الخدمت کے کام کا ہر کوئی معترف ہے

Print Friendly, PDF & Email

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے خصوصی گفتگو

فرائیڈے اسپیشل: محترم سراج الحق صاحب! کورونا وائرس کو بعض لوگ اللہ تعالیٰ کا عذاب قرار دے رہے ہیں، بعض اسے عالمی وبا، اور کچھ آسمانی بلا کہتے ہیں، بعض قربِ قیامت کی نشانی اور بعض مسلمانوں کو شعائرِ اسلامی خصوصاً مساجد سے دور کرنے کی سازش سمجھتے ہیں، جب کہ کچھ لوگوں کے مطابق یہ امریکہ اور چین کے مابین معاشی مقاصد کی خاطر سائنسی لیبارٹریوں کی برپا کردہ کشمکش ہے، آپ کی رائے اس ضمن میں کیا ہے؟
سینیٹر سراج الحق: چین اور امریکہ جب اس قدر ترقی یافتہ نہیں تھے آفات اور وبائیں تب بھی انسانوں پر آتی رہیں، دنیا میں اب تک تقریباً سولہ بار بڑی وبائیں آئیں، جن کے نتیجے میں بعض اوقات کروڑہا انسان موت کی وادی میں جا سوئے۔ معلوم تاریخ میں بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلی وبا 450 ق م میں آئی۔ قرآن کریم کی سورۂ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اس بڑے عذاب سے پہلے ہم انہیں اس دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں‘‘۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ اس بار یہ وبا تیسری دنیا یا افریقہ کے کسی غریب ملک سے نہیں اٹھی، ورنہ لوگ کہتے کہ غربت یا تعلیم کی کمی، یا حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنے کے باعث یہ پھیلی ہے۔ یہ وہاں سے شروع ہوئی جو ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے۔ یہ آزمائش ہو یا عذاب، نتیجہ ایک ہی ہے کہ انسان کو خوف میں مبتلا کردیا ہے اور مشکل میں ڈال دیا ہے۔ وقتِ موجود تک اس وبا کے سبب ایک لاکھ 80 ہزار لوگ دنیا سے رحلت کرگئے ہیں، جب کہ متاثرین کی تعداد سترہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، پاکستان میں بھی متاثرین نو ہزار سے زائد اور اموات دو سو کے قریب بتائی جارہی ہیں۔ اب ایک انسان اور جانور میں فرق یہی ہے کہ جانور سبق حاصل نہیں کرتا، اسے شعور نہیں، جب کہ انسان نتائج اخذ کرتا ہے اور بعض اوقات شر میں سے خیر بھی برآمد ہوتا ہے۔ اگر انسان کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئے، رویہ بدل جائے، عقائد اور اعمال میں فرق محسوس کیا جائے تو یہ خیر ہے۔ ماضی میں جب بھی کوئی وبا آئی تو لوگوں کو احساس ہوا کہ کوئی ایسی ذات بھی ہے جو بادشاہ سے بھی زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ اُس دور میں بادشاہ نے خود کو سب سے طاقتور، بااختیار اور قانون ساز کا درجہ دے رکھا تھا، مگر وبا نے لوگوں کو یہ شعور دیا کہ کوئی ایسی ذات موجود ہے جس نے بادشاہ کو بھی بے بس کردیا ہے۔ آج بھی جھونپڑی اور بڑے بڑے بنگلوں والے، محتاج اور ارب پتی سب ہی متاثر ہورہے ہیں۔ یہ عجیب وبا ہے جس نے حقیقی معنوں میں دنیا کو گلوبل ویلیج بنا دیا ہے، پہلی بار انسانی کلچر دنیا بھر میں ایک ہوگیا ہے کہ سماجی دوری کے فلسفے پر عمل سب جگہ ضروری ہے۔ بہت ساری عادات جنہیں کسی تعلیم یا زور زبردستی کے ذریعے عام کرنا ممکن نہیں تھا، اب عام ہیں۔ جہاں پانی کا استعمال نہیں تھا وہاں طہارت کے لیے پانی کا استعمال اور ہاتھ دھونے کا رواج عام ہوگیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: مگر اس عالمگیر وبا کے نتیجے میں کیا انسان نے اپنے خالق کی طرف رجوع کیا؟ مسلمانوں تک میں رجوعِ الی اللہ کی جو کیفیت پیدا ہونا چاہیے تھی وہ مفقود ہے؟
سینیٹر سراج الحق: جماعت اسلامی نے اس وبا کے آغاز ہی میں ’’رجوعِ الی اللہ مہم‘‘ شروع کی تھی جو اب بھی جاری ہے، لیکن بحیثیتِ مجموعی آپ کی بات درست ہے کہ حکمرانوں میں، ذرائع ابلاغ میں، اور عوام میں کہیں بھی اس کا احساس اور شعور موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، گناہوں سے توبہ اور استغفار کے بجائے سب ایک دوسرے کو خوف زدہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے مچھر جیسی حقیر مخلوق سے متکبر اور مغرور نمرود بادشاہ کا غرور خاک میں ملا دیتا ہے۔ اب بھی ایک نادیدہ چیز نے چھوٹی بڑی تمام طاقتوں کو بے بس کردیا ہے۔ اس صورتِ حال میں اتنا تو ضرور ہوا ہے کہ حکمرانوں نے اپنی تدابیر کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، ٹرمپ نے 15 مارچ کو یومِ دعا منایا، پیوٹن نے روس کے آئین میں خدا کا تصور شامل ہونے کی بات کی، ہمارے حکمرانوں نے بھی آخر یومِ ’توبہ و رحمت‘ منانے کا اعلان کر ہی دیا ہے۔ مگر رجوع الی اللہ تو ایک فلسفہ ہے پوری زندگی کا، اپنی خواہشات کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکام اور مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کا… کتابِ الٰہی اور سنتِ رسولؐ کی اطاعت کرنے کا… دنیا کے بجائے آخرت کو اپنا نصب العین اور مقصدِ زندگی بنالینا ہی درحقیقت رجوعِ الی اللہ ہے۔ یہ ہفتے عشرے کا نہیں مستقل کام ہے۔ انبیائے کرام نے اپنی زندگیاں اس کام میں لگا دیں۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن حکیم میں مسلمانوں کو حکم ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر اور معروف کی طرف بلائے اور منکرات سے ر وکے۔ جماعت کے ہر کارکن کو پہلے اپنی ذات، گھر اور پھر محلے اور اڑوس پڑوس میں یہ کام کرنا ہے۔ رجوعِ الی اللہ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نظام ِحیات کی طرف رجوع ہے، کیونکہ اسی نظام میں انسان کے انفرادی اور اجتماعی مسائل، روٹی، کپڑا، مکان، جسمانی و روحانی تمام ضروریات کا حل موجود ہے۔ یہ رجوع نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بھی مانتے ہیں اور غیر اللہ کے نظام پر بھی مطمئن رہیں… نہ اس نظام کے خلاف دل میں نفرت اور نہ اسے بدلنے کا جذبہ۔
فرائیڈے اسپیشل: حکومتِ پاکستان کے کورونا سے بچائو کے اقدامات، احساس پروگرام اور ٹائیگر فورس سے متعلق آپ کی رائے کیا ہے؟
سینیٹر سراج الحق: ہونا یہ چاہیے تھا کہ جیسے ہی ووہان (چین) میں وبا پھوٹی اور پھر ایران میں بھی یہ عام ہوئی، ہم بیدار ہوجاتے اور ہوشیار رہتے کہ یہ دونوں ہمارے پڑوسی ملک تھے۔ مگر ہمارا ’نیرو بنسری بجاتا رہا‘ یہاں تک کہ یہ وبا تفتان کے راستے پاکستان میں داخل ہوگئی۔ زاہدان میڈیکل کالج کی رپورٹ کے مطابق ایران سے آنے والے زائرین میں سے صرف 75 بیمار تھے، مگر تمام زائرین کو ایک ہی کیمپ میں رکھنے سے یہ وائرس ہزاروں زائرین میں منتقل ہوگیا، اور پھر ظلم یہ ہوا کہ بااثر وزرا نے اپنے اثر رسوخ سے متاثرہ لوگوں کو کیمپوں سے نکال کر پورے علاج کے بغیر پورے ملک میں پھیلا دیا۔ اس کے بعد بھی حکومت نے سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ قومی سطح پر کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا گیا، حزبِ اختلاف سے مشاورت کی گئی نہ بروقت علما سے رابطہ کیا گیا۔ لمحۂ موجود تک وفاق اور سندھ کے مابین عجیب کشمکش جاری ہے اور اس نازک مرحلے پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔ بیانات اور اعلانات کیے جاتے ہیں مگر عملاً کچھ نہیں ہوتا، یہاں تک کہ ڈاکٹروںکو ضروری حفاظتی سامان تک فراہم نہیں کیا گیا۔ بیرونِ ملک سے آنے والوں سے ہوٹل میں ٹھیرانے اور کھانے تک کے بل وصول کیے گئے۔ ان کی ساری مہم مساجد کے گرد گھومتی رہی کہ نماز ہو یا نہ ہو؟ حالانکہ دیگر بے شمار اقدامات پر توجہ دی جاتی تو اس وبا کو اس قدر پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: ٹائیگر فورس اور احساس پروگرام…؟
سینیٹر سراج الحق: اس بارے میں انہیں مشورہ دیا گیا کہ وبا کے نام پر امداد اور پیسے کی تقسیم کو سیاسی نہ بنائیں۔ ٹائیگر فورس کا لفظ خود بتاتا ہے کہ سیاسی وابستگی ہے، خود وزیراعظم نے کہا کہ رقوم کی تقسیم سے ہمارے ارکانِ اسمبلی کے حلقے مضبوط ہوں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا جو پیسہ تقسیم کیا گیا، اس سے بھی جو لوگ رجسٹرڈ نہیں، وہ اب تک محروم ہیں۔ روزانہ محنت کرکے کمانے والے مزدور، کسان، دہقان، بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور اور خواتین سب اب تک حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کورونا کے موجودہ بحران کے دوران جماعت اسلامی اور ’الخدمت فائونڈیشن‘ کی خدمات اور سرگرمیوں کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟
سینیٹر سراج الحق: اس بحران کے آغاز ہی میں جماعت اسلامی نے اپنی معمول کی تمام سرگرمیاں معطل کرکے تمام توجہ کورونا سے متعلق آگاہی، رجوعِ الی اللہ اور خدمتِ خلق کے کاموں پر مرکوز کردی تھی، ہم نے ’الخدمت فائونڈیشن‘ سے مشاورت کے بعد مشترکہ منصوبہ بنایا، یونین کونسل اور زون کی سطح سے مرکز تک تمام دفاتر کو ’کورونا آگاہی‘ اور خدمت مراکز میں تبدیل کردیا گیا ہے، تمام کارکنوں کو ’الخدمت فائونڈیشن‘ کے جھنڈے تلے مستحق غریب اور سفید پوش لوگوں کو ہر طرح کی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی پر لگا دیا گیا ہے جو مسلم اور غیر مسلم کی تمیز کیے بغیر، حتیٰ کہ خواجہ سرائوں کو بھی راشن اور دیگر ضروری سامان فراہم کررہے ہیں۔ ہم نے مساجد کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں مندروں، گوردواروں اور گرجا گھروں وغیرہ میں بھی صفائی اور اسپرے کا کام کروایا۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں، جیلوں اور مارکیٹوں میں بھی حفاظتی اسپرے ہمارے کارکنوں نے کیا۔ یہاں تک کہ سرکاری اداروں اور ہسپتالوں میں ملازمین اور ڈاکٹروں تک کو ضروری حفاظتی سامان ہمارے کارکنوں نے فراہم کیا۔ حکومت نے تو ایک روز طبی عملہ کو اُن کی خدمات پر سلام کیا اور اگلے روز کوئٹہ میں ڈنڈوں سے اُن کی پٹائی کر ڈالی۔ الخدمت فائونڈیشن نے جو شاندار کام کیا اس کا ہر کوئی اعتراف کررہا ہے، کارکنوں کی یہ قربانیاں ان شاء اللہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنیں گی۔
فرائیڈے اسپیشل: نیکی کے اس کام میں اہلِ خیر کے تعاون کی کیفیت کیا رہی؟
سینیٹر سراج الحق: ہم نے کوشش کی ہے کہ مقامی طور پر رقوم جمع کرکے وہیں خرچ کی جائیں۔ اس طرح مقامی معاونین کو حوصلہ بھی ملتا ہے۔ خدمت کا یہ کام طویل ہے۔ اب رمضان میں بھی اس کی زیادہ ضرورت ہوگی تاکہ کوئی غریب کھانے کے بغیر سحری اور افطاری پر مجبور نہ ہو۔ ہم نے کارکنوں کو ہدایات دی ہیں کہ عام نوجوانوں کو ساتھ ملاکر علاقے کے خوشحال افراد سے جمع کرکے غریبوں پر خرچ کیا جائے۔ لوگ الحمدللہ ہم پر اعتماد کرتے اور بھرپور تعاون کرتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: جماعت اسلامی عام حالات میں بھی اور مصیبت کے لمحات میں خاص طور پر خدمت میں ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے، لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، جماعت کے کارکنوں کو دیانت دار اور امین بھی سمجھتے ہیں، مگر انتخابات میں ووٹ دینے پر تیار نہیں۔ اس کی وجوہ پر کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے؟ دوسری جانب عمران خاں نے اپنے محض ایک ہسپتال اور یونیورسٹی کو اس قدر کیش کروایا کہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچ گئے؟
سینیٹر سراج الحق: جماعت اسلامی قیام پاکستان کے فوری بعد ہی سے خدمت کے میدان میں سرگرم ہے، اس کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، اگرچہ خود بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، مگر ان کے سفرِ ہجرت کی تھکاوٹ بھی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خدمت کے لیے مہاجر کیمپوں میں پہنچ گئے۔ ہم نے افغان مہاجرین، سیلاب زدگان، زلزلہ متاثرین اور دیگر مشکل مواقع پر ہمیشہ خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے، مگر ہم یہ کام سیاسی کامیابی کے لیے نہیں کرتے، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمارے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی خدمت سے ہم اپنے رب کی رضا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور آخرت میں بخشش کے طلب گار ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: ’کورونا‘ کے بعد کی دنیا کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس کے نتیجے میں کس نوعیت کی مثبت یا منفی تبدیلیاں متوقع ہیں؟ معاشی اور سماجی حالات میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
سینیٹر سراج الحق: اس ضمن میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پہلا اثر تو معیشت پر ہوگا۔ اس وقت دنیا کی دولت کے بڑے حصے پر دو تین فیصد لوگ قابض ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ اجارہ داری اسی طرح رہے گی؟ دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ جو ریاستیں انسانی صحت کے بجائے اسلحہ پر سب سے زیادہ خرچ کررہی ہیں کیا اُن کی سوچ میں تبدیلی آئے گی؟ تیسری بات یہ ہے کہ انسان کا شعور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ایسی ہستی موجود ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کو جب چاہے مفلوج کردے، تو کیا اس ہستی کی تلاش اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے انسان کو کوشش نہیں کرنی چاہیے؟ اس لیے اب مذہب کے حوالے سے تبدیلی ضرور آئے گی، انسان کو اب انگلی سے پکڑ کر اس کے خالق تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ امتِ مسلمہ پہلے خود اس معاملے میں یکسو ہو، پھر دنیا کی رہنمائی کرے۔ ہمارے نظامِ تعلیم اور معیشت میں بھی تبدیلی آئے گی، ریاستوں کی گرفت پر بھی سوال اٹھے گا کہ پوسٹ کورونا اس کی کیا صورت گری ہو۔ جماعت اسلامی نے کوشش کی ہے کہ گلوبل تھنک ٹینک کو یہ ہدف دیا جائے کہ وہ اس کے نظریاتی پہلو پر سوچے۔ ہم نے معاشی ماہرین سے بھی عرض کیا ہے کہ وہ کورونا کے بعد کی صورتِ حال میں اپنی تجاویز دیں۔ ہم نے جماعت کے ہم خیال پی ایچ ڈی اسکالرز کو بھی مدعو کیا ہے کہ وہ نئی دنیا کے متعلق غور و فکر شروع کریں۔ دوسروں کا انتظار نہ کریں، خود آگے بڑھ کر لائحہ عمل تیار کرکے دوسروں کو دیں۔
فرائیڈے اسپیشل: مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی طویل عرصے سے کرفیو نافذ تھا، بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل اور مصائب کا سامنا تھا، اب کورونا کو بھی مسلمانوں کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس پر مسلم دنیا خصوصاً پاکستان کے ردعمل پر آپ کی کیا رائے ہے؟
سینیٹر سراج الحق: بھارت کے مسلمانوں کا مسئلہ ’’اسلامی کانفرنس کی تنظیم‘‘ نے اب تک سنجیدگی سے نہیں لیا، بہت دیر کے بعد اب ایک بیان آیا ہے۔ بھارت میں بائیس کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، عالمِ اسلام نے ان مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کچھ نہ کیا تو مودی اپنی فاشسٹ سوچ کے ساتھ ایک کے بعد دوسرا اقدام کرتا رہے گا۔ وہ اس خطے کو بھی اندلس کی طرح مسلمانوں سے خالی کرانے کے لیے کوشاں ہے، اس مقصد کے لیے وہ نسل کُشی، دوبارہ ہندو بنانے اور بھارت سے مسلمانوں کو نکال دینے جیسے اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اس پر خود بھارت کے باشعور، انصاف پسند اور جمہوریت کا نام لینے والے لوگوں کو آگے بڑھ کر بات کرنی چاہیے۔ بھارت میں ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے، اور مذہب کی بنیاد ہی پر میرٹ بنایا جارہا ہے۔ یہ کھلی چنگیزیت اور انسانی المیہ ہے۔ ساری انسانی دنیا کو اس کے خلاف آواز اٹھانا اور ضروری اقدام کرنے چاہئیں۔
فرائیڈے اسپیشل: چینی اور آٹا بحران سے متعلق جو تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آئی ہے، اس پر کسی مؤثر کارروائی اور مجرموں کو عبرتناک سزا کی توقع کی جا سکتی ہے؟
سینیٹر سراج الحق: یہ رپورٹ حکومت کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ ہے، حکومت کے اپنے لوگ اس بحران میں شامل ہیں۔ حکومت نے اب تک ان سے سبسڈی واپس لی ہے نہ ناجائز منافع ان کی تجوریوں سے نکلوایا گیا ہے، صرف رپورٹ شائع کرکے حکومت دعوے کررہی ہے کہ ہم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ جو پیسہ عوام سے چھینا گیا ہے وہ واپس عوام کو دیا جاتا، مگر حکومت کہتی ہے کہ فرانزک آڈٹ کے بعد کارروائی ہوگی۔ اس آڈٹ کی رپورٹ بھی 25 اپریل کو آنا تھی، مگر یہ بھی اب تاخیر کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے۔ مگر سبسڈی تو سامنے کی بات ہے، اس کی وصولی سے کسی نے انکار بھی نہیں کیا بلکہ وہ اسے اپنا حق قرار دے رہے ہیں، حالانکہ واضح بات ہے کہ حکومتی پارٹی میں اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ اس ضمن میں پالیسی سازوں، سہولت کاروں سمیت سب کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: ’بے لاگ احتساب‘ وزیراعظم عمران خان کا نعرہ تھا، اس سلسلے میں اُن کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں بہت سی گرفتاریاں بھی ہوئیں، کسی کو نہ چھوڑنے کے دعوے بھی ہوئے، مگر پھر سب ضمانت پر رہا بھی ہوگئے۔ ان حالات میں کیا کسی نتیجہ خیز احتساب کی امید کی جا سکتی ہے؟
سینیٹر سراج الحق: اب تک کسی کا احتساب نہیں ہوا، جن کا احتساب ہونا ہے وہ سب اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ پاناما لیکس میں 436 لوگوں کے نام تھے، ان میں سے کسی کو نہیں پوچھا گیا، جو بینکوں سے قرضے لے کر ہضم کر گئے اُن سے وصولیاں بھی نہیں ہوئیں، جن لوگوں کی وجہ سے سرکاری منصوبے دس دس، بیس بیس برس تاخیر کا شکار ہوئے، جنہوں نے سرکاری مناصب کا غلط استعمال کیا، عمران خاں دو سال سے حکومت میں ہیں کسی کا احتساب نہیں ہوا، کسی کو سزا نہیں ملی۔ کچھ سیاسی لوگوں کو چند دن کے لیے گرفتار کرکے رہا کردیا گیا۔ اس لیے اب بے لاگ احتساب کی امید نظر نہیں آتی۔
فرائیڈے اسپیشل: آخر میں اپنے کارکنوں کو ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ کے ذریعے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
سینیٹر سراج الحق: جماعت اسلامی کے کارکنوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ رجوع الی اللہ کی مہم تیز کردیں، اس کے اثرات آپ کی اپنی ذات اور گھر میں نظر آنے چاہئیں۔ اپنے محلے میں مبلغ اور داعیِ الی اللہ بنیں، دعوت کے ساتھ خدمت کے کام پر توجہ دیں۔ خدمت میں انتخاب اور مرضی کی گنجائش نہیں، یہ فرائضِ دینی میں شامل ہے۔ جماعت کے کارکن دعوت، محبت اور خدمت کی اساس پر معاشرے میں اسلامی نظام کے کام کو آگے بڑھائیں۔ ہمیں بہرحال اپنا کام کرنا ہے، اپنے حصے کا دیا جلانا ہے۔ شاعر نے کہا ہے ناکہ ؎۔

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

Share this: