عالمی یومِ آزادی صحافت… حقائق کیا ہیں؟۔

Print Friendly, PDF & Email

ہر سال 3مئی کو پریس کی آزادی کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پیشہ ور افراد میں پریس کی آزادی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے امور کے بارے میں عکاسی کا بھی دن ہے۔ یوم آزادیِ صحافت کے بارے میں خبر یہ ہے کہ غیر یقینی صورتِ حال کے سبب اِس سال 3 مئی کو ورلڈ پریس فریڈم کانفرنس نہیں ہوگی، یہ کانفرنس کورونا وائرس کی وجہ سے ملتوی کردی گئی ہے۔ COVID-19 کے پھیلائو کے باعث ہالینڈ کی وزارتِ خارجہ نے یونیسکو کے ساتھ مشاورت کی، اور ورلڈ پریس فریڈم کانفرنس 2020 ملتوی کرنے کا فیصلہ کرلیا، اور اس شعبے سے وابستہ دنیا بھر کے اسٹیک ہولڈرز کو بھی آگاہ کردیا گیا۔ ہیگ میں ورلڈ فورم میں یونیسکو اور نیدرلینڈ نے 22 سے 24 اپریل تک ورلڈ پریس فریڈم کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم اب کانفرنس اسی جگہ پر 18 سے 20 اکتوبر کو منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کے التوا کے لیے عالمی ادارۂ صحت نے 11 مارچ کو درخواست کی تھی۔ کانفرنس میں ایک ہزار مندوبین کی شرکت متوقع تھی، اور کانفرنس کے بعد اس کی کمیٹیوں کے اجلاس کم و بیش دو ماہ تک جاری رہنے تھے۔ بہر حال اب یہ کانفرنس اکتوبر میں ہوگی جس کے لیے میڈیا اسٹیک ہولڈرز کے انتہائی اہم نیٹ ورکس نے اپنی شرکت کی تصدیق کردی ہے۔ کانفرنس کے منتظمین تمام شراکت داروں کو اس ایونٹ کے ساتھ اپنی مصروفیت جاری رکھنے کی دعوت دیتے ہیں اور اسی پروگرام کو اکتوبر میں زیادہ سے زیادہ شرکت کے ساتھ یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے۔ 2020ء کے یونیسکو/ گیلرمو کینو ورلڈ پریس فریڈم پرائز کے انعام یافتہ اخبار نویس کے نام کا اعلان 3 مئی کو کیا جائے گا، اور ایوارڈ کی تقریب اکتوبر میں دی ہیگ میں ہونے والی کانفرنس میں ہوگی۔ عالمی یوم آزادی کی قومی اور مقامی تقریبات 3 مئی کو دنیا بھر میں ہوں گی، آن لائن مباحثے اور ورکشاپ ہوں گی۔ بنیادی طور پر1993ء سے ہر سال منظم ہونے والی ڈبلیو پی ایف ڈی عالمی کانفرنس صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ماہرینِ تعلیم اور آزادیِ صحافت کے لیے ابھرتے چیلنجوں پر تبادلہ خیال اور حل کی نشاندہی کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ ہالینڈ اس سال کے لیے میزبان ملک ہے۔ یہ کانفرنس تین دن تک جاری رہتی ہے۔ یہاں تک تو یوم آزادیِ صحافت کا ایک پہلو اور رخ ہے، بلاشبہ صحافت اور میڈیا کی آزادی ایک صحت مند معاشرے کے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ صحافتی ادارے اور صحافی معاشرے کی تعمیر و ترقی اور اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اِسی لیے آج ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کو نہ صرف مکمل آزادی حاصل ہے بلکہ وہ چوتھے ستون کے طور پر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا بھی نظر آتا ہے، لیکن ہمیں دنیا بھر میں کچھ تضاد بھی نظر آتا ہے۔ بھارت کو غیر ضروری رعایت دی جاتی ہے، دہلی سمیت بھارت کے بڑے شہروں میں آر ایس ایس کے لوگ ہاتھوں میں ترنگا، تلواریں، برچھیاں اور نیزے لیے جے شری رام، بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم، جے ہنومان کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں، غیرملکی میڈیا کو بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں، لیکن مغرب اس کے باوجود بھارت کو رعایت دیتا ہے۔ موبائل فون پر ویڈیوز یا تصاویر بنانے والوں سے آر ایس ایس کے مسلح لوگ موبائل فون چھین کرتوڑ دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں جس طرح ہلّہ بولا گیا… ممبئی،گجرات اور احمد آباد سمیت بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو آرایس ایس کے غنڈوں کا نشانہ بنایا گیا، مگر مغربی میڈیا کیا دکھاتا رہا؟ بھارت کے ادارے ’’نیشنل کمیشن آف مینارٹیز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، اگر کہیں کسی انجانے اور انفرادی واقعے کی وجہ سے پاکستان میں کوئی بات سامنے آجائے تو مغربی میڈیا سر پیٹنا شروع کردیتا ہے۔ بھارت میں ایک ارب سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، بھارت کے ایک ارب 14کروڑ یعنی 86 فیصد افراد کی اوسط آمدنی یومیہ ساڑھے پانچ ڈالر سے بھی کم ہے، بھوک اور افلاس پر نظر رکھنے والے ادارے گلوبل ہنگر انڈیکس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق غربت کے حوالے سے پاکستان کی رینکنگ بہتر ہوئی جبکہ بھارت مزید تنزلی کا شکار ہوا، اسی طرح بھارت دنیا کے ان بڑے ممالک کی فہرست میں ٹاپ 5 پرآتا ہے جہاں بے گھر افراد کی کثیر تعداد موجود ہے۔ امریکہ کی ایک ریگولیٹری ٹیکنالوجی کمپنی، کیسٹیلم نے رپورٹ دی ہے کہ پاکستان نے مبینہ دہشت گردوں کی نگرانی کی فہرست میں سے ہزاروں نام خارج کردیے ہیں، ان میں ممبئی حملوں کے نامزد ملزم ذکی الرحمان لکھوی کا نام بھی شامل ہے۔ یہ سب جھوٹ اور بکواس ہے جو مغربی میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی ہے۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ نے انہی لوگوں سے مذاکرات کیے جنہیں وہ دہشت گرد کہتا رہا اور مغربی میڈیا ابھی تک خاموش ہے۔ تلخ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست کے بعد سے آج تک پرنٹ میڈیا لاک ڈائون کا شکار ہے اور مغرب خاموش ہے۔ اُس کے میڈیا نے پاکستان پر ہی اپنا انٹینا سیٹ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھارت میں ایسے لاچار و بے سرو سامان افراد کی تعداد کا تعین کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے، اور بے گھری کا شکار خواتین کے بارے میں قابلِ اعتماد ڈیٹا تو میسر ہی نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں بے گھر افراد کی کُل تعداد میں 10 فیصدسے زیادہ خواتین ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، لیکن مغرب کا میڈیا جمہوریت کا لولی پاپ دکھاتا رہتا ہے۔ مغرب کا میڈیا پاکستان کو اپنی آنکھ اور اپنے مفاد میں دیکھنا چاہتا ہے، یہ بات فراموش کردی جاتی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے، اور عالم اسلام کا اہم جزو ہے۔ ہمیں اپنی سرحدوں پر مسائل ہیں، اور کشمیر اس خطے کا حل طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان کا میڈیا کسی قیمت پر اسلامی نظریاتی پاکستان سے الگ نہیں ہوسکتا، اور یہاں کا میڈیا کشمیر کے حالات سے الگ تھلگ بھی نہیں رہ سکتا، لیکن مغرب میں میڈیا کے کرتا دھرتا پاکستانی میڈیا سے یہ توقع کرتے ہیں کہ یہاں کا میڈیا وہی دکھائے جو مغرب دیکھنا چاہتا ہے۔ یوں سمجھ لیں صحافت کی آزادی کی آڑ میں پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مغرب کی مٹھی میں قید کرنے کا مکروہ منصوبہ ہمیں دکھایا جاتا ہے، اور لبھانے کے لیے ہمیں امریکہ، یورپ کے ٹور اور ویزوں کی کہکشائیں سجائی جاتی ہیں۔ رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کے نام پر اس حد کو پار کیا جاتا ہے جہاں ہمارے نظریاتی معاشرے کے تشخص کی آزادی مجروح ہوتی ہے۔ حال ہی میں اس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں عالمی درجہ بندی کے مطابق 180ممالک کی فہرست میں پاکستان تین درجے تنزلی کے بعد 145ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ فہرست میں ناروے، فِن لینڈ اور ڈنمارک کا شمار بالترتیب اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ صحافتی آزادی حاصل ہے۔ جبکہ اریٹیریا، ترکمانستان اور شمالی کوریا میں صحافت کو آج بھی بے شمار قدغنوں کا سامنا ہے۔ بھارت اِس فہرست میں دو درجے تنزلی کے بعد 142ویں نمبر پر موجود ہے۔ فہرست کی تیاری بتاتی ہے کہ دو عالمی تصویریں ہیں جو مغرب کے ذہن کے مطابق تیار کی گئی ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں صحافت کیوں ریاست کے کنٹرول میں ہے؟ وہاں مثبت اور تعمیری تنقید کی مکمل آزادی کیوں حاصل نہیں ہے؟ امریکی صدر آئے روز اپنی پریس کانفرنس میں میڈیا کے لتے لے رہے ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چھے سال میں تیس سے زائد صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ واقعی افسوس ناک واقعات ہیں۔ پاکستان میں صحافت کو درپیش مسائل کے خاتمے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صحافت کا ذکر کرتے ہوئے اگر یہاں اصل مسائل کی طرف توجہ نہ دی جائے تو مسائل کبھی حل ہی نہیں ہوسکتے، یہاں بنیادی طور پر ملازمت میں غیر یقینی صورت حال سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ملازمین کی برطرفیاں مسلسل ہورہی ہیں، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حکومت کو مداخلت کرکے ملازمین کے مفاد کا دفاع کرنا ہے، مگر وہ خاموش ہے اور کنارے پر کھڑی مسکرا رہی ہے۔ اس انڈسٹری میں جب سے کاروباری کارٹل شامل ہوا ہے، یہ شعبہ مسائل کا شکار بنا ہوا ہے۔

Share this: