چین نے قومی پرچم سے مشابہت پر کورونا وائرس گیم پر پابندی لگادی

Print Friendly, PDF & Email

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے ایک آن لائن گیم پر پابندی عائد کردی ہے، اس کھیل میں کھلاڑی کو کورونا وائرس کو ایک ایسے ملک سے باہر نکلنے سے روکنا ہوگا جو کورونا وبا کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے تاکہ یہ وائرس آفت زدہ ملک سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل کر تباہی نہ مچا سکے۔
اگر کھلاڑی اس ’خودغرض زومبی وائرس‘ کو نہیں ماریں گے تو یہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔ یہاں اشارہ چین کی جانب ہے۔ اسی طرح تائیوان اور ہانگ کانگ کو بھی چین کا حصہ نہیں دکھایا گیا جس پر چینی صارفین نے شکایات کے انبار لگا دیئے تھے۔
صارفین کی جانب سے شکایات ملنے پر چین کی حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اس آن لائن گیم پر ملک بھر میں پابندی عائد کردی، تاہم دیگر ممالک میں یہ گیم اب بھی مقبول ہے۔ چینی حکومت نے دعویٰ کیا کہ چین مخالف سیاسی ایجنڈے کے تحت اس گیم میں کورونا وائرس جیسی قدرتی آفت کا مذاق بنایا اور لاشوں کو تضحیک کی گئی ہے۔

انسان کا دماغ

انسانی دماغ ٹھوس نہیں ہوتا بلکہ لچک دار ہوتا ہے، اور اس کا73فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا وزن صرف 1300گرام سے 1400 گرام تک ہوتا ہے۔ اور حیران کن طور پر یہ ایک کھرب خلیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ تعداد قریب قریب اتنی ہی ہے جتنے ہماری کہکشاں ملکی وے میں ستارے ہیں۔ ان خلیات کی بھی دس ہزار اقسام ہیں۔ اس کا سائز مکمل جسم کا صرف2 فیصد ہوتا ہے لیکن یہ کُل توانائی کا بیس فیصد استعمال کرتا ہے۔ اس کے مختلف حصے اپنا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔ دماغ کا ہر خلیہ اپنے آپ میں کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے، پھر یہ سارے آپس میں مربوط ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں ان میں Networking ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ یادداشت محفوظ کرنے والا حصہ اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ 2.5 پیٹا بائیٹ میموری محفوظ کرسکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں تقریباً پچیس لاکھ گیگا بائٹس کا ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ دماغ کے خلیات کو خون سپلائی کرنے والی نالیاں اتنی باریک ہوتی ہیں کہ بمشکل نظر آتی ہیں لیکن صرف دماغ میں ان کی طوالت اتنی ہوتی ہے کہ بالفرض محال ان کو آپس میں جوڑ دیا جائے تو 120000 کلومیٹر لمبائی بنے گی۔ دماغی خلیات ایک دوسرے کو 432 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے برقی بیغامات بھجواتے ہیں جو کہ فارمولا ون ریس کی اسپیڈ سے بھی زیادہ اسپیڈ ہے۔ دماغ کو آکسیجن کی سپلائی روک دی جائے تو اس کے خلیات مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے تو دماغ پھر بھی اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ دماغ انسان کو زندہ رکھنے کی آخری حد تک جنگ کرتا ہے۔ خود دماغ کو یقین نہیں آتا کہ میں مر رہا ہوں۔ اِدھر اُدھر خون کی نالیوں میں بچی کھچی آکسیجن کھینچ کر دماغ انسان کے مرنے کے بعد بھی تقریباً دس منٹ تک زندہ رہتا ہے اور بچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، مگر خون اور آکسیجن کی سپلائی کی بندش بالآخر دماغ کو موت کی ابدی وادیوں میں گہری نیند سلا دیتی ہے۔ (صورۃ)۔

اب واٹس ایپ پر ایک وقت میں 8 افراد ویڈیو کانفرنس کرسکتے ہیں

واٹس ایپ نے اپنے پلیٹ فارم پر اب چار کے بجائے آٹھ افراد کے درمیان ویڈیو کالنگ یا کانفرنس کا آپشن پیش کردیا ہے۔
اس سے قبل واٹس ایپ اور فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے گزشتہ ہفتے اس کی آزمائش کی تھی جس کے بعد باضابطہ طور پر واٹس ایپ ویڈیو میں ایک وقت میں شرکا کی تعداد 8 کردی گئی ہے۔
واٹس ایپ کے مطابق کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث دوست، عزیز اور قرابت دار ایک دوسرے سے دور ہیں اور اس کے بعد واٹس ایپ پر وائس اور ویڈیو کال میں تیزی آئی ہے۔ اس ضمن میں گروپ کالنگ بہت مفید ہے کیونکہ ایک وقت میں بہت سے لوگ باہم مل کر بات چیت کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اب شرکا کی تعداد بڑھا کر 8 تک کردی گئی ہے۔
واٹس ایپ کے مطابق عین پیغامات کی طرح ویڈیو کالنگ اور کانفرنس میں بھی ایک سرے سے دوسرے سرے تک مکمل انکریپشن کو یقینی بنایا گیا ہے۔ واٹس ایپ کے صارفین اب ترقی پذیر ممالک سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو ارزاں طریقے سے ایک دوسرے سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔
قرنطینہ کے دوران دنیا بھر میں واٹس ایپ ویڈیو کالنگ میں صارفین کی جانب سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، اسی کے پیشِ نظر اب واٹس ایپ میں ان ویڈیو کالر کی تعداد بڑھادی گئی ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق واٹس ایپ کالنگ میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔
تاہم واٹس ایپ کی اس سہولت کے لیے ایپ کا نیا ورژن انسٹال کرنا ہوگا۔

کورونا: امریکہ میں ایک لاکھ ہلاکتیں ہوسکتی ہیں، ٹرمپ

امریکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں نہ صرف کورونا مریض بلکہ ہلاکتیں بھی دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہیں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ وائرس سے ملک میں ہلاکتیں ایک لاکھ تک ہوسکتی ہیں۔ کورونا وائرس سے متعلق انتظامیہ کے بروقت ایکشن نہ لینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے صحیح کام کیا۔ کورونا وائرس کے علاج کی ویکسین اس سال کے آخر تک تیار ہوجائے گی۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہا، چین نے بہت ہی بھیانک غلطی کی اور وہ اس کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ واضح رہے امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک 68 ہزار 598 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 88 ہزار 122ہوچکی ہے۔

Share this: