کیا امریکہ ایک ناکام ریاست ہے؟۔

Print Friendly, PDF & Email

کورونا کی زد میں آتے ہی امریکی معیشت کا پہیہ جام ہوگیا اور صرف دو ماہ میں امریکی معیشت نے ’’تین کروڑ‘‘ افراد کو بے روزگار کردیا

کمیونزم کے خاتمے اور سوویت یونین کی تحلیل نے امریکی مدبرین اور دانش وروں کو ساتویں آسمان کی مخلوق بنادیا تھا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ دانشور فوکو یاما نے End of History کا اعلان کردیا۔ امریکہ کے ممتاز کالم نگار چارلس کرائو ہیمر نے Unipolar Moment یا یک قطبی لمحے پر بھنگڑا ڈال دیا۔ فوکویاما نے تاریخ کے خاتمے کا اعلان کیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ تاریخ کا سفر کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی کشمکش کا حاصل تھا۔ اس کشمکش میں سرمایہ دارانہ نظام نے کمیونزم اور اس کی سب سے بڑی علامت سوویت یونین کو مار گرایا ہے، چنانچہ اب تاریخ کا سفر ختم ہوگیا ہے۔ چارلس کرائو ہیمر کے یک قطبی لمحے یا Unipolar Moment کا مفہوم یہ تھا کہ اب تک دنیا دو قطبی تھی مگر سوویت یونین کے خاتمے سے دنیا یک قطبی ہوگئی ہے، اور اب امریکہ دنیا میں جو کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ اُس زمانے میں امریکہ کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کو ’’ناکام ریاست‘‘ کی سند بانٹتا پھرتا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے روانڈا اور برونڈی ہی کو نہیں، پاکستان کو بھی نہ بخشا۔ اس نے کہا کہ پاکستان اب ایک ناکام ریاست ہے۔ یہاں تک کہ امریکیوں نے پاکستان کو بکھرتا دکھانے والے نقشے شائع کرنے شروع کردیے۔ لیکن آج کورونا نے امریکہ کا یہ حال کردیا ہے کہ امریکہ کے ممتاز میگزین Atlantic نے اپنے حالیہ شمارے میں امریکہ کو ایک ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکی ایک ناکام ریاست میں زندگی بسر کررہے ہیں (ڈان۔ 27 اپریل 2020ء)۔ اٹلانٹک نے امریکہ کو صرف ناکام ریاست ہی قرار نہیں دیا، اُس نے اس ناکام ریاست کی ناکامی کے مظاہر کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اٹلانٹک کے بقول امریکہ کی سیاسی اشرافیہ ’’بدعنوان‘‘ ہے۔ بیوروکریسی منجمد یا ’’ارتقا سے محروم‘‘ ہے۔ امریکہ کی معیشت ’’سنگ دل‘‘ یا “Heartless” ہے۔ رہے امریکہ کے عوام، تو وہ ’’منقسم‘‘ ہیں۔ چنانچہ اٹلانٹک کے مطابق جب کورونا امریکہ آیا تو اُس نے ملک کو بدترین حالات کا شکار پایا، اور اُس نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ امریکی جمہوریت پوری دنیا میں خود کو جمہوریت کے مثالی نمونے کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر اب خود امریکہ کا ایک ممتاز اور مؤقر رسالہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ کی سیاسی اشرافیہ تو بدعنوان ہے۔ پاکستانی اصطلاحوں میں بات کی جائے تو امریکی رسالہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ کی سیاسی اشرافیہ ’’شریفوں‘‘ اور ’’زرداریوں‘‘ سے بھری ہوئی ہے۔ اب اگر امریکہ کی سیاسی اشرافیہ شریفوں اور زرداریوں سے بھری ہوئی ہے تو امریکہ آزاد دنیا کا ’’رہنما‘‘ تو نہ ہوا، وہ تو تیسری دنیا کا ایک ملک ہوگیا۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ مغرب کا پاکستان یا مغرب کا مصر ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے ناکام ریاست ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ ساری دنیا میں امریکی بیوروکریسی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ امریکہ کی وزارتِ خارجہ دنیا بھر میں مثالی سمجھی جاتی ہے۔ امریکہ کے دفاعی ماہرین کو لوگ حیرت اور ہیبت سے دیکھتے ہیں۔ امریکہ کے ماہرینِ معاشیات کی اہلیت و صلاحیت کی مثالیں دی جاتی ہیں، مگر اٹلانٹک کہہ رہا ہے کہ امریکہ کی بیوروکریسی تو منجمد یا ارتقا سے محروم ہے۔ اردو زبان میں بات کی جائے تو اٹلانٹک کہہ رہا ہے کہ امریکہ کی بیوروکریسی ’’زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘ کے مصداق ہے۔ اس اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو امریکہ ایک ناکام ریاست ہی نظر آرہا ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے پر اتراتا پھرتا ہے۔ امریکی معیشت ’’استحکام‘‘ اور ’’خوش حالی‘‘ کی علامت ہے، مگر اٹلانٹک کہہ رہا ہے کہ بھائی، امریکی معیشت تو ’’سنگ دل‘‘ یا Heartless ہے۔ اس کی مثال اٹلانٹک نے نہیں دی، اس لیے ہم دے دیتے ہیں۔ کورونا کی زد میں آتے ہی امریکی معیشت کا پہیہ جام ہوگیا اور صرف دو ماہ میں امریکی معیشت نے ’’تین کروڑ‘‘ افراد کو بے روزگار کردیا۔ امریکہ دنیا کا مال دار ترین ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، اس کے صنعت کار اور تاجر بھی بڑے ہیں، اس کے سرمایہ کار بھی بڑے ہیں۔ امریکہ کا معمولی تاجر اور صنعت کار بھی ہمارے بڑے بڑے تاجروں اور صنعت کاروں سے بڑا ہے۔ امریکہ کا معمولی سرمایہ دار بھی ہمارے بڑے بڑے سرمایہ داروں پر فوقیت رکھتا ہے۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ امریکہ کے صنعت کار، تاجر اور سرمایہ دار بہت آسانی کے ساتھ پانچ چھے ماہ تک اپنے ہنر مندوں، اپنے محنت کشوں اور اپنے ملازموں کا بوجھ اٹھا سکتے تھے اور انہیں گھر پر بٹھا کر تنخواہیں دے سکتے تھے، مگر کورونا کے پہلے ہی حملے میں انہوں نے صرف دو ماہ میں 3 کروڑ سے زیادہ افراد کو بے روزگار کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امریکہ کے تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی جیب بڑی ہے مگر دل چھوٹا ہے۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ ایک ناکام ریاست ہے۔
امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے، سب سے بڑی معیشت ہے، سب سے بڑی عسکری طاقت ہے، سب سے بڑی ٹیکنالوجیکل قوت ہے، سب سے شاندار حال اور سب سے شاندار مستقبل کی حامل ہے۔ چنانچہ اس کے عوام کو ’’متحد‘‘ ہونا چاہیے۔ امریکہ کا پورا نام ہی ریاست ہائے متحدہ ہے۔ مگر اٹلانٹک کہہ رہا ہے کہ امریکی قوم منقسم ہے، امریکی معاشرہ کہیں ’’دائیں بازو‘‘ اور ’’بائیں بازو‘‘ کی بنیاد پر منقسم ہے، کہیں ’’سیاہ‘‘ اور ’’سفید فام‘‘ کی بنیاد پر منقسم ہے، کہیں ’’امیر‘‘ اور ’’غریب‘‘ کی بنیاد پر منقسم ہے‘ کہیں ’’مقامی‘‘ اور ’’غیر مقامی‘‘ کی بنیاد پر منقسم ہے، کہیں کورونا سے بند نظام کو کھولنے اور نہ کھولنے کی بنیاد پر منقسم ہے، کہیں امریکہ کے عالمی کردار اور مقامی کردار کی بنیاد پر منقسم ہے۔ دنیا کا کامیاب ترین معاشرہ اور اتنی تقسیم؟ اس تناظر میں بھی دیکھا جائے تو امریکہ ایک ناکام ریاست ہے۔
امریکہ کے خبروں سے متعلق ادارے Politico نے بھی اٹلانٹک کی طرح امریکہ کی ناکامی کو عیاں کیا ہے۔ پولی ٹکو نے لکھا ہے کہ امریکی سیاست کئی دہائیوں سے ملک میں صحت کے نظام سے لاتعلق ہے اور اسے اس سلسلے میں جتنی رقم خرچ کرنی چاہیے تھی، اُس نے نہیں کی، چنانچہ جب وبا آئی تو وہ پوری ٹیم جو وبا سے لڑنے کے لیے خلق ہوئی تھی، ایک ایسے صدر کے لیے کام کرتی ہوئی پائی گئی جو ’’عمل‘‘ کے لیے تیار تھے نہ آمادہ۔ پولی ٹکو کے مطابق جب صدر کو وبا کی آمد کے بارے میں بتایا گیا تو صدر اور ان کے سیاسی معاونین نے بریفنگ دینے والوںکے احساسِ ذمہ داری میں شریک ہونے سے انکار کردیا، یہاں تک کہ انہوں نے بریفنگ دینے والوں کو خوف پھیلانے والا قرار دیا۔ اس اعتبار سے بھی امریکہ کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ ایک ناکام ریاست کا منظر پیش کرتا نظر آتا ہے۔
امریکہ کی ناکامی اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جب امریکہ کے صدر کو بتایا گیا کہ ملک میں وبا کا آغاز ہوگیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وبا سے متاثرہ صرف ایک فرد چین سے امریکہ آیا ہے اور حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ افراد کی طرح قوموں کا بھی ایک تصورِ ذات یا Self Image ہوتا ہے۔ امریکہ کا تصورِ ذات یہ ہے کہ امریکہ واحد سپر پاور ہے، امریکہ عظیم ہے، امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، امریکہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے، امریکہ اپنی تقدیر کا مالک ہے، امریکی صدر کینیڈی کے الفاظ میں امریکہ خدا کا ایجنٹ ہے اور معاذ اللہ خدائی صفات کا حامل ہے۔ چنانچہ ایک وبا، ایک معمولی سا وائرس امریکہ کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ امریکی صدر نے اس طرزِ فکر کو یہ کہہ کر نمایاں کیا کہ امریکہ بند ہونے کے لیے نہیں بنا ہے۔ سفید فام امریکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی سڑکوں پر آکر یہی نعرہ لگا رہی ہے کہ امریکہ بند ہونے کے لیے نہیں بنا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کا ’’تصورِ ذات‘‘ یا ’’تصورِ بدذات‘‘ اس کے اور حقیقت کے درمیان ایک حجاب بن گیا، اور امریکہ کورونا کی ممکنہ تباہی کا اندازہ بھی نہ کرسکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ سطور 9 مئی 2020ء کی رات کو لکھی جارہی ہیں اور اس وقت تک کورونا امریکہ میں 76 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے اور چند گھنٹوں بعد امریکہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کرنے والی ہے۔ اس مرحلے پر امریکہ کا تصورِ ذات ایک بار پھر امریکہ اور حقیقت کے درمیان حجاب بن رہا ہے، چنانچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ کورونا سے امریکہ میں ایک لاکھ 35 ہزار افراد ہلاک ہونے والے ہیں۔ حالانکہ 13 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں، چنانچہ اگر متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ پر منجمد ہوجائے تو بھی امریکہ میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ پیدا ہوچکا ہے۔ کیا یہ بات ریکارڈ پر نہیں ہے کہ امریکہ کے ماہرین نے کہا تھا کہ کورونا سے زیادہ سے زیادہ 50 یا 60 ہزار افراد ہلاک ہوں گے، مگر ایک ماہ میں ہی یہ تعداد 76 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ان حقائق کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو امریکہ الف سے یے تک ایک ناکام ریاست نظر آتا ہے۔ جو ریاست نہ خود کو سمجھ سکے، نہ اپنے دشمن کو سمجھ سکے اس سے زیادہ ناکام کون ہوگا؟
یہ بات ذرائع ابلاغ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب چین میں کورونا پھیلا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ چین وبا پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے اور امریکہ میں صورتِ حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ مگر اب ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو تواتر کے ساتھ شور مچا رہے ہیں کہ کورونا ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا، حالانکہ وہ اس سلسلے میں کوئی ایک ٹھوس شہادت بھی پیش نہیں کرسکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کوئی ڈونلڈ ٹرمپ یا مائیک پومپیو کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اقوام متحدہ کا ادارہ ہے، اور اقوام متحدہ کی پوری تنظیم امریکہ اور یورپ کے زیر اثر ہے، لیکن عالمی ادارۂ صحت کے ہنگامی حالات سے متعلق شعبے کے سربراہ مائیکل ریان نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ کورونا ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا (روزنامہ جنگ۔ 5 مئی 2020ء)۔ اس سلسلے میں امریکہ کی انٹیلی جنس برادری کا بیان بھی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ کی انٹیلی جنس برادری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس نہ تو کسی انسان نے بنایا ہے، نہ اس میں کسی انسان نے کوئی تبدیلی کی ہے۔ امریکہ کی انٹیلی جنس برادری نے یہ بھی بتایا کہ کورونا جینیاتی طور پر بھی تیار نہیں کیا گیا (روزنامہ جنگ۔ یکم مئی 2020ء)۔ جرمنی امریکہ کا اتحادی ہے، اور اس سے زیادہ امریکی مفادات کو کون سمجھ سکتا ہے! مگر جرمن وزارتِ دفاع اور جرمن انٹیلی جنس ایجنسی پی این ڈی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے چین کی لیبارٹری میں تیاری کے امریکی الزامات مشکوک ہیں (روزنامہ جنگ۔ 9 مئی 2020ء)۔ ان حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ چین کے سلسلے میں امریکہ کی نیت خراب ہے۔ چین کے سلسلے میں امریکہ کے پاس درست معلومات بھی نہیں ہیں۔ امریکہ چین پر جو الزام لگا رہا ہے اس کا کوئی ناقابلِ تردید ٹھوس ثبوت بھی اُس کے پاس نہیں ہے۔ یعنی امریکہ چین اور کورونا کے سلسلے میں انتظامی طور پر بھی ناکام ہے، سیاسی طور پر بھی ناکام ہے۔ اس کی سی آئی اے بھی صفر نظر آرہی ہے، اس کے پاس دلیل بھی کوئی نہیں ہے۔ یہ امریکہ کے ناکام ریاست ہونے کا منظر نہیں تو اور کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ جب کورونا اور چین کے باہمی تعلق کے سلسلے میں کچھ نہ کرسکے تو انہوں نے چین پر یہ الزام لگادیا کہ چین نے مجھے صدارتی انتخابات میں شکست دلانے کے لیے کورونا پھیلایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین چاہتا ہے مَیں انتخابات میں ہار جائوں اور جوبائیڈن جیت جائیں۔ کتنی عجیب بات ہے امریکہ کا صدر یہ تسلیم نہیں کررہا کہ وہ کورونا کی آمد کا اندازہ نہ کرسکا، وہ کورونا کو پھیلنے سے نہ روک سکا، وہ اب بھی کورونا کے سلسلے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس کے برعکس امریکہ کا صدر کہہ رہا ہے کہ چین مجھے انتخابات میں شکست دینا چاہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ رویہ بتارہا ہے کہ چین امریکہ کے اعصاب پر بری طرح سوار ہے اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ چین کا کیا کرے۔ چنانچہ وہ چین کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے چین پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔ کہنے کو امریکہ ایک سپر پاور ہے، مگر وہ چین کے سلسلے میں ایک جلی کٹی سنانے والی چڑچڑی عورت کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہ فرد، افراد، اجتماع اور ریاست کی سطح پر امریکہ کی ناکامی کی صورتِ حال ہے۔
ہماری زبان کا محاورہ ہے کہ ’’دھوبی پر بس نہ چلا تو گدھے کے کان اینٹھ دیے‘‘۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا کے سلسلے میں چین کا تعاقب کررہے ہیں، مگر وہ چین کا کچھ بھی بگاڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک عالمی ادارۂ صحت کی فنڈنگ روک دی۔ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت پر الزام لگایا کہ وہ کورونا کے پھیلائو کو چھپاتا رہا اور بدانتظامی کا مرتکب ہوا۔ ٹرمپ نے کہا کہ چین میں طبی ماہرین بھیجے جاتے تو وائرس کو روکا جاسکتا تھا (روزنامہ ایکسپریس۔ 16 اپریل 2020ء)۔ اقوام متحدہ امریکی کی باندی ہے، مگر امریکہ کا صدر کہہ رہا ہے کہ باندی امریکہ کے بجائے چین کے لیے کام کرتی رہی۔ کیا عالمی ادارۂ صحت خواب میں بھی اس جرأت کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ پھر بھی امریکہ کا صدر کہہ رہا ہے کہ طبی ماہرین چین بھیجے جاتے تو وائرس کو روکا جاسکتا تھا۔ مگر امریکہ تو کہہ رہا ہے کہ وائرس چین نے ووہان کی لیبارٹری میں امریکہ کو نقصان پہنچانے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں ہرانے کے لیے تیار کیا، پھر طبی ماہرین کو چین بھیج کر وائرس کو پھیلنے سے کیسے روکا جاسکتا تھا؟ اردو کی ضرب المثل ہے ’’ایک جھوٹ انسان سے سو جھوٹ بلواتا ہے‘‘۔ امریکہ کورونا کے سلسلے میں جھوٹ بول رہا ہے، اس لیے اُس کے صدر کے بیانات میں تضادات نمایاں ہوتے چلے جارہے ہیں۔ جو ریاست ٹھیک طرح سے جھوٹ بھی نہ بول پاتی ہو اُس سے زیادہ ناکام ریاست کون سی ہوگی؟ لیکن بات یہ ہورہی تھی کہ انسان کا دھوبی پر بس نہیں چلتا تو گدھے کے کان اینٹھ دیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے عالمی ادارۂ صحت کی فنڈنگ روک کر عالمی ادارۂ صحت کے کان اینٹھے، پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بحران پیدا ہوتے ہی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو فون کرڈالا۔ انہوں نے محمد بن سلمان کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے تیل کی پیداوار کم نہ کی تو امریکہ سعودی عرب سے اپنی فوجیں نکال لے گا۔ 2 اپریل 2020ء کو کیے جانے والے ٹیلی فون سے محمد بن سلمان اتنے حیران ہوئے کہ انہوں نے رازداری سے گفتگو کرنے کی غرض سے اپنے معاونین کو کمرے سے نکال دیا (روزنامہ دنیا۔ یکم مئی 2020ء)۔ ان معاملات سے بھی یہی تاثر مل رہا ہے کہ امریکہ کی قیادت کورونا کی وبا سے بوکھلائی ہوئی ہے، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے اورکیا نہ کرے؟ یہ بھی امریکہ کی ناکامی ہی کا ایک پہلو ہے۔
فرد، گروہ، قوم اور ریاست کی ایک بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ اس کا دشمن اسے Define کرنے لگے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ امریکہ واحد سپر پاور ہے، دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، سب سے بڑی عسکری طاقت ہے، مگر امریکہ کو چین Define کررہا ہے۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ چین میں امریکہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر چین نے اپنی ہلاکتوں کو چھپایا (روزنامہ جنگ۔18 اپریل 2020ء)۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس دن یہ بیان دیا اُس دن امریکہ میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 85 ہزار تھی، اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 ہزار سے زیادہ ہوچکی تھی۔ اس کے برعکس چین میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4633 تھی، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 82 ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکہ اور چین کا کوئی موازنہ ہی نہ تھا۔ مگر امریکہ کا صدر کورونا سے پِٹ پِٹ کر بھی یہی کہہ رہا تھا کہ امریکہ چین سے بہتر ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے یہ ’’کامیاب ریاست‘‘ کا طرزِعمل نہیں، یہ ایک ناکام ریاست کا طرزِعمل ہے۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی اور سائنسی شعور میں دنیا کا امام ہے۔ مگر کورونا نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریباً نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا پر قابو پانے کے لیے تجویز پیش کی کہ کورونا کے مریضوں کو جراثیم کُش محلول کا انجکشن لگا دیا جائے (روزنامہ 92 نیوز۔ 25 اپریل 2020ء)۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ جس طرح ڈیٹول سے فرش صاف ہوجاتا ہے، اسی طرح ڈیٹول کا انجکشن لگانے سے کورونا وائرس بھی ہلاک ہوسکتا ہے۔ اس بات سے پوری دنیا کو معلوم ہوگیا کہ امریکی ذہن کتنا ’’سائنسی‘‘ ہے۔ امریکہ کے ممتاز سائنس دان رِک براٹسٹ نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ کورونا کی پیشگی اطلاع کو نظرانداز کیا بلکہ پاکستان اور بھارت سے کلوروکوئن منگوا کر شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا (روزنامہ جنگ۔ 7 مئی 2020ء)۔ ان اطلاعات کے آئینے میں بھی امریکہ ایک ناکام ریاست نظر آرہا ہے۔
امریکہ کے صدر نے کورونا کے حوالے سے امریکہ کا مقابلہ چین کے ساتھ کیا، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہلاکتوں کے سلسلے میں امریکہ چین کیا جاپان، ہانگ کانگ اور تائیوان کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتا۔ امریکہ کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں 10 لاکھ افراد پر 62 افراد ہلاک ہورہے ہیں، جب کہ تائیوان میں 10 لاکھ افراد پر ایک شخص سے بھی کم ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ جاپان اور ہانگ کانگ میں بھی ہلاکتوں کی یہی شرح ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان میں 10 لاکھ افراد پر صرف پانچ لوگ ہلاک ہورہے ہیں (دی نیوز۔ 15 اپریل 2020ء)۔ دیکھا جائے تو اس دائرے میں امریکہ ایشیائی ممالک سے بھی بہت پیچھے ہے۔
کورونا نے امریکہ کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی پیداوار میں اب تک 4.8 فیصد کمی ہوچکی ہے، اور جون تک پیداوار میں مزید 30 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔ (روزنامہ 92 نیوز۔ 30 اپریل 2020ء)۔ امریکی معیشت کی خرابی نے امریکہ میں پہلی بار یہ منظر تخلیق کیا ہے کہ ہزاروں افراد کاروں میں سوار ہوکر کھانے کے لیے Food Bank کے سامنے قطار بنائے کھڑے ہیں۔ خبر کے مطابق صرف ریاست پنسلوانیا میں 277 ٹن غذا ضرورت مندوں میں تقسیم کی گئی ہے اور وہ بھی صرف ایک مرکز سے (دی نیوز۔ 20 اپریل 2020ء)۔ امریکی، اور صاحبِ کار امریکی غذا کے محتاج؟ یہ یقیناً امریکہ کی ناکامی کا ایک مظہر ہے۔
امریکہ کے ممتاز مؤرخ پال کینیڈی نے اپنی تصنیف The Rise and Fall of the Great Powers میں امریکی زوال کی پیش گوئی کی تھی، لیکن Mel Gurtov نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد امریکہ کے زوال کا عمل بہت آگے بڑھا ہے۔ مل گرتوف کے مطابق اس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ عالمی اسٹیج سے پسپا ہوا ہے، اس نے بین الاقوامی اداروں اور قوانین کو ترک کیا ہے، آمروںکو گلے لگایا ہے، عوامی معاملات کے دائرے میں اس نے لاعلمی، بدعنوانی اور دھوکے کا مظاہرہ کیا ہے۔ (دی نیوز۔ 7 مئی 2020ء)۔
یہ حقائق بھی یہی بتا رہے ہیں کہ امریکہ بہت تیزی کے ساتھ ناکام ریاست بنتا جارہا ہے۔ امریکہ کو دیکھ کر اس وقت غالب کا شعر یاد آگیا:۔

رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اس وقت امریکہ بھی وقت کے گھوڑے پر بیٹھا ہوا ہے مگر اس کے ہاتھ باگ پر نہیں ہیں اور پائوں رکاب میں نہیں ہیں۔

Share this: