زکوٰۃ کا مصرف … چند سوالات

Print Friendly, PDF & Email

زکوٰۃ، خیرات،صدقات کا ترجیحی حق دار کون؟ اسپتال،تعلیمی ادارے، این جی اوز یا فقراء و مساکین؟ کیا زکوٰۃ سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے؟

اسد احمد
کیا کسی سفید پوش مگر مستحق شخص کا زکوٰۃ وصول کرنا جرم، گناہ، توہین یا رسوا کن بات ہے؟ ہماری سوسائٹی میں زکوٰۃ بانٹنا تو فخر کا باعث سمجھا جاتا ہے، مگر کسی مستحق فرد کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اسے زکوٰۃ کی رقم دی جارہی ہے تو وہ اکثر یہ رقم وصول کرنے سے انکار کردیتا ہے… کیوں؟ آخر زکوٰۃ وصول کرنا کیوں برا سمجھا جاتا ہے؟ کیا زکوٰۃ قرآنی اصطلاح نہیں؟ حکمِ خدواندی نہیں؟ اسلامی نظام کا لازمی جزو نہیں؟ کیا مسکین شخص اس کا حق دار نہیں؟ تو پھر اسے وصول کرنا معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ایک صاحب نے اپنی مال دار اولاد سے کہا: زکوٰۃ خاندان کے باہر دینے کے بجائے اپنے خاندان کے ہی ایک ضرورت مند کو دے دو…. نیک اولاد یہ سن کر گھبرا گئی کہ زکوٰۃ اپنے ہی عزیز کو کیسے دوں؟ وہ کیا سوچے گا؟ کہیں ناراض ہوکر قطع تعلق نہ کرلے؟ رشتہ داروں کو معلوم ہوا تو الگ مسئلہ بنے گا، اس لیے زکوٰۃ کی رقم باہر دینا ہی مناسب ہے۔ ہم آخر زکوٰۃ و صدقات نکالتے وقت سب سے پہلے اپنے قریبی لوگوں اور رشتہ داروں پر نظر کیوں نہیں ڈالتے؟ کیا واقعی کسی کو زکوٰۃ دینا اُس کی توہین ہے؟ یا دراصل ایسے فرض کی ادائیگی ہے جس کے ادا نہ کرنے پر سخت عذاب کی وعید ہے؟ اور کیا کسی مستحق شخص کا زکوٰۃ وصول کرنا ناپسندیدہ عمل ہے؟ یا یہ دراصل اس کا حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کے لیے رکھ دیا ہے؟ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:
”یہ (زکوٰۃ) مسلمانوں کی کو آپریٹو سوسائٹی ہے، یہ ان کی انشورنس کمپنی ہے، یہ ان کا پراویڈنٹ فنڈ ہے، یہ ان کے لیے بے کاروں کا سرمایہ اعانت ہے، یہ ان کے معذوروں، اپاہجوں، بیماروں، یتیموں، بیواؤں کا ذریعہ معاش ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ وہ چیز ہے جو مسلمانوں کو فکرِ فردا سے بالکل بے نیاز کردیتی ہے۔ اس کا سیدھا سادہ اصول یہ ہےکہ آج تم مال دار ہو تو دوسروں کی مدد کرو۔ کل تم نادار ہوگئے تو دوسرے تمہاری مدد کریں گے۔ تمہیں یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ مفلس ہوگئے تو کیا بنے گا؟ مرگئے تو بیوی بچوں کا کیا حشر ہوگا؟ تمہارا کام بس اتنا ہے کہ اپنی پس انداز کی ہوئی دولت میں سے ڈھائی فی صدی دے کر اللہ کی انشورنس کمپنی میں اپنا بیمہ کرالو۔“
(”اسلام اور جدید معاشی نظریات“)
خدانخواستہ ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ محنت مشقت چھوڑ دیں اور زکوٰۃ و صدقات پر گزارہ شروع کردیں۔ محنت اسلام میں لازم ہے… سید قطب شہید لکھتے ہیں:
”زکوٰۃ کی رقم سے دی جانے والی امداد آخری اجتماعی بچاؤ ہے۔ یہ درحقیقت ایسے افراد کے لیے سماجی تحفظ ہے جو باوجود کوشش کے کچھ نہ کما سکیں، یا ضرورت سے کم یا بقدرِ ضرورت ہی حاصل کرسکیں۔ زکوٰۃ کے ذریعے یہ مقصد بھی حاصل کیا جاتا ہے کہ دولت تمام افرادِ معاشرہ کے درمیان گردش کرتی رہے تاکہ پیداوار، محنت اور صَرف کے درمیان سرمائے کی گردش موزوں طریقے پر انجام پاتی رہے۔ اسلام بیک وقت معاملے کے دونوں پہلوؤں کی رعایت ملحوظ رکھتا ہے۔ ایک طرف تو یہ خواہش کہ ہر فرد اپنی طاقت بھر کام کرے اور سماجی امداد کا سہارا لے کر بے کار وقت گزاری نہ کرے، اور دوسری طرف اس بات کا لحاظ کہ ضرورت مند کو بقدرِ ضرورت مدد دے کر ضروریاتِ حیات کا بار اس کے سر سے ہلکا کردیا جائے اور اسے ایک صاف ستھری اطمینان و سکون کی زندگی بسر کرنے کے موقع فراہم کردیے جائیں۔“
سید قطبؒ نے مزید لکھا:”زکوٰۃ سماج کا ایک حق ہے جو فرد پر واجب ہوتا ہے، تاکہ ضرورت مند طبقات کی ضروریات پوری ہوسکیں، اور بسا اوقات ناگزیر ضروریات کے ماسوا بھی انہیں کچھ سامانِ زندگی فراہم کیا جاسکے… اسلام کو یہ بات بہت ناپسند ہے کہ امت کے مختلف افراد کے درمیان اتنا تفاوت پایا جائے کہ کچھ لوگ تو عیش و عشرت کی زندگی گزاریں، اور دوسرے لوگ خستہ حال و پریشان رہیں… اسلام امت کے مختلف افراد کے درمیان اتنے زیادہ تفاوت کو کیوں نہیں پسند کرتا؟ اس کا جواب حسد و کینہ کے ان خطرناک جذبات میں مضمر ہے جو سماج کی بنیادیں ہلادیتے ہیں۔“ (اسلام میں عدلِ اجتماعی)۔

فقیر، مسکین اور قرض دار کے لیے درست عمل

آئیے ایک اور پہلو پر بات کرتے ہیں۔ اگر ایک شخص بھوک سے بے حال ہو، اُس کے پاس رقم موجود نہ ہو، گھر پر فاقے ہوں اور ایسی صورت حال میں 24 گھنٹے سے کم یا زیادہ گزر جائیں تو اُسے کیا کرنا چاہیے؟ فاقوں سے مر جائے؟ طبیعت خراب کرلے؟ خودکشی پر مجبور ہوجائے؟ یا اہلِ ایمان کو مدد کے لیے پکارے؟ مثلاً کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے یہ خبریں اور واقعات سنے کہ لوگ کئی کئی دن کے بھوکے ہیں مگر کسی سے سوال نہیں کیا۔ لائنز ایریا میں ایک صاحب دو، تین دن گھر سے باہر نہ آئے۔ محلے والوں کو تشویش ہوئی، گھر کا دروازہ پیٹا، وہ صاحب چکراتے ہوئے آئے اور گر پڑے… معلوم ہوا گھر میں کھانے کو نہیں تھا۔ دوسری طرف فیڈرل بی ایریا میں ایک خاتون ٹیچر کے گھر راشن ختم ہوگیا، انہوں نے خاموشی سے امدادی ادارے سے رابطہ کیا، رات کے وقت دفتر آئیں، راشن بیگ لیا اور ازخود بتایا کہ جیسے ہی رقم آئے گی وہ اتنا ہی راشن صدقہ کردیں گی۔ ایک لمحے کے لیے رسم و رواج و روایت کو ایک طرف رکھیں… یہ بتائیں کہ اسلام مسلمانوں کو ایسی نازک صورتِ حال میں کیا قدم اٹھانے کا حکم دیتا ہے؟ صحابہ کرام بھی اکثر بھوک اور فاقوں سے بے قرار ہوجایا کرتے تھے… ان کا طرزِعمل کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں کیا رہنمائی کی ہے؟

پاکستان میں زکوٰۃ کا مصرف

پاکستان میں زکوٰۃ کا بڑا مصرف کیا ہے؟ کیا زکوٰۃ پر فقیر اور مسکین کا حق نہیں ہے؟ اسلام کی رو سے آج فقیر کون ہے؟ آج مسکین کا تعین کیسے ہوگا؟ پاکستان میں زکوٰۃ کی بہت بڑی رقم اسپتالوں کی تعمیر اور اخراجات پر خرچ ہورہی ہے، اسکول نیٹ ورکس و تعلیمی ادارے زکوٰۃ لے رہے ہیں۔ زکوٰۃ نہ بھی سہی تو بہرحال کسی دوسری مد میں ایک نہایت خطیر رقم ہر سال مساجد و درگاہوں کی تعمیر و تزئین پر خرچ ہوجاتی ہے۔ ہم ان میں سے کسی بھی کام کی مخالفت نہیں کرتے، اور نہ ضرورت و افادیت سے انکار کرتے ہیں، مگر کیا اسلامی معاشرے میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ آبادی کا ایک بہت بڑا طبقہ بھوک اور افلاس سے نڈھال ہو، شہر میں فقیروں اور مسکینوں کی تعداد بڑھ رہی ہو، کچھ لوگ قرض کے بوجھ تلے دبے ہوں، اور دوسری طرف وہ عظیم اور خطیر رقم جس سے اس طبقے کی کفالت کی جاسکتی ہے یا اسے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے، وہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں کی تعمیر پر خرچ ہوم، یا این جی اوز کے حوالے کردی جائے؟ ہم یقیناً اسپتالوں و تعلیمی اداروں کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے، مگر کیا ان کے لیے زکوٰۃ کے بجائے صرف خیرات کی رقم استعمال نہیں کی جاسکتی؟

جائدادیں عطیہ کرنا

ہم نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ لوگ بڑھاپے میں یا خوشحالی کے وقت اپنی زمینیں و جائداد ثواب اور صدقہ جاریہ کی نیت سے خیر کے کاموں کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ یہی لوگ اگر اپنے گرد و پیش، قریبی رشتے داروں یا دوست احباب پر نظر ڈالیں تو بہت سے لوگ ایسے مل جائیں گے جو بے پناہ مسائل میں گھرے نظر آتے ہیں۔ کیا جائدادیں خیر کے کاموں کے لیے وقف کرنا احسن ہے یا ضرورت مندوں کی مدد کے لیے انہیں دینا زیادہ بہتر ہے؟ ممکن ہے آپ کا دیا ہوا مال نہ صرف ایک گھرانے بلکہ اس کی آئندہ نسلوں کو بھی غربت سے نکالنے کا سبب بن جائے اور یہ معاشرے کے کارآمد فرد ثابت ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اور نیک سلوک کرو اپنے والدین کے ساتھ اور رشتے داروں، یتیموں، نادار مسکینوں، قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور اپنے ملنے جلنے والے دوستوں اور مسافروں اور لونڈی غلاموں کے ساتھ۔“(النساء 36)۔

ایک مثال

آئیےایک مثال کے طور پر ہم کراچی کے حالات پر بات کرتے ہیں۔ یہاں آباد لوگوں کے پاس زرعی زمین نہیں کہ غلہ میسر آجائے، سرکاری نوکری ملتی نہیں، اکثریت ایسی آبادی کی ہے جو روز کماتی اور کھاتی ہے۔ شہر میں سرجانی ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، نیو کراچی اور خدا کی بستی جیسی آبادیاں ہیں جہاں لاکھوں افراد بستے ہیں۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی کی آبادی کے ایک بڑے حصے کا شمار فقیر اور مسکین میں کیا جاسکتا ہے، مگر یہ لوگ زکوٰۃ وصول نہیں کرتے اور نہ دینے والے انہیں دیتے ہیں۔ ہم کوئی جواز نہیں گھڑنا چاہتے، مگر ہمیں روزنامہ جنگ میں برسوں پہلے شائع ہونے والی وہ اسٹوری آج بھی یاد ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 1990ء کی دہائی میں کراچی آپریشن کے نتیجے میں جب ہزاروں نوجوان قتل کیے گئے تو بہت سے گھروں میں کوئی کمانے والا نہ بچا۔ ریاست شہر میں عصبیت کی آگ بھڑکا کر فارغ ہوگئی۔ اب سوال اٹھا کہ گھروں کا خرچہ کیسے پورا ہو؟ یہ وہ مرحلہ تھا جب کراچی میں کچھ خواتین جسم فروشی پر مجبور ہوگئیں۔ بعد میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کراچی میں پہلے اس کام کے لیے خواتین باہر سے آتی تھیں مگر اب شہر کی ہی کچھ عورتیں اس کام سے جڑ گئی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ نہ ریاست اور نہ متعلقہ لسانی گروہ نے متاثرہ گھرانوں کی مدد کی۔ ان خاندانوں کی بچیوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ کراچی میں بچے جرائم پیشہ لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے، نوجوان بھتا خور بن گئے، ریاست نے انہیں باغی بنایا اور لسانی گروہ نے ان کی خبر نہ لی۔ اس طرح سوسائٹی میں جرائم بڑھ گئے۔ کیا یہ لوگ ہماری زکوٰۃ، صدقات، امداد، خیرات، اور قرضِ حسنہ کے حق دار نہیں تھے؟

انفاق اور اسلامی تعلیمات

آئیے اب ایک نظر اسلامی تعلیمات پر ڈالتے ہیں۔ ”صدقات تو دراصل فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، اور اُن کارکنوں کے لیے جو زکوٰۃ کی تحصیل پر مقرر ہوں، اور اُن لوگوں کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ اور لوگوں کی گردنیں اسیری سے چھڑانے کے لیے، اور قرض داروں کے لیے، اور فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے لیے، اور مسافروں کے لیے۔”(التوبہ60) ۔
”اور اپنے رشتے داروں کو اُن کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو۔ فضول خرچی نہ کر۔ فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔“ (بنی اسرائیل 26،27) ۔
”شیطان تم کو ناداری کا خوف دلاتا ہے اور (بخل جیسی) شرمناک بات کا حکم دیتا ہے، مگر اللہ تم سے بخشش اور مزید عطا کا وعدہ کرتا ہے۔“ (البقرہ 268)۔
”جو لوگ اللہ کے دیے ہوئے فضل میں بخل کرتے ہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ فعل ان کے لیے اچھا ہے، بلکہ یہ ان کے لیے برا ہے۔“(آل عمران 180)۔
”اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اُن کو عذابِ الیم کی خبر دے دو۔“ (التوبہ 34)۔
”اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ کہو جو ضرورت سے بچ رہے۔“ (البقرہ 219)۔
”اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر ملیامیٹ نہ کردو۔“ (البقرہ 264)۔

فقیر کی تعریف

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مطابق: ”فقیر سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی معیشت کے لیے دوسرے کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے خواہ وہ کسی بھی وجہ سے محتاجِ اعانت ہوگئے ہیں۔ مثلاً یتیم بچے، بیوہ عورتیں، بے روزگار لوگ، اور وہ لوگ جو وقتی حوادث کا شکار ہوجائیں۔“ (تلخیص تفہیم القرآن، جلد اوّل، سورہ توبہ)۔
سید قطبؒ کے مطابق:”یہ وہ لوگ ہیں جو نصاب سے کم مال رکھتے ہیں، یا اگر صاحبِ نصاب ہیں تو اتنے مقروض ہیں کہ قرضہ وضع کرنے کے بعد صاحبِ نصاب نہیں رہ جاتے۔ ظاہر ہے ان کے پاس کچھ نہ کچھ مال تو ضرور ہوتا ہے لیکن یہ ناکافی ہوتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہر فرد کو بقدرِِ کفایت مال ملے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں سامانِ دنیا سے مستفید ہونے کی خاطر قدر کفایت سے زیادہ بھی حاصل ہو۔“ (کتاب: اسلام میں عدل اجتماعی)۔

مسکین کی تعریف

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مطابق: ”مسکنت کے لفظ میں عاجزی، درماندگی اور ذلت کے مفہومات شامل ہیں۔ اس اعتبار سے مساکین وہ لوگ ہیں جو عام حاجت مندوں کی بنسبت زیادہ خستہ حال ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کو مستحقِ امداد ٹھیرایا ہے جو سخت تنگ حال ہوں مگر نہ تو ان کی خودداری کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت دیتی ہو اور نہ ان کی ظاہری پوزیشن ایسی ہو کہ کوئی انہیں حاجت مند سمجھ کر ان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے۔“ (تلخیص تفہیم القرآن، جلد اوّل، سورہ توبہ)
سید قطبؒ کے مطابق: ”وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ ہو، قدرتی طور پر یہ لوگ فقراء سے زیادہ مستحق ہیں۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ آیت میں فقراء کے ذکر کو ان پر مقدم رکھنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فقراء کے پاس جو تھوڑا مال ہوتا ہے وہ کافی نہیں، اور ان کا حال بھی گویا مساکین جیسا ہے۔“ (کتاب: اسلام میں عدلِ اجتماعی)۔

تجاویز

ہم یہ جانتے ہیں کہ فاقہ و بھوک انسان کا ایمان بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر مسلمانوں کی ایک عظیم اکثریت کیا کچھ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کا درست استعمال ضروری ہے۔ کچھ تجاویز درج ذیل ہیں:
1۔ زکوٰۃ وصول کرنے اور ادا کرنے سے متعلق جو غلط فہمیاں اور منفی سوچ پائی جاتی ہے اسے ختم کیا جائے۔ یہ سمجھایا جائے کہ ضرورت مند کا زکوٰۃ لینا معیوب نہیں، اور زکوٰۃ کی ادائیگی احسان نہیں بلکہ عدم ادائیگی سنگین جرم ہے۔ زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے افراد کا سوسائٹی میں کیا مقام ہونا چاہیے اسے بار بار واضح کیا جائے۔
2۔آج کے دور کی مناسبت سے فقیر اور مسکین کون کہلائے گا اس کا درست تعین کیا جائے۔
3۔زکوٰۃ کو ترجیحی بنیادوں پر تین مدوں یعنی فقیروں، مساکین اور مقروض کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے۔

4۔علماء اور ماہرینِ اقتصادیات آگے بڑھیں اور زکوٰۃ کی رقم سے لوگوں کو غربت سے نکالنے کا عملی پروگرام بھی پیش کریں۔ جب سودی بینکاری کی طرز پر اسلامی بینکاری ہوسکتی ہے تو زکوٰۃ کی خالص رقم سے اسلامی روح اور سوچ کے مطابق کوئی مالیاتی ادارہ کیوں نہیں بنایا جاتا جو لوگوں کو رقم کے ساتھ بزنس ماڈل بنا کردے اور غربت سے نکالے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ صرف کراچی میں ہر سال کروڑوں روپے زکوٰۃ کی مد میں نکالے جاتے ہیں، مگر کیا ہم سالانہ 100یا 50 خاندانوں کو بھی اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے قابل ہوپاتے ہیں؟
5۔اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر کاموں کے لیے زکوٰۃ کے بجائے خیرات کی رقم خرچ کی جائے۔ امریکہ و یورپ میں سیکولر اور لادین افراد بہت بڑی رقوم خیرات کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی مخیر حضرات خیر کے دیگر کام زکوٰۃ کے بجائے خیرات کی رقم سے کریں۔
6۔یہ سوچ عام کی جائے کہ زکوٰۃ دیتے وقت اور عطیات نکالتے وقت سب سے پہلے اپنے رشتے داروں اور قریبی حلقے پر نظر ڈالیں تاکہ انہیں کسی غیر کی طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
7۔کچھ عرصے کے لیے عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش پر کسی بھی مد میں ملنے والی رقم خرچ کرنے کا سلسلہ روک دینا چاہیے، اور یہ رقم اپنی آبادی کے ضرورت مندوں تک پہنچانی چاہیے۔
(نوٹ:قرآنی آیات کا ترجمہ اور آیت نمبر سید مودودیؒ کی کتاب ”اسلام اور جدید معاشی نظریات“ سے لیے گئے ہیں۔)

Share this: