ڈاکٹر سید مراد علی شاہ شخصیت اور خدمات

جماعت اسلامی خیبر پختون خوا کے طویل عرصے تک نائب امیر اور افغان جہاد کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم قاضی حسین احمد مرحوم کے افغان امور کے مشیر سابق سینیٹر ڈاکٹر سید مراد علی شاہ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ مرحوم نے ورثا میں دو بیٹے اور دوبیٹیاں چھوڑے ہیں، جن میں بڑے بیٹے سید منظور علی شاہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں، جب کہ دوسرے بیٹے انور شاہ کاشت کاری کے پیشے سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی دونوں بیٹیاں تحریکِ اسلامی میں خاصی متحرک ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی بلقیس حسین جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر سابق رکن صوبائی اسمبلی رہ چکی ہیں، جب کہ دوسری بیٹی نسرین مراد الخدمت خواتین ٹرسٹ خیبر پختون خوا کی ذمہ دار ہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر مراد علی شاہ کا شمار نہ صرف خیبر پختون خوا میں تحریکِ اسلامی کے ابتدائی لوگوں میں ہوتا ہے بلکہ وہ جہاں تحریک سے وابستہ خیبرپختون خوا کے چند نامی گرامی اور بڑے زمینداروں میں سے تھے، وہیں وہ خیبر پختون خوا کے اُن گنے چنے افراد میں شامل تھے جنہیں 1950ء کی دہائی کے اوائل میں تاریخی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کرنے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ ان کی ایک اور انفرادیت زمانۂ طالب علمی میں جب اسلامی جمعیت طلبہ کو وجود میں آئے ابھی چند سال ہی ہوئے تھے، وہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور اقامتِ دین کی جدوجہد سے شعوری لگائو کی بنیاد پر صوابی اور خیبر پختون خوا جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق کے باوجود جمعیت کے ناظم اعلیٰ بن گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق چونکہ ایک متمول اور خوشحال زمیندار گھرانے سے تھا اس لیے تعلیم سے فراغت کے بعد وہ غمِ روزگار کے روایتی جھنجھٹوںمیں نہیں پڑے، بلکہ اپنی تمام توانائیاں اس بنجر خطے میں اسلام کی ترویج واشاعت اور تحریک ِ اسلامی کو منظم کرنے میں صرف کیں، جسے وہ آخر دم تک اپنی سعادت سمجھتے رہے۔ 1979ء میں افغانستان پر سوویت یلغار کے بعد وہ اُس وقت کی واحد نامی گرامی شخصیت تھے جنہوں نے اُس وقت کے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر جناب قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر افغانستان کے اندر جاکر ان نامساعد حالات میں اسلامی تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور جب سوویت جارحیت اور مظالم سے مجبور ہوکر لاکھوں افغان مہاجر بن کر اپنا گھربار چھوڑ کر پاکستان ہجرت پر مجبور ہوگئے تو ان لٹے پٹے لاکھوں خاندانوں کی دادرسی اور آبادکاری میں آخر دم تک قاضی صاحب کو جس صاحبِ عزیمت شخصیت کا تعاون دامے، درمے، سخنے حاصل رہا اُس مردِ درویش اور صاحبِ سخاوت کا نامِ نامی ڈاکٹر مراد علی شاہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی سخاوت اور بزلہ سنجی ضرب المثل تھی۔
یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں ہوگا کہ تحریکِ اسلامی کے ساتھ منسلک افراد کی اکثریت کا تعلق یا تومعاشرے کے غریب یا پھر متوسط طبقے سے ہوتا ہے، اور علمی و اقتصادی لحاظ سے خیبر پختون خوا جیسے پسماندہ صوبے میں تو تحریکی افراد کی حالت اور بھی دگرگوں ہے، لہٰذا ایسے میں جوگنے چنے صاحبِ ثروت لوگ تحریک سے وابستہ ہوجاتے ہیں وہ بھی اپنی تحریکی مصروفیات اور اخراجات کے باعث نہ صرف مالی تنگی کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ بسااوقات تحریک کی مالی آبیاری کے قابل بھی نہیں رہتے، لیکن ڈاکٹر مراد علی شاہ کا شمار اُن متمول افراد میں ہوتا تھا جن کا ہاتھ نہ صرف ہمیشہ اوپر رہا بلکہ ان کے ہاں سے تحریکی ضروریات کی خاطر اعانت کے لیے جانے والا کبھی بھی کوئی خالی ہاتھ اور مایوس نہیں لوٹا۔ ایک ایسا ہی واقعہ سناتے ہوئے آئی آر ایس پشاور کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن قریشی نے راقم الحروف کو بتایا کہ ایک دفعہ زمانۂ طالب علمی میں وہ اور جماعت اسلامی پاکستان کے موجودہ امیر جناب سراج الحق ان سے جمعیت کے کسی اجتماع کے لیے اعانت مانگنے گئے تو انہوں نے جیب سے ایک ایک ہزار روپے کے پانچ نوٹ نکال کر تین ہزار ہمیں دے دیئے، جب کہ دوہزار اپنی ضرورت کے لیے رکھ لیے، ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور موقع غنیمت جان کر ڈاکٹر صاحب جن کے ساتھ ہماری خاصی بے تکلفی تھی، کے ہاتھ سے وہ دوہزار روپے اچکتے ہوئے انہیں کہا کہ اب جب یہ باہر آگئے ہیں تو انہیں دوبارہ جیب کے اندر نہیں جانا چاہیے۔ یہ سن کر وہ نہ صرف خوب ہنسے بلکہ ہمیں چائے پلا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ رخصت کیا۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے بتایا کہ آئی آر ایس کے پلیٹ فارم سے جب افغان جہاد کے ابتدائی دنوں میں محترم قاضی حسین احمد نے اسلامی لٹریچر اور قرآن پاک کی تفسیر کے روسی اور فارسی زبانوں میں ترجمے کا سلسلہ شروع کرکے افغانستان میں متعین روسی افواج تک پہنچانے کا انتہائی مشکل ٹاسک اپنے ذمے لیا تو اس سارے عمل کو عملی اور مالی طور پر منظم کرنے کے لیے قاضی صاحب کی نگاہِ انتخاب جس مردِ قلندر پر پڑی وہ ڈاکٹر مراد علی شاہ تھے۔ یاد رہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کا قیام پشاور میں 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ایک تحقیقی ادارے کے طور پر عمل میں لایا گیا تھا، جسے بعدازاں سوسائٹیز ایکٹ 1860ء کے تحت رجسٹر کیا گیا۔ روسی جارحیت کے خلاف افغان جہاد کے دوران آئی آر ایس نے تجزیہ اور تصنیف اور ترجمے کا کام سرانجام دیا۔ افغان جہاد کے حوالے سے متعدد کتب، رپورٹس، سرویز اور تجزیوں کے علاوہ تفہیم القرآن اور دیگر اسلامی کتب کا روسی اور فارسی زبانوں میں ترجمہ کرکے انہیں بڑی تعداد میں افغانستان، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایک موقع پر ڈاکٹر مراد علی شاہ نے بتایا کہ ان کا تجزیہ ہے کہ ہم جن کتب کے تراجم کررہے ہیں وہ روسیوں کے ذوقِ مطالعہ کے مطابق نہیں ہیں، کیونکہ ان کے علم اور مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ روسی فکشن، ناول اور حکایات کی کتب شوق سے پڑھتے ہیں، لہٰذا آپ ایک ملک گیر سروے کے ذریعے پتا لگائیں کہ اس بات میں کتنی حقیقت ہے تاکہ ہم اس کے مطابق اپنی حکمتِ عملی بناسکیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے بتایا کہ وہ یہ سروے کرنے ملک کے ہر اُس گوشے میں گئے جہاں انہیں پتا چلتا تھا کہ یہاں روسی زبان جاننے والے موجود ہیں۔ کئی ماہ پر محیط یہ سروے انہوں نے اپنے ذاتی خرچے پر کروایا، اور نہ تو اس کا ذکر کسی سے کیا اور نہ ہی اس کا کوئی معاوضہ طلب کیا، جو ان کی اسلام کی ترویج و اشاعت سے دلچسپی اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر مراد علی شاہ کو جتنا زیادہ مال ودولت سے نوازا تھا اتنا ہی ان کو دل بھی بڑا دیا تھا، اور اس کے وہ درجنوں بار گواہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی خوش خوراک تھے اور ان کی مجلسوں میں شریک ہونے والے بھی اس حوالے سے ہمیشہ خوش قسمت واقع ہوتے تھے۔ نمک منڈی کے تکے ان کی پسندیدہ خوراک تھی جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہ ہر وقت کسی ہمراہی کی نہ صرف راہ تکتے رہتے تھے، بلکہ ایسے خواہش مندوں کی خواہش پوری کرنا وہ اپنی سعادت بھی سمجھتے تھے، جس کا ہم نے اُن کی صحبت میں رہتے ہوئے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔
ڈاکٹر صاحب نے ایک کٹرپختون زمیندار گھرانے سے تعلق کے باوجود اپنی بیٹیوں کی تعلیم وتربیت پر کبھی بھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ انہوں نے نہ صرف بیٹیوں کو تحریکی گھرانوں میں بیاہا، بلکہ اپنے بیٹوں کے لیے بھی ایسے رشتوں کی تلاش میں رہے جو تحریکی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہوں۔
پاکستان اسٹڈی سینٹر یونیورسٹی آف پشاور کے ڈائریکٹر اور معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام نے ڈاکٹر مراد علی شاہ کے بارے میں بتایا کہ ان کی خدمات کا احاطہ تو ایک ضخیم کتاب بھی نہیں کرسکتی، تاہم ان سے وابستہ چند یادیں اور ان کی محبتیں مجھے ہمیشہ یاد رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرا دورِ طالب علمی خاصا ہنگامہ خیز تھا، مگر ساتھ ساتھ پڑھنے اور سیکھنے کا جنون بھی سر پہ سوار تھا، اس لیے جو بھی عالم و فہیم شخص ملتا اُس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتا۔ ڈاکٹر صاحب اہلِ دانش کے اسی طبقے سے تھے۔ آپ میرے سیکھنے کے شوق، قدرے بہتر تعلیمی کارکردگی اور جمعیت کے ذمہ دار ہونے کے سبب مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ کئی عشرے پہلے ڈاکٹری ترک کرچکے تھے۔ بس وسیع رقبے پر اپنی زمینوں و باغات کی رکھوالی اور مطالعہ ان کے کام، اور سیاسی سرگرمیاں ان کا معمول تھا۔ وہ بہت زیادہ وسیع المطالعہ تھے۔ ان کے گھر جاتا تو گھنٹوں ان کی مجلس سے فیض یاب ہوتا۔ فکری غذا بھی ملتی تھی اور کھانے والی غذا بھی۔ ان ہی کے گھر دیگر اہلِ علم عبداللہ صاحب سابق چیف سیکرٹری، فلسفہ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم، قرطبہ یونیورسٹی کے بانی پروفیسر عبدالعزیز خان نیازی اور سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر فتح الرحمٰن سے بھی بہت کچھ سنا اور سیکھا۔ ایسا بارہا ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی زمینوں کے معائنے پر نکلتے تو مجھے ساتھ لے جاتے۔ دورانِ سفر ان کی علمیت اور بذلہ سنجی کا لطف اٹھاتا۔ ڈاکٹر صاحب جود و سخا، ملنساری اور وضع داری کا نادر نمونہ تھے۔ ایسے لوگ ناپید ہوگئے ہیں، لہٰذا ان کے بارے میں اب یہی کہا جاسکتا ہے کہ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔
جماعت اسلامی خیبرپختون خوا کے سابق نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے ڈاکٹر مراد علی شاہ کے بارے میں نمائندۂ فرائیڈے اسپیشل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات 1973ء میں کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر اُس وقت ہوئی تھی جب وہ تازہ تازہ جمعیت میں شامل ہوئے تھے اور ڈاکٹر صاحب جماعت کے کسی کام کے سلسلے میں کراچی آئے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں بطور مہمان ٹھیرے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد (اجمل خان مرحوم جو ایک معروف بینکار تھے) جب مردان میں ایچ بی ایل کے منیجر تھے اُس وقت سے ان کے والد اور ڈاکٹر مراد علی شاہ کے درمیان ان کے والد صاحب علی حیدر باچا جن کا ایچ بی ایل مردان میں اکائونٹ تھا، کے توسط سے تعلق پیدا ہوگیا تھا۔ انہوں نے اس تعلق کے بارے میں بتایا کہ دراصل جب ایک مرتبہ ڈاکٹر مراد علی شاہ صاحب کے والد صاحب نے بینک میں جمع شدہ اپنی اچھی خاصی رقم پر سالانہ سودی منافع لینے سے انکار کیا تو اس طرح ان کے اور ڈاکٹر اقبال خلیل کے والد صاحب کے درمیان دوستی کا تعلق پیدا ہوگیا جو بعد میں جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے بعد انہیں منتقل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہمارے گھر میں قیام کے دوران جب ڈاکٹر صاحب کو میرے جمعیت میں شامل ہونے کا پتا چلا تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے اور اس ملاقات میں ہم بیٹھ کر گھنٹوں مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے، بعد میں جب وہ رخصت ہونے لگے تو مجھے کہا کہ انہوں نے میرے لیے ایک تحفہ جماعت کے دفتر میں رکھا ہے وہاں سے جاکر وصول کرلوں۔ دفتر جاکر دیکھا تو وہاں ایک بڑا پیکٹ میرا منتظر تھا، کھول کر دیکھا تو اس میں درجنوں کتابیںتھیں جنہیں اٹھا کر میں گھر لے آیا، اور چونکہ مجھے پڑھنے کا کافی چسکا تھا اس لیے خوب مزے لے لے کر کئی ماہ تک ان کا مطالعہ کرتا رہا۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ ڈاکٹر مراد علی شاہ کے ساتھ ساری زندگی ایک قریبی روحانی تعلق قائم رہا، اور ہر اہم مسئلے میں جب بھی ان سے راہنمائی مانگی انہوں نے کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیا۔ وہ علم کا ایک بے بہا سمندر اور ایک شفیق و ملنسار انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مراد علی شاہ صاحب چونکہ آئی آر ایس کے بانیان میں سے تھے اس لیے جب 2008ء میں مجھے قاضی صاحب نے آئی آر ایس کو فعال کرکے اس کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا تو میں جب بھی ان سے اس سلسلے میں راہنمائی لینے جاتا تو ان کو پہلے سے زیادہ پُرجوش پاتا۔ وہ پیرانہ سالی اور ضعف کے باوجود آخر دم تک آئی آر ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر رہے۔ ڈاکٹر اقبال خلیل نے کہا کہ جب 2018ء میں آئی آر ایس کے لیے خیبر کلے رنگ روڈ پشاور میں ایک پلاٹ خرید کر نئے دفتر کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں انہیں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کے لیے ان کے ہاں تشریف لے گیا تو ڈاکٹرصاحب بہت خوش ہوئے اور کہاکہ اگر ان کی طبیعت نے تھوڑی بھی وفا کی تو وہ ضرور اس تقریب میں شرکت کرنے آئیں گے، لیکن بدقسمتی سے جس دن تقریب تھی رابطہ کرنے پر پتا چلا کہ اس دن ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی جس کی وجہ سے وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکے، اور بعد میں ڈاکٹر اقبال سے معذرت بھی کی اور نہ آنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
ان کی بیٹی نسرین مراد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ہر ایک دو مہینے بعد ہمارے گھروں میں باقاعدگی سے تشریف لاتے تھے، اور ہماری تمام ضروریات مثلاً گھر کا خرچہ، بچوں کے خرچے، بچوں کی اسکول فیس، عید پر کپڑے وغیرہ… تو ہم جیسے ہی اِدھر اُدھر ہوتے ڈاکٹر صاحب فوراً سمجھ جاتے کہ ان کو پیسوں کی ضرورت ہے، بس اسی وقت چیک بک نکال کر ہزاروں کیا کبھی کبھی لاکھوں روپے لکھ ہمارے حوالے کردیتے تھے۔ یہ دراصل بحیثیت باپ اُن کا انتہائی ذمہ داری کا احساس تھا۔ وہ تمام نواسوں کا باقاعدہ پوچھتے، ان کی اسٹڈی کے حوالے سے انتہائی فکرمند رہتے، اور خاص کر دینی تعلیم اور تربیت کے بارے میں تو لازماً استفسار کرتے۔ انہوں نے ہم بیٹیوں کی دینی تعلیم و تربیت کا خصوصی خیال رکھا۔ ان کی بیٹیاں آج قرآن پاک کے دروس دیتی ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب کی ایک بہو بھی قرآن کی اچھی مدرسہ ہیں۔ ایسی بہوئوں کا انتخاب بھی ڈاکٹر صاحب کا کمال تھا۔ ان کی بیٹی کا کہنا تھا کہ عین آخری وقت ڈاکٹر صاحب نے انہیں کہا کہ مجھے ان سوالوں کے جوابات بالکل اچھی طرح یاد ہیں جو مجھ سے ابھی قبر میں پوچھے جائیں گے۔ ان کے جنازے میں شریک ایک ساتھی نے کہا کہ وہ ایک دن ڈاکٹر صاحب کے مہمان تھے تو وہ انہیں اپنی زمینوں کی طرف لے گئے جہاں ایک جگہ پر بہت سارے افغان مہاجر ان کی زمین پر قابض ہوکر گھر بنائے ہوئے تھے، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ میری انتہائی قیمتی زمین ہے لیکن یہ لوگ جب تک یہاں رہیںگے میں انہیں کچھ نہیں کہوں گا، کیونکہ یہ مہاجر اور مجبور ہیں اور ہم ساری دنیا میں ان کی جنگ لڑ رہے ہیں، لہٰذا انہیں یہاں سے نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ بھی وہ بے شمار طلبہ کی باقاعدہ مالی مدد کرتے تھے۔ ان کی بیٹی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب ایک دن کہہ رہے تھے کہ ان کی خفیہ مالی امداد سے اللہ تعالیٰ نے کئی افراد کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد اچھے اچھے عہدوں پر تعینات کیا ہے جس پر وہ ہمیشہ فخر کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ نسرین مراد نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کے دینی کتب سے شغف اور دلچسپی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ جب بھی بازار جاتے تو ہمارے لیے دینی کتب اور مختلف تفاسیر لے کر آتے، اور اس ضمن میں انہوں نے ہماری ہمیشہ حوصلہ افزائی کی، وہ ہمارے لیے ایک مثالی والد اور ایک اچھے دوست تھے۔