بریسٹ کینسر کی نئی دوا منظور، قیمت 29 لاکھ روپے ماہانہ خوراک

Print Friendly, PDF & Email

امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے سخت جان بریسٹ کینسر کے خلاف ایک نئی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی ہے جو فوری طور پر دستیاب ہوگی۔
یہ بریسٹ کینسر علاج میں نہایت مشکل ہے اور اکثر اوقات دماغ تک پھیل جاتا ہے۔ اب سیاٹل جینیٹکس نامی ایک کمپنی نے ایک ٹوکائیسا نامی دوا بنائی ہے جس کی منظوری 14 اپریل کی شام دی گئی ہے۔ اس کی عام خوراک دو گولی روزانہ صبح و شام ہے اور یوں 60 گولیوں کی قیمت 18 ہزار ڈالر سے کچھ زائد ہے جو پاکستانی روپوں میں 30 لاکھ بنتی ہے لیکن اس کا مکمل کورس کسی بھی طرح پونے دو کروڑ روپے سے کم نہیں۔
یہ دوا ایچ ای آر ٹو پازیٹو بریسٹ کینسر کے لیے ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے اور کئی ادویہ کو پہلے ہی ناکارہ بنا چکا ہے۔ اس کی وجہ جینیاتی ہے جس میں مخصوص جین سرگرم ہوجاتا ہے اور ایچ ای آر ٹو پروٹین کینسر کو بڑھاتا رہتا ہے۔ صرف امریکہ میں ہی سالانہ 50 ہزار خواتین اس قسم کے چھاتی کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں جو پہلے مرحلے میں قابلِ علاج تو ہے لیکن بعد میں تیزی سے پھیلتا ہے اور اپنے نصف مریضوں کو دورانِ علاج ہی ہلاک کردیتا ہے کیونکہ سرطان دماغ تک جاپہنچتا ہے۔
تاہم کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ جو افراد یہ دوا نہیں خرید سکتے انہیں اقساط یا مالی معاونت کی صورت میں ہی دوا دی جائے گی۔

کورونا وائرس سے چکھنے اور سونگھنے کی حس متاثر ہوسکتی ہے

امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے فوراً بعد سونگھنے اور ذائقے کی حِس میں مکمل یا بہت حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔
12 اپریل کو انٹرنیشنل جرنل فورم آف الرجی اینڈ رائنولوجی میں شائع ایک رپورٹ میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سان ڈیاگو کے ماہرین نے کہا کہ ان دونوں حسوں میں کمی درحقیقت کورونا وائرس کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
اس ضمن میں پروفیسر کارول یان نے بتایا کہ اب بھی بخار کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی پہلی وجہ ہے، لیکن تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ ذائقہ کھو جاتا ہے اور خوشبو یا بدبو کا احساس ختم ہوتا جاتا ہے جسے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی پہلی علامات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
پروفیسر کارول نے کہا ”ہماری تحقیق سے عیاں ہے کہ اگر اچانک آپ میں سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہوجائے تو اس بات کا دس گنا امکان ہے کہ اس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ کووِڈ 19 انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر سونگھنے اور چکھنے کی حس پر بطورِ خاص نظر رکھی جائے“۔
ڈاکٹر کارول اور ان کے ساتھیوں نے 1480 مریضوں کا جائزہ لیا جنہیں فلو یا اس جیسی علامات کا سامنا تھا۔ ان تمام افراد کو 3 سے 29 مارچ تک ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ ان میں سے 102 مریضوں کے ٹیسٹ مثبت اور باقی 1378 منفی تھے۔ سروے کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ کورونا وائرس مریض کی حسیات پر حملہ آور ہوتا ہے۔ خیال ہے کہ انفیکشن کے دو سے چار ہفتے بعد ہی سونگھنے اور چکھنے کی حس متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد اکثر افراد میں سونگھنے اور چکھنے میں بہتری محسوس ہونے لگتی ہے، لیکن بعض افراد نے بتایا ہے کہ اب تک ان کی دونوں حسیات بہتر نہیں ہوئی ہیں۔ اس سروے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جن افراد نے اکثر گلے کی خراش اور بے چینی کی شکایت کی اُن کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

پلاسٹک کو چند گھنٹوں میں تحلیل کرنے والے بیکٹیریائی خامرے تیار

فرانس کی ایک کمپنی نے بیکٹیریائی خامروں کو تبدیل کرکے اس سے پلاسٹک کو اس کے سادہ اجزا میں توڑنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔
ہفت روزے جریدے ”نیچر“ میں شائع اس نئی ٹیکنالوجی کی روداد کچھ اس طرح ہے کہ فرانسیسی کمپنی کارباؤس نے بیکٹیریا کے اینزائم (خامرے) کو خاص طریقے سے تبدیل کیا ہے، بعد ازاں اسے چند گھنٹے کے لیے پلاسٹک کی بوتلوں پر چھوڑا گیا تو اس عرصے میں پلاسٹک اپنے انہی سادہ اجزا میں تلف ہوگئی جسے دوبارہ آسانی سے نئی اور صاف و شفاف بوتلوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔
پلاسٹک کی روایتی بازیافت (ری سائیکلنگ) کا عمل ”حرارتی میکانکی“ یا تھرمو مکینکل ہوتا ہے، لیکن اس سے بننے والی اشیا بہت اچھے معیار کی نہیں ہوتیں۔ اس خامرے کو تبدیل کرکے پی ای ٹی ہائیڈرولیز اینزائم کا نام دیا گیا ہے جو صرف 10 گھنٹے میں 90 فیصد پی ای ٹی پلاسٹک سے بنی اشیا کو تلف کرسکتا ہے۔ پہلے بھی اس بیکٹیریا پر خاصا کام ہوا تھا، لیکن بعد ازاں نظرانداز کردیا گیا۔
دوسری جانب کارباؤس سے تعلق رکھنے والے چیف سائنس آفیسر ایلین مارٹی کہتے ہیں کہ نیا خامرہ بہت ہی کم خرچ ہے۔ ابتدائی تجربات کے بعد 2021ء میں اس کے صنعتی اور تجارتی پہلوؤں پر کام شروع کیا جائے گا اور اس کے بعد اگلے چند برس میں اسے صنعتی عمل کے تحت لایا جائے گا۔

اب کاغذی جہاز اسمارٹ فون ایپ سے اڑائیں

بچپن میں کاغذی جہاز اڑانے کی عادت جوانی تک برقرار رہتی ہے اور اب جدید ایپ سے اس شوق کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ایپ کے علاوہ موٹر، ٹرانسمیٹر اور دیگر نظام کسی بھی ڈیزائن اور گتے سے بنے چھوٹے ہوائی جہاز کو اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
اسے پاور اپ کا نام دیا گیا ہے جو بہت اسمارٹ طیارہ ہے اور اسے بہت سے حالات میں نہایت پُرسکون انداز میں اڑایا جاسکتا ہے۔ طیارے میں جائرو اور اسراع پیما (ایسلریٹر) بھی لگے ہیں۔ پچھلی جانب تھرسٹ فراہم کرنے والی دو موٹریں بھی لگائی گئی ہیں جو ہموار انداز میں اسے اڑنے کے قابل بناتی ہیں۔ اس طیارے کو اسمارٹ فون کے ذریعے آسانی سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

Share this: