رمضان، نزول قرآن اور امتِ مسلمہ

Print Friendly, PDF & Email

پروفیسر خورشید احمد
دوسرا اور آخری حصہ

قرآن کا انقلابی تصور

یہ مقام ہے جہاں سے قرآن کا انقلابی تصورِ حیات ہمارے سامنے آتا ہے۔ قرآن انسانی زندگی کو مختلف گوشوں اور شعبوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ وہ پوری زندگی کو بندگیِ رب میں لانا چاہتا ہے۔ انسان کے فکروخیال اور عقیدہ و رجحان سے لے کر اس کی اجتماعی زندگی کے ہرپہلو پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطالبہ خود مسلمانوں سے یہ ہے کہ:۔
اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً (البقرہ۲:۲۰۸) ”داخل ہوجاؤ خدا کے دین میں پورے کے پورے۔“۔
یعنی اسلام کے راستے کو اختیار کرنے کے بعد زندگی کے کسی شعبے کو خدا کی ہدایت سے آزاد رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان کی انفرادی زندگی اور اس کی اجتماعی زندگی ، خدا کے قانون کی پابندی اور اس کی رضا کو تلاش کرنے والی ہوگی۔پھر تمدن کے پورے نظام، یعنی معاشرت، سیاست، معیشت، قانون و عدالت، انتظام و انصرام، ملکی اور بین الاقوامی تعلقات، سب پر خدا کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔ صرف اپنے اُوپر ہی اس قانون کو جاری و ساری نہیں کرنا، بلکہ پوری انسانیت کو اپنے قول اور عمل سے اس راستے کی طرف دعوت دینا ہے۔ انسانیت کو حق کی طرف بلانا ہے، اور ہر اس رکاوٹ کو ہٹانے کی جدوجہد کرنی ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان اس تعلق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہے۔ اس کا نام دعوتِ حق ہے جو اسلام میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے۔ یہی وہ دعوت ہے جس کی طرف یہ کتاب بلاتی ہے۔
علامہ اقبالؒ مشہور صوفی بزرگ شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کے حوالے سے قرآن کے اس مخصوص مزاج کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں:’’محمد عربیؐ برفلک الافلاک رفت و باز آید واللہ اگر من رفتمے ہرگز با ز نیامدے، محمد عربی ؐ [معراج کے موقعے پر] آسمانوں پر گئے اور واپس آگئے۔ اللہ کی قسم! اگر میں جاتا تو ہرگز واپس نہ آتا۔ یہ مشہور صوفی بزرگ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی ؒ کے الفاظ ہیں جن کی نظیر تصوف کے سارے ذخیرۂ ادب میں مشکل ہی سے ملے گی۔ شیخ موصوف کے اس ایک جملے سے ہم اس فرق کا اِدراک نہایت خوبی سے کرلیتے ہیں جو شعورِ ولایت اور شعورِ نبوت میں پایا جاتا ہے۔ صوفی نہیں چاہتا کہ وارداتِ اتحاد سے جو لذت اور سکون حاصل ہوتا ہے اسے چھوڑ کر واپس آئے لیکن اگر آئے بھی، جیساکہ اس کا آنا ضروری ہے، تو اس سے نوعِ انسانی کے لیے کوئی خاص نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ، نبیؐ کی بازآمد تخلیقی ہوتی ہے ۔ وہ ان واردات سے واپس آتا ہے تو اس لیے کہ زمانے کی رُو میں داخل ہوجائے اور پھر ان قوتوں کے غلبہ و تصرف سے، جو عالمِ تاریخ کی صورت گرہیں، مقاصد کی ایک نئی دنیا پیدا کرے۔ صوفی کے لیے تو لذتِ اتحاد ہی آخری چیز ہے۔ لیکن انبیا علیہم السلام کے لیے اس کا مطلب ہے ان کی اپنی ذات کے اندر کچھ اس قسم کی نفسیاتی قوتوں کی بیداری، جو دنیا کو زیروزبر کرسکتی ہیں، اور جن سے کام لیا جائے تو جہان انسانی دگرگوں ہوجاتا ہے۔ لہٰذا انبیا ؑ کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان واردات کو ایک زندہ اور عالم گیر قوت میں بدل دیں۔۔۔ لہٰذا انبیاؑ کے مذہبی مشاہدات اور واردات کی قدروقیمت کا فیصلہ ہم یہ دیکھ کر بھی کرسکتے ہیں کہ ان کے زیراثر کس قسم کے انسان پیدا ہوئے‘‘۔ (تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، علامہ محمد اقبال، ترجمہ سیّد نذیرنیازی، بزمِ اقبال، لاہور، ص ۱۸۸۔۱۹۰)۔
مطلب یہ کہ بزرگ صوفی کا یہ قول زندگی کے محدود تصور کا غماز ہے۔ اس تصور میں اصل اہمیت عرفانِ ذات کی ہے اور وہ اس سے اُونچے کسی مقام کا تصور نہیں کرسکتی ہے کہ بندے کے قدم وہاں پہنچ جائیں جہاں فرشتوں کے پَر جلتے ہیں۔ پھر اس دنیا کی طرف واپس آنے کا کیا سوال؟ لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم جس دین کے علَم بردار ہیں وہ دین جس کا نبی اس بلندی پر پہنچ کر پھر اس دنیاے رنگ و بو میں لوٹتا ہے، تاریخ کے منجدھار میں قدم رکھتا ہے اور اس نور سے جو اسے حاصل ہوا ہے تنگ و تاریک دنیا کو منور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ صرف اپنے اس سینے کو گنجینۂ اَنوار نہیں بناتا بلکہ پورے عالم کو روشن کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایک نیا انسان بنانے، ایک نیا معاشرہ تعمیر کرنے، ایک نئی ریاست قائم کرنے اور تاریخ کو ایک نئے دور سے ہمکنار کرنے میں مصروفِ جہاد ہوجاتا ہے۔قرآن اسی دعوتِ انقلاب کو پیش کرتا ہے، وہ زمانے کے چلن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد ایک انقلاب برپا کرنا ہے دلوں کی دنیا میں بھی انقلاب اور انسانی معاشرے میں بھی انقلاب۔ وہ صالح انقلاب جس کے نتیجے میں خدا سے بغاوت کی روش ختم ہو اور اس کی بندگی کا دور دورہ ہوجائے۔ بُرائیاں سرنگوں اور نیکیوں کو غلبہ حاصل ہو۔ خدا کے منکر اور اس سے غافل قیادت کو مسند سے ہٹا دیا جائے اور اس کے مطیع اور فرماں بردار بندے زمانے کی قیادت سنبھال لیں یہ ہے نزولِ قرآن کا مقصد اور یہی ہے انسانیت کی نجات کا راستہ۔
ہم اُمت مسلمہ کو جس بات کی دعوت دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس اُمت کا ہر فرد اس موقعے پر اور بھی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ قرآن کی اصل حقیقت کو سمجھے۔ اس کے مقصد کا حقیقی شعور پیدا کرے۔ اس کے پیغام پر کان دھرے اور اس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے۔
قرآن نے انسانیت کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ اس نے قبیلے، نسل، رنگ، خاک و خون اور جغرافیائی تشخص کے بتوں کو پاش پاش کیا ہے۔ اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ پوری انسانیت ایک گروہ ہے اور اس میں جمع تفریق اور نظامِ اجتماعی کی تشکیل کے لیے صرف ایک ہی اصول صحیح ہے، یعنی عقیدہ اور مسلک۔ اسی اصول کے ذریعے اس نے ایک نئی اُمت بنائی اور اس اُمت کو انسانیت کی اصلاح اور تشکیل نو کے عظیم کام پر مامور کردیا:۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) ”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“۔
قرآن نے اس اُمت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے، اور اسے باقی انسانیت کے لیے خیروصلاح کا علَم بردار بنایا ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس نے چھٹی صدی عیسوی کی ظلم اور تاریکی سے بھری ہوئی دنیا کو تاریخ کے ایک نئے دور سے روشناس کرایا۔ جس نے عرب کے اُونٹ چرانے والوں کو انسانیت کا حدی خواں بنایا۔ جس نے ریگستان کے بدوؤں کو تہذیب و تمدن کا معمار بنادیا۔ جس نے مفلسوں اور فاقہ کشوں میں سے وہ لوگ اُٹھائے، جو انسانیت کے رہبر بنے۔ جس نے وہ نظام قائم کیا، جس نے طاغوت کی ہر قوت سے ٹکر لی اور اسے مغلوب کرڈالا۔
قرآن طاقت کا ایک خزانہ ہے۔ اس نے جس طرح آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسانوں کی اصلیت بدل کر رکھ دی تھی اور ان کے ہاتھ سے ایک نئی دنیا تعمیر کرائی تھی، اسی طرح آج بھی فساد سے بھری ہوئی دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ اپنے ماننے والوں کو، بشرطیکہ وہ اس کا حق ادا کرسکیں، انسانیت کا رہنما اور تاریخ کا معمار بناسکتا ہے۔
خوب کہا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے:۔
لَا یَصْلُحُ اٰخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا بِمَا صَلُحَ اَوَّ لُھَا، اس اُمت کے بعد کے حصے کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی، جس سے اس کے اوّل حصے کی اصلاح ہوئی تھی۔
اور یہ چیز قرآن ہے۔

قرآن سے حقیقی تعلق اور تقاضے

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن نے پہلے بنجر اور شور زمین سے ایک نیاجہاں پیدا کردیا تھا، تو آج وہ یہ کارنامہ کیوں سرانجام نہیں دے رہا؟
اگر وہ کل شفا و رحمت تھا، تو وہ آج یہ وظیفہ سرانجام دیتا ہوا کیوں نظر نہیں آتا؟
اگر ہم کل اس کی وجہ سے طاقت ور تھے، تو آج اس کے باوجود ہم کمزور کیوں ہیں؟
اگر کل اس کے ذریعے ہم دنیا پر غالب تھے، تو آج اس کے ہوتے ہوئے ہم مغلوب کیوں ہیں؟
اگر غور کیا جائے تو اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی ہیںایک،یہ کہ ہم نے عملاً اس کتابِ ہدایت کو اپنا حقیقی رہنما باقی نہ رکھا ہو۔ اس سے ہمارا تعلق، غفلت و سردمہری و بے التفاتی اور بے توجہی کا ہوگیا ہو۔ دوسرے، یہ کہ ہم بظاہر تو اس کا احترام اور تقدیس کررہے ہوں لیکن اس کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صحیح راستہ اور صحیح طریقہ اختیار نہ کر رہے ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاملے میں یہ دونوں ہی باتیں صحیح ہیں۔
برف کی طرح پگھلتی اور ہر آن قطرہ قطرہ ختم ہوتی، اس زندگی میں یہ بڑا ہی سنہری موقع ہے کہ ہم لمحہ بھر رُک کر سوچیں کہ خدا کی اس کتاب سے ہمارا تعلق کیا ہونا چاہیے؟ اور ہمیں اس سے کیا معاملہ کرنا چاہیے تاکہ یہ اپنے اثرات دکھاسکے اور اس کی روشنی دنیا کے گوشے گوشے کو نور سے بھردے۔
۱۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اپنے اس سوئے ہوئے ایمان کو بیدار کیا جائے جو قرآن پر لایا تو ضرور گیا ہے، مگر اس کا یقین اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جذبے اور شوق سے عاری ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ایمان اس کے، خدا کی کتاب ہونے پر، اس کے مکمل طور پر محفوظ ہونے پر، اس کے ہرلفظ کے حق و صداقت ہونے پر، اس کے بتائے ہوئے طریقے کے درست اور مفید ہونے پر، اس کے بتائے ہوئے علاج کے اصل ضامنِ شفا ہونے پر ہے یہ ہے نقطۂ آغاز:۔
اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ o وَ مَآ اَنْتَ بِھٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِھِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ o (النمل ۲۷:۸۰۔۸۱) ”بے شک تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی دعوت سنا سکتے ہو۔ جب وہ اعتراض کرتے ہوئے منہ پھیر لیں، اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال سکتے ہو۔ تم تو صرف انھی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔“۔
وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَo(البقرہ ۲:۱۲۱) اور جو لوگ اس کا انکار کریں گے، وہ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
۲۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ دل قرآن حکیم کی عظمت اور بلندی، اس کے اعلیٰ اور برتر کلام ہونے کے احساس سے معمور ہو۔ یہ وہ کلام ہے جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ شق ہو جاتے۔ اس پُرعظمت کلام کے مقابلے میں اپنی عاجزی کا احساس اور دل کا اس کے لیے موم ہوجانا بہت ضروری ہے:۔
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ (المائدہ ۵:۸۳) جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اُترا ہے، تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔
یہ معرفت حق کا لازمی نتیجہ ہے۔
۳۔ قرآن سے رہنمائی اور رہبری کے لیے رجوع کرنا، اس کے بارے میں غفلت کی روش کو ترک کر کے اسے سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ دیکھنا کہ کس طرح وہ ہماری زندگی کا نقشہ بدلنا چاہتا ہے، اس کتاب کو مضبوطی سے تھامنا اور ہرمعاملے میں اس سے ہدایت حاصل کرنا….یہی وہ طریقہ ہے جس سے اس کتاب کے اصل اسرار و رُموز ہم پر منکشف ہوسکیں گے:۔
فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِِلَیْکَ اِِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o وَاِِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْءَلُوْنَ o (الزخرف ۴۳: ۴۳۔۴۴) ”اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمھاری طرف وحی کیا گیا ہے، اس کو خوب مضبوط پکڑے رہو۔ یقین رکھو کہ تم سیدھے راستے پر ہو اور یہ (قرآن) تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے یقیناًایک نصیحت نامہ ہے اور آگے چل کر تم سب سے اس کی بابت بازپُرس ہوگی۔“۔
امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بجا فرمایا ہے:۔
جو شخص دین کو جاننا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن ہی کو اپنا مونس و ہم دم بنائے۔ شب و روز قرآن ہی سے تعلق رکھے۔ یہ ربط و تعلق علمی اور عملی دونوں طریقوں سے ہونا چاہیے۔ ایک ہی پر اکتفا نہ کرے۔ جو شخص یہ کرے گا وہی شخص گوہر مقصود پائے گا۔ (الموافقات، ج۳، ص۳۴۶)۔
۴۔ قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور اس طرح کیا جائے جو اس کا حق ہے:۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ط(البقرہ ۲:۱۲۱) ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔“
اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ قرآن کی تلاوت کے ظاہری آداب پورے کیے جائیں، یعنی اسے پاک حالت میں چھوا جائے، ادب سے مطالعہ کیا جائے، ترتیل سے پڑھا جائے اور خوش الحانی سے پڑھا جائے وغیرہ۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے معنی کو سمجھا جائے اور ان پر غوروفکر کیا جائے۔قرآن کے الفاظ پر سے یوں ہی نہ گزرجایا جائے، بلکہ اس کی گہرائیوں میں اُترنے اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی پوری کوشش کی جائے۔ یہی قرآن کا مطالبہ ہے:۔
کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo(یونس ۱۰:۲۴) ”غور کرنے والوں کے لیے ہم نے اس طرح آیات تفصیل سے بیان کی ہیں۔“
لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo(الانبیا ۲۱:۱۰) ”لوگو، ہم نے تمھاری طرف کتاب اُتار دی ہے، جس میں تمھارا ذکر ہے، کیا تم غور نہیں کرتے۔“۔
کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ o (ص ۳۸:۲۹) ”اے پیغمبرؐ، یہ قرآن برکت والی کتاب ہے، جو ہم نے تمھاری طرف اُتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں۔ جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔“
یہی صحابہ کرامؓ کا طریقہ تھاکہ وہ قرآنِ پاک کی آیات کو سمجھ سمجھ کر پڑھتے تھے اور ان پر غوروفکرکرتے تھے۔
۵۔ قرآن پر عمل کیا جائے اور اس کے مطابق اپنے فکروعمل کو بدلا جائے۔ قرآن پر اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا، کہ قرآن کے احکام کے مطابق اپنے کو بدلنے کے بجاے اپنی بداعمالیوں کے لیے جواز پیش کرنے کے لیے قرآن کو (نعوذباللہ) بدلنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح یہ بھی قرآن کے حقوق کے منافی ہے کہ اس کے احکام کو تو پڑھا جائے، مگر دوسری جانب ان پر عمل نہ کیا جائے۔ قرآن نازل ہی اس لیے کیا گیا ہے، کہ اس کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کے نقشے کو تعمیر کیا جائے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قرآن کے مطابق عمل کی سعی کی جائے۔ حضرت ابن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ ’’جب کوئی شخص ہم میں سے ۱۰ آیتیں سیکھ لیتا تھا، تو اس سے زیادہ نہ پڑھتا تھا، جب تک ان کے معنی نہ سمجھ لیتا اور ان پر عمل نہ کرتا‘‘۔(ابن کثیر، جلداوّل، ص ۵)۔
۶۔ پھر قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کے سلسلے میں رہنما اور نمونہ اس مبارک ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا، جس پر یہ کتاب نازل ہوئی:۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (النساء ۴:۸۰) ”جس نے رسولؐ کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“
اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے سرمو انحراف بھی قرآن سے دُور لے جانے والی چیز ہے۔

قرآن کے نظام کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد

اور آخری چیز یہ ہے کہ قرآن جس دعوت کو لے کر آیا ہے، اسے پھیلانے اور اس کے نظام کو قائم کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بہت سچ لکھا ہے کہ:۔
فہمِ قرآن کی ان ساری تدبیروں کے باوجود آدمی قرآن کی روح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا، جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے، جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے، کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رُموز حاصل کرلیے جائیں…. یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم برداران کفروفسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے، ایک ایک سعید روح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے، ایک ایک فتنہ ُ جو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے کام شروع کر کے خلافتِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال میں یہ کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی۔ اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اس نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔
اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاع کفر و دیں اور معرکہ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی منزل کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو، اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں۔ اسے تو پوری طرح آپ اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیں اور جس جس طرح یہ کتابِ ہدایت دیتی جائے، اس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گی جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکہ، حبشہ اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجہل اور ابولہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا۔ منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے اور سابقین اوّلین سے لے کر مولفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اور ہی قسم کا ’سلوک‘ ہے جس کو میں ’سلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اس منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ قرآن اپنی روح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بخل برت جائے۔
پھر اس کلیے کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصول و قوانین، آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک آ ہی نہیں سکتے، جب تک وہ ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا ہو اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہوسکتی ہے، جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، ج۱، مقدمہ،ص ۳۳۔۳۴)۔
یہ ہیں قرآن سے تعلق کی صحیح بنیادیں اور اگر ان پر ٹھیک ٹھیک عمل کیا ہو تو پھر قرآن انفرادی زندگی کا نقشہ بھی بدل دیتا ہے اور اجتماعی زندگی کی شکل بھی تبدیل کرا دیتا ہے۔ انفرادی زندگی اس کی برکتوں سے بھرجاتی ہے اور اجتماعی زندگی نیکی اور خوشی کی بہار سے شادکام ہوتی ہے۔
قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں۔ آج عالمِ اسلام جن مسائل اور مصائب سے دوچار ہے، ان سے نکلنے، ترقی اور عزت کی راہ پر پیش قدمی کرنے کا راستہ صرف یہی ہے اور صادق برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تلقین کی تھی:۔
رسولؐ اللہ: خبردار عنقریب ایک بڑا فتنہ سر اُٹھائے گا۔
حضرت علیؓ: اس سے نجات کیا چیز دلائے گی یارسولؐ اللہ!۔
رسولؐ اللہ: اللہ کی کتاب۔
٭ اس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے حالات ہیں۔
٭ تم سے بعد میں ہونے والی باتوں کی خبر ہے۔
٭ اور تمھارے آپس کے معاملات کا فیصلہ ہے۔
٭ اور یہ ایک دوٹوک بات ہے، کوئی ہنسی دل لگی کی بات نہیں۔
٭ جو سرکش اسے چھوڑے گا، اللہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ ڈالے گا۔
٭ اور جو کوئی اسے چھوڑ کر کسی اور بات کو اپنی ہدایت کا ذریعہ بنائے گا، اللہ اسے گمراہ کردے گا۔
٭ خدا کی مضبوط رسی یہی ہے۔
٭ یہی حکمتوں سے بھری ہوئی یاد دہانی ہے۔
٭ یہی بالکل سیدھی راہ ہے۔
٭ اس کے ہوتے ہوئے خواہشیں گمراہ نہیں کرتیں۔
٭ اور نہ زبانیں لڑکھڑاتی ہیں۔
٭ اہلِ علم کا دل اس سے کبھی نہیں بھرتا۔
٭ اسے کتنا ہی پڑھو طبیعت سیر نہیں ہوتی۔
٭ اس کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
٭ جس نے اس کی سند پر کہا، سچ کہا۔
٭ جس نے اس پر عمل کیا، اجر پائے گا۔
٭ جس نے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا، اس نے انصاف کیا۔
٭ جس نے اس کی دعوت دی، اس نے سیدھی راہ کی دعوت دی۔(مشکوٰۃ)۔
یہی وہ سیدھی راہ ہے، جس کی طرف قرآن ہم سب کو دعوت دے رہا ہے!

Share this: