فیصلہ وہ خود کریں گے۔ صدر کے اس اعلان سے نیویارک، کیلی فورنیا، نیوجرسی اور دوسری متاثرہ ریاستوں کے گورنر متفق نہیں۔ گورنروں کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے تحت ریاستیں خودمختار ہیں، بلکہ نیویارک کے گورنر کومو تو یہاں تک کہہ گئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکیوں نے صدر منتخب کیا ہے انھیں بادشاہت نہیں عطا کی گئی۔ مشترکہ لائحہ عمل اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کورونا وائرس سے متاثر ریاستوں کے گورنروں کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
ایسے وقت جب امریکہ اپنی تاریخ کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے، تعریف کے خوگر اور اَنا کے اسیر امریکی صدر نے ملک کو ایک نئی بحث اور تنازعے کا شکار کردیا ہے۔ ریاستوں کے معاملات میں صدر کی مداخلت سے امریکہ کو ایک آئینی بحران کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

…………
اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.com اور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹwww.masoodabdali.comپر تشریف لائیں۔

Share this: