ہاتھ کی چابی اور وزن سے روشن ہونے والے بلب

Print Friendly, PDF & Email

دنیا میں اس وقت لگ بھگ ایک ارب کی آبادی معمول کے تحت فراہم کی جانے والی آف گرڈ بجلی سے محروم ہے۔ اس تناظر میں کئی برس قبل وزن ڈالنے پر ثقلی قوت کے تحت بجلی بنانے کا نظام سامنے آیا تھا جسے گریویٹی لائٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اب اسی کمپنی نے چابی بھرنے، وزن ڈالنے یا شمسی توانائی سے روشنی خارج کرنے والا نظام بنایا ہے۔ دیسی واٹ کمپنی نے بجلی سے محروم علاقوں، کیمپوں اور سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے ایک نیا بلب ڈیزائن کیا ہے جو ہاتھوں کی مشقت سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔ غریب علاقوں میں ایندھن اور مٹی کے تیل کے اخراجات غریبوں پر مزید بوجھ بنتے ہیں، ان کا دھواں صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس نئے نظام کو گریویٹی لائٹ ٹو کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل گریویٹی لائٹ کے پہلے ڈیزائن میں ایک تھیلی کی ٹوکری میں 10 سے 16 کلوگرام وزن رکھ کر اسے تار سے باندھا جاتا تھا اور وزن کو 6 فٹ اوپر اٹھا کر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد وزن دھیرے دھیرے نیچے آتا جاتا اور بلب روشنی خارج کرتا رہتا تھا۔ اس طرح ایک مرتبہ وزن اٹھانے پر بلب نصف گھنٹے تک جلتا تھا، پھر دوبارہ وزن کو اٹھاکر اوپر کردیا جاتا تھا۔لیکن اب روشنی کے ساتھ ساتھ لوگ اپنے موبائل فون بھی چارج کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے 3200 ایم اے ایچ کی بیٹری لگائی گئی ہے جس کی بدولت اسمارٹ فون آسانی سے چارج کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے تار کو بہتر بنایا گیا ہے جو ہموار انداز میں حرکت کرتا ہے اور بجلی کی یکساں مقدار خارج کرتا رہتا ہے۔ اس بار وزن باندھنے کے بجائے صرف تار کو ایک مرتبہ کھینچنا ہوتا ہے، جس کے بعد اندر کے نظام میں لگے اسپرنگ میں حرکی توانائی جمع ہوجاتی ہے جو بعد میں بجلی کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ صرف دومنٹ تار کھینچنے سے بلب نصف گھنٹے تک 20 لیومن روشنی دیتا رہتا ہے۔ اسے یو ایس بی تار اور تین واٹ کے شمسی سیل سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔

گوگل کا ہاتھ سے لکھی تحریر کو موبائل سے ’’کاپی‘‘ کرکے کمپیوٹر پر ’’پیسٹ‘‘ کرنے کا فیچر

گوگل نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا اور نہایت کارآمد فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے ہاتھ سے لکھی ہوئی صاف تحریر کو موبائل فون کے ذریعے ’’کاپی‘‘ کرکے کمپیوٹر پر ’’پیسٹ‘‘ کیا جاسکے گا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہاتھ کی تحریر کو موبائل فون کے لینس کے ذریعے نقل کرکے کمپیوٹر پر چسپاں کیا جاسکتا ہے، تاہم اس فیچر کے استعمال کے لیے آپ کے کمپیوٹر پر گوگل کروم کا نیا ورژن ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اینڈرائیڈ موبائل فونز میں گوگل لینس ایپ ہونا چاہیے۔ یہ فیچر بہت آسان ہے، کسی صفحے پر لکھی ہوئی تحریر کو موبائل کیمرے کی آنکھ سے دیکھیں اور آپشن آنے پر متعلقہ عبارت کو ہائی لائٹ کرکے کاپی کرلیں، اس کے بعد کمپیوٹر کے ڈاکومنٹ فولڈر پر جائیں اور ایڈٹ کے آپشن کو منتخب کرکے وہاں پیسٹ کردیں۔ اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کی تحریر صاف اور اجلی ہو۔ گوگل اس فیچر میں ایک اضافہ اور کررہی ہے، اب صارفین اپنی عبارت کے مشکل الفاظ کے ہجے بھی سن سکتے ہیں۔ تحریر کے دوران معروف محاوروں کو سرچ کرکے لکھنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

اب ہوا بھرنے والی موٹرسائیکل کو لے کر چلنا بہت آسان

دنیا بھر میں ای بائیک یا برقی موٹرسائیکل کے کئی ڈیزائنوں پر کام ہورہا ہے، اور اس ضمن میں ہوا بھرنے والی بائیک کی دلچسپ خبر ٹوکیو سے آئی ہے۔
اس ہلکی پھلکی موٹرسائیکل کو ہوا بھر کر چلایا جاتا ہے، جس کے لیے ایئرپمپ درکار ہوتا ہے، لیکن اگلے مرحلے میں اسے بائیک کے ساتھ ہی لگادیا جائے گا۔ اس کا نام پی او آئی ایم او یا پوئیمو رکھا گیا ہے جو ’پورٹیبل اینڈ انفیلٹیبل موبلِٹی‘ کا مخفف ہے۔ دیکھنے میں یہ چھوٹی اور خوبصورت موٹرسائیکل ہے جسے سمیٹ کر ایک بیگ میں رکھ کر اپنی پشت پر رکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ ہوا بھرنے والی برقی بائیک ہے۔ اپنے خوبصورت اور چھوٹے ڈیزائن کی وجہ سے اسے اٹھا کر پھرنا بہت آسان ہے۔ اگرچہ اس کے پہلے نمونے (پروٹوٹائپ) کی ویڈیو منظرِعام پر آچکی ہے لیکن تجارتی ڈیزائن کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ فی الحال ایئرکمپریسر الگ سے دیا جارہا ہے جسے بعد میں بائیک کا حصہ بنادیا جائے گا۔ اس کا بیرونی ڈھانچہ مضبوط پلاسٹک سے بنا ہے، جو ہوا بھرنے سے پھیل کر موٹرسائیکل کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اپنی سختی کی وجہ سے ایک سوار کا وزن برداشت کرسکتا ہے۔ چلاتے وقت آپ کے پیر اسٹیل کی پلیٹ پر ہوتے ہیں اور اسے چلانا بھی بہت آسان ہے۔ اگرچہ اس کی بیٹری کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہے لیکن غالب گمان ہے کہ بیٹری بائیک کے نچلے حصے میں ہے۔ دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پوری بائیک کا وزن صرف ساڑھے پانچ کلوگرام ہے۔ لیکن ناقدین نے کہا ہے کہ اس کی رفتار بہت سست ہے، اور کیا اسے طویل وقت کے لیے چلانا آسان بھی ہوگا؟ دوم اسے دوبارہ سکیڑ کر بیگ میں رکھنے میں کتنا وقت لگے گا؟ ان تمام سوالات کے جوابات اب تک نہیں ملے ہیں۔ لیکن اسی کمپنی نے کہا ہے کہ یہ ایک پروف آف کانسیپٹ ہے، یعنی اس طرح کی کوئی شے تیار کی جاسکتی ہے۔ یہ کمپنی اگلے مرحلے میں ہوا بھرنے والا صوفہ یا کرسی تیار کرے گی جو شاید اس سے زیادہ مقبول ہوسکے۔

Share this: