کورونا وائرس عالم انسانیت کے لیے پیغام

Print Friendly, PDF & Email

امیر جماعت اسلامی ہند کا ریڈیو خطاب

سید سعادت اللہ حسینی
امت مسلمہ کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کی بندی، پاکیزہ اخلاق اور امن و انصاف کی علم بردار ہے اس پر صرف اپنی ذمہ داری نہیں بلکہ سارے انسانوں کی ذمہ داری ہے، اسے سب کی بھلائی کی فکر کرنا ہے۔ سارے انسانوں کے لئے دنیا کی بھلائی کی بھی فکر کرنی ہے اور آخرت کی بھلائی کی بھی فکر کرنی ہے وہ اگر اپنے آپ میں ہی رہے گی صرف اپنے مسائل تک محدود رہے گی، صرف اپنے بارے میں سوچے گی تو اس سے انسانیت کا بہت بڑا نقصان ہوگا اور خود کا نقصان ہوگا ۔ وہ اس صورت میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گی، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو عالم انسانیت کا ایک جزو ایک حصہ سمجھ کر ان مشترک مسائل پر غور کریں جو ہم سب کو لاحق ہیں۔ ان کے اسباب کا تجزیہ کریں، وحی الٰہی کی روشنی میں، قرآن کی روشنی میں ان کا حل تلاش کریں، حل کی طرف دنیا کو متوجہ کریں اور ان مسائل کو حل کرنے لئے ہم جدوجہد کریں۔ یہ بات میں نے اپنے سابقہ خطاب میں بھی کہی تھی کہ اس طرح کی عظیم آفات اللہ تعالیٰ کی قوت و طاقت اور انسان کی بے بسی اور لاچاری کا اظہار ہوتی ہے۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ اکیسویں صدی کا یہ دوسرادھا انسانی ترقیوں کے عروج کا زمانہ ہے، انسانی زندگی اور تمدن کا حسن و جمال اور سحر انگیزی اور کرشمہ سازی حیرت انگیز بلندیوں کو چھونے لگی تھی۔ جو آسائشیں اور سہولتیں آج کے عام انسان کو میسر ہیں وہ گزشتہ زمانوں کے طاقت ور ترین مال دار ترین بادشاہوں کو بھی میسر نہیں تھیں۔ سائنسی انکشافات اور تمدنی اختراعات نے ایسی ایسی سہولیتیں پیدا کردی ہیں جن کا شاید خواب دیکھنا بھی پچھلے زمانوں میں ممکن نہیں تھا۔ ان تحقیقات پر جدید انسان کو بہت غرور تھا، لوگ اسے فطرت پر اسے انسان کی فتح سمجھتے تھے، علم و فن کے اس غرور نے وہ نفسیات کیں جس نے مذہب اور خدا سے انسان کو غافل کردیا۔ اکیسویں صدی کے فرد کے لئے بھی اور قوموں کے لئے بھی انسانی گروہوں کے لئے بھی مادی ترقی ہی ان کی آخری منزل بن گئی۔ ان کی آرزوئوں اور تمنائوں کا، جدوجہد اور عمل کا واحد مرکز و محور یہ قرار پایا کہ کیسے زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جائے۔ آپ دیکھے کہ اس وبا نے انسانی غرور کو چکنا چور کردیا ہے۔ اسے بتادیا ہے کہ اس کی ساری ترقیوں کی خدا کی بے پناہ قدرت و طاقت کے سامنے کیا حیثیت ہے؟۔
قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے غور سے سنو، جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی اگر پیدا کرنا چاہئیں تو پیدا نہیں کرسکتے، اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اس سے وہ چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ تو اس آیت میں بنیادی طور پر جھوٹے خدائوں کی بے بسی کی طرف اشارہ ہے ہمارے دور کے انسان کے کچھ نئے خدا تخلیق کرلئے تھے اپنے علم فن اور تمدنی طاقت کو لاشعوری طور پر خدا سمجھنے کی غلطی کی تھی۔ ایک چھوٹے سے وائرس کے ذریعے یہ بتا دیا گیا کہ انسانی علم و فن کی کیا حیثیت ہے۔ اللہ کا حکم ہو تو اس کی مخلوقات میں سے ایک ادنیٰ ترین مخلوق ایک نظر نہ آنے والا وائرس طاقت ور ترین ممالک کو بے بس کرکے رکھ سکتا ہے، دنیا کے سارے جہاز بیک وقت گرائونڈ ہوسکتے ہیں۔ ساری فیکٹریاں ایک ساتھ بند ہوسکتی ہیں، بڑی بڑی کمپنیاں، تعلیمی اور تحقیقی ادارے، جگمگاتے شاپنگ مال، پر رونق تفریح گاہیں، عالی شان ایئر پورٹ، پرتعیش ہوٹلز یہ سب ایک ساتھ رب کائنات کے ایک ہلکے سے اشارے پر بے جان کھنڈرات میں بدل سکتے ہیں۔ نوکروں کی فوج خدا کے حکم سے اچانک ہمارے کنٹرول سے باہر ہوسکتی ہے۔ گھر بیٹھے آن لائن آرڈر دے کر من پسند چیزیں منگوانے کی سہولت، گاڑی طلب کرنے کی سہولت اور دیگر بہت سی سہولیات جو ہمارے زمانے میں انسانی اختراع و ایجاد کا کرشمہ سمجھی جاتی تھیں وہ سب اچانک معطل ہوسکتی ہیں اور بڑے سے بڑے آدمی کو، طاقتور سے طاقتور آدمی کو اذیت کا، تنہائی کا اور بے بسی کا عذاب جھیلنا پڑ سکتا ہے۔
اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ انسان جب خدا کے حکم اور اس کی تعلیمات سے غافل ہوجاتا ہے تو ایک انتہا پسندوں اور بے اعتدالی کا شکار ہوجاتا ہے چنانچہ اس وبا کے دوران بھی ہم دیکھتے ہیں ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی سنت کو نظر انداز کرکے ٹھوس سائنسی حقائق کو نظر انداز کرکے، اسباب سے بے نیاز ہوکر صرف دعائوں اور عبادتوں سے ہر بلا کو ٹالنا چاہتے ہیں یہ اسلام کا مزاج نہیں ہے۔ وقت کے رسول نے بھی اپنے مرض کا علاج کرایا ہے، اپنے وقت کے معروف ذرائع اور اسباب اختیار کئے ہیں، احتیاطی تدابیر کا حکم دیا ہے۔ جنگوں میں جاسوسی کا نظام، بہترین وسائل کی فراہمی کی کوشش، ہتھیاروں کی فراہمی کی کوشش، فوج کی تنظیم و تربیت غرض وہ سارے طریقے اختیار کئے جنہیں کامیابی کے دنیاوی اسباب سمجھا جاتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد خدا سے لو لگائی، اس سے دعائیں کیں، اس سے مدد مانگی یہی اسلام کی تعلیم اور اس کا فلسفہ ہے، اسلام عقل سے یا سائنس سے بے نیازی نہیں سکھاتا ان پر توجہ دینے کا حکم دیتا ہے۔ عقل کو استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے، اسباب کو بروئے کار لانے کا حکم دیتا ہے۔ اب سائنس کا اسلامی منہج اس پر گفتگو کا یہ موقع نہیں ہے لیکن کم از کم اتنی بات تو طے شدہ ہے اور مسلمہ ہے کہ جو باتیں معروف طریقے سے ثابت شدہ ہیں ان کو نظر انداز کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ آج مسلمان اگر نمازوں کے مسجد نہیں جارہے ہیں تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ ان کی نظر میں خدا نخواستہ دین کی اہمیت کم ہوگئی ہے یا انہوں نے خدا کو چھوڑ دیا ہے یا اپنے دین اور عقدے پر نعوذ باللہ سائنس کو فوقیت دے رہے ہیں۔ بعض کم عقل لوگ سوشل میڈیا پر یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام اور اس کی تعلیمات کو نہیں جانتے، آپ پوری تاریخ دیکھیںگے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلام اور عقل میں یا اسلام اور سائنس میں کبھی کشمکش نہیں رہی، آج مسلمان اپنے گھروں پر خدا کی عبادت کررہے ہیں اس لئے کہ ان حالات میں ان کے دین کی تعلیم یہی ہے۔ اسلام اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا حکم نہیں دیتا۔ فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ صدیوں سے لکھا ہوا موجود ہے کہ اپنی یا کسی کی جان خطرے میں ہو تو نماز توڑ کر جان بچائی جائے۔ صحت کو شدید خطرہ ہو تو روزہ نہ رکھا جائے۔ جان خطرے میں پڑ جائے تو رکھا ہوا روزہ توڑ دیا جائے۔ تو اللہ نے ان حالات میں اپنی عبادت کا جو طریقہ بتایا ہے اس کی ہم تعمیل کررہے ہیں۔ ایک طرف بعض مذہبی حلقوں میں یہ انتہا ہے یعنی عقل اور قوانین فطرت کو نظر انداز کرنے والی رہبانیت ہے لیکن دوسری طرف انتہا یہ ہے کہ لوگ اسباب اور سائنس اور علوم و فنون کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنے تمدنی وسائل کو خدا بنا لیتے ہیں، وسائل کی طاقت کے ایسے اسیر ہوجاتے ہیں کہ خدا سے بے نیاز ہوجاتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی قوت ان کے پاس ہے تو انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں یہ غرور اللہ تبارک و تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ یہ دو انتہائیں ہیں جن کا عالم انسانیت شکار ہے۔ ایک طرف توہم پرستی اور پراسراریت ہے تو دوسری طرف ظاہر پرستی اور کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی رب کائنات سے مغرورانہ بے نیازی۔ اسلام کی راہِ اعتدال یہ ہے جو کچھ علم و عقل ہم کو اللہ تعالیٰ نے دی اس کا بھرپور استعمال کریں اسی کو میں نے گزشتہ تقریر میں سائنٹفک مزاج کہا تھا اور پھر اللہ سے بھی لو لگائیں۔ ہماری نظر کسی بھی واقعے یا حادثے کے سائنسی پہلو پر بھی ہو اور روحانی یا فوق طبعی پہلو بھی ہو، ہماری توجہ مسئلہ کو جدید تحقیقات اور اسباب و وسائل حل کرنے پر بھی ہو اور خدا سے مدد مانگ کر اپنی غلطیوں کا جائزہ لے کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر خدا کی رحمت متوجہ کرنے پر بھی ہو۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت اللہ کے سامنے بے بس ہے، فطرت کی ساری قوتیں اور سارے قوانین اللہ کی مرضی کے تابع ہیں اس لئے اصل رشتہ وہ تعلق تو اللہ تعالیٰ سے ہے یعنی سارے انسانوں کے خالق و مالک سے ہونا چاہئے لیکن خود اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو چلانے کے لئے کچھ قوانین بنائے ہیں۔ اللہ کی سنت کا یعنی قوانین فطرت کا لحاظ رکھنے اور اسباب کو اختیار کرنے کا خود اللہ نے حکم دیا ہے اور یہی اسلام کا مزاج ہے۔ اس وقت کی صورتحال اسلام کے اس معتدل نقطہ نظر کی عملی شہادت کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کی شہادت اپنے رویوں سے دیں ۔ہمارے ڈاکٹرز لوگوں کا جی جان سے بہترین علاج کریں،جو کچھ جدید ترین علاج کے طریقے سائنسی تحقیقات سے ثابت ہیں دستیاب ہیں ان کا استعمال کریں اور اپنے خالق و مالک سے بھی لو لگائیں، اسی طرح ہمارے علما،دینی رہنما، مذہبی جماعتیں یہ سب بھی جہاں لوگوں کو عبادات کی طرف متوجہ کریں، خدا سے تعلق اور دعا پر متوجہ کریں، توبہ اور استغفار کی طرف متوجہ کریں وہیں احتیاطی تدابیر اور علاج اور اسباب کی طرف بھی توجہ دلائیں۔ آپ ایسا نہیں کریں گے تو اسلام کے مزاج کی صحیح ترجمانی نہیں کریں گے۔
عزیزان گرامی!اس وقت دنیا کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ہم سب اپنے پیدا کرنےو الے کی طرف پلٹیں، اس کی مرضی کو سمجھنے کی کوشش کریں، اس کے اشاروں کو سمجھیں اس کی تنبیہ کو سمجھیں۔ اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کریں۔ یہ موقع وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ کی صدا بلند کرنے کا ہے۔ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ کی دعوت پورے زور و شور سے اٹھانے کا موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کی قرآن میں کہی ہے کہ انسان کے ساتھ جو کچھ اچھا ہوتا ہے وہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوتا ہے اور جو برا ہوتا ہے وہ انسانوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ہوتا ہے۔ مااصابک من حسنت فمن اللہ کہ اے اانسان! تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے وہ اللہ کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے وما اصابک من سیئت فمن نفس اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔ یہ سارے انسانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مصیبت کے لئے ہمارے کون سے رویے ذمہ دار ہے۔ ایک بنیادی بات کی طرف ابھی اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا کی ذات سے بے نیازی اور اس کو فراموش کردینا، اس کو نظر انداز کردینا ایک بڑا سبب ہے اس کے علاوہ دیگر اسباب پر جب غور کیا جائے تو کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ کو ظلم سخت ناپسند ہے۔ ظلم کو قرآن کریم میں بہت سی آفتوں اور مصیبتوں کا بڑا سبب قرار دیا گیا ہے۔ وَکَذَلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ إِنَّ أَخْذَہُ أَلِیْمٌ شَدِیْدٌ ۔ تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے یعنی سخت ہوا کرتی ہے۔ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ان اللہ لیملی للظالم اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے حتی اذا اخذہ لم یفلتہ اور جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھو ڑتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارا یہ دور اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں انسانوں پر ظلم ساری دنیا میں بڑھ گیا ہے، ظلم کی نت نئی شکلیں وجود میں آئی ہیں۔ گزشتہ سو سالوں میں انسانی آزادی،مساوات،حقوق انسانی وغیرہ کے بلندبانگ نعرے لگائے گئے لیکن ان تصورات کو سنجیدگی سے روبہ عمل لانے کی کوششیں بہت کم ہوئی ہیں، زیادہ تر یہ تصورات بڑی طاقتوں کے مفادات کےتابع رہے لیکن ادھر چند سالوں سے یہ نعرے لگانے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔ ان تصورات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، اب کہا جارہا ہے کہ ہم ایک پوسٹ ہیومن رائٹس دور میں ہیں جس میں انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔ پناہ گزینوں کی تعداد تاریخ میں اتنی زیادہ کبھی نہیں رہی جتنی آج ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سات کروڑ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہیں۔ جو زیادہ تر ظالم اور خود غرض حکمرانوں کی مفادات پرستانہ پالیسیوں کے نتیجے میں دربدری کے شکار ہیں۔ ان میں بعض پوری کی پوری قومیں شامل ہیں۔ ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگ شہریت اور تمام حقوق سے محروم ہیں اور ان کی تعداد مزید بڑھانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ شاید معلوم تاریخ میں پناہ گزینوں کو اتنی مشکلات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑاتھا جتنا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کرنا پڑ رہا ہے۔ نسل پرستی کی بدترین قسمیں ان ترقی یافتہ معاشروں میں قبول عام حاصل کرتی جارہی ہیں۔ گزشتہ دس بیس سالوں میں Extreme racist movements نفرت کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان تفریق کی بنیاد پر وجود میں آنے والی موومنٹس جس طرح انتہائی مہذب ترقی یافتہ معاشروں میں مشہور ہوتی چلی گئیں وہ یقیناً ہمارے دور کی بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے کی اور ان کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انسانی آبادیوں پر مہلک ترین ہتھیاروں سے بمباری کے ان وحشت ناک مناظر کا آسمان نے اس سے پہلے کبھی نظارہ نہیں کیا ہوگا جو اسے آج کرنا پڑ رہا ہے۔ مظالم یقیناً اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن جس طرح آج پوری دنیا میں ہورہے ہیں اس کا اخلاقی نتیجہ دنیا کے سارے انسانوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یقیناً یہ مظالم کے ان سارے واقعات میں اور کرونا کی اس آفت میں کوئیscientific relation کوئی سائنسی ربط قائم نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم توجہ اسی بات پر دلانا چاہ رہے ہیں کہ اس دنیا میں خالق کائنات کے قانون فطرت کے ساتھ ساتھ قانون اخلاق بھی کار فرما ہے۔ ہمیں غور کرنا ہے کہ کیا یہ اس وسیع الاطراف ظلم سے باز آنے کی خدائی وارننگ تو نہیں ہے!
جس آیت کا ذکر بات کی ابتدا میں کیا ہے اس میں بھی سابقہ قوموں کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ان کے ظلم،زیادتی اور تکبر پر اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلسل متنبہ کیا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَکہ آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجے،ٹڈی دل چھوڑے، سرسریاں پھیلائیں، مینڈک نکالے، خون برسایا آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍیہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں لیکن فَاسْتَكْبَرُوا وہ تکبر کرتے چلے گئے، سرکشی کرتے چلے گئے وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔
عزیزان گرامی! اس پہلو سے غور کرنے کی ضرورت ہےکہ ان واقعات میں اس وبا میں اور ظلم اور زیادتی کے عام ہونے میں کیا تعلق ہے۔ اسےتنبیہسمجھنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ قدرت نے آج تنبیہ کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا ہےکیا اس میں بھی ہمارے لئے کوئی سبق ہے کہ آج ہم سب ساری دنیا کے لوگ، دنیا کے انتہائی خوشحال لوگ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی قید کی زندگی نہیں گزاررہے ہیں؟ کیا یہ قدرت کی طرف سے ان بے شمار مظلوموں کے حوالے سے تنبیہ نہیں ہے جن کو ہم نے دنیا بھر میں بے قصور قید کررکھا ہے۔ کتنے بے گناہ لوگ انسانی مفادات کی ناپاک لڑائیوں میں قید و بند کی طویل صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں ایسے کتنے واقعات پیش آئے کہ لمبی لڑائیوں اور بے شمار انسانوں کی طویل قید و بند کے بعد دنیا پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ سب بے قصور تھے جن کی زندگیاں برباد کردی گئیں قید خانوں میں وہ سب بے قصور تھے۔ آج بھی دنیا بھر میں آبادیوں کی آبادیاں جہاں ہزاروں لاکھوں بچے، بوڑھے، مرد و خواتین حصار و قید کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اس وقت کسی خاص ملک یا خاص واقع کی طرف اشارہ نہیں بلکہ ضرورت طرف اشارہ ہے کہ ہم سب اپنے احتساب کی طرف متوجہ ہوں، ہم خود اپنا احتساب کریں اور دیکھیں کہ ہم کتنا ظلم کررہے ہیں اور اس ظلم کا اور ان حالات کا کیا رشتہ ہے۔ مذہبی اور روحانی قائدین اور غیر جانبدار دانشوران آگے آئیں اور انسانی دنیا کو متوجہ کریں کہ ساری دنیا کو جس اذیت سے گزرنا پڑرہا ہے اس میں فطرت کے صاف اشارے موجود ہیں۔ مظلوموں کی آہیں ان حالات کے سناٹے میں صاف سنائی دے رہی ہیں، ضرورت صرف سننے والے کانوں کی ہے۔
اس وقت جو مصیبت ساری دنیا کو درپیش ہے اس کا ایک پہلو معاشی بھی ہے، سارے وسائل کے باوجود آج دنیا کی معیشت منجمد ہوچکی اور بھیانک معاشی بحران ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔ غور کیجئے کہ ظلم ہی کی ایک شکل معاشی استحصال اور نا برابری ہے۔ ہمارے دور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہCrony Capitalismکے نتیجے میں معاشی نا برابری عروج کو پہنچ چکی ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ دنیا کی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ گزشتہ چالیس سالوں میں صرف اعشاریہ ایک فیصد لوگوں نے آدھی انسانیت سے زیادہ دولت پر قبضہ کیا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ غریب کا غریب سے غریب تر ہونا اور امیر کا امیر سے امیر تر ہوتا جانا ہمارے دور کی امتیازی خصوصیت ہے۔ ساری دنیا میں ایسی پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں کہ غریب کے منہ سے اس کے آخرے دو نوالے بھی چھین لئے جائیں اور اس کے ذریعے امیر ترین لوگوں کے خزانوں میں اضافہ کیا جائے۔ آج کروڑوں لوگ بھوک پیاس سے بے حال ہیں۔ خود وبا کی سنگین صورتحال میں بھی ہم نے اپنے ملک میں دیکھا کہ کس بے دردی سے غریب بھائیوں اور بہنوں کو نظر انداز کیا گیا۔ یقیناً ہمارے درمیان کچھ لوگ ہیں ان کی فکر کررہے ہیں، ان کے کھانے پینے کا انتظام کررہے ہیں وہ ہمارے محسنین ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ممالک کا، حکومتوں کا، پورے سماج کا کیا طرزِ عمل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
قرآن مجید میں ارشادہے کہ
”مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا، ہر گز نہیں! کیونکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے، مسکین کو کھاناکھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے اور میراثکا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہوا۔“
غور کریں کیا کہ یہ ہمارے دور کی منظر کشی نہیں ہے؟ مال کی محبت، غریبوں اور بے کسوں سے بے اعتنائی، وسائل دنیا کی جو کہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں لوٹ کھسوٹ اور چند لوگوں کا دنیا کی ساری دولت پر قابض ہوجانا ۔ اس دنیا کا پیدا کرنے والا کہتا ہے کہ یہ برائیاں آفتوں اور فتنوں کا سبب بنتی ہیں۔ 15مارچ کے نیویارک ٹائمزمیں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں معاشی عدم مساوات کو وبا پھیلنے کا ایک بڑا سبب قرار دیا گیا تھا۔ اس میں سائنسی بنیادوں پر کہا گیا تھا کہ اگر معاشی عدم مساوات دنیا میں اتنی زیادہ نہ ہوتی تو وبا اس طرح تیزی سے نہ پھیلتی ۔
دوستو! ایک اور پہلو کی جانب اشارہ ہے کہ ہم نے سب سے زیادہ ظلم فطرت پر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو اچھی زندگی کے لئے تمام ضروری وسائل فراہم کئے لیکن تعیشات کی ہوس اور سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا میں وسائل کی ایسی لوٹ مچائی کہ آج ہماری ہوا، پانی، ماحول سب کچھ زہر سے بھر گیا ہے۔ ادھر متعدد تحقیقات آتی جارہی ہیں کہ یہ ناول کرونا وائرس اور اس جیسے نت نئے جرثومے انسانی زندگیوں کو جس خطرے سے دوچار کررہے ہیں اس کا ایک بڑا سبب ماحولیاتی عدم توازن ہے۔ اکثر بیماریاں حیاتیاتی تنوع کے مراکز یعنی Biodiversity Hotspots سے نکل رہی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس کا اثر ان علاقوں میں انسانوں کی صنعتی سرگرمیوں اور ماحولیات توازن کے نظام میں خلل ہے۔Ecological Disturbanceکی وجہ سے جانوروں تک محدود مائیکرو آرگینزمز انسانوں میں منتقل ہورہے ہیں اور نت نئی بیماریوں کے پھیلائو کا سبب بن رہے ہیں۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ
خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ سب مباحث اٹھائیں اور دنیا کو اس تباہی کے مخفی اخلاقی اسباب کی طرف بھی متوجہ کریں جن پر دنیا کی توجہ نہیں ہے۔ اس وقت انسانوں کے ضمیر زیادہ حساس اور بیدار ہوچکے ہیں۔ اللہ کے دین اور اس کے یقین رکھنے والے اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت کے ضمیر پر دستک دیں اور ان حقائق کی طرف انہیں متوجہ کریں۔
عزیزان گرامی! ا س آزمائش میں رویوں میں تبدیلی سے متعلق بہت سے اسباق بھی ہم کو پڑھائے ہیں۔
اس آفت نے ساری دنیا کو یہ بات سمجھائی ہے کہ ہم نے اپنی ضرورتوں کا دائرہ غیر فطری طور پر بڑھا دیا تھا ۔اسی حرص اور لالچ نے معاشی عدم مساوات پیدا کی،اسی سے ہمارا ماحولیاتی نظام درہم برہم ہوگیااور اسی حرص نے اس بے نظیر ظلم کے لئے تحریک فراہم کی جس کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ اس وبا نے ہمیں یہ بہت بڑی حقیقت سمجھادی ہے کہ اس دنیا میں سات بلین انسانوں کی زندگیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ ہم سب ایک ماں اور ایک باپ کی اولاد ہیں،ہمارا مفاد مشترک ہے، ایک بیمارآدمی بھی چاہے وہ غریب ہو یا امیرہماری ذات یا مذہب کا ہو یا کسی اور ذات اور مذہب کا ہو اگر وہ بیمار ہے تو اس کی بیماری صرف اس کے لئے نہیں ہم سب کے لئے خطرہ ہے۔ یہ سبق ہم نے آج پڑھا ہے۔ قرآن نے کہا تھا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَ نَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا جس نے ایک انسان کو زندگی بخشی اس نے ساری انسانیت کوزندگی بخشی۔ اس بیماری نے ہمیں یہ عظیم حقیقت یاد دلائی ہے چونکہ بیماری بہت ہی تیزی سے پھیلی دن بہ دن اور گھنٹہ بہ گھنٹہ پھیلتی گئی اس لئے ہم نے اسے محسوس کیا اور متوجہ ہوگئے اور سماج کے غریب ترین انسان کو بھی بچانے کی فکر شروع کردی۔ قوم، ذات، ملک، کسی چیز کا تعصب حائل نہیں ہوا، کاش کہ ہم یہ سمجھیں کہ اسی طرح زندگی کے دوسرے پہلو بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کو مفلوک الحال اور پریشان حال رکھ کر ہم زیادہ دن خوشحال نہیں رہ سکتے۔ کچھ لوگوں کو مظلومیت بھٹی میں دھکیل کر ہم ہمیشہ سکون کی بانسری نہیں بجا سکتے۔ انسانوں کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے، ہم سب کی طویل المیعاد بقااس بات پر منحصر ہے کہ دنیا کے سارے انسانوں کو امن و سکون میسر آئے، سب کی ضرورتیں پوری ہوں،سب کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، سب کو آزادی ملے،سب کو وہ عزت اور تکریم ملے جو بحیثیت انسانیت ان کا حق ہے۔
قرآن مجید میں انسانی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو انسانوں کو تذکیر اور یاددہانی کاذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌاس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لئے جو دل رکھتا ہو۔ اس وقت جس عظیم آفت کا ہم کو سامناہے اس کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ فطرت کے اشاروں کو سمجھیں ۔ کوڈ 19کے بعد ہم ایک نئی دنیا میں داخل ہوں گے، دنیا بدل جائےگی، ہم سب کی، اسلام کے ماننے والوں کی،قرآن و سنتپر یقین رکھنے والوں یہ کوشش ہونی چاہئے کہ دنیا کو ان حقائق کی طرف متوجہ کریں اور ایک ایسی پاکیزہ، پرامن اور خدائے تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھنے والی، اس سے جڑنے والی، بہتر دنیا کی تشکیل میں اپنا رول ادا کریں، یہی ہماری ذمہ داری ہے،یہی ہمارا اس موقع پر فریضہ ہے۔

Share this: