ہمارا مقابلہ محض کورونا سے نہیں، غربت اور بے روزگاری سے بھی ہے

Print Friendly, PDF & Email

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر سے فرائیڈے اسپیشل کے لئے خصوصی گفتگو

فرائیڈے اسپیشل: حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے مستحق افراد کو بارہ ہزار روپے فی کس دینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس میں کچھ شکایات مل رہی ہیں اور اس بارے میں ابہام بھی پایا جاتا ہے۔ یہ بتائیے کہ اصل صورتِ حال کیا ہے اور آپ کے پاس کیا رپورٹس ہیں؟
اسد عمر: محنت کش بھائیوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے احساس ایمرجنسی کیش کی 8171 ایس ایم ایس سروس کو مفت کردیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ رواں ہفتے محنت کش بھائیوں اور بہنوں سے بات چیت کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے دہاڑی دار طبقے کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں بذریعہ ایس ایم ایس شامل ہونے کے طریقہ کار کے متعلق مزید آگاہی کی ضرورت ہے۔ ایس ایم ایس کے ذریعے رقم وصولی کا طریقہ کار بہت آسان ہے۔ حکومت 12 ہزار روپے امداد دے گی، امداد لینے کے لیے موبائل سے پیغام بھیجیں، اہل قرار پا جائیں تو قریبی بینک سے رقم ملے گی۔ امداد لینے کے لیے طریقہ کار اپنانا لازمی ہے۔ دہاڑی دار، مزدور اور مستحقین احساس پروگرام کی امداد لینے کے لیے 8171 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیجیں۔ موبائل پیغام کے ذریعے ایس ایم ایس میں امداد کا اہل قرار پانے والے دوسرے پیغام کا انتظار کریں۔ اگر کوئی اہل قرار دیا جائے تو اسے 8171 سے ہی دوسرا ایس ایم ایس آئے گا جس میں اہل فرد کو امداد دینے کی تاریخ بتائی جائے گی۔ کسی بھی دوسرے نمبر سے آنے والا پیغام یا ایس ایم ایس جعلی ہوگا، اس سلسلے میں لوگ محتاط رہیں۔ اہل افراد کو پورے بارہ ہزار روپے ملیں گے، کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ 144 ارب روپے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچائیں گے۔ اب تک احساس پروگرام کے تحت11 لاکھ افراد میں رقم تقسیم ہوچکی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کورونا ٹیسٹ کے لیے ملک میں لیباریٹریز کی ضرورت ہے۔ جب حکومت کو سرگرمیاں شروع کرنی ہیں تو نقل و حمل کے لیے سفر تو لازمی ہوگا، اور حکومت شرائط بھی عائد کرنے جارہی ہے تاکہ جو بھی سفر کرے وہ کورونا سے محفوظ ہونا چاہیے، مگر لیبارٹریز تو بہت کم ہیں؟
اسد عمر: ملک بھر میں27 لیبارٹریز فعال ہوگئی ہیں۔ کورونا ٹیسٹنگ کی ایک لاکھ کٹس کراچی پہنچا دی گئی ہیں۔ اپریل کے آخر تک روزانہ20 سے 30 ہزار ٹیسٹ کی صلاحیت ہوگی۔ ہم نے مسلسل اجلاس کیے ہیں جن میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ہے کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے۔ اس کی تفصیلات بھی جلد سامنے آجائیں گی۔
فرائیڈے اسپیشل: اس بحران کے باعث ملک پر معاشی بوجھ کس قدر بڑھ گیا ہے، اس حوالے سے کوئی تخمینہ لگایا گیا ہے؟ کیونکہ محاصل میں کمی کی بات کی جارہی ہے۔
اسد عمر: کورونا کے باعث ٹیکس ریونیو میں ایک تہائی کمی ہوئی ہے۔ بندشوں کے باعث لوگوں کی آمدنی میں کمی آئی ہے، ہماری برآمدات نصف سے بھی کم ہوئی ہیں۔ جب کہ یہ بھی ہوا ہے کہ گزشتہ مارچ کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ملک میں کورونا مریضوں کی اصل تعداد کیا ہے اور اموات کتنی ہوئی ہیں؟
اسد عمر: پاکستان میں کورونا سے مرنے والے افراد کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کورونا کے بارہ سو سے زیادہ مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی سے نقصان ہوسکتا ہے، لہٰذا شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ بعض حلقوں میں یہ بات زیربحث ہے کہ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے تخمینے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، کیونکہ اس سے بڑا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دوسرے ممالک کی طرح مریضوں کی تعداد یا اموات اب تک رپورٹ نہیں ہوئیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاملہ تھم گیاہے۔
فرائیڈے اسپیشل: لاک ڈائون میں مشکلات تو بہت دیکھی جارہی ہیں، حتیٰ کہ مریضوں کے لیے ادویہ کا حصول تک مشکل ہوجاتا ہے۔ حکومت اس بارے میں کیا فیصلہ کرے گی؟ سنا ہے کہ جلد ہی سفر کی بھی اجازت دی جا سکتی ہے؟
اسد عمر: کورونا وائرس کے باعث عائد بندشوں سے صورتِ حال بہتر ہوئی ہے۔ صوبوں کی مشاورت سے موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ادویہ کی فراہمی بدستور جاری رہے گی۔ وہ صنعتیں جو بنیادی ضرورت کی چیزیں بناتی ہیں وہ کھلی رہیں گی، کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء اور دوائوں کی صنعت کو کھلا رکھنا بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ گڈز ٹرانسپورٹ پر کوئی بندش نہیں ہوگی، پروازیں ایک ساتھ بحال نہیں کی جائیں گی، کراچی میں بھی کچھ وقت بعد پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ صوبوں کے وفاق سے جتنے مؤثر روابط ہوں گے، اتنے ہی بہتر طریقے سے ہم مدد کر پائیں گے۔ ماضی میں بیرونِ ملک سے آنے والوں کی وجہ سے کورونا پھیلا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: طبی عملہ اگلے محاذ پر ہے، اور اُس کی شکایات بھی بڑھ رہی ہیں کہ انہیں مناسب حفاظتی لباس نہیں مل رہا۔ کیا ایسا ہی ہے؟ اور انہیں تو اپنی تنخواہوں کے حوالے سے بھی مشکلات ہیں؟
اسد عمر: وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والے تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کی منظوری دی ہے۔ کورونا وائرس کی صورت حال کے تناظر میں معاشی و انتظامی اقدامات خصوصاً صوبہ سندھ سے بلوچستان اور پنجاب کو گندم کی بلا تعطل ترسیل، صنعتی یونٹس کی روانی، سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد، وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈی نیشن کی بہتری، اور کورونا سے متعلق مصدقہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے پیش نظر کثیرالضابطہ ریسرچ کمیٹی قائم کی جائے گی جو مختلف شعبوں کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرکے نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی، تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں کمیٹی مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرسکے۔ موجودہ صورتِ حال میں درست اور حقائق پر مبنی ڈیٹا کی دستیابی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ درست ڈیٹاکی فراہمی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کورونا کی روک تھام کے سلسلے میں مختلف ملکوں میں کیے جانے والے اقدامات کا بھی مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے، تاکہ ملکی حالات و واقعات کے مطابق بہترین اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ پاکستان میں حالات دنیا سے مختلف ہیں، یہاں ہمارا مقابلہ محض کورونا سے نہیں بلکہ غربت اور بے روزگاری سے بھی ہے۔ ہر فیصلہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر نجی شعبے کی دو لیبارٹریوں کو این ڈی ایم اے کی جانب سے ٹیسٹ کے آلات فراہم کیے جارہے ہیں، تاکہ ٹیسٹ کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ اس تجربے کو مدنظر رکھ کر یہ سہولت مزید 14 لیبارٹریوں میں فراہم کی جائے گی۔ حکومت صحت کے شعبے سے وابستہ مسیحائوں کی تمام تر ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ بتایئے کہ ملک میں کاروبار کب تک کھلنا شروع ہوجائیں گے؟
اسد عمر: یہ کام بتدریج ہوگا۔ حکومت نے اسلام آباد میں ڈرائی کلینرز اور لانڈریز کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ ڈرائی کلینرز اور لانڈریز ایک ہیلپر کے ساتھ دکان کھول سکتے ہیں۔ گاہکوں کے حوالے سے متعین قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔اسی طرح ڈرائی کلینرز اور لانڈریز میں گاہکوں کے درمیان فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا۔ اپریل کے آخر میں ہسپتالوں پر زیادہ پریشر پڑے گا، اس لیے ہر صوبے کوصورت حال دیکھ کر اپنی تیاری کرنی پڑے گی۔ پاکستان میں کورونا کے کیسز ہمارے اندازوں سے کم ہیں۔ کیسز کم ہونے کی وجہ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات ہیں۔ سماجی فاصلو ں کو بھی مزید کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکومت ٹیسٹنگ کی موجودہ گنجائش کو بڑھانے پر لگی ہوئی ہے۔ کورونا کے ایسے مریض جو پہلے ہی بیمار ہیں اُن میں شرحِ اموات 70فیصد تک ہے۔قرنطینہ میں جس طرح پابندی عائد ہونی چاہیے اس طرح پابندی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی تمام چیزیں دیکھ کر حکمتِ عملی بنانا پڑے گی کیونکہ ہمارے بہت سارے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، کورونا سے تو وہ شاید بچ جائیں لیکن دوسرے مسائل کی وجہ سے ان کی زندگیاں مشکل ہوجائیں گی۔

Share this: