چین نے کورونا وبا کو شکست کیسے دی؟۔

Print Friendly, PDF & Email

متعدی امراض کے ماہرین کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز نہ آنا انتہائی حیرت انگیز ہے، کیونکہ ایک ماہ پہلے تک وہاں کورونا کیسز کی یومیہ تعداد دو ہزار تک تھی

زبیر انجم صدیقی

کیا چین نے واقعتاً کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے؟ جیسا کہ چین کے سرکاری اعداد و شمار ظاہر کررہے ہیں؟
اس سوال کے صحیح جواب، یا چین میں کورونا وائرس کی صحیح صورت حال کا علم تو چینی حکام کو ہی ہوسکتا ہے،مگر اس جان لیوا وائرس کے خاتمے یا انتہائی محدود کرنے کے چینی حکام کے دعووں کو متعدی امراض کے ماہرین شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
اس بات سے تو سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ جس طرح کا سخت لاک ڈائون چینی حکومت نے کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان میں کرایا وہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا جیسی مطلق العنان حکومت ہی کرا سکتی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور اسپین سمیت مغربی ممالک نے شہری آزادیوں کے احترام میں لاک ڈائون کا فیصلہ کرنے میں اتنی دیر لگادی تھی کہ جس کا فائدہ اٹھاکر کورونا وائرس کا جن بے قابو ہوگیا۔ اور جب لاک ڈائون کیا بھی تو اس کا نفاذ اس سختی سے نہیں کیا جاسکا جو چین اور شمالی کوریا جیسی حکومتوں کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے۔ چین کے صوبے ہوبئی کے ایک چھوٹے سے شہر میں حکام نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر ایک ایسے شخص کو قرنطینہ میں ڈالا جو اپنے اپاہج بچے کی نگہداشت کا واحد ذمہ دار تھا۔ چند دن بعد اس کا اپاہج بیٹا بھوک اور پیاس کے سبب دم توڑ گیا۔ خبر سامنے آنے کے بعد اس شہر کے میئر اور کمیونسٹ پارٹی کے مقامی جنرل سیکریٹری کو برطرف تو کردیا گیا، مگر یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کتنی وسیع تعداد میں کی گئی، اور مثبت ٹیسٹ والوں کو کس سختی سے قرنطینہ میں ڈالا گیا تھا۔
اب آجاتے ہیں تازہ صورتِ حال کی طرف۔ چینی حکام کے مطابق گزشتہ پانچ روز میں کورونا وائرس کا مقامی طور پر لوکل ٹرانسمیشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ گوانگ ڈونگ صوبے میں سامنے آنے والا ایک کیس بھی بیرون ملک سے آنے والے کا ہے، جبکہ ووہان میں گزشتہ پانچ روز کے دوران کورونا وائرس کا ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
متعدی امراض کے ماہرین کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز نہ آنا انتہائی حیرت انگیز ہے، کیونکہ ایک ماہ پہلے تک وہاں کورونا کیسز کی یومیہ تعداد دو ہزار تک تھی۔ ووہان کے ایک مقامی شہری نے برطانوی اخبار گارڈین کے نمائندے کو بتایا کہ شہر میں اب بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامات والے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جب یہ سب لوگ کام پر جائیں گے تو سب کے سب ہی وائرس سے متاثر ہوجائیں گے۔ ووہان کے ایک اور شہری نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اسے حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں ہے، کیونکہ ایسا وبائی مرض اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔
چینی حکام نے ووہان کا دو ماہ طویل لاک ڈائون ختم کردیا ہے اور ملک کے تمام صوبوں اور شہروں کو یہ ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ تمام صنعتی اور پیداواری سرگرمیاں بحال کردی جائیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ہانگ کانگ کے سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ووہان کے اسپتال کورونا کی علامات والے افراد کا ٹیسٹ کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ جاپان کی کیوڈو نیوز ایجنسی نے ووہان کے ایک ڈاکٹر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ووہان کے دورے سے قبل ووہان میں کورونا کیسز کے اعداد و شمار میں گڑبڑ کرکے کم دکھایا گیا۔ اور یہ غلط اعداد و شمار ووہان کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز سے مریضوں کے بڑی تعداد میں اخراج کا سبب بنے۔
چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے عہدیدار نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی لوکل ٹرانسمیشن کا سلسلہ مکمل ختم ہونا یکسر ممکن نہیں ہے، کیونکہ روزآنہ درجنوں ایسے افراد سامنے آرہے ہیں جنہیں علامات کی وجہ سے کورونا کا مشتبہ مریض کہا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی میں سیاسی معاشیات کے پروفیسر ہو فنگ ہنگ کا کہنا ہے کہ جس طرح چین نے دسمبر اور جنوری میں کورونا وائرس اور اس کے اعداد و شمار کو چھپایا تھا اسے دیکھتے ہوئے چینی حکومت کے اعداد و شمار پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ ہی کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں سیاسیات کے پروفیسر وکٹر شائی نے کہا ہے کہ چینی قیادت کا معاشی اور پیداواری سرگرمیاں پوری طاقت سے شروع کرنے پر زور دینا بھی اصل صورتِ حال کو چھپانے ہی کی کوشش ہوسکتی ہے، جس کے دوران چینی حکومت وائرس کو کنٹرول کرنے پر پورا زور بھی لگائے گی، مگر اس کے باوجود یہ وبا ایک بار پھر بے قابو ہونے کا خطرہ موجود ہے، لیکن لگتا ہے کہ چینی حکومت یہ خطرہ مول لینے پر تلی ہوئی ہے۔
اب آتے ہیں اس نکتے کی طرف کہ امریکہ، اٹلی، برطانیہ اور اسپین چین کی طرح کیوں کورونا وائرس پر قابو نہیں پاسکے؟
عالمی ادارئہ صحت کے ماہرین کے مطابق چین نے وائرس پر قابو پانے کے لیے کچھ ایسے اقدام کیے جو نئے یا انوکھے تو نہیں تھے، مگر ان پر عمل درآمد بہت سختی اور سنجیدگی سے کیا گیا۔
ووہان سمیت کورونا سے متاثرہ علاقوں میں پوری کی پوری آبادیوں کے کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے، اور جس جس کا ٹیسٹ مثبت آیا اُسے فوری طور پر گھروں کے بجائے سرکاری مراکز میں قرنطینہ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے کورونا کی علامت ظاہر ہونے اور اسپتال میں داخل ہونے کا دورانیہ صرف دو دن تک محدود رہا۔ جبکہ امریکہ، اٹلی اور دیگر ملکوں میں ٹیسٹ ہوئے ہی اُن لوگوں کے ہیں جن میں علامات ظاہر ہوئیں۔ اس طرح وائرس سے متاثر ہونے اور اسپتالوں میں داخل ہونے کا عرصہ پندرہ دن تک چلا گیا، اور اس دوران متاثرہ افراد کو وائرس دوسروں میں منتقل کرنے کا موقع ملتا رہا۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے چین میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ سرکاری اور نجی دونوں سطح پر بالکل مفت کیے گئے، جبکہ امریکہ میں مفت ٹیسٹنگ صرف سرکاری لیبارٹریز تک محدود رہی، اور ان ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد بہت محدود تھی۔
جبکہ چین نے پورے ملک کے لیب ورکرز، ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کو جمع کرکے اور تربیت دے کر ووہان میں بھیجا تھا، جس کی وجہ سے پوری آبادی کا کورونا ٹیسٹ کرنا ممکن ہوا۔
امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے اپی ڈیمک انٹیلی جنس سروس آفیسر رشی ڈیسائی کے مطابق چین اور جنوبی کوریا نے متاثرہ علاقوں کے لاک ڈائون کے بعد تمام آبادی کی ٹیسٹنگ کا ہدف دو سے چار ہفتوں میں حاصل کیا تھا۔
اس کے علاوہ وہ اہم کام جو امریکہ میں ہوتا ہوا نظر نہیں آیا ہے وہ چین میں ہنگامی بنیادوں پر نئے اسپتالوں کا قیام ہے۔ ہزاروں ورکرز نے دن رات کام کرکے چند دنوں کی محدود مدت میں جو اسپتال بنائے وہ صرف اس وبا سے نمٹنے کے لیے مخصوص تھے۔ چین نے ہزار بستروں کا ایک اسپتال صرف چھے دن میں، جبکہ تیرہ سو بستروں کا دوسرا اسپتال صرف پندرہ دن میں بنایا۔
جبکہ سیکڑوں سرکاری عمارات کو بھی کورونا کے مریضوں کے علاج اور متاثرہ افراد کو قرنطینہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دیگر امراض میں مبتلا افراد کا علاج متاثر نہیں ہوا۔
امریکہ اور اٹلی میں ہیلتھ کیئر سسٹم کورونا کے مریضوں کا دبائو آنے کے بعد کم پڑ گیا، بلکہ ہنگامی بنیادوں پر بنائے گئے مراکزِ علاج بھی ناکافی ثابت ہوئے، جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کو کئی بار ایک مریض کو بچانے اور باقیوں کو مرتا ہوا چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
ایک اور اہم اقدام جو چین نے فوری طور پر کیا وہ یہ کہ ٹرینیں، بسیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع مکمل بند کردیئے جو رش کی وجہ سے وائرس کی زیادہ لوگوں تک منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مگر امریکہ اور اٹلی میں ایسا مکمل طور پر نہیں کیا جاسکا۔
چین میں کورونا کے مریضوں کا سی ٹی اسکین کرنے کی رفتار دس منٹ فی اسکین تھی، جبکہ امریکہ اور اٹلی میں ایک مشین کی فی اسکین اوسط نصف گھنٹے سے زائد تھی۔
لاک ڈائون کے نفاذ میں بھی امریکہ اور چین میں نمایاں فرق نظر آیا ہے۔ چین میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد گلیوں میں موجود رہی کہ لوگوں کو لاک ڈائون کی خلاف ورزی کا موقع نہیں مل سکا۔ جبکہ امریکہ اور یورپ میں لاک ڈائون پر عمل درآمد کرانے کے لیے نہ وہ سختی تھی اور نہ ہی اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد موجود تھی۔
اور جو سب سے اہم قدم چین نے اٹھایا وہ لاک ڈائون کیے گئے علاقوں کی پوری آبادی کو گھروں تک خوراک کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔ اور اس کام میں امریکہ اور یورپ کے ممالک چین سے صرف پیچھے نہیں بلکہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

کلوز کونٹیکٹ ڈی ٹیکٹر ایپ

چین نے کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کا بھی ایسا زبردست استعمال کیا جس کی انسانی تاریخ میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔
چینی سیکورٹی ایجنسیاں بڑے شہروں میں فیس ڈی ٹیکٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال تو بہت عرصے سے کررہی ہیں، جس میں سی سی ٹی وی کیمرے کسی بھی فرد کو شناخت کرکے اس کا نام، شناختی نمبر، ایڈریس اور موبائل نمبر فوراً اسکرین پر نمایاں کردیتے ہیں۔
مگر کورونا کا پھیلائو روکنے کے لیے ایک ایپ متعارف کرائی گئی جسے کلوز کونٹیکٹ ڈی ٹیکٹر کا نام دیا گیا ہے۔
اسمارٹ فون میں یہ ایپ ڈائون لوڈ کرنے والے جیسے ہی کسی مثبت کورونا ٹیسٹ کے حامل فرد کے قریب پہنچتے ہیں، ایپ انہیں الارم کے ذریعے خبردار کردیتی ہے۔
کورونا وائرس کے حامل فرد کی ایسی نقل و حرکت جس سے صحت مند افراد میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ ہو، یہی ایپ چین کے محکمہ صحت اور سیکورٹی اداروں کو بھی خبردار کردیتی ہے، جو فوراً ہی وائرس کیریئر اور اس کے قریب صحت مند لوگوں سے رابطہ کرکے انہیں خبردار کردیتے ہیں۔
چینی حکومت نے یہ ایپ ٹیکنالوجی کمپنی چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کے اشتراک سے تیار کی ہے، اور اس ایپ کے ڈیٹا کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنے میں صحت اور سیکورٹی کے سرکاری ادارے بھی اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔
چینی حکومت اپنے شہریوں کی کڑی نگرانی اور جاسوسی کرنے کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں شہریوں کی اجازت کے بغیر اُن کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کو استعمال کرنے پر چینی حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ مگر کورونا کی روک تھام کے لیے چین نے جس طرح شہریوں کا ڈیٹا انہیں وائرس سے بچانے کے لیے استعمال کیا ہے اسے سب ہی، لوگوں کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کا مثبت استعمال قرار دے رہے ہیں۔
چینی ای کامرس جائنٹ علی بابا کے ہیلتھ ایکسپرٹ شیان شینک نے سی این این سے گفتگو میں بتایا کہ ٹیکنالوجی وبائی امراض کا پھیلائو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے اسی لیے چین کی طرح باقی ممالک بھی کونٹیکٹ ٹریسنگ ایپس استعمال کررہے ہیں۔

پوزیشننگ ٹیکنالوجی

کلوز کونٹیکٹ ڈی ٹیکٹر ایپ کی طرح جو دوسری اہم ٹیکنالجی چین نے استعمال کی وہ پوزیشننگ ٹیکنالوجی ہے۔ گلوبل نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم یا جی این ایس ایس کے ذریعے کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں اور افراد کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی کی گئی۔ چین بین الاقوامی جی این ایس ایس کے بجائے سیٹلائٹ نیوی گیشن کا اپنا نظام استعمال کرتا ہے جسے ”بیڈو“ کہا جاتا ہے۔ بیڈو کے ذریعے چینی حکام مسلسل اس چیز کی نگرانی کرتے رہے کہ کورونا سے متاثرہ کس علاقے میں وائرس سے متاثرہ اور صحت مند افراد کتنے کتنے ہیں۔ بیمار اور صحت مند افراد کی صحیح تعداد اور ان کی پوزیشننگ کا مکمل ڈیٹا ہونے کی وجہ سے علاقوں کی درجہ بندی کرکے لاک ڈائون کو سخت اور نرم رکھا گیا، بلکہ اس ڈیٹا نے طبی امداد اور ریلیف پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پوزیشننگ ٹیکنالوجی کے اسی ڈیٹا کی بنیاد پر نئے اسپتالوں کی تعمیر اور قرنطینہ مراکز کے قیام کے فیصلے کیے گئے۔ جو گاڑیاں متاثرہ علاقوں میں طبی امداد اور خوراک لے جانے پر مامور تھیں وہ بھی چین کے سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام بیڈو سے منسلک تھیں۔ امدادی کاموں کے لیے ساٹھ لاکھ گاڑیاں مختص تھیں اور بیڈو کے ذریعے ہی ایک جنبش میں ساٹھ لاکھ گاڑیوں تک ہنگامی پیغامات پہنچائے جارہے تھے۔ بہت سارے متاثرہ علاقوں کے اسپتالوں تک ڈرونز کے ذریعے بھی طبی آلات اور سازو سامان پہنچایا گیا، اور یہ ڈرونز بھی چین کے سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام بیڈو سے ہی منسلک تھے۔

ڈرونز

چین کے جو علاقے کورونا سے بہت زیادہ متاثر تھے وہاں ریلیف اور میڈیکل آپریشنز میں مصروف لوگوں کے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ بھی اتنا ہی زیادہ موجود تھا۔ ایسے میں میڈیکل اور ریلیف ورکرز کی مدد میں ڈرونز نے اہم کردار ادا کیا۔ ڈرنز کے ذریعے ہی طبی آلات ان علاقوں کے اسپتالوں تک پہنچائے گئے اور مریضوں کے سیمپل بھی ڈرونز کے ذریعے ہی متاثرہ علاقوں سے لیبارٹریز تک پہنچتے رہے۔ ان دونوں کاموں کے لیے ڈرونز کے استعمال کی وجہ سے میڈیکل اور ہیومن ریلیف پہنچانے کے ساتھ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی رفتار بھی بہت تیز ہوگئی۔ اور دونوں طرح کے امدادی کارکن بھی وائرس سے متاثر ہونے سے محفوظ رہے۔
زراعت میں اسپرے کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز کو متاثرہ علاقوں کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ متاثرہ علاقے بلکہ ملک بھر کے پبلک مقامات سڑکوں، گلیوں اور در و دیوار سمیت ایک ایک چیز کو ڈرونز کے اسپرے کے ذریعے ڈس انفیکٹ کیا گیا۔
اس کے علاوہ وہ ہزاروں ڈرونز جو فیس ڈی ٹیکٹنگ ٹیکنالوجی سے لیس تھے، انہیں کلوز کونٹیکٹ انڈیکیٹر ایپ سے منسلک کرکے لوگوں کو مسلسل گھروں میں رہنے اور ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی جاتی رہی۔

روبوٹکس

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین نے روبوٹس اور خودکار آلات کا بھرپور استعمال کرکے نہ صرف یہ کہ افرادی قوت کا استعمال محدود کیا، بلکہ روبوٹس کے میدانِ عمل میں موجود رہنے کی وجہ سے وہ وائرس کا شکار ہونے کے خدشے سے بھی محفوظ رہے۔ خاص طور پر اسپتالوں میں روبوٹس کے بھرپور استعمال نے اضافی مریضوں کے لیے اضافی عملے کی ضرورت ختم یا بہت محدود کردی تھی۔
اسپتالوں اور لیبارٹریز میں روبوٹس نے ڈائیگنوسز کے کام بھی سرانجام دیئے، تھرمل امیجنگ بھی کی۔ اسپتالوں میں مریضوں کے لیے کھانا بنانے اور انہیں پیش کرنے کا کام بھی روبوٹس سے ہی لیا جاتا رہا۔
کلائوڈ جنجر نامی اسمارٹ ٹرانسپورٹیشن روبوٹ خاص طور پر مریضوں تک ادویہ اور خوراک پہنچانے کے لیے مخصوص تھے، جن کی وجہ سے ان کاموں کے لیے فرد سے افراد کے رابطے کا امکان ہی ختم ہوگیا تھا۔
ووہان میں ایک ایسا اسپتال بھی بنایا گیا جس کا تمام کا تمام کام صرف روبورٹ ہی انجام دے رہے تھے۔ اسپتال کی تمام ڈیوائسز آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگز) سے آراستہ تھیں جہاں مریضوں کی مکمل اسکریننگ کا کام فائیو جی سے منسلک روبوٹس کے ذمے تھا۔ جبکہ مریض کی کلائی میں موجود بریسلیٹ جسم میں ہونے والی تمام تبدیلیوں سے اپ ڈیٹ رکھتا تھا۔
اسی طرح اسپتالوں اور پبلک مقامات پر لوگوں تک پہنچ کر سینی ٹائزر پیش کرنے والے روبوٹ بھی حرکت میں رہے۔

ڈرائیور لیس وہیکلز

چین میں صفائی ستھرائی کے لیے ڈرائیور لیس کار کے استعمال کا نظام پہلے سے موجود تھا جو چین کے اپنے سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام ”بیڈو“ سے منسلک تھا۔ اسی طرز پر بیڈو سے منسلک ہزاروں ڈرائیورلیس گاڑیوں کو طبی آلات اور خوراک کی فراہمی کے لیے استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے فرد سے فرد کا رابطہ مزید محدود ہوا۔ ڈرائیورلیس گاڑیاں ہی اسپرے کے ذریعے سڑکوں کی ڈس انفیکشن کا کام بھی کرتی رہیں۔

Share this: