مؤرخِ اسلام قاضی اطہر مبارک پوری

Print Friendly, PDF & Email

ڈاکٹر محمد سہیل شفیق مبارک باد اور ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ وہ ہمہ وقت مفید علمی و دینی کاموں میں مصروف رہتے ہیں، اور اردو زبان کی ثروت میں گراں قدر اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہم زد فزد۔
زیر نظر کتاب میں انہوں نے مؤرخِ اسلام قاضی اطہر مبارک پوریؒ پر لکھے ہوئے متنوع مضامین و مقالات جمع کردیے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔
۔’’مؤرخ، محقق، مصنف، صحافی اور مشہور عالمِ دین قاضی اطہر مبارک پوری اعظم گڑھ (انڈیا) کے مردم خیز خطے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی ولادت 7 مئی1916ء کو اعظم گڑھ کے مشہور قصبے مبارک پور میں ہوئی۔ قصبے کے اساتذہ سے قرآن مجید، اردو زبان اور ریاضی وغیرہ کی مکتبی تعلیم حاصل کرکے مدرسہ احیاء العلوم مبارک پور میں عربی تعلیم کا آغازکیا۔ مدرسے میں مروجہ نصاب کی تکمیل کے بعد دورۂ حدیث کی غرض سے جامعہ قاسمیہ (مدرسہ شاہی) مراد آباد کا سفر کیا۔ علوم و فنون کی تحصیل سے رسمی فراغت کے بعد تقریباً آٹھ سال مبارک پور، امرتسر، لاہور، بہرائچ، ڈابھیل کے تعلیمی و صحافتی اداروں میں رہ کر درس و تدریس، مضمون نگاری اور شعر گوئی میں صرف کیے۔ کچھ عرصہ ممبئی سے نکلنے والے ایک اخبار ’’جمہوریت‘‘ کے شریک مدیر بھی رہے۔ بعدازاں ممبئی کے سب سے بڑے اردو اخبار ’’انقلاب‘‘ سے وابستہ ہوگئے اور پھر چار عشروں تک اپنا مخصوص کالم ’’جواہر القرآن‘‘ اور ’’احوال و معارف‘‘ کے نام سے لکھتے رہے۔ وہ ان کالموں میں بالعموم علمی مسائل پر ہی لکھتے تھے۔ قاضی صاحب نے ممبئی سے ایک رسالے ’’البلاغ‘‘ کا بھی اجرا کیا۔
قاضی صاحب کے علمی سفر کا آغاز اگرچہ مذہبی و اصلاحی شاعری سے ہوا۔ قاضی صاحب کا عربی ادب کا ذوق بڑا پختہ تھا۔ بے شمار عربی اشعار ان کے حافظے میں محفوظ تھے۔ شب و روز عربی کتابوں ہی کا مطالعہ تھا، اس لیے ذرا سی توجہ سے عربی کی بہت مرصع نثر لکھتے تھے۔ دورِ طالب علمی ہی میں عربی میں ایک کتاب مراۃ العلم کے نام سے مرتب کی، جس میں علمائے سلف اور مختلف ائمہ علم و فن کے واقعات جمع کیے۔ رجال السند و الہند قاضی صاحب کی پہلی عربی تصنیف ہے، جسے انہوں نے رواں اور سلیس عربی میں سندھ اور ہندوستان کی اُن شخصیات کے تعارف میں لکھا تھا جو ہندوستان میں اسلام کے دورِ اوّلین سے تعلق رکھتی تھیں۔
قاضی صاحب کا مزاج خالص علمی اور تحقیقی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب کی پوری زندگی علمی تلاش و جستجو، تحقیق و تفحص اور بحث و نظر سے عبارت تھی۔ وہ اپنے قیمتی اوقات کو علمِ مجلسی سے بچاتے ہوئے اپنے موضوع سے متعلق تحقیق و تفتیش میں صرف کرتے تھے۔ انہوں نے علم و تحقیق کا ایک ایسا میدان اپنے لیے مخصوص کرلیا تھا جس میں بڑی دقتِ نظر، خونِِ جگر اور دماغ سوزی کی ضرورت تھی، یعنی عرب و ہند تعلقات۔ یہ ایک ایسا میدان تھا جس میں زیادہ علمی سرگرمیاں نہیں پائی جاتی تھیں۔ اسلامی ہند کی تاریخ کے تسلسل میں یہ ایک بڑا خلا تھا جس کو پُر کرنا ضروری تھا۔ اب تک عرب و ہند کے تعلقات پر جو کتابیں لکھی گئی تھیں وہ جغرافیائی لحاظ سے دو ملکوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات کی نشان دہی کرتی ہیں۔ جب کہ اس موضوع پر قاضی صاحب کی تحریر کردہ کتابوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلام کے ہندوستان میں نفوذ کے ابتدائی دور کی علمی، تہذیبی اور تمدنی تاریخ ہے۔ قاضی صاحب نے عرب و ہند تعلقات کے ہر دور کی تاریخ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس سلسلے میں ان کی آٹھ محققانہ کتابیں منصۂ شہود پر آئیں:۔
1: رجال السند و الھند الی القرن السابع
2: عرب و ہند عہدِ رسالت میں
3:ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں
4:العقد الثمین فی فتوح الہند و من ورد فیھا من الصحابۃ و التابعین
5: اسلامی ہند کی عظمتِ رفتہ
6: خلافتِ راشدہ اور ہندوستان
7: خلافتِ امویہ اور ہندوستان
8: خلافتِ عباسیہ اور ہندوستان
علاوہ ازیں ’’خیر القرون کی درس گاہیں‘‘ اور ’’تدوین سیر و مغازی‘‘ اپنے اپنے موضوع پر قاضی صاحب کی اہم ترین کتابیں ہیں۔ ’’تدوین سیر و مغازی‘‘ تو اپنے موضوع پر اردو زبان میں پہلی کتاب ہے۔
قاضی صاحب کی کتابوں کی شہرت ہندوستان سے لے کر حجاز اور مصر تک پہنچی تو ان کتابوں کی اہمیت کے پیش نظر عربی زبان میں ترجمے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے مصر کے ایک جلیل القدر عالم شیخ عبدالعزیز عزت نے ازخود قاضی صاحب کی دو کتابوں ’’ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں‘‘ اور ’’عرب و ہند عہدِ رسالت میں‘‘ کو اردو سے عربی میں منتقل کیا۔ اسی طرح قاضی صاحب کی متعدد کتابوں کا سندھی زبان میں بھی ترجمہ ہوا، اور علمی حلقوں میں یہ کتابیں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ سندھ کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’فکر و نظر‘ نے قاضی صاحب کو ’’محسنِ سندھ‘‘ کا خطاب بھی دیا۔
قاضی صاحب کی دیگر تصانیف میں: ’’دیار پورب میں علم اور علماء‘‘، ’’تذکرہ علمائِ مبارک پور‘‘، ’’مآثرو معارف‘‘، ’’ائمہ اربعہ‘‘، ’’بناتِ اسلام کی علمی و دینی خدمات‘‘، ’’اسلامی نظامِ زندگی‘‘، ’’افاداتِ حسن بصری‘‘، ’’مسلمان‘‘، ’’الصالحات‘‘، ’’تبلیغی و تعلیمی سرگرمیاں عہدِ سلف میں‘‘، ’’اسلامی شادی‘‘، ’’معارف القرآن‘‘، ’’طبقات الحجاج‘‘،’’ علیؓ و حسینؓ‘‘، ’’حج کے بعد‘‘، ’’خواتینِ اسلام کی دینی و علمی خدمات‘‘، ’’قاعدہ بغدادی سے صحیح بخاری تک‘‘، ’’جواہر الاصول‘‘، ’’تاریخ اسماء الثقات‘‘، ’’دیوانِ احمد‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مستقل تصنیفی اور تحقیقی کاموں کے علاوہ سینکڑوں علمی اور تحقیقی مقالات و مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔
مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی نے بجا طور پر اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا: ’’اس میں شک نہیں کہ قاضی صاحب اس بے آب و گیاہ صحرا میں تنہا چلے، اور جب لوٹے تو باغ و بہار کا پورا قافلہ اپنے ساتھ لائے‘‘۔
قاضی صاحب نے 40 سال تک ایک کنج عزلت میں بیٹھ کر شہرت و ناموری سے بے نیاز ہوکر اپنے تمام علمی و تحقیقی کارنامے انجام دیے، اور 14 جولائی 1992ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔
پیش نظر کتاب تاریخِ اسلام کے عظیم مؤرخ اور محقق کی حیات، علمی کارناموں اور تذکرے پر مشتمل ہے، جسے ماہنامہ ’’ترجمان الاسلام‘‘ (بنارس) اور ماہنامہ ’’فیض الاسلام‘‘ (مبارک پور) کے منتخب مضامین کی مدد سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ رسائل پاکستان میں عام دستیاب نہیں ہیں۔ ان رسائل کی فراہمی کے سلسلے میں راقم محترم ملک نواز احمد اعوان اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن کا شکر گزار ہے۔
بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس کتاب کی محرک ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ کا شکریہ ادا نہ کیا جائے کہ ان کی بے پایاں شفقت اور علمی سرپرستی راقم کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فجزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔
قاضی اطہر مبارک پوری نے شہرت اور ناموری، مال و دولت اور آسائشات و علائقِ دنیا سے بے نیاز ہوکر جس طرح اسلامی تاریخ کے میدان میں دادِ تحقیق دی ہے، وہ اس لائق ہے کہ بار بار اس کا تذکرہ کیا جائے۔ اسلامی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے بالخصوص اسلامی تاریخ کے طلبہ اس سے آگاہ ہوں اور جہد ِ مسلسل و عزیمت کی اس داستان سے عزم و حوصلہ کشید کرکے اپنے لیے تحقیق کی کٹھن راہوں کو سہل کرسکیں۔ یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک ادنیٰ کاوش ہے۔
وذکر فان الذکری تنفع المومنین (الذریت: 55)۔
کتاب کے محتویات درج ذیل ہیں:۔
’’قاعدہ بغدادی سے صحیح بخاری‘‘ قاضی اطہر مبارک پوری، ’’کاروانِِ حیات… از فراغتِ تعلیم تا قیامِ بمبئی‘‘ قاضی اطہر مبارک پوری۔
’’قاضی اطہر مبارک پوری کی علمی خدمات:۔
’’قاضی صاحب کے علمی کارناموں کی مکمل فہرست‘‘ قاضی ظفر مسعود ابن قاضی اطہر مبارک پوری، ’’تدوین سیرومغازی مؤلفہ مولانا قاضی اطہر مبارک پوری پر ایک اجمالی نظر‘‘ مولانا زین العابدین الاعظمی، ’’قاضی صاحب کا امتیازی وصف… قدیم ترین مآخذ میں عرب و ہند روابط کی جستجو‘‘ مولانا اعجاز احمد اعظمی، ’’قدیم ہند و عرب کے روابط و تعلقات کے ایک دیدہ ور مؤرخ‘‘ مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی، ’’تعارف:رجال السند و الہند‘‘ مولانا عبداللہ المعروفی، ’’تعارف: دیارِ پورب میں علم اور علماء‘‘ مولانا اعجاز احمد اعظمی، ’’تعارف: العقد الثمین‘‘ مولانا زین العابدین الاعظمی المعروفی، ’’مجلہ ’البلاغ‘ اور قاضی اطہر صاحب کی خدمات‘‘ مولانا مسعود سعید الاعظمی، ’’مکتوباتِ حجاز (قاضی اطہر مبارک پوری)‘‘ علامہ اسیرؔادروی، ’’آئینہ در آئینہ (مختلف ڈائریوں، خطوط اور اخبار کے تراشوں سے)‘‘ ادارہ ترجمان الاسلام، ’’مئے طہور (مجموعہ کلام قاضی اطہر مبارک پوری)‘‘ ادارہ ترجمان الاسلام۔
قاضی اطہر مبارک پوری اہلِ علم کی نظر میں:۔
’’مولانا قاضی اطہر مبارک پوری… اسلام کے عہدِ زریں کے مؤرخ و محقق‘‘ ڈاکٹر مولانا شمس تبریز خان، ’’قاضی صاحب بحیثیت مؤرخ و مصنف‘‘ مولانا ظفر احمد صدیقی، ’’قاضی اطہر مبارک پوری… فکر و فن‘‘ مولانا افضال الحق قاسمی، ’’مولانا قاضی اطہر مبارک پوری‘‘ مولانا ضیاء الدین اصلاحی، ’’من قاش فروش دلِ صد پارہ خویشم‘‘مولانا ابوالقاسم نعمانی۔ ’’حدیث ِ یار‘‘ علامہ اسیرؔادروی، ’’علم کا ایک چراغ تھا، نہ رہا‘‘ مولانا نور عالم خلیل امینی، ’’محترم والد صاحب قبلہ!‘‘ قاضی ظفر مسعود ابن قاضی اطہر مبارک پوری۔
کتاب مجلّد ہے، سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔

Share this: