سیّد مودودیؒ پررسائل و جرائد کی خصوصی اشاعتیں

Print Friendly, PDF & Email

محمد شاہد حنیف
رسائل و جرائد کسی بھی زبان میں اس کے ادب، تاریخ کی ترتیب و تدوین، ترویج و فروغ میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف اس کی قوم کے ادب اور زبان کی تاریخ و ارتقا کی داستان رقم کرتے ہیں، بلکہ مختلف حوالوں سے اہم ادبی، معاشرتی، معاشی، سیاسی موضوعات پر مختلف النوع تحقیق پیش کرتے ہیں۔ ان کی ادبی، تاریخی حیثیت مسلمہ ہے۔ دوسری طرف اگر ہم اسلامی رسائل کی طرف متوجہ ہوں تو دینی رسائل انسان کو نہ صرف اسلامی تعلیمات کی طرف راغب کرتے ہیں بلکہ اس کے بہت سے مسائل کا حل کتاب و سنت کی روشنی میں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ دینی رسائل کی بہت سی اقسام ہیں، جو کہ فی الوقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔
تحقیق کی دنیا میں رسائل کا کردار کتاب سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔ کیونکہ رسائل و جرائد نہ صرف اپنے اپنے وقت کے مسائل کو پیش کرکے ان کا حل بتاتے ہیں، بلکہ ایک موضوع پر مختلف النوع حضرات کی تحقیق کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ مزید یہ کہ رسائل و جرائد اپنے اپنے دور کے عکاس ہوتے ہیں، اور مستقل نوعیت کے موضوعات پر تحقیقات پیش کرنے کے علاوہ وقتی عنوانات کے تحت بھی قارئین کو علمی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔
رسائل وجرائد میں کسی ایک موضوع پر خصوصی اشاعتوں کا رواج بعض ادبی رسائل جیسے ’’مخزن‘‘ اور ’’نیرنگ خیال‘‘ جیسے رسائل کو جاتا ہے۔ اسلامی رسائل میں خصوصی اشاعتوں کا آغاز سیرت النبیؐ کے حوالے نظر آتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مستقل اور وقتی موضوعات کے تحت شخصیات پر بھی بہت سے رسائل خصوصی اشاعتیں پیش کرچکے ہیں اور کررہے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شخصیت، سوانح اور افکار پر شائع ہونے والے مختلف رسائل کی ’’خصوصی اشاعتوں‘‘ کا صرف تعارف کروانا مقصود ہے تاکہ مولانا کے حوالے سے شائع شدہ ان کے بارے معلومات یکجا مل سکیں اور مولانا کی خدمات و افکار کو مزید جاننے کے لیے ان رسائل سے استفادۂ عام کی آسان راہ ہموار ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو خصوصی اشاعتیں ہمیں ابھی دستیاب ہوسکیں ان کا صرف مختصر تعارف کروایا جا رہا ہے۔ بہت سے رسائل مولانا کے حوالے سے ’’خصوصی گوشے‘‘ بھی شائع کرتے رہیں ہیں۔ ان کی تفصیل یہاں درج نہیں کی جارہی۔
اس ضمن میں التماس ہے کہ اگر آپ کے علم میں ان کے علاوہ مولانا مودودیؒ کے حوالے سے کوئی خاص نمبر ہو تو لازماً آگاہ کیجیے تاکہ تحقیق کا یہ سفر بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے۔ ابھی تک ہم ہمیں درج ذیل ۲۳؍ رسالوں کے ۳۹؍خاص نمبر تلاش ہوسکے ہیں جن کے نام بترتیبِ حروف تہجی درج ذیل ہیں:
ماہنامہ ’’آتش فشاں‘‘، لاہور: نومبر ۱۹۷۹ء، ص۹۰
ہفت روزہ ’’آئین‘‘، لاہور: ۲۱؍اگست ۱۹۷۰ء، ص۲۰
ہفت روزہ ’’آئین‘‘، لاہور: ۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۰ء، ص۲۴
ہفت روزہ ’’آئین‘‘، لاہور: ۱۵؍دسمبر ۱۹۷۲ء، ص۲۸۸
ہفت روزہ ’’آئین‘‘، لاہور: جولائی ۱۹۹۶ء، ص۶۰
ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘، لاہور: ۲؍اپریل۱۹۷۸ء، ص۳۲
ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘، لاہور: ۳؍ستمبر ۱۹۷۹ء، ص۳۶
ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘، لاہور: ۱۱؍اکتوبر ۱۹۷۹ء،ص۶۴
ہفت روزہ ’’اُفق‘‘، کراچی: ۲۴؍ستمبر ۱۹۷۸ء، ص۲۴
ہفت روزہ ’’اُفق‘‘، کراچی: ………، ص۱۶
ماہنامہ ’’افکارِ معلم‘‘، لاہور: ستمبر ۲۰۰۳ء، ص۸۴
ماہنامہ ’’الحسنات‘‘، لاہور: جنوری ۱۹۸۰ء، ص۳۴۲
روزنامہ ’’انصاف‘‘، لاہور: ………، ص۶۶
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۲۳؍ستمبر ۱۹۷۹ء، ص۵۲
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۲۴؍مئی ۱۹۸۷ء، ص۴۴
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۱۴؍ستمبر ۱۹۹۰ء، ص۴۴
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۲۸؍ستمبر ۱۹۹۰ء، ص۴۴
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۲۹؍ستمبر ۱۹۹۱ء، ص۱۰۰
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۱۴؍مارچ ۱۹۹۳ء، ص۷۶
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘، لاہور: ۲۹؍ستمبر ۱۹۹۵ء، ص۵۲
ہفت روزہ ’’بادبان‘‘، لاہور: ۱۲؍اکتوبر ۱۹۷۹ء، ص۵۲
ہفت روزہ ’’بادبان‘‘، لاہور: [ستمبر]۱۹۷۹ء، ص۵۲
…… ’’تحریک‘‘، شمالی امریکہ: اگست،ستمبر ۱۹۷۹ء، ص۵۲
ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘، لاہور: اکتوبر ۱۹۸۰ء، ص۶۸
ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘، لاہور: اکتوبر ۲۰۰۳ء،ص۳۴۸
ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘، لاہور: مئی ۲۰۰۴ء، ص۵۷۰
ہفت روزہ ’’تعبیر‘‘، کراچی: ۲۸؍ستمبر ۱۹۷۹ء، ص۵۲
ماہنامہ ’’تعلیمات‘‘، لاہور: ستمبر ۱۹۸۱ء، ص۲۲۰
روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی: ……ص۱۳۴
ہفت روزہ ’’چٹان‘‘، لاہور: یکم اکتوبر ۱۹۷۹ء، ص۵۶
ہفت روزہ ’’زندگی‘‘، لاہور: ۲۸؍ستمبر ۱۹۷۹ء، ص۷۶
ہفت روزہ ’’زندگی‘‘، لاہور: ۱۵؍اکتوبر ۱۹۷۹ء، ص۶۸
ہفت روزہ ’’زندگی‘‘، لاہور: ۲۲؍ستمبر ۱۹۷۸ء، ص۸۴
ماہنامہ ’’زندگی‘‘، رام پور: فروری ۱۹۸۱ء، ص۱۱۴
ماہنامہ ’’سیارہ‘‘، لاہور: اپریل ۱۹۸۰ء، ص۵۰۰
ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘، لاہور: دسمبر ۱۹۷۹ء، ص۲۴۸
ماہنامہ ’’قافلہ حق‘‘، لاہور: ستمبر ۱۹۹۱ء، ص۵۲
ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ‘‘، لاہور: جنوری ۱۹۸۰ء، ص۳۱۰
ماہنامہ ’’ہمقدم‘‘ ، لاہور: اکتوبر ۲۰۱۹ء، ص۲۲۸
سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار و نظریات کے حوالے سے
ہفت روزہ ’’آئین‘‘ نے ۲۱؍اگست ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں صرف مولانا سیّد مودودیؒ کی تقاریر کو تحریری شکل دے کر شائع کیا گیا ہے۔ ان تقاریر میں جماعت کے قیام کے تاریخی پس منظر کو پیش کرتے ہوئے جماعت کی ۲۹سالہ تاریخ بیان کی گئی ہے۔
ہفت روزہ ’’آئین‘‘ نے ۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں بھی مولانا کی تین اہم تقاریر (بسلسلہ انتخابات ) کو مختص کیا تھا۔ مولانا کی تقاریر کے علاوہ چند مضامین دیگر حضرات کے بھی تھے۔
۱۵؍دسمبر ۱۹۷۲ء کے شمارے کو مولانا کی شہرہ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کی تکمیل کے حوالے سے مختص کی۔جس میں مولانا کی اس عظیم تفہیم و تفسیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے، اس عظیم نعمتِ الٰہی پر ربّ العزت کا شکر ادا کیا گیا ہے۔
ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ کے ایڈیٹر عبدالقادر حسن نے۲؍اپریل ۱۹۷۸ء مولانا مودودی کی سنائی گئی ’’سزائے موت‘‘ پر اُن کی خدمات کے حوالے سے یہ خصوصی اشاعت شائع کی۔
۲۴؍ستمبر ۱۹۷۸ء کو مولانا مودودیؒ کی ۷۵ویں سالگرہ کے موقع ہفت روزہ ’’اُفق‘‘نے ایک نمبر شائع کیا جس میں مولانا اور جماعت کے حوالہ سے صرف تنقیدانہ مضامین شائع کیے گئے۔
ہفت روزہ ’’زندگی‘‘، لاہور نے ۲۲؍ستمبر ۱۹۷۸ء ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور الطاف حسن قریشی کی زیر ادارت میں مولانا کی ۷۵ویں سالگرہ کے موقع پر اُن کی سوانح اور عظیم دینی خدمات کو اُجاگر کرنے کے لیے یہ نمبر شائع کیا ۔چند مضامین دیگر موضوعات پر بھی شامل ہیں۔
یکم ستمبر ۱۹۷۹ء (۸؍شوال ۱۳۹۹ھ) کو مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے انتقال کے بعد اس عظیم انسان کی سوانح، خدمات اور افکار ونظریات کو سامنے لانے کے لیے ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ نے عبدالقادر حسن، ممتاز عامر اور سیّد ارشاد کی زیر نگرانی ۳؍ستمبر ۱۹۷۹ء کو ’’مجدد مودودیؒ‘‘ کے عنوان سے خاص نمبر شائع کیا۔
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘ نے ۲۳؍ستمبر ۱۹۷۹ء کے شمارے ’’ہرگرز نمیرد آنکہ دِلش زندہ شد بہ عشق‘‘ کے عنوان سے سیّد مودودیؒ کی رحلت کے بعد خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
جناب سجاد میر کی زیر نگرانی ہفت روزہ ’’تعبیر‘‘نے ۲۸؍ستمبر ۱۹۷۹ء کو ’’سیّد مودودی‘‘ نمبر کی شکل میں شائع کیا اور شمارے میں مولانا کی زندگی کے آخری دنوں اور تدفین کے بعد کی صورتِ حال پر مضامین شائع کیے۔
’’سیّدی، مرشدی، الوداع الوداع‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ’’زندگی‘‘نے ۲۸؍ستمبر ۱۹۷۹ء کو مدیران ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی، الطاف حسن قریشی، رئوف طاہر کی زیر نگرانی سیّد مودودی کی یاد میں یہ خاص نمبر شائع کیا۔ جس میں مولانا کے حوالے سے دیگر مضامین کے علاوہ آپ کا انٹرویو بھی شائع کیا گیا۔
ہفت روزہ ’’بادبان‘‘ نے بھی مجیب الرحمن شامی کی زیر نگرانی مولانا کی وفات پر [ستمبر] ۱۹۷۹ء میں خاص اشاعت کا اہتمام کیا۔
حلقہ اسلامی ادب، شمالی امریکہ کے ایک مجلہ ’’تحریک‘‘نے اگست،ستمبر ۱۹۷۹ء کے شمارے کو مولانا کے انتقال کے موقع پر شائع کرکے ان کی خدمات کو اُجاگر کیا۔
۱۹۷۹ء میں مدیر ’’چٹان‘‘ مسعود شورش نے یکم اکتوبر کو مولانا مودودیؒ کی یاد میں ’’خصوصی اشاعت‘‘ شائع کی۔ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ نے عبدالقادر حسن کی زیر ادارت ’’مجدد مودودیؒ‘‘ کے عنوان سے خاص نمبر پیش کیا جس میں مولانا کا انٹرویو اور دیگر مضامین شائع کیے گئے۔۱۲؍اکتوبر ۹۷۹اء کو ’’بادبان‘‘، لاہور نے مجیب الرحمن شامی کی زیر نگرانی خصوصی اشاعت شائع کی۔اسی طرح ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ نے ۱۵؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کا شمارہ اور ماہنامہ ’’آتش فشاں‘‘ نے نومبر ۱۹۷۹ء کے مدیر منیر احمد منیر نے اپنے دیگر ساتھیوں ظفر اقبال احمد اور رفیق قریشی کے ساتھ مل کر یہ خصوصی اشاعت پیش کی۔ اس میں مولانا پر دیگر مضامین کے علاوہ اہلِ خانہ کے انٹرویو اور بہت سی نایاب تصاویر بھی شامل اشاعت کی گئیں۔
دسمبر ۱۹۷۹ء میں ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ نے سلیمان یوسف، عطش درانی، عبدالکریم کی زیر ادارت یہ نمبر شائع کیا گیا جس میں مولانا کے بارے میں علما و مشاہیر کے نئے مضامین، مولانا کے بارے میں انٹرویو، مولانا کی تحریریں اور مولانا کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
جنوری ۱۹۸۰ء میں ماہنامہ ’’الحسنات‘‘ کے مدیر ابوسلیم محمد عبدالحی نے ’’یادگار مودودی‘‘ کے عنوان سے خاص اشاعت شائع کی۔ جنوری کے مہینے میں ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ کے مدیران مجیب الرحمن شامی اور محمد شریف کیانی نے ’’سیّد مودودی‘ کے عنوان سے یہ خصوصی اشاعت پیش کی۔
مدیر ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ نعیم صدیقی نے اپریل ۱۹۸۰ء میں ’’سیّد ابوالاعلیٰ مودودی‘‘ کے نام سے خاص نمبر شائع کیا۔ یہ خاص نمبر اب تک شائع ہونے والے سارے خاص نمبروں سے معیار، مواد کے اعتبار سے ضخیم تھا۔اس میں تعزیت نامے، تعزیتی قراردادیں، منظوم خراجِ عقیدت، تاثرات، شخصیت، یادگار واقعات، آخری لمحات، سفر آخرت، قطعات کے علاوہ سوانح مضامین شامل اشاعت تھے۔
ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ نے اکتوبر ۱۹۸۰ء نعیم صدیقی کی زیر ادارت ’’انٹرویو نمبرـ‘‘ شائع کیا جس میں مولانا مودودیؒ کے غیرمطبوعہ اور غیرنشر شدہ انٹرویو شامل اشاعت کیے گئے۔
ماہنامہ ’’زندگی‘‘، رام پور (مدیر سیّد احمد قادری) نے فروری ۱۹۸۱ء اپنے ’’انٹرویو‘‘ نمبر میں بھی مولانا کا ایک انٹرویو شائع کیا۔
ادارہ تعلیمات و تحقیق، جامعہ پنجاب، لاہور کے شمارہ ماہنامہ ’’تعلیمات‘‘ (مدیران: مشتاق الرحمن صدیقی، امیر الدین احسن، محمد انور صدیقی) نے ستمبر ۱۹۸۱ء میں خاص اشاعت کا اہتمام کیا، جس میں چند قدیم مضامین کے علاوہ نئے مضامین اورمولانا کی اپنی تحریریں بھی شامل کی گئی ۔
ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘نے بتاریخ ۲۴؍مئی ۱۹۸۷ء، ۱۴؍ستمبر ۱۹۹۰ء، ۲۸؍ستمبر ۱۹۹۰ء تین مختصر خاص نمبر شائع کیے۔لیکن ۲۹؍ستمبر ۱۹۹۱ء (مدیر صفدر چودھری) کے شمارے کو ’’سیّد مودودی‘‘ نمبر کے طور پر شائع کرکے مولانا کی زندگی اور افکار ونظریات کے نئے پہلوئوں کو اُجاگر کیا گیا۔
ماہنامہ ’’قافلہ حق‘‘ نے شفیق الاسلام فاروقی، محمد اسلم صدیقی، جمیل احمد رانا، احسن ناز اختر، طارق عبداللہ سہیل، عنایت اللہ کی زیر ادارت ستمبر ۱۹۹۱ء کو ’’رجلِ عظیم‘‘ کے عنوان سے نمبر شائع کیا، جس میں مولانا کا ااور اُن پر دیگر کے انٹرویو بھی شائع کیے۔
۱۴؍مارچ ۱۹۹۳ء کو ایک بار پر ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘ نے مدیر صفدر چودھری کی زیر ادارت ’’سیّد مودودی‘‘ نمبر شائع کیا۔ اور اُس کے بعد ۲۹؍ستمبر ۱۹۹۵ء کو صفدر چودھری اور مرزا محمد الیاس کی زیر ادارت پھر ’’سیّد مودودی‘‘ نمبر شائع کرکے مولانا کی سوانح، خدمات اور افکار کو اُجاگر کیا گیا۔
ہفت روزہ ’’آئین‘‘کے مدیر مظفر بیگ نے جولائی ۱۹۹۶ء کو ’’مولانا مودودی اور تصوف‘‘ کے عنوان مصنف شیخ احمد ایڈووکیٹ کی کتاب کا مکمل متن شائع کیا۔
ماہنامہ ’’افکارِ معلم‘‘ نے نصیرالدین ہمایوں کی زیر ادارت ستمبر ۲۰۰۳ء میں بعنوان ’’سیّد مودودی‘‘ نمبر پیش کیا جس میں نئے تقاضوں کے مطابق مضمون لکھوا کر شائع کیے گئے۔
۲۰۰۳ء میں مولانا سیّد مودودی کے صد سالہ یومِ ولادت (۱۹۰۳ء -۲۰۰۳ء) کے موقع پر ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ نے مدیرانِ گرامی: پروفیسر خورشید احمد، مسلم سجادؒ اور سلیم منصور خالد کی زیر نگرانی ایک عظیم الشان خاص نمبر کا اہتمام کیا جس کو دو شماروں (اکتوبر ۲۰۰۳ء اور مئی ۲۰۰۴ء) کی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس عظیم الشان خاص نمبر کے لیے پاک و ہند کے علاوہ دیگر بہت سے ممالک سے علمائِ کرام، مشاہیر عظام، دانشوروں اور محققین کی ایک جماعت نے مولانا مودودیؒ کے حوالے سے قدیم و جدید کے موضوعات کو سامنے رکھتے ہوئے علمی و تحقیقی انداز میں مقالات پیش کیے ہیں۔ ان دونوں حصے مولانا کی سوانح پر تاثراتی مضامین کے علاوہ مولانا کے افکار و نظریات اور جدید مسائل کے حوالے سے بہت گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔
ماہنامہ ’’ہمقدم‘‘ نے ’’سیّد مودودی‘‘ نمبر کے عنوان سے ہدایت الرحمن حسن، احمد حامدی، رب نواز ملک، تنویر ہارون، دائود احمد درانی، اعظم طارق کوہستانی، طلحہ ادریس کی زیر ادارت باتصویر خاص نمبر شائع کیا ہے۔ جس میں قدیم مضامین کے علاوہ نئے مضامین کو شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ مولانا کی زندگی کے کئی گوشوں کے حوالے مضامین شامل اشاعت ہیں۔ کیا بہتر تھا کہ ماہنامہ ’’ہمقدم‘‘ کے آج تک مکمل ریکارڈ میں مولانا مودودیؒ کے حوالے سے مضامین کا اشاریہ بھی اس اشاعت میں شائع کیا جاتا جس سے اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی۔
نوٹ: ہفت روزہ ’’اُفق‘‘، کراچی نے ۱۶ صفحات پر مشتمل ، روزنامہ ’’انصاف‘‘، لاہور نے (بعنوان ’’ سیّد مودودی‘‘ نمبر)۶۶ صفحات پر اور روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی نے بھی (بعنوان ’’ سیّد مودودی‘‘ نمبر) ۱۳۴ صفحات پر خاص اشاعتیں پیش کیں، ان اشاعتوں کے ٹائٹل یا تو مدہم ہیں یا پھر ان پر تواریخ کا اندازہ کرنا مشکل ہورہا ہے، اس ضمن میں بھی تعاون کی گزارش ہے۔

Share this: